188K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Tera Mera Love) Episode 5&6

وه لان میں رکھی کرسی پر بیٹھی محویت سے کوئی کتاب پڑھ رہی تھی۔۔ گهنی پلکیں جھکی ہوئی تھیں۔۔
سرمئی شلوار قمیض میں وه سرمئی شام کا ایک حصہ ہی لگ رہی تھی۔۔ موسم بھی آج کل بہت مہربان ہورہا تھا۔۔ اٹھکیلیاں کرتی ہوا سے لطف لینے کے لیے وه چاروں لان میں نکل آئی تھیں۔۔
پلکیں جهپکے بغیر اس نے لبوں سے ٹکراتی بال کی لٹ کو نازک مخروطی انگلیوں سے کان کے پیچھے اڑسا۔۔
وه ارد گرد سے بے خبر کتاب میں مکمل گم تھی۔۔ کچھ فاصلے پر مرحا نیچے ہلکی اگی گھاس پر بیٹھی شاعری لکھ رہی تھی۔۔
وه شعر و شاعری سے بے حد لگاؤ رکھتی تھی۔۔ ایسے لوگ کے لئے جب موسم خوشگوار ہو اور شاعری نہ ہو ایسا تو ہو نہیں سکتا۔۔۔
وه لبوں کے کنارے بنے تل کے قریب گال پر ہاتھ رکھتی پر سوچ نظروں سے سیاہ بدلیوں سے ڈھکے آسمان کو دیکھتی اور پھر کورے کاغذ پر قلم گھسیٹنے لگتی۔۔
اسکی چوٹی لا پرواہ انداز میں آگے کی طرف جھول رہی تھی۔۔ حور اور نور نے اسے تنگ کرنے کی کوشش کی تو اس نے سختی سے انہیں ڈپٹ دیا۔۔
دوسری جانب دیکھو تو حور زمین پر جھکی کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔۔
آہا مل گیا!!
وه شرارت سے مسکرا کر سیدھی ہوئی۔۔ اس کی نیلی چمکتی آنکھیں ہاتھ میں پکڑے “کنچے” پر مرکوز تھیں۔۔
کیا کررہی ہے ادھر تو؟
نور اس کے قریب آتی اپنے ازلی لڑاکا انداز میں بولی۔۔ کندھوں سے نیچے آتے بالوں کو اس نے کھلا چھوڑ رکھا تھا۔۔ حور نے اپنی لمبی پونی ہاتھ میں پکڑ کر گھمانی شروع کردی۔۔
“بس دیکھ تو ابھی میں کیا کرتی ہوں!!”
وه اسے آنکھ مار کر لان کی بیرونی دیوار کے پاس آئی۔۔ وہاں کرسی رکھ کر وه اس پر کھڑی ہوگئی اور باہر گلی میں جھانکنے لگی۔۔
نور کی سمجھ میں کچھ کچھ آ رہا تھا۔۔ حور نے زبان باہر نکالتے کسی لڑکے کا نشانہ لیا اور اسکی “گنج” میں ہاتھ میں پکڑا کنچا دے مارا۔۔۔
ہا !! اس نے منہ پر ہاتھ رکھتے ہڑبڑا کر کرسی سے نیچے چھلانگ لگا دی۔۔
کیا ہوا؟؟ ۔۔۔۔ نور نہ آنکھیں چھوٹی کیے اس سے پوچھا۔۔ اس نی رونی شکل بنائی۔۔
” وه میں کسی لڑکے کو مارنے لگی تھی کنچہ لیکن وه ۔۔۔۔”
وه شرمنده سی چپ ہوگئی۔۔
لیکن کیا؟ ۔۔۔۔ نور نے تجسس کے مارے جلدی سے پوچھا۔۔ “لیکن وه کسی انکل کو لگ گیا۔۔”
نور نے ایک لمحے کو سوچا۔۔ پھر اس نے کسی کا حلیہ بتایا۔۔
” ہاں یہی والے انکل!”
حور فوراً سے بولی۔۔
ہاہاہا!! نور کی ہسی نکل گئی۔۔
“بہت اچھا کیا دادے شوکت کو مار کر تو نے۔۔ ٹھرکی بڈھا لائنیں مارتا ہے لڑکیوں پر۔۔”
وه دیدے نچا کر بولی تو حور نے آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھا۔۔ سچ میں؟؟
ہاں نہ ۔۔ !! نور نے زمین پر گرے بال کو کک ماری جو لان میں آتے عالیان نے کیچ کرلی۔۔
اس کے پیچھے سالار، عمر ہے اور آخر میں فارس آیا۔۔ وه منہ بنا کر انھیں دیکھتی نظروں کا زاویہ موڑ گئی۔۔
عمر نے عالیان کے ہاتھ سے بال پکڑی اور ہوا میں اچھالتا ادھر ادھر بھاگنے لگا۔۔ ارحا نے ایک نظر دیکھ کر دوبارہ کتاب پر نظریں جما لیں جبکہ مرحا جھجھک گئی۔۔
“اوئے!! بال واپس کر میرا۔۔ !!!”
نور چوینگم منہ میں ڈالتی ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالتی اسے بال واپس کرنا اشارہ کرنے لگی۔۔
عمر نے ادھر ادھر اس طرح دیکھا جیسے اس نے کسی اور کو بلايا ہو۔۔
“مجھ سے کہا یا اس سے؟؟؟…”
اس نے جان بوجھ کر تنگ کرنے کے لئے عالیان کی طرف اشارہ کیا۔۔ عالیان سٹپٹا گیا۔۔
“تم سے بات کررہی ہوں، پھٹے غبارے کے منہ والے” !!!
وه دل جلانے والی مسکراہٹ سے اسے دیکھ کر بولی۔۔ باقی افراد کے منہ پر مسکراہٹ آئی جبکہ عمر کے سر پر لگی تلووں پر بجی۔۔
” تو تم کیا ہو چھپکلی کی اتری ہوئی پونچھ؟؟ “
وه تنک کر بولا تو نور کو الٹی آئی۔۔
یخ گندے !! تم ہوگے گدھے ، الو کے پٹھے۔۔!!!
