188K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(tera mera love) Last Episode

فارس آفس سے سیدھا لاؤنج میں آیا تو سالار کو سگریٹ پیتے دیکھ کر اسے دھچکا لگا۔۔
اس نے پاس ہی بیٹھے عالیان سے اشاروں میں پوچھا تو وه بےچارگی سے كندھے اچکا گیا۔۔
“میں جب سے آیا ہوں پوچھ پوچھ کر تھک گیا ہوں لیکن نواب صاحب جواب ہی نہیں دے رہے بس سگریٹ پھونکی جا رہے ہیں!!!”
فارس نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر کوٹ اتار کر صوفے پر بیٹھ کر ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی۔۔
پھر اس نے کچھ فاصلے پر پڑے ٹیبل پر رکھے جگ سے پانی کا گلاس بھرا اور گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔۔
“یہ کیا بولے گا میں بتاتا ہوں”
عمر طنزیہ نظروں سے سالار کو دیکھ کر بولا۔۔۔
“اس کی معشوقہ کو علم ہوگیا ہے کہ یہ اس کے وقت گزاری کررہا تھا۔۔ ارحا نے بھی ساری بات سن لی جب یہ مجھے سب بتا رہا تھا۔۔ وه بھی مجھے غلط سمجھ بیٹھی تھی۔۔ کتنی مشکل سے اسے سمجھایا ہے میں نے، اس سالے کی وجہ سے میرا کام بھی خراب ہونے والا تھا۔۔”
وه دل کی بھڑاس نکالنے لگا۔۔
“بکواس بند کر اپنی!!!”
سالار اسے وارن کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
کیوں سچائی ہضم نہیں ہورہی کیا؟ یہی تو ارادے تھے نہ تیرے مجھے تو شک ہے تو ابھی بھی نہیں بدلا!!!
عمر بھی ہر لحاظ بلائے طاق رکھتا بولا۔۔
عالیان تو حیرت سے منہ کھولے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔ اتنا سب ہوگیا تھا اور انہیں خبر ہی نہیں تھی۔۔ جبکہ فارس پانی کا گلاس ٹیبل پر رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“کیا ہوگیا ہے ایک دوسرے کے ساتھ کیوں لڑ رہے ہو پیچھے ہٹو!!!” ۔۔۔۔۔
وه ایک دوسرے کے مقابل کھڑے عمر اور سالار کو دیکھتا سختی سے بولا۔۔
“اسے کہہ اپنی بکواس بند کر لے نہیں تو منہ توڑ دوں گا”۔۔ سالار دانت پیس کر درشتگی سے بولا تو عمر کو بھی غصہ آیا۔۔
“تو ہاتھ تو لگا کر دکھا مجھے منہ توڑنا دور کی بات ہے !!”
سالار ماتھے پر بل ڈالے آگے آیا۔۔
“یہ لے !!!” ۔۔۔۔۔۔
اس نے عمر کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے دهكیلا تو عمر کا ضبط ختم ہوا۔۔
اس نے ہاتھ کا مکا بنا کر پوری قوت سے اسکے منہ پر دے مارا۔۔ سالار نے بھی ہر لحاظ ختم کرتے اس کے منہ پر مکا مارا اور پھر دونوں گتهم گتها ہوگئے۔۔
فارس پھرتی سے آگے آیا اور ان کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگا۔۔ اس صورتحال سے عالیان گھبرا گیا تھا۔۔ وه بھی جلدی سے آگے آیا اور عمر کو دور کرنے کی کوشش کرنے لگا لیکن وه دونوں تو اس وقت جیسے حواس کھو چکے تھے۔۔
فارس پہلے ہی تھکا ہوا آیا تھا اوپر سے ان دونوں کو پاگلوں کی طرح لڑتا دیکھ کر اس کا دماغ گھوم گیا۔۔ اس نے دونوں کو دھکا دے کر دور دهكیلا اور ان کے منہ پر زناٹےدار تھپڑ مارا۔۔
وه دونوں پل میں خاموش ہوئے تھے۔۔
“ہو کیا گیا ہے تم دونوں کو؟ ان لڑکیوں کے پیچھے آپس میں کت**وں کی طرح لڑ رہے ہو !! ۔۔۔۔
کیا یہی دوستی تھی تم دونوں کی کہ دو دن کی محبت کے پیچھے ایک دوسرے کے گریبانوں کو پہنچ رہے ہو !!!”۔۔۔۔۔
جاؤ اپنے کمرے میں اور اب اگر تم دونوں کو لڑتا ہوا دیکھا میں نے تو آئندہ میری شکل دیکھنے کو ترسو گے۔۔۔ !!
