Tera Mera Love By Mirha Khan Readelle50299 (Tera Mera Love) Episode 4
Rate this Novel
(Tera Mera Love) Episode 4
بجھتے سورج کی نارنجی کرنیں افق پر پهیلی اس کے غروب ہونے کا اشارہ دے رہی تھیں۔۔ ایسے میں “النور منشن” میں وه چاروں اپنے کاموں سے فراغت پا کر ٹی وی لاؤنج میں زمین پر بچھے قالین پر آڑے ترچھے لیٹے تھے۔۔
گھر کے عام حلیے میں ٹی شرٹ ٹراؤزر میں ملبوس وه باتوں میں مگن تھے کہ تاج بیگم کی آمد پر وه اٹھ کر بیٹھ گئے۔۔
السلام علیکم آئیں بیٹھیں!!
وه بیک وقت سلام کرتے انہیں بیٹھنے کی پیشکش کر گئے۔۔ وه مسکرا کر لاؤنج میں پڑے صوفے پر بیٹھ گئیں۔۔
” کیا پئیں گی آپ ؟؟”
عمر از حد تمیز کے دائرے میں بولا۔۔ اسکا یہ انداز دیکھ کر ان تینوں کی ہسی چھوٹتے چھوٹتے بچی۔۔
” نہ بیٹا کوئی تكلف نہ کرو اب تو یہیں رہنا ہے۔۔ بیٹھو!!”
انہوں نے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وه ایک دوسرے کو دیکھتے ترتیب سے بیٹھ گئے۔۔
“کیا کرتے ہو تم؟…”
ان کا رخ فارس کی جانب تھا۔۔ وه گڑبڑا گیا۔۔
اسکی حالت پر باقی تینوں نے منہ پر ہاتھ رکھ کر چہرہ موڑ لیا۔۔
“اہم! جی میرا اپنا بزنس ہے۔۔ “
وه سنجیدگی سے بولا۔۔
ماشاءالله ۔۔!!!
وه متاثر ہوئیں تھیں۔۔
باری باری انہوں نے سب کا انٹرویو لیا۔۔
“تم میں سے کوئی بھی شادی شدہ نہیں تبھی میں کہوں گھر کا ایسا حال ہے!! اب عورت ہی گھر کو صحیح سنبهال سکتی ہے۔۔ دیکھو ہر طرف گرد پڑی ہے ہر چیز میلی ہو رہی ہے۔۔!!!”
ان کے چاروں طرف کا جائزہ لینے پر وہ اپنی اپنی جگہ شرمنده ہوگئے۔۔
” کوئی بات نہیں بیٹا شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں میں اسی لئے آج یہاں آئی ہوں تا کہ اپنی نگرانی میں صفائی کروا سکوں۔۔ تم لوگوں کی بھی دادو ہوں میں آج سے ۔۔ چلو شاباش صفائی ستھرائی کا سامان لے کر آؤ۔۔”
ان کی باتوں پر چاروں بے اختیار کراہے۔۔ ان کا ابھی کوئی کام کرنے کا موڈ نہیں تھا لیکن وه ان کو بھی کچھ کہہ نہی سکتے تھے۔۔ لہذا وه بادل نخواستہ اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
تاج بیگم ان کی فرمانبرداری پر خوش ہوتیں انہیں ہدایات دینے لگیں۔۔
“یہ صوفے یہاں سے اٹھا کر وہاں رکھ دو ۔۔۔دیکھو تو یہاں کتنی گرد ہے۔۔”
فارس اور سالار نے ٹراؤزر کے پائینچے موڑے۔۔ گہری سانس لے کر وه کام میں جت گئے۔۔
” تم دونوں کیا کھڑے منہ دیکھ رہے ہو یہ قالین اٹھاؤ یہاں سے۔۔ یہ پردے بھی اتارو۔۔ دیکھو کیسے کونوں میں جالے لٹک رہے ہیں۔۔ “
وه عمر اور عالیان کو ڈپٹ کر بولیں تو وه سٹپٹا کر قالین اٹھانے لگے۔۔ جب سب سامان اٹھا لیا اور لاؤنج خالی ہوگیا تو انہوں نے لیکوئڈ سوپ، جھاڑن ، پائپ ، جھاڑو اور وائپر لانے کا حکم دیا۔۔
جالے اتار کر عالیان نے سٹول سے نیچے چھلانگ لگائی تو وه گرتے گرتے بچا۔۔
“شکر ہے دادو نے نہیں دیکھا۔۔”
شکر کا سانس لیتے وه ان تینوں کی جانب آیا۔۔ پانچوں کو مزید موڑ کر انہوں نے ٹیپ کھولا تو پائیپ سے پانی فوارے کی صورت باہر نکلا۔۔
“چلو شاباش فرش کو رگڑ رگڑ کر دھو۔۔”
تاج بیگم مزے سے انہیں حکم دیتی جا رہی تھیں۔۔ کچھ دیر بعد وه چاروں پنججوں کے بل بیٹھے صابن سے بھری بالٹی میں کپڑا ڈبو کر فرش رگڑ رگڑ کر دھو رہے تھے۔۔
“یار اچھی دادی ٹکری ہے!!!”