اس کا بس نہیں چل رہا تھا مقابل کا سر پھاڑ دے۔۔
” تم ہوگی گدھی الو کی پٹھی!!!…”
وه مزے سے بولا۔۔۔
انہیں آپس میں الجھتا دیکھ کر فارس اور سالار لان میں چہل قدمی کرنے لگے جبکہ عالیان نے عمر کے ہاتھ سے بال چھین کر نور کی طرف اچھالا جسے اس نے کیچ کر لیا۔۔
عمر کو زبان چڑا کر وہ بال اچھالنے لگی ۔۔۔
“تم نے کیوں دی اسے بال؟؟….”
اسکی توپوں کا رخ عالیان کی جانب ہوا۔۔
“خوامخواہ میں ہر کسی سے پنگے لینے نہ بیٹھ جایا کرو تم….!!!”
وه اسے ڈپٹ کر بولا تو عمر کے تاثرات فورا سے بدلے۔۔ اسکے چہرے پر کمینی مسکراہٹ آئی۔۔ مولوی کو تنگ کرنے کا موقع جو ہاتھ آیا تھا۔۔
کیا ؟ یہ منحوسوں کی طرح کیوں گھور رہے ہو مجھے؟
عالیان دیدے گھما کر گویا ہوا۔۔
“تو اس کی سائیڈ کیوں لے رہا تھا ہاں ؟ سم تھینگ سم تھینگ؟”
وه اسے کندها مار کر بولا۔۔
عالیان کا چہرہ پل میں سرخ ہوا۔۔ استغفراللّه!!
وه اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا دور ہٹ گیا مبادا وه پھر سے کوئی شوشہ چھوڑ دے۔۔
سالار چہل قدمی کرتا فرصت سے حور کو تاڑ رہا تھا۔۔ عمر کے ذہن میں کھد بد ہوئی۔۔
” ابھے کیا بے غیرتوں کی طرح اسے تاڑ رہا ہے۔۔ کوئی شرم حیا ہوتی ہے۔۔۔”
وه اس کے پاس آتا اسے آنکھیں دکھا کر بولا۔۔
“تیرا دوست ہو اور اس میں شرم ہو؟ نو نیور یو سلی سویٹ ہارٹ!!”
سالار، حور پر سے نظریں ہٹائے بغیر بولا جو سچ میں دوسری دنیا سے بھٹک کر آئی کوئی حور ہی لگ رہی تھی۔۔ آسمانی رنگ کی فراک پاجامے میں گلے میں دوپٹہ ڈالے وه باقی دنوں سے منفرد لگ رہی تھی۔۔
عمر نے منہ بنا کر اسے دیکھا۔۔ اسکے سویٹ ہارٹ کی بک بک سے وه تنگ آ چکا تھا۔۔ حور کسی بات پر مسکرائی تو اسکا ڈمپل نماياں ہوا۔۔
سالار نے اسے دیکھتے ٹھنڈی آہ بھری۔۔
ہاؤ کیوٹ از شی!!
“ابھے اس کو بھی ڈمپل پڑتا ہے۔۔ سالے تیری بچھڑی ہوئی بہن لگتی ہے….!!!”
عمر قہقہہ لگا گیا۔۔ ارحا نے اس قدر بھونڈے قہقہے پر ایک نظر اسے دیکھا ضرور تھا۔۔
“استغفراللّه!! بہن ہوگی تیری”
اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔۔
حور نے انہیں اپنی طرف دیکھتے پایا تو سالار کو دیکھ کر مسکرائی۔۔ وه بھی مسلکراتا ہوا اس کے پاس آتا کچھ فاصلے پر کھڑا ہوگیا۔۔
حور کی نظروں میں ستائش ابھری تھی۔۔ بلاشبہ وه بہت ہینڈسم تھا۔۔
ہیلو سر! ایوننگ!!
وه نرمی سے بولی تو وه سر کو خم دے کر کہنے لگا۔
“ہیلو لٹل گرل، گڈ ایوننگ!! ابھی ہم یونیورسٹی میں نہیں ہیں لہٰذا آپ مجھے سالار بھی بلا سکتی ہیں”
وه نرم گرم نگاہوں سے اسے دیکھ کر بولا تو وه ذرا سا جھجھک گئی۔۔
نو ! مجھے بہت عجیب لگے گا۔۔!
وه ادھر ادھر دیکھتی اسے بتانے لگی۔۔
اسے نروس دیکھ کر وه پڑھائی کے متعلق بات کرنے لگا جس سے وه پہلے کی طرح نارمل ہوتی جواب دینے لگی۔۔
🌚🌚🌚
نور نے گھاس پر تنہا بیٹھے عالیان کو دیکھا تو دهپ سے اس کے پاس آ بیٹھی جس سے وه ڈر کر تھوڑا دور كهسک گیا۔۔
آرام سے کیا ہوگیا ڈر کیوں رہے ہو؟ کھا نہیں جاؤں گی!!!
وه مسکرائی۔۔ وه بغیر کچھ کہے سامنے دیکھنے لگا۔۔
کیا کرتے ہو تم؟ وه اس کا جائزہ لیتے ہوئے بولی۔۔
قدرے خاموش سا عالیان اسے کچھ بہتر لگا تھا باقیوں سے۔۔ لہٰذا اس سے بات کرنے کی غرض سے وه اس کے پاس چلی آئی۔۔
“چوپے بیچتا ہے مین لالی پاپس!!!”
عمر کی آواز پر اس نے تپ کر پیچھے دیکھا۔۔
” تم سے پوچھا میں نے ؟ اپنی چونچ بند رکھو۔۔!!!”