درشتگی سے کہہ کر اندر جانے کی بجائے وه لان میں چلا آیا۔۔ گہرے سانس لے کر اس نے اپنے غصے پر قابو کیا ۔۔ اندر وه دونوں خاموشی سے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔۔
عالیان کی آنکھوں میں دکھ نماياں ہوا۔۔ وه اداس ہوتا چھت پر چلا گیا کیونکہ وه اس وقت تنہائی چاہتا تھا بس۔۔
اسکے جانے کے بعد مرحا اور حور آہستہ سے سیڑھوں کے پیچھے سے باہر آئیں۔۔
وہ دونوں سب کچھ سن چکی تھیں۔۔
حور تب سے روئے جا رہی تھی۔۔ مرحا نے دکھ سے اسے دیکھتے گلے لگا لیا۔۔
“میری جان ہو سکتا ہے کوئی غلط فہی ہوئی ہو تمہیں تم ایک بار اس سے بات کرو ہو سکتا وه واقعی سچا ہو۔۔ اگر اس نے تم سے بات کرنی چاہی تو تم ایک موقع ضرور دینا اسے۔۔ کبھی کبھی کانوں سنا بھی پورا سچ نہیں ہوتا۔۔ ہم تمہیں خوش دیکھنا چاھتے ہیں ایسے روؤ گی تو دادو بھی اپ سیٹ ہوں گی نہ؟ جاؤ شاباش کچھ دیر سو جاؤ۔۔ پھر بات کرتے ہیں اس بارے میں۔۔۔”
وه اسے پیار سے سمجھانے لگی تو حور ہاتھ کی پشت سے آنسو پونچھتی سر ہلا کر الگ ہوتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔
وه تو چلی گئی لیکن مرحا بے حد اداس ہوگئی تھی۔۔ وه عجیب عجیب سوچیں سوچتی لان میں چلی آئی۔۔ اسکی نظریں تو سامنے تھیں لیکن دماغ کہیں اور الجھا ہوا تھا اس لیے وه سامنے کھڑے فارس کو دیکھ نہ سکی اور اس سے ٹکرا گئی۔۔
فارس کا سر جھکا ہوا تھا اس لیے وه بھی نہیں دیکھ پایا تھا۔۔
وه گھبرا کر ہڑبڑی میں پیچھے ہٹی کہ اس کا پیر مڑ گیا۔۔۔ اس سے پہلے کہ وه گرتی فارس نے پھرتی سے اسکے کے بازو تھام کر اسے گرنے سے بچایا۔۔
وه سیدھی ہوتی شکایتی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔ فارس اس کی نظروں کو پڑھ گیا تھا۔۔
وه براہ راست اسکی نیلی آنکھوں میں اپنی سرمئی آنکھیں گاڑ کر کہنے لگا۔۔۔
“ہر کوئی ایک سا نہیں ہوتا یہ آپ دیکھ لیں گی !!!”
دهیمے لہجے میں کہتا وه وہاں سے جا چکا تھا۔۔
مرحا نے آنکھیں موند کر کھلی ہوا میں گہرا سانس لیا۔۔ اسے اسکے کہے ایک ایک حرف پر یقین تھا۔۔
🌚🌚🌚🌚
وه لان سے نكلتا بیرونی دروازے کے پاس پہنچا تھا کہ حور دروازه دهكیل کر اندر آئی۔۔
سامنے ہی سالار کو دیکھ کر اسکی بهنویں تن گئیں۔۔
وه اسکے سائیڈ سے نکلنے لگی کہ سالار نے اسکے مقابل آتے اسکا راستہ روک لیا۔۔
اسکی آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑ گئے تھے جنہیں حور نے پہلی نظر میں ہی دیکھ لیا تھا۔۔
“بات کرنا چاہتا ہوں آپ سے آپ غلط سمجھ رہی ہیں مجھے میرے جذبات سچے ہیں آپ کے لیے !!!”
حور نے سپاٹ چہرے سے اسے دیکھا۔۔
تو میں نے جو سنا تھا وه کیا تھا؟؟
سالار نے کنپٹی دبائی۔۔
“آپ نے آدھی بات سنی تھی۔۔ بات ویسی نہیں تھی جیسی آپ کو سمجھ آئی !!!”