عمر نے ماتھے سے بال ہٹاتے آہستہ آواز میں سالار سے کہا جو باقیوں نے بھی سن لیا۔۔ دفعتاً تاج بیگم نے اسے گھور کر اسکی گردن پر چماٹ رسید کی۔۔
” دادی ہوں تمہاری کچھ شرم کرلو!!”
باقی تینوں کی بتیسی نکل گئی۔۔
“دادو آپ کا فون آ رہا ہے۔۔۔!!!”
حور کی آواز پر وه عینک کے پیچھے سے انہیں گھورتی ہوئی بولیں۔۔
“میں کچھ دیر بعد آتی ہوں۔۔ کام چوری نہیں کرنی۔۔ اچھے سے صفائی کرنا آخر کو اپنا گھر صاف کررہے ہو کسی غیر کا تھوڑی۔۔”
انہیں ہدایت دے کر وه فون سننے چلی گئیں۔۔ ان کے جانے کے بعد سالار اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
“اف میری کمر درد ہونے لگی ہے۔۔ تیری وجہ سے ہوا ہے سب مولوی!!”
عمر خطرناک تیوروں سے عالیان کی طرف آنے لگا تو وہ جلدی سے کھڑا ہوتا بھاگنے لگا کہ گیلے فرش کی وجہ سے اس کا پیر پهسلا۔۔
اس نے سہارا لینے کو سالار کا بازو پکڑا ۔۔ بجائے اس کے کہ وہ سنبھلتا وه دونوں ہی گیلے فرش پر پهسل کر گرے۔۔
“اف کمر ٹوٹ گئی میری۔۔” سالار زمین پر لیٹا كراہا۔۔
مزہ آیا اب؟ عمر نے بتیسی نکالی۔۔
” فارس پکڑ اس کو بھاگنے نہ پائے ۔۔” فارس نے جلدی سے بھاگتے عمر کو گدی سے پکڑا۔۔
“ابھے چھوڑ مجھے!”
وه ہستا ہوا اپنا آپ چھڑانے لگا۔۔ اتنے میں سالار اس تک پہنچ گیا۔۔اسنے عمر کو زمین پر لٹایا اور اس پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔۔
“اب بول مزہ آ رہا ہے تجھے خبیث سویٹ ہارٹ!!”
اسکے “خبیث سویٹ ہارٹ” کہنے پر فارس اور عالیان کی ہنسی نکل گئی۔۔ جبکہ عمر کو صدمہ ہی ہوگیا۔۔
اس نے سالار کو کھینچ کر زمین پر اپنے ساتھ گھسیٹا اور پاس پڑی بالٹی سے صابن کی جھاگ ہاتھ میں بھر کر اس کے منہ پر لگا دی۔۔
” سالے یا تو مجھے خبیث کہہ لے یا سویٹ ہارٹ۔۔ اب تو نے ایسا کچھ بولا تو میں۔۔۔۔۔”
اسکی بات بیچ میں ہی رہ گئی۔۔ فارس نے جلدی سے بالٹی پکڑ کر سارا صابن والا پانی اس پر انڈیل دیا۔۔
“ہائی امی مر گیا میں میرے ہونے والے بچوں کا کیا ہوگا؟”
وه زمین پر پانی میں ہاتھ مارتا وہیں لیٹ گیا۔۔ اسکی نوٹنکی پر فارس اور سالار نے رکھ کر ایک ایک چماٹ لگائی۔۔
“اٹس فن ٹائم!!”
عالیان نے پانی کا پائیپ پکڑا اور اسکا رخ ان کی جانب کر دیا ۔۔ تینوں بهیگ گئے۔۔
” اس مولوی کو پکڑ بڑا اچھل رہا ہے۔۔”
عمر اسے پکڑنے کے لئے بھاگا کہ سالار نے اسے دبوچ لیا۔۔
“تو ادھر آ ذرا میرے منہ کا کباڑا کیا تجھے بتاتا ہوں میں”
وه اسکو دبوچ کر پرے لے گیا۔۔
عالیان اپنی شامت آتی دیکھ کر بھاگا لیکن فارس نے بھاگ کر اسے دبوچ لیا۔۔
“دیکھ فارسا چھوڑ مجھے۔۔ ابھے سالو بے غیرتو کمینو چھوڑو مجھے۔۔”
عمر اور سالار بھی بھاگ کر آئے اور اسے پکڑ کر پورا بھگوتے اسے گدگدی کرنے لگے۔۔
” ہاہاہا کمین۔۔و ہاہاہا۔۔ کیرڑے ۔۔ پڑے ۔۔ سال ۔۔۔ ہاہاہا!!!”