عمر نے شرافت سے پاؤٹ بنا کر انگلی منہ پر رکھ لی۔۔
ہاں بتاؤ تم؟
اس نے دوبارہ عالیان کو دیکھ کر کہا جو زمین پر نظریں ٹکائے ہوئے تھا۔۔ سیاہ گھنے بال اور سیاہ داڑھی مونچھیں۔۔ وه بہت معصوم لگ رہا تھا اس وقت۔۔
اس کے سوال پر عالیان نے ذرا کی ذرا نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
“بڑا ہوں آپ سے میں، تھوڑی تمیز سے بات کر لیں”
اس کی بات پر وه بے اختیار ہستی چلی گئی۔۔ اسے اس طرح ہستے دیکھ کر وه بھی سر جھکا کر مسکرا دیا۔۔ مسکرانے سے اسکی داڑھی میں ہلکا سا ڈمپل نمایاں ہوا تھا جسے نور نے دلچسپی سے دیکھا تھا۔۔
“ڈاکٹر ہوں میں”
اس کی دھیمی آواز پر اس نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔۔ “لگتے نہیں ہو”
میں کیا کرتا تو ڈاکٹر لگتا؟؟
وه سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔ سیاہ آنکھیں نیلی آنکھوں سے ملیں تو اس نے سرعت سے نظروں کا زاویہ بدل دیا۔۔
” آئی مین تم اتنے بڑے نہیں لگتے۔۔ خیر!! تم ۔۔۔۔۔ شادی شدہ ہو؟؟؟”
وه ایک بار پھر لا پرواہی سے بولی۔۔ اس بار عالیان نے فرصت سے اسے دیکھا تھا۔۔
“آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟؟؟؟”
اس کے سوال پر وه ایک لمحے کو گڑبڑائی پھر نارمل لہجے میں بولی۔۔
ویسے ہی۔۔۔ دل کررہا تھا پوچھنے کو۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل تو پاگل ہے، دل دیوانہ ہے،
دل تو پاااگل۔ل ہے ، دل دیوانہ ہے!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر شرارت سے گنگنا کر وہاں سے کھسک گیا۔۔
نور غصے سے اسے گھورتی وہاں سے اٹھ ہی گئی۔۔
🌚🌚🌚🌚
جینز کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے وه دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے بال اڑ کر اس کے ماتھے پر آ رہے تھے جنہیں وقتاً فوقتاً وه ہاتھ سے پیچھے کر دیتا۔۔ عمر عالیان وہیں گھاس پر نیم دراز ہوگئے تھے جبکہ سالار حور کے ساتھ ٹہلتا باتوں میں مصروف تھا۔۔
ایسے میں فارس دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔ اس نے وائیبریشن پر موبائل پاکٹ سے نکالا جس پر چند نوٹیفیکیشنز چمک رہی تھیں۔۔
وه موبائل ان لاک کرتا انہیں چیک کرنے لگا۔۔ کچھ دیر بعد اس نے موبائل دوبارہ پاکٹ میں ڈال لیا۔۔۔ بلا اراده اس کی نگاہ کچھ فاصلے پر گھاس پر بیٹھی مرحا پر ٹھہری جو گھٹنوں پر ڈائری رکھے سوچ سوچ کر اس پر کچھ لکھ رہی تھی۔۔
اس نے کاغذ پر لکھی تحریر کو پڑھا۔۔ وه چند اشعار تھے۔۔ اس کی آنکھوں میں ستائش ابھری۔۔ مغرور سرمئی آنکھیں اس کے چہرے پر ٹھہریں۔۔
نیلی آنکھوں پر بچھی گهنی پلکیں، ستواں ناک، عنابی لب اور لبوں کے کنارے چمکتا تل۔۔۔!
اس کے ذہن کی سلیٹ پر چند الفاظ پوری آب و تاب سے چمکے۔۔!
۔۔۔۔۔۔ ” ایک تو وه خود ہے شاعری جیسی ، اور پھر شاعری بھی کرتی ہے!!!” ۔۔۔۔۔۔
اپنی سوچوں کے بے لگام گھوڑے کو لگام ڈال کر وه رخ موڑ گیا۔۔ گھاس پر اوندھے لیٹے عمر نے یہ ساری کروائی فرصت سے ملاحظہ کی تھی۔۔
اس نے مزے سے مرحا کو پكارا۔۔ بہنا؟؟
آواز پر ارحا اور مرحا دونوں نے سر اٹھایا لیکن اسے مرحا کی طرف دیکھتے پا کر ارحا دوبارہ پڑھنے میں مصروف ہوگئی۔ وه آج یہ کتاب مکمل پڑھ لینا چاہتی تھی۔۔
مرحا نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو وه کھنکارہ۔۔
“آپ جو بھی اپنے نازک ہاتھوں سے لکھ رہی ہیں ہمارا ڈیئر فرینڈ فارس آپ کے پیچھے کھڑا سب پڑھ رہا ہے”
اس کے مزے سے کہنے پر اس نے سرعت سے رخ موڑا جہاں فارس واقعی کھڑا ہوا تھا۔۔
فارس نے عمر کو دیکھ کر دانت پیسے۔۔ وه اثر لئے بغیر شرارت سے اسے دیکھے گیا۔۔
مرحا کنفیوز سی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ اس نے وہاں سے جانے کے لیے قدم بڑھائے ۔۔ عین اسی وقت فارس نے بھی جانے کے لئے آگے بڑھا۔۔ دونوں ٹکراتے ٹکراتے بچے۔۔