اچھا میں کیسے یقین کر لوں کہ باقی آدھی بات کچھ اور تھی۔۔۔؟؟
وه ہنوز سپاٹ لہجے میں بولی۔۔
ٹھیک ہے کل میں آؤں گا دادو سے بات كرنے۔۔ اس سے زیادہ میں آپ کو يقین نہیں دلا سکتا۔۔ اگر آپ کا دل مان گیا تو ٹھیک ہے ورنہ۔۔۔۔۔
وه چپ ہوگیا۔۔ جیب سے سگریٹ نکال کر سلگاتا وه گیٹ کھول کر باہر نکل گیا۔۔
حور سن سی اپنی جگہ کھڑی رہ گئی۔۔
“سر ایسے تو نہیں تھے۔۔ وه سگریٹ نہیں پیتے تھے نہ ان کے ڈارک سركلز تھے۔۔ کیا واقعی میں انہیں غلط سمجھ رہی ہوں۔۔۔۔۔”
وه پلکیں جهپک کر آنکھوں کی نمی کو باہر آنے سے روکتی سست روی سے اندر جانے لگی۔۔
🌚🌚🌚🌚
وه تینوں کمرے میں زمین پر بچھے قالین پر بیٹھے تھے جب عمر آفس سے آیا۔۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا بیگ زور سے دور پھینکا اور رونی صورت بنا کر قالین پر ڈھے گیا۔۔
کیا ہوا تجھے۔۔ کیا نرگس کی طرح مجرہ کرنے لگا ہے؟؟ عالیان نے ٹیڑھی نظروں سے اس کے پوز کو دیکھتے اس پر طنز مارا۔۔
امی مینوں نئی پتہ میری شادی کرواؤ۔۔۔آں !!!
وه عالیان کا پیر پکڑتا زور زور سے جهلانے لگا۔۔
عالیان نے دہل کر سینے پر ہاتھ رکھا۔۔
“در فٹے منہ۔۔ امی ہوگا تُو !!!” ۔۔۔۔
عمر نے اسے گھور کر دیکھا پھر فارس سے کہنے لگا۔۔
” یار آج میرا کولیگ مٹھائی لایا تھا اپنی شادی کی۔۔ سب “بیوی شدہ” ہو گئے ایک میں ہی رہا “چھڑا کا چھڑا”۔۔
اس کی بات پر سالار سنجیده ہی رہا تو وه اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اسے گلے لگا لیا۔۔
“آئی ایم سوری یاااار۔۔۔۔ !!! میں اوور ری ایکٹ کر گیا تھا۔۔” سالار نے بھی دل صاف کرتے اسے خود میں بھینچ لیا۔۔
فارس اور عالیان نے بھی ان کو دیکھتے شکر کا سانس لیا۔۔ عمر پیچھے ہٹا تو سالار کہنے لگا۔۔
” میں کل دادو سے بات کرنے جاؤں گا رشتے کی ۔۔ تم لوگ بھی جانا چاہو تو چلنا میرے ساتھ” ۔۔۔۔۔
اسکی بات پر تینوں کو خوشگوار حیرت ہوئی۔۔
نیکی اور پوچھ پوچھ ۔۔۔؟؟؟
عالیان شرارت سے بولا تو عمر نے اسے آنکھیں دکھائیں۔۔
” بڑا تیز ہے تو بھی مولوی۔۔ ہائے میری دلی مراد پوری ہونے جارہی ہے اف اف مجھ سے تو خوشی نہیں سنبهالی جا رہی۔۔۔ “
عمر زمین پر لیٹیاں لینے لگا۔۔ اس کے ڈرامے شروع ہو چکے تھے جن کے وه عادی تھے۔۔
🌚🌚🌚🌚
ہوا وہی تھا جیسا انہوں نے چاہا تھا۔۔
تاج بیگم سے سلیقے سے بات کرنے کے بعد وه چند دن خاموشی اختیار کئے رہے جب وه مٹھائی کا ٹوکرا لیے آئیں اور انہیں نوید سنا گئیں۔۔
جب تاج بیگم نے نور وغیرہ سے ان کی مرضی پوچھی تو وه انکی رضامندی جان کر انہوں نے رشتہ پکا کر دیا۔۔
نہ ان لڑکوں کا کوئی تھا نہ انکی بچیوں کا انکے علاوہ کوئی تھا۔۔ جو بھی کرنا تھا ان ہی کو کرنا تھا۔۔