وه مسلسل ہستا انہیں ساتھ کوستا جارہا تھا۔۔
بالاخر انہیں اس پر ترس آیا تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔۔
“بے غیرتو!!”
وه کمر پر ہاتھ رکھ کر گہرے سانس لیتا بولا جو مسلسل ہسنے سے دکھنے لگی تھی۔۔
اف کیا حشر ہوگیا ہے لاؤنج کا ۔۔ سالار کو نئی فکر نے ستایا۔۔ بادل گرجنے کی آواز پر انہوں نے باہر دیکھا۔۔
” لگتا بارش آنے والی ہے۔۔”
فارس نے اندازہ لگایا۔۔
“اوئے جلدی کرو یہ سمیٹو سب دادی آ گئی تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔۔”
عمر کی بات سے اتفاق کرتے وه جلدی جلدی ہاتھ پیر چلاتے کام ختم کرنے لگے۔۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد وه صاف ستھرے لاؤنج میں سب چیزیں اپنی جگہ پر رکھتے تھکے ہارے وہیں قالین پر گر گئے۔۔
“ماشاءالله اب لگ رہا ہے نہ صاف ستهرا گھر”
تاج بیگم سیڑھیوں سے جھانکتی ہوئی بولیں تو وه پھیکا سا مسکرا پڑے۔۔
“مجھے پتہ ہے بچو بہت تھک گئے ہو۔۔ ایسا کرو حلیے درست کر کے اوپر آ جاؤ ۔۔ آج کا رات کا کھانا ہماری طرف سے ہے۔۔” وه نرمی سے کہہ کر چلی گئیں۔۔
“یاہو اب مزہ آنے والا ہے”
عمر پر جوش سا کہتا فریش ہونے چلا گیا۔۔
🌚🌚🌚
“مرحا چاولوں کو دم دے دو میں ابھی آتی ہوں۔۔”
ارحا جوڑے سے نکلتی لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستی مرحا سے کہہ کر کچن سے باہر آئی۔۔ دادو کی ہدایت پر اس نے چند ڈشز تیار کرلی تھیں۔۔
“حور یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے تم نے ۔۔ کچھ دیر میں وه ڈنر پر آ جائیں گے۔۔ چلو شاباش حلیہ ٹھیک کرو اپنا۔۔”
لاؤنج میں صوفے پر آڑی ترچھی لیٹی حور کو دیکھ کر وہ پیار سے بولی جو ٹی شرٹ شارٹس پہنے ہوئے تھی۔۔
“جی آپی !!”
وه فرمانبرداری سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“آپی دم دے دیا ہے۔۔ اور کچھ ؟”
کچن سے مرحا کی آواز آئی۔۔
” نہیں بس ٹھیک ہے۔۔ تم بھی فریش ہو جاؤ جا کر۔۔”
وہ نور کے کمرے میں آئی۔۔ جو موبائل پر مصروف تھی ۔۔ شاور لے کر وه فریش سی بیٹھی تھی۔۔
” نور ڈائیننگ روم میں برتن رکھو جا کر ۔۔ ٹیبل چھوٹا تھا ۔۔ وہ میں نے اٹھا دیا ہے۔۔”
تو سب کھانا کہاں کھائیں گے؟
نور سر ہلاتی اٹھ کر بیٹھتی اس سے پوچھنے لگی۔۔
“سٹور روم میں کارپٹ ہوگا وه بچھا دو ۔۔”
وه عجلت میں کہتی کچن میں چلی گئی۔۔
تاج بیگم نماز ادا کر کے کچن میں آئیں۔۔
“ماشاءالله بہت اچھی خوشبو آ رہی ہے”
مرحا انہیں دیکھ کر مسکرا دی۔۔
“جیتی رہو دونوں۔۔”
وه بے ساختہ انکے کومل چہرے دیکھ کر دعا دے گئیں۔۔ “دادو میں نے تو بس تھوڑی سی ہیلپ کروائی ہے۔۔ آپی نے سب کیا ہے۔۔”
وه چاولوں میں چمچ ہلا کر بولی۔۔
“ہاں ہاں پتہ ہے سب ۔۔ !!”
ماشاءالله موسم تو بہت اچھا ہو رہا ہے ۔۔!
ارحا کھڑکی سے باہر جھانک کر بولی۔۔
باتوں میں سیڑھیاں چڑھنے کی آواز آئی تو تاج بیگم اس جانب چلی گئیں۔۔
🌚🌚🌚🌚
آؤ بیٹا وہاں کیوں کھڑے ہو!!