اپنے اتنے قریب ایک وجیہہ لمبے چوڑے وجود کو دیکھ کر اس کا چہرہ پل میں سرخ ہوا۔۔
“ایسا کچھ نہیں ہے، وہ جھوٹ بول رہا ہے”
مغرور نظروں سے اس کے سرخی چھلکاتے چہرے کو دیکھ کر وه دھیمی آواز میں کہتا وہاں سے چلا گیا۔۔
وه اپنا آپ نارمل کرتی چیزیں سمیٹ کر کھڑی ہوئی۔۔ “آپی میں اوپر جا رہی ہوں”
ارحا کو آگاہ کرتی وه نظریں جھکا کر وہاں سے چلی گئی۔۔
🌚🌚🌚🌚
وه بیڈ پر نیم دراز آنکھیں موندے ہوئے تھا۔۔ ہونٹ ہلکی سی مسکراہٹ میں ڈھلے ہوئے تھے۔۔
چپکے سے ایک پری اس کے دل میں آن سمائی تھی۔۔ کیسا میٹھا سا احساس دل میں جاگا تھا۔۔
ہمیشہ زندگی کو فن سمجھ کر جینے والا جس کی زندگی میں محبت نامی چیز کی گنجائش نہیں تھی وه کسی ہوشربا کی زلفوں کا اسیر ہوا تھا۔۔
بند آنکھوں کے پار جھکی پلکوں والا کومل سا چہرہ پوری آب و تاب سے روشن ہوا تھا۔۔ وه مسکرا کر کروٹ بدل گیا۔۔
🌚🌚🌚🌚
گھر میں سناٹا محسوس کر کے اسے اچنبھا ہوا۔۔ دروازه بند کر کے اندر آتا وه ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔
کسی کو موجود نہ پا کر وه بیگ لاؤنج میں رکھتا کچن میں آیا۔۔۔ فریج سے پانی نکال کر وه گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔۔
وه ابھی ابھی ہوسپٹل سے آیا تھا۔۔۔ کمرے میں آ کر وه تازہ دم ہونے چلا گیا۔۔۔ کچھ دیر بعد ٹاول سے بال رگڑتے وه واشروم سے باہر نکلا۔۔
ہلکے پھلکے کپڑوں میں وه کافی بہتر محسوس کررہا تھا۔۔ اس نے دوسرے کمروں میں جهانکا تو اسے عمر بیڈ پر اوندها لیٹا نظر آیا۔۔
وه مزے سے چلتا آیا اور دهپ سے اسکی پیٹھ پر بیٹھ گیا۔۔ اس نے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔
رنگین خیالوں کی دنیا پل میں اڑن چھو ہوئی۔۔
سالے اٹھ!! اس نے گردن موڑی۔۔
“مولوی تُو ہے اٹھ یہاں سے ۔۔ سالو میری کمر کو تم کمینوں نے اپنی بیٹھک ہی سمجھ لیا ہے”
اسکے جلے کٹے لہجے پر وه ہستا ہوا وہیں بیڈ پر گر گیا۔۔ مکیا سوچ رہے تھے؟ عالیان نے اسے چھیڑنے والے انداز میں کہا۔۔
” تیری بھابھی کو سوچ رہا تھا۔۔ !!”
وه آنکھ مار کر بولا۔۔
“کمینے بھابھی ڈھونڈ بھی لی اور ہمیں بتایا بھی نہیں۔۔”
عالیان نے اسے ایک چماٹ لگائی۔۔
ایسی باتیں بتائی نہیں جاتیں۔۔!
وه اثر لئے بغیر ہستا ہوا بولا۔۔
میری چھوڑ ۔۔۔۔ وه اس کی طرف رخ موڑ کر کہنے لگا۔۔
” تو بتا بڑے تعارف ہو رہے تھے بچی تو فلیٹ ہو رہی تھی تجھ پہ!!”
وه اس کا سرخ چہرہ دیکھ کر مزے سے بولا۔۔
“چل بے ایسا کچھ نہیں ہے” وه سٹپٹا کر بولا۔۔
کچھ تو ہے ۔۔۔ جو نیند ۔۔ آئے کم ۔۔ کچھ تو ہے جو تُو کہہ دے تو۔۔۔۔ لا لا لا لا۔۔۔ !!!
عمر اسے تنگ کرتا گنگنانے لگا تو وه تنگ آ کر اسے دھموکا جڑتا اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
پیچھے عمر هستا ہوا پیٹھ سہلانے لگا۔۔
🌚🌚🌚🌚
وه موبائل میں گهسی ناول پڑھ رہی تھی۔۔ اگزامز سے وه کب کی فری ہو چکی تھی لہٰذا کام وام نبٹا کر وه ناول پڑھنے بیٹھ جاتی۔۔
حور اس کے قریب آ کر بیٹھتی موبائل میں گیم کھیلنے لگی۔۔
” یار فارس کتنا پیارا ہے آئی جسٹ لو ہم!!”
مرحا آنکھیں موندے بولی تو حور نے شرارت سے اسے دیکھا۔۔
اہم اہم !! کون وه ہینڈسم سے فارس بھائی جو نیچے والے فلور پر رہتے ہیں؟
وه آنکھیں پٹ پٹا کر بولی۔۔
مرحا کی ہارٹ بیٹ تیز ہوگئی۔۔ فارس کا شاندار سراپا اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔ خود کو دیکھتی سرمئی آنکھیں چھن سے سامنے آئیں۔۔
او ہو!!! ابھی سے ان کے خیالوں میں کھو گئیں۔۔۔!
وه مرحا کو كندها مارتی مسکراہٹ دبا کر بولی۔۔
” تمیز کرو کچھ، میں ناول والے فارس کی بات کررہی ہوں۔۔!!؛” وه خفت مٹاتی اسے ڈپٹ کر بولی۔۔
اوکے اوکے میں کہاں کچھ کہہ رہی ہوں!!!