اس لیے انہوں نے سوچا کہ تاخیر کرنے کی ضرورت کیا ہے۔۔ انہوں نے بات پکی کر دی اور تاریخ رکھ کر چند پرانے اور نئے پڑو سیوں اور دور پار کے چند ایک رشتہ داروں کو فون پر مدعو کر دیا۔۔
فارس وغیرہ نے بھی اپنے چند کولیگز اور دوستوں کو اپنی شادی پر آنے کی دعوت دے دی تھی۔۔
شادی کیا تھی نکاح کی چھوٹی سی تقریب تھی جس میں تیس پینتیس لوگوں نے شرکت کرنی تھی۔۔
🌚🌚🌚🌚
آج ان کا نکاح تھا۔۔ پورے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ رہی تھی۔۔
لڑکوں نے مل کر لان کو خوبصورتی سے سجا دیا تھا۔۔ برقی قمقموں سے پھوٹتی رنگ برنگی روشنیاں عجب بہار دکھا رہی تھیں۔۔
وه چاروں کمرے میں تیار ہو رہے تھے۔۔ چاروں نے ایک جیسی سیاہ شیروانی پہنی تھی۔۔
نفاست سے سیٹ کئے بال اور ہر چیز کو مات دیتیں چمکتی آنکھیں۔۔ وہ بےحد وجیہہ لگ رہے تھے۔۔
اوپر والے فلور پر جھانکو تو بیوٹیشن چاروں دلہنوں کو تیار کر کے فائنل ٹچ دے رہی تھی۔۔
چاروں نے سفید غرارہ شرٹ پہنی تھی۔۔
مانگ میں گولڈن ٹیکے، جوڑے سے نکلتی لٹیں، گالوں پر لالی اور لبوں پر مہرون لپ سٹک میں وه بلا کی حسین لگ رہی تھیں۔۔
پیروں میں مہرون کھسے ڈالے وہ ہاتھوں میں گلاب کے پھولوں کے بنے گجرے پہن رہی تھیں۔۔
تاج بیگم بہت خوش تھیں۔۔۔ انہوں نے محلے کی دو تین لڑکیوں کو بلا لیا تھا تا کہ وه ان کے آس پاس رہیں۔۔
وه مہمانوں کو دیکھنے لان میں چلی آئی تھیں۔۔
سفید سادہ مگر نفیس سے شرارے میں وه بہت بهلی لگ رہی تھیں۔۔عمر لوگ باہر آئے۔۔
” دادو نکاح خواں کچھ دیر تک آتا ہوگا آپ تیاری رکھیں۔۔۔”
عمر مسرور سا بولا تو وه مسکرا کر سر ہلا گئیں۔۔
کچھ دیر بعد وه سٹیج پر جا کر بیٹھ گئے۔۔
سب مہمان آ چکے تھے۔۔ نکاح خواں بھی آ گیا تھا۔۔
تاج بیگم نے ایک لڑکی کو اشارہ کیا تو وه سر ہلا کر اندر چلی گئی۔۔ چند منٹوں بعد وه چاروں چند لڑکیوں کے نرغے میں باہر آتی دکھائی دیں۔۔
سب مہمان مڑ مڑ کر اشتیاق سے انہیں دیکھنے لگے جبکہ ان کے دولہوں کی نظریں ان پر جم گئی تھیں جنہیں دیکھ کر کچھ من چلوں نے ہوٹنگ کرنی شروع کردی۔۔۔
تاج بیگم جو کسی خاتون سے بات کر رہی تھیں ان سے معذرت کر کے ان چاروں کے پاس آئیں اور انہیں لیے سٹیج کی طرف بڑھیں۔۔
وه احتیاط سے سٹیج پر چڑھ کر الگ رکھے فور سٹر سٹائلش سے صوفے پر براجمان ہوگئیں۔۔
“مولوی صاحب شروع کریں۔۔۔۔”
تاج بیگم کا کہنا ہی تھا کہ ٹھا کی آواز دے دروازه کھلا اور دادا شوکت اندر آیا۔۔