انھیں سیڑھیوں میں کھڑا دیکھ کر وه بولیں تو وه شرافت کا مظاہرہ کرتے اوپر آئے۔۔
تاج بیگم انہیں ڈائیننگ روم میں لے آئیں اور ان بیٹھنیں کا اشارہ کرتیں خود بھی بیٹھ گئیں۔۔
کچھ دیر وہ ان سے ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہیں۔۔ فارس نے ستائش سے کمرے کی بدلی سیٹنگ کو دیکھا تھا۔۔ کچھ ہی دیر میں لڑکیوں نے کھانا لگانا شروع کر دیا۔۔۔
تمام ضرورت کی چیزیں رکھ کر وه تاج بیگم کے برابر آ بیٹھیں۔۔ ایسے کہ وه چاروں ان کے بلکل سامنے براجمان تھے۔۔
آخر میں ارحا پانی کا جگ لئے اندر آئی اور دسترخوان پر رکھتی حور کے برابر بیٹھ گئی۔۔
“بیٹا بسم اللّه کرو۔۔ !!!”
دادو کے اشارے پر انہوں نے کھانا شروع کیا۔۔ عمر نے شرارت سے سب پر نظر ڈالی۔۔
دفعتاً اسکی نظر خود کو گھورتی نور پر پڑی جو پانی پیتے ہوئے اسے گھور رہی تھی۔۔
عمر نے نوالہ منہ میں ڈالتے سب سے نظر بچا کر اسے آنکھ ماری۔۔
” ہاہ!! کمین۔۔۔۔۔ “
اس نے بروقت اپنی زبان کو بریک لگایا۔۔
کیا ہوا نور؟؟
تاج بیگم نے آواز پر اسکی جانب دیکھا تو باقی بھی اسے دیکھنے لگے۔۔
عمر کو سر نیچے کے کے ہسی چھپاتے دیکھ کر عالیان کو شک گزرا کہ عمر نے کچھ کیا ہے۔۔
اوئے کیا کیا ہے تُو نے؟؟ اس نے سرگوشی کی۔۔
آنکھ ماری ہے!! وه مسکراہٹ دبا کر بولا تو عالیان کی انكهیں پھیلیں۔۔
“بڑا ہی کوئی كمینہ انسان ہے تو۔۔!!”
نہیں دادو کچھ بھی نہیں ہوا ۔۔۔!
زبردستی مسکرا کر وه کھانا کھانے لگی البتہ اس نے عمر کو کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھا ضرور تھا۔۔
کھانے کے دوران سالار نے ان کی فیملی کے بارے میں پوچھا تو تاج بیگم افسرده ہوگئیں۔۔
“جب حور اور نور دو سال کی تھیں تب ان کے ماں باپ کا اسیڈنٹ ہوگیا تھا۔۔۔ اس کے بعد سے یہ چاروں میرے ساتھ ہیں۔۔۔”
ان کی بات پر وه چاروں خاموش سے ہو گئے جب کہ لڑکیاں بھی افسرده ہو گئیں۔۔۔
“ہونی کو کون ٹال سکتا ہے بیٹا ۔۔ اب تو بہت وقت ہوگیا۔۔ وه اس دنیا میں نہیں تو کیا ہوا ہمارے دلوں میں تو زندہ ہیں۔۔ !!”
وه نرمی سے کہتی جا رہی تھیں۔۔
“بہت سمجهدار اور نیک سیرت بچیاں ہیں میری۔۔ اللّه پاک ان کے نصیب بھی اچھے کرے۔۔۔”
ان کی بات پر سب نے آمین کہا تھا۔۔
” یہاں آنے سے قبل مجھے بہت فکر لاحق تھی کہ جوان بچیوں ہیں پتہ نہیں کیسی جگہ رہنا نصیب ہوگا لیکن ماشاءالله یہاں آ کر میری فکر ختم ہو گئی۔۔ تم چاروں بھی بہت نیک اور سلجھے ہوئے ہو۔۔!!!”
ان کی بات پر عمر کے حلق میں نوالہ اٹک گیا اور وه بری طرح کھانسنے لگا۔۔۔
فارس ، سالار اور عالیان خوب سمجھ گئے تھے اس لئے منہ نیچے کیے مسکراہٹ دبا گئے۔۔۔
یہ لیں پانی!!! ارحا نے جلدی سے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا جسے وہہ تھام کر جلدی سے منہ سے لگا گیا۔۔۔ لڑکوں میں معانی خیز نظروں کا تبادلہ ہوا تھا۔۔
کھانے سے فراغت پا کر وه اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کا شکریہ ادا کرتے چہل قدمی کے لئے چھت پر چلے گئے۔۔