وه ہاتھ اٹھاتی پھر سے گیم کھیلنے لگی۔۔ البتہ ہونٹوں پر ابھی بھی شرارتی مسکان تھی۔۔
🌚🌚🌚🌚
وه دونوں سڑک کے ایک طرف نارمل رفتار سے جا رہی تھیں۔۔ ایک کندھے پر بیگ گلے میں سٹالر ڈالے وه آج گروسری کرنے نکلی تھیں۔۔
” نور یار واپسی پر کچھ بیکری آئیٹمز بھی لیں گے۔۔”
اس کے منہ میں جیسے پانی آ گیا۔۔
اوکے!! حور کی بات پر وه سر ہلاتی راہ چلتے لوگوں کو گھور گھور کر دیکھ رہی تھی۔۔
گروسری سٹور میں داخل ہو کر انہوں نے لسٹ سے دیکھ کر ضروری چیزیں خریدیں۔۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد وه سٹور سے باہر نکلتیں چند قدم چل کر کچھ فاصلے پر موجود بیکری میں گھس گئیں۔۔
اندر آتے ہی حور کے منہ میں پانی آ گیا۔۔ اس کا دل کررہا تھا ایک دن کے لئے کوئی اسے بیکری میں بند کردے اور وه مزے سے ساری بیکری کا صفایا کر جائے۔۔
اہم اکسکیوز می!! حور کاؤنٹر پر جا کر کھنکاری۔۔
کاؤنٹر پر موجود لڑکا اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔
اس طرف جائیں!!! لڑکے نے پروفیشنل لہجے میں کہا تو وه خفت سے دوسری جانب چلی گئی۔۔
نور جو کونے میں رکھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھی ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھی حور کو دوسری جانب جاتا دیکھ کر اس کے پیچھے چل دی۔۔۔
اکسکیوزمی!! ڈبل چاکلیٹ کیک۔۔۔!
بولتے ہوئے اس کے منہ میں پانی آنے لگا۔۔ لڑکا سر ہلا کر پلٹ گیا۔۔
“ندیدی اپنا منہ تو بند کر ۔۔ “
نور نے اسے آنکھیں دکھائیں۔۔ پھر اس نے کندھے پر لٹکا بیگ اٹھا کر اس میں موجود رقم دیکھی۔۔ رقم گن کر وه ابھی بیگ کی زپ بند کر ہی رہی تھی کہ کوئی پلک جهپکنے میں اس کا بیگ چھین کر بھاگا۔۔
اوئے!! کسی بے غیرت کی اولاد۔۔!
جانی پہچانی آواز پر لڑکے نے پلٹ کر دیکھا تو جہاں اسکی آنکھیں حیرت سے پھیلیں وہیں نور کی آنکھوں میں شناسائی کی رمق پھیلی۔۔
تم؟ پھر سے !! آج تو نہیں چھوڑوں گی۔۔ دروازه بند کرو!! اس نے اندر آتے ایک آدمی کو اشارہ کیا تو اسے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔ وه الٹے قدموں باہر نكلتا دروازه بند کر گیا۔۔ “مس یہاں کوئی سین کری ایٹ نہ کریں۔۔”
دکاندار اسے مخاطب کرتے بولا لیکن وه اسے نظر انداز کرتے لڑکے کی جانب بھاگی جو بیكری کے اوپر والے فلور کی طرف بھاگا تھا۔۔
حور نے شرمندگی سے دکاندار کو دیکھا۔۔
“یہ نور کی بچی بھی نہ اور وه منحوس لڑکا ۔۔۔ہا!! نور کا بیگ ۔۔ اس میں تو بہت سارے پیسے اور ہمارے آئی ڈی کارڈز بھی ہیں۔۔ اچھا کیا نور تو نے ۔۔ اسکی ہڈی پسلی ایک کردے۔۔”
وه دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوتی سیڑھیوں کی جانب دیکھنے لگی جہاں سے ابھی ابھی نور اوپر گئی تھی۔۔۔
اوپر سے چیزیں گرنے کی آواز پر دكاندار نے اپنا ماتھا پیٹ لیا۔۔ دفعتاً وه لڑکا بھاگتا ہوا نیچے آیا۔۔
اس کے ہاتھ میں ایک راڈ تھا جسے دوسروں کو دکھا کر وه دروازے کی جانب بڑھا۔۔
” حور روک اسے۔۔ سالے کے پاس پرس ہے میرا۔۔”
تیزی سے سیڑھیاں اترتی نور کی آواز پر حور نے دانت میں انگلی دبائی۔۔
پھر ادھر ادھر دیکھ کر اس نے آرام سے اپنا پیر آگے کردیا جس سے وه لڑکا دھڑام سے نیچے گرا۔۔
اس کے ہاتھ سے بیگ پکڑ کر وه سیدھی ہوئی تو نور بھی آ گئی۔۔ اس نے لاتیں گھونسے مار کر اس کا وه حال کیا کہ وہ دوبارہ کسی کا بیگ چرانے کی ہمت نہ کر سکے۔۔
اس سے پہلے کہ دکاندار انھیں دھکے دے کر نکالتا وه جلدی سے اپنا آرڈر پکڑتیں پیسے کاؤنٹر پر رکھ کر وہاں سے نکل گئیں۔۔ دکان دار نے افسوس سے اپنی دکان کا بگڑا حال دیکھا تھا۔۔۔
🌚🌚🌚🌚
ہوسپٹل سے باہر نکل کر وه پارکنگ لاٹ میں کھڑی اپنی گاڑی کے پاس آیا۔۔ اس نے دائیں ہاتھ پر سفید کوٹ ڈال رکھا تھا جبکہ بائیں ہاتھ میں فائلز پکڑ رکھی تھیں۔۔ آنکھوں پر گاگلز چڑھائے اس نے فرنٹ ڈور کھولا اور کوٹ، فائلز اندر رکھتے دروازه بند کرتا دوسری سائیڈ پر آتا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر کار سٹارٹ کر دی۔۔
سڑک سے ایک بڑے چوک میں گاڑی کو ٹرن دیتے وه چونکا۔۔ کچھ لوفر لڑکے ایک لڑکی کو تنگ کر رہے تھے۔۔ وه مسلسل روتی ہوئی ان سے کچھ کہہ رہی تھی۔۔
عالیان کی آنکھوں میں سرخ لکیریں ابھری۔۔ وه تعداد میں چار تھے اور وه اکیلا۔۔ وه جانتا تھا کہ وه ان سے مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن وه اس لڑکی کی مدد کرنے کی کوشش تو کر سکتا ہے نہ۔۔ !