اس نے دونوں ہاتھوں میں گن تھام رکھی تھی وه الگ بات ہے ان کے ہاتھ وزن کے باعث نیچے کو لٹکے ہوئے تھے۔۔ “رک جاؤ یہ شادی نہیں ہو سکتیییی۔۔۔ !!!” ان کی آواز پر سب نے مڑ کر دیکھا تو بنيان اور تہہ بندھ پہنے ایک بوڑھا کانگڑی سا آدمی خطرناک نظروں سے عمر لوگوں کو گھور رہا تھا۔۔ اس کے پیچھے اچانک “اَنَا جمیل۔۔۔۔۔ هذا” اندر داخل ہوا۔۔ وه سیدھا دادے شوکت سے ٹکرایا۔۔ جہاں دادے کا توازن بگڑا وہیں وہاں موجود سب لوگوں کی سانس اٹکی۔۔ دادا خود کو سنبهال کر سیدھا ہوا اور “هذا” کی “تون” پر ایک “چنڈ” ماری۔۔ “اوئے دادے جا یہاں سے آج تو پنگا نہ لے مجھ سے۔۔۔ !!!” عمر دانت کچکچا کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ فضول میں آ گیا رنگ میں بهنگ ڈالنے۔۔ وه بڑبڑایا۔۔ “هذا بلکل ٹھیک کہا یہ میرج نہیں ہو سکتی۔۔۔ انا رجل خوبصورت کو انکار کر دیا اور اب یہاں مییییرججج ہورہی ہے یا دادا۔۔۔۔ !!!” وه سر پر عربیوں کے سٹائل میں باندھے رومال پر ہاتھ پھیر کر مزے سے بولتا آگے آیا۔۔ وه سب سٹیج سے نیچے اتر آئے۔۔ صورتحال کو بگڑتا دیکھ کر مہمان آہستہ آہستہ كهسک گئے ۔۔۔ فارس دانت پیس کر آگے آیا ۔۔۔ دادے نے گن کا رخ اس کی طرف کر دیا ۔۔۔
“رک جا فارسا نہیں تو تیرے پیروں کے نیچے کی زمین اڑا دوں گا !!!۔۔۔”
دادے کی للکار پر وہ وہیں رک گیا ۔۔۔
“اوکے اوکے ۔۔۔۔ دادا سب کو چھوڑیں آپ مجھے بتائیں کیا ہوا ہے؟ عمر نے کچھ کیا ہے ؟ ۔۔۔”
وہ ہاتھ اٹھاتا انہیں باتوں میں لگانے لگا ۔۔۔
دادے نے گن نیچے کر کے تاج بیگم کو دیکھا ۔۔۔ “یہ شادی صرف ایک صورت میں ہوسکتی ہے ۔۔۔ میرا وی ویا کرواؤ اپنی دادی نال ۔۔۔۔ !!!” دادے کا کہنا تھا کہ اس سچوایشن میں بھی لڑکیوں کی ہنسی نکل گئی۔۔ تاج بیگم نے انہیں گھورا تو ان کی ہنسی کو بریک لگا ۔۔ نکاح خواں منہ کھولے دادے شوکت نامی خلائی مخلوق کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ انا جمیل ۔۔۔ ابن خوبصورت ۔۔۔ منہ میں انگلی دبائے دادے سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا ۔۔۔ نور نے پیر سے کھسہ اتار کر ہاتھ میں پكڑا تو وہ حلق تر کرتا دادے کے پیچھے چھپ گیا۔۔۔ “یہ کیا کہہ رہے ۔۔۔۔ ” فارس نے کہا ہی تھا کہ سالار نے جلدی سے اس کی بات اچک لی ۔۔۔ “دادا یہ سب تو پاگل ہیں ۔۔ میں كرواتا ہوں آپ کی شادی ۔۔۔” ہاں جی ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے !!! ” ۔۔۔۔ عالیان نے بولنا ضروری سمجھا ۔۔۔ نور نے واہ کے انداز میں ابرو اچکا کر عالیان کو دیکھا تو وہ ہنس پڑا ۔۔۔ حور نے ناخن چباتی سالار کا ہاتھ تھاما تو سالار نے اسے ریلیکس ہونے کا کہا ۔۔۔ ارحا البتہ ریلیکس کھڑی تھی ۔۔۔ ایک دفعہ پکڑ لوں پھر چھوڑوں گا نہیں تجھے شوکت سوپ !!!۔۔۔۔ عمر نے دانت کچکچاتے سوچا ۔۔۔ سالار کی پیشکش پر دادا تو خوش ہوگیا۔۔۔ جبکہ انا جمیل هذا اخ تھو کا منہ لٹک گیا ۔۔۔ “یا دادا ۔۔۔ ان کی باتوں میں نہ آؤ یہ تم کو اصلی والا چونا لگا رہے ہیں هذا !!! ۔۔۔۔” دو نمبر عربی جمیل نے رومال کو کندھے پر ٹھیک کرتے دادے کے کان میں کہا ۔۔۔ عمر کا بس نہیں چل رہا تھا اس جمیل نامی کھمبے کو لات مار کر باہر کرتا ۔۔۔ ” او دادے ۔۔۔ اس ابن لعنتی کی باتوں میں نہ آ ۔۔۔ یہ تیرا کام خراب کرے گا ۔۔ پھر ہمیں نہ کہیو !!!” عمر لا پرواہ انداز میں بولا تو دادے نے آنکھیں سکیڑ کر ساتھ کھڑے هذا جمیل کو دیکھا ۔۔۔ دادے نے اس کی گردن پر ایک “چنڈ” ماری ۔۔۔ “ہاں بھئی ۔۔۔ کرواؤ نکاح ۔۔۔ حسین دولہا بھی یہیں ۔۔۔ اور دلهن بھی ۔۔۔ ” دادے نے بتیسی نکال کر کہا تو سامنے کے دو دانت ٹوٹے تھے۔۔۔ فارس نے سر گھما کر عمر وغیرہ کو اشارہ کیا ۔۔ سیدھا ہو کر وہ کھنکارا ۔۔۔ “چلیں آئیں سٹیج پر ۔۔۔بس یہ ذرا سائیڈ پر رکھ دیں ۔۔۔ ” اس نے آگے بڑھتے احتیاط سے پسٹل دادے کے ہاتھ سے لے لیا ۔۔۔
اچانک کسی کے دوڑنے کی آواز آئی ۔۔ دادے نے آواز کے تعاقب میں دیکھا تو عمر اور عالیان کو بجلی کی سی سپیڈ سے اپنی طرف دوڑ کر آتے دیکھ کر اس کی آنکھیں پوری کھل گئیں ۔۔۔
عمر نے دادے کے بازو پكڑے اور عالیان نے ٹانگیں ۔۔ دادے کو اٹھا کر وہ آن کی آن میں گھر سے باہر پھینک آئے ۔۔۔
دادا چیختا چلاتا رہ گیا ۔۔ جلدی سے دروازه بند کر کے وہ بازو کہنیوں تک موڑتے انا جمیل کی طرف بڑھے جس نے ان سے بچنے کو دوڑ لگا دی۔۔
اپنا سفید چولا دونوں ہاتھوں سے پکڑتا وہ ٹیبل پر چڑھ گیا ۔۔۔
“دیکھو هذا کو جانے دو ۔۔۔ یا برو ۔۔۔ !!!”
وہ ان دونوں کو دیکھ کر حلق تر کرتا بولا کہ سالار نے اسے ٹانگ سے گھسیٹ لیا ۔۔۔
وہ دھڑام سے میز پر گرا ۔۔۔
تاج بیگم آگے آئیں اور پیروں سے جوتا اتار کر اس کی تشریف کا نشانہ لیا ۔۔
مرحا آنکھیں پوری کھولے زور سے ہنسی تو اس کے پاس آتا فارس اس کے کان پر جھکا۔۔۔
“بہت ہنسی آ رہی ہے ؟ اپنی انرجی بچا کر رکھیں ۔۔ آگے ضرورت پڑنے والی ہے !!! “
اس کے سراپے پر گہری نظر ڈال کر وہ کچھ فاصلے پر کھڑا ہوگیا۔۔
شرم سے مرحا کا چہرہ لال گلال ہوگیا ۔۔
انا جمیل کو ٹھکانے لگا کر سب اکٹھے ہوئے ۔۔۔ وہیں کھڑے کھڑے نکاح خواں نے ان کا نکاح پڑھوایا ۔۔۔ منہ میٹھا کرنے کے بعد تاج بیگم نکاح خواں کو گیٹ تک چھوڑنے چلی گئیں۔۔۔
وہ چاروں اپنی دلہنوں کے سامنے کھڑے انہیں محبت سے تک رہے تھے۔۔
انہیں خود سے قریب کرتے وہ یک زبان بولے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کیسا لگا ہمارا لَوّ !!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد ۔۔۔۔۔۔۔