یہی سوچ کر وه گاڑی ایک طرف روک کر باہر نکلا۔۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتے وه ان کے پاس چلا آیا۔۔۔
اکسکیوز می!! اس نے انہیں پکارا تو وه چاروں اس کی طرف پلٹے۔۔
لڑکی نے امید سے اسے دیکھا۔۔
“بھائی یہ۔۔ مم۔۔ مجھے تنگ کررہے ہیں ۔۔۔ جج۔۔ جا۔۔نے نہیں ۔۔ دے رہے۔۔!”
اس کی آنکھ سے کئی آنسو ٹوٹ کر گرے تو عالیان کو بے حد دکھ ہوا۔۔
“کیسا معاشرہ ہے ہمارا جہاں ہماری ماں بہنیں محفوظ نہیں ہیں۔۔ جگہ جگہ انسانوں کے بهیس میں موجود درندے انھیں نوچنے کے لئے گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں”
سر جھٹک کر اس نے ان کی طرف دیکھا۔۔
“انھیں جانے دیں پلیز میں آپ سے ریکویسٹ کرتا ہوں۔۔!”
وه سنجیدگی سے بولا۔۔
“چل اوئے جا یہاں سے”
ان میں سے ایک انتہائی بد تمیزی سے بولا۔۔
ان کو جانے دو ورنہ میں ابھی پولیس کو کال کرتا ہوں۔۔ !
اس نے کہنے کے ساتھ ہی موبائل نکال کر نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا۔۔
” ابھے زیادہ ہیرو پنتی دکھاتا ہے،، ابھی تیری ساری ہیرو پنتی نکلتے ہیں۔۔۔!!”
کہنے کے ساتھ ہی انہوں نے اسے زوردار دھکا دیا جس سے وہ زمین پر جا گرا۔۔
لڑکی نے خوفزدہ ہو کر منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔۔ انہوں نے عالیان کو کھڑا کیا اور اسے پیٹنے لگے۔۔ وه اپنے بچاؤ کی کوشش کرنے لگا لیکن چار ہٹے کٹے آدمیوں کے سامنے وه بےبس ہوا تھا۔۔
ان کا دیہان اپنی طرف سے ہٹتے پا کر وه وہاں سے تیزی سے نکل گئی۔۔ دور آ کر اس نے دو تین لڑکوں کو روک کر عالیان کی طرف اشارہ کرتے مدد کرنے کا کہا اور خود وہاں سے چلی گئی۔۔
وه لڑکے جلدی سے آئے اور انہیں چھڑانے لگے۔۔ ان کی دیکھا دیکھی اور بھی لوگ ان کی مدد کو آ گئے۔۔ معاملہ رفع دفع ہوا۔۔ عالیان مشکل سے چلتا گاڑی تک آیا۔۔
اس کے چہرے جسم پر جا بجا چوٹوں کے نشان تھے۔۔ ہاں اسے اب بھی اس لڑکی کی مدد کے لئے جانے پر افسوس نہیں تھا۔۔
مشکل سے ڈرائیونگ کرتا وه گھر تک پہنچا۔۔ دروازه کھول کر وه لڑکھڑاتا ہوا اندر آیا۔۔ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے وه تینوں اسکی حالت دیکھ کر چونکے۔۔
بجلی کی سپیڈ سے وه اس کے سر پر پہنچے۔۔
یہ کیا ہوا ہے تمہیں؟ کس نے کیا یہ؟
فارس جبڑے بھینچے اس کا بازو پکڑ کر بولا۔۔۔
سس!! عالیان نے درد سے ہونٹ بھینچ لئے۔۔
“گائیز آرام سے ۔۔۔وه انجرڈ ہے۔۔!”
سالار نے سرخ آنکھوں سے اس کا جائزہ لیا۔۔ وہ اسے لئے لاؤنج میں آئے اور آرام سے صوفے پر بٹھا دیا۔۔ عمر خاموشی سے جا کر فرسٹ ایڈ باکس لے آیا۔۔
اس کی شرٹ اتار کر انہوں نے بینڈ ایج کی اور اسے جوس پلایا۔۔ جب وه کچھ بہتر نظر آیا تو انہوں نے اس سے سوالات کرنے شروع کر دیے جن کے وه آرام آرام سے مختصر جواب دیتا رہا۔۔
“اوکے تم ریسٹ کرو ہم ابھی آتے ہیں۔۔”
فارس نرمی سے کہہ کر اٹھا تو عمر اور سالار بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔
“کسی سے لڑائی نہ کرنا۔۔!”
وه گھومتے سر کے ساتھ بولا۔۔
سالار نے جوس میں نیند کی گولی ملا دی تھی جس کی وجہ سے عالیان کی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں۔۔ وه لڑکھڑاتی آواز میں بولا تو انہوں نے اسے آرام سے لیٹ جانے کو کہا۔۔
“ڈونٹ وری ہم کچھ نہیں کریں گے بس پولیس میں رپورٹ کروائیں گے۔۔ “
ان کی بات پر مطمئن ہوتا آنکھیں موند گیا۔۔ وه تینوں سرد تاثرات کے ساتھ گھر سے باہر نکل گئے۔۔
🌚🌚🌚🌚
مطلوبہ مقام پر پہنچ کر وه بازو کہنیوں تک موڑ کر چوک میں داخل ہوئے جہاں ان کی توقع کے مطابق وه چاروں وہیں کھڑے تھے۔۔
فارس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ایک کو گریبان سے پکڑ کر اپنی طرف گھسیٹا اور پہ در پہ اسے گھونسے مارنے لگا۔۔
اب اتنی باڈی دھوپ میں سكهانے کے لئے تھوڑی بنائی تھی۔۔۔۔!
مقابل کو کچھ سمجھنے کا موقع نہ ملا۔۔ سالار نے دو لڑکوں کو گردن سے پکڑا اور ان کا سر زور سے آپس میں دے مارا ۔۔
“حرام خور سویٹ ہارٹ ہمارے دوست کو مار کر اچھا نہیں کیا تم لوگوں نے۔۔ !!”
چالاک بنتے لڑکے کو اس نے ایک لات رسید کو جو اسے پیچھے سے گھیرنے کی کوشش کررہا تھا۔۔
چوتھے لڑکے نے جو اب تک کسی کے ہتھے نہ چڑھا تھا فارس کو پیچھے سے آ کر دبوچ لیا۔۔
“سالے میں یہاں کیا کِنوں کھانے آیا ہوں !!!…”
عمر نے اسے ٹانگوں سے گھسیٹا جس سے وه پتھریلی زمین پر دھڑام سے گرا۔۔ اسے اٹھنے کا موقع دیے بغیر وه اس کے
اوپر چڑھ کر بیٹھ گیا اور اس کے منہ پر بھاری ہاتھ کی زوردار چپیڑیں مارنے لگا۔۔
” سالے میں تیرے کو نظر نہیں آیا جو تو مجھ سے لڑنے کی بجائے اس کو چمٹ گیا۔۔ یا اسکی باڈی دیکھ کر تجھ حرام خور کی رال ٹپکنے لگی تھی جو “بدنام مُنّی” کی طرح اس سے چمٹ گیا۔۔ !!! “
اٹھ کر اس کو ٹھوکریں مارتا وه اپنے دل کی بھراس نکالنے لگا۔۔
“میرے مولوی کو ہاتھ کیسے لگایا۔۔ !”
اس کے ہاتھ پر زور سے کاٹتا وه اسے چیخنے پر مجبور کر گیا۔۔
تھو !! گندے ہاتھ ۔۔۔ گینڈے کیا ہاتھ نہیں دھوتا۔۔!
اس کے قریب تھوکتا وه باقی دونوں کو دیکھنے کے لئے مڑا تو ایک لڑکے نے سالار کی گردن میں ہاتھ ڈال کر اسے دبوچ رکھا تھا جبکہ دوسرے نے اسکی ٹانگوں کو قابو کیا ہوا تھا۔۔ وه کھا جانے والی نظروں سے عمر کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کرنے لگا جو کمینوں کی طرح کھڑا لائیو شو دیکھ رہا تھا۔۔
سوری !!!
اس نے اسے آنکھ ماری اور کچھ فاصلے پر گتهم گتها فارس کو دیکھ کر اسکی پیٹھ پر ہاتھ مار کر شاباشی دیتا ہوا آگے آیا۔۔
” بچنا گنج کمینو،، لو میں آ گیا۔۔۔ !!!”
گنگنا کر اس نے سالار کی ٹانگوں سے لپٹے لڑکے کی کمر سے نیچے زور دار لات ماری جس سے وه چیختا ہوا پرے ہٹا۔۔ سالار نے زور لگا کر گردن کو پھندے سے آزاد کیا اور مقابل کی طرف پلٹ کر اسکے منہ پر لگاتار آٹھ دس گھونسے مارے۔۔
اسے مار کر وه پیچھے ہٹا اور اس کے بگڑے نقوش کو منہ کھولے دیکھنے لگا۔۔
چچ چچ ! اور میری گردن تک آؤ سویٹ ہارٹ !!!
اسے دھکا دے کر وه عمر کو دیکھنے لگا جو موبائل نکالے آرام سے فارس کی ویڈیو بنا رہا تھا جو مقابل کو مار مار کر اسکا بھرتا بناتے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
اس کے سینے سے شرٹ پھٹ چکی تھی جو اسکے کسرتی سینے کو واضح کررہی تھی۔۔
واہ ہیرو ! کیا فائٹنگ سٹائل ہے کیا باڈی ہے تم فلموں میں کیوں نہیں چلے جاتے۔۔۔ !
موبائل پاکٹ میں ڈال کر وه اسے مفت کا مشورہ دے گیا۔۔ وہاٹ دا۔۔۔۔۔۔ !
فارس اسکے فضول مشورے پر اسے کچھ سخت کہتے کہتے رکا۔۔
سر جھٹک کر اس نے شرٹ ٹھیک کی اور وه تینوں جس طرح آئے تھے اسی طرح واپس چلے گئے۔۔
🌚🌚🌚🌚
واپس آ کر وه خاموشی سے فریش ہونے چلے گئے۔۔
اکا دکا خراش کو انہوں نے چھپا لیا تھا تا کہ عالیان دیکھ نہ پائے۔۔۔
فریش ہو کر وه لاؤنج میں آئے اور احتیاط سے عالیان کو اٹھا کر اندر کمرے میں بیڈ پر لٹا دیا جو دوا کے زیرِ اثر سو رہا تھا۔۔
کچن میں آ کر ہلکا پھلکا کھا کر وه اپنے اپنے بستر پر آ کر گر گئے۔۔
🌚🌚🌚🌚
قدموں کی چاپ پیدا کئے بغیر وه آرام سے چلتا سالار کے پیچھے آ کھڑا ہوا جو اسکی جانب پیٹھ موڑے موبائل پر کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا۔۔
اس نے غور سے دیکھا تو وه کسی لڑکی سے فلرٹ کررہا تھا۔۔ اس کی آنکھیں حیرت سے بڑی ہوئیں۔۔ یکا یک اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئی۔۔
اس نے بجلی کی سی تیزی سے موبائل اس کے ہاتھ سے چھینا اور دوڑ لگا دی۔۔ لمحوں کا کھیل تھا۔۔ سالار کو تو پہلے کچھ سمجھ نہ آیا جب بات اسکی بدھی میں آن سمائی تو وه ایک سیكنڈ کی دیر کئے بغیر اس کی پیچھے دوڑا۔۔
“ابھے بن مانس کی اولاد، سو بے غیرت مرے ہوں گے جو تو پیدا ہوا۔۔ میرا موبائل واپس کر نہیں تو بہت برا حشر کروں گا یاد رکھیں۔۔۔ ! “
وه مسلسل لاؤنج سے لان میں اور لان سے گول چکر لگا کر لاؤنج میں آگے پیچھے چوہے بلی کی طرح بھاگ رہے تھے۔۔ لیکن عمر اس کے ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔۔ وه بس کسی طرح لیونگ روم میں گھس کر فارس اور عالیان کو اس کا چھچھوڑ پن دکھانا چاہتا تھا۔۔
” ابھے کسی گنجی کے سویٹ ہارٹ۔۔ رک !!! “
سالار نے دانت پیس کر اسے دیکھا۔۔ عمر کسی نہ کسی طرح لیونگ روم میں گھس گیا۔۔
لو فارس کدھر گیا؟
اس نے دوڑ کر بیڈ پر چڑھ کر نیم دراز عالیان سے پوچھا جو اچانک اس طرح اٹھ بیٹھا تھا جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔۔
” وہ واش روم میں ہے لیکن تم ۔۔۔ “
اسکی بات بیچ میں ہی رہ گئی۔۔۔ عمر نے موبائل اس کی سمت بڑھایا ہی تھا کہ سالار نے اسے گردن سے دبوچ لیا اور موبائل کھینچ کر پاكٹ میں ڈالتے اسے گدی پر تھپڑ مارنے لگا۔۔
“امی بچاؤ مجھے!! اس گینڈے سے بچاؤ کوئی مجھے۔۔”
عمر ہاتھ پیر مارتا دہائیاں دینے لگا۔۔
عالیان سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔ شور و غل سے اس کا سر درد ہونے لگا تھا جسے دیکھ کر وه دونوں سیدھے ہو گئے۔۔
کیا ہوا سویٹ ہارٹ؟ ایوری تهنگ اوکے؟؟
سالار اس کے قریب بیٹھتا بولا تو وه سر ہلا گیا۔۔
بس سر میں تھوڑا درد ہے۔۔ !وه معصومیت سے بولا تو سالار کو بے ساختہ اس پر پیار آیا۔۔۔
ہاؤ انوسنٹ یو آر !!!
وه اس کے گال کھینچنے لگا جس پر عالیان کا چہرہ ہلکا سا سرخ ہوگیا۔۔
وه مسکرا دیا۔۔ جبکہ عمر کا قہقہہ چھوٹ گیا۔۔
“کیا چیز ہے یہ مولوی یار۔۔ دیکھ کیسے بلش کررہا ہے۔۔ اس کی جگہ کوئی لڑکی ہوتی تو تُو نے بے ہوش ہی ہو جانا تھا۔۔” وه مسلسل ہستا جا رہا تھا۔۔
اسے دیکھ کر عالیان بھی مسکرا دیا۔۔ اتنے میں واش روم کا دروازه کھول کر فارس باہر نکلا۔۔ گیلے بالوں کو تولیے سے خشک کرتا وه كبرڈ کی جانب آیا کیونکہ وه شرٹ ساتھ لے جانا بھول گیا تھا۔۔
اس کا کسرتی جسم دیکھ کر عمر نے او شیپ میں ہونٹ گھمائے۔۔
نائیس باڈی،،، بڈی!!!
سالار نے اسے ستائشی نظروں سے دیکھ کر کہا تو وه پلٹ کر اسے دیکھتا نفی میں سر ہلاتا مسکرا دیا۔۔ عمر نے شرارت سے اسے دیکھا ۔۔ وه اٹھا اور جا کر اس کی پشت سے لپٹ گیا۔۔
جانو آپ کتنے ہاٹ ہیں!!!
اسکے گرد بازو حائل کرتے وه آواز کو باریک کرتا ہوا بولا۔۔ عالیان اور سالار کی ہنسی نکل گئی۔۔۔
جبکہ فارس مسکراہٹ ضبط کرتا اسکا بازو ہٹا کر اسے دیکھتا گھورنے لگا۔۔
“جانو ایسے تو نہ دیکھیں نہ یہاں سم تھینگ سم تھینگ ہوتا ہے!!!”
وه اسکے سینے پر ہاتھ رکھتا اپنے دل کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زنانہ آواز میں بولا۔۔۔
” ادھر آ تیرا سم تھینگ نکالوں۔۔۔ !”
فارس نے اسے بازو سے دبوچ کر قریب کیا تو عمر کی آنکھیں پوری کھل گئیں۔۔
وه اپنا بازو چھڑا کر اس کے دس قدم دور جا کر دونوں بازو کاندھوں پر کراس کی صورت بنا کر کھڑا ہوگیا۔۔ “استغفراللّه” چھچھوڑے انسان۔۔ یہاں تو میری عزت ہی محفوظ نہیں ہے۔۔ یا اللّه میری عزت۔۔۔۔ !
اس کے باقی الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔۔ فارس نے شرٹ پہن کر قریب پڑا تکیہ اٹھا کر اس کے منہ پر دے مارا۔۔
“بے غیرت کمینے۔۔ !!!”
اسے مختلف القابات سے نوازتا وه کھانا لینے کچن چلا گیا۔۔ سالار بھی اس کے پیچھے چلا گیا کیونکہ اب بھوک زوروں سے لگ رہی تھی۔۔
عمر نے منہ کھولے عالیان کو دیکھا جس نے منہ پر تکیہ رکھ کر آنکھیں موند لیں۔۔۔
“بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے”
بڑبڑا کر وه کمرے کی بکھری حالت سنوارنے لگا۔۔