Tera Mera Love By Mirha Khan Readelle50299 Last updated: 10 November 2025
Rate this Novel
Tera Mera Love
By Mirha Khan
یہ نور کی بچی کو بھی آج چھٹی ضرور کرنی تھی۔۔ اب اکیلی کیا کروں گی میں یہاں؟ وه خفگی سے سوچتی یونیورسٹی میں داخل ہوئی تھی۔۔ وه سیدھا گراؤنڈ میں آ گئی۔۔۔ ابھی اس کا کلاس اٹینڈ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔ چوئینگم چباتی وه بنچ پر بیٹھ گئی اور ارد گرد کا جائزہ لینے لگی۔۔ توبہ یہ لڑکیاں تو جیسے کسی فیشن شو میں آئی ہیں!! لڑکیوں کے میکپ سے اٹے چہرے دیکھ کر وه دیدے گھما گئی۔۔ تازہ ہوا میں گہرا سانس لیتی وہ کچھ دیر وہیں بیٹھی رہی۔۔ پھر بور ہوتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ بیگ کندھے پر ڈال کر وه اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف آ گئی۔۔ وه سیدھ میں دیکھ کر چل رہی تھی کہ اچانک اس کا پیر مڑا اور وه زمین بوس ہوگئی۔۔۔ اس کے پیر میں شدید درد اٹھا تھا۔۔۔ وه وہیں بیٹھتی رونے لگی۔۔ " آر یو فائن؟" وه جو ابھی لیکچر لے کر فارغ ہوتا اپنے آفس کی جانب جا رہا تھا کسی لڑکی کو راستے میں بیٹھا دیکھ کر اسے شک گزرا کہ وه حور ہے۔۔ اس لئے پوچھ بیٹھا۔۔ آواز پر اس نے روتے ہوئے سر اٹھایا۔۔ نیلی آنکھوں کے کناروں سے ٹپکتے شفاف آنسو، رونے سے سوجھے گلابی ہونٹ۔۔ وه مسمرائز ہوگیا۔۔ "میرا پیر مڑ گیا ہے"وه آنسو پونچھ کر بولی۔۔ سالار نے ایک پل کو سوچا اور پھر نیچے جھک کر اسے بازوؤں میں اٹھاتا اپنے آفس کی جانب بڑھ گیا۔۔ حور ہکا بكا سی رہ گئی۔۔۔ شکر تھا کہ اس راہداری میں کوئی نہیں تھا ورنہ وه کچھ ہی دیر میں یونی میں مشہور ہوجاتی۔۔ سالار نے آفس میں آ کر اسے اپنی رولنگ چیئر پر بٹھایا اور نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کے پیر کو جوتوں کی قید سے آزاد کیا۔۔ حور نے جھجھک کر اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے اسے روک دیا۔۔ ڈونٹ !! وہ نظریں جھکا کر بولی تو وه نرم گرم نگاہوں سے اسے دیکھے گیا۔۔ "لیٹ می چیک لٹل گرل" اس نے دونوں ہاتھوں میں اسکا پیر تھاما اور آہستہ سے مختلف زاویوں سے حرکت دینے لگا۔۔ "سی!!! " درد سے اس کے منہ سے سسكی نکلی۔۔ سالار نے اسکی نیلی آنکھوں میں اپنی ہیزل گرین آنکھیں گاڑ دیں۔۔ "لک ان ٹو مائی آئیز" یو آر ویری بیوٹیفل لٹل گرل۔۔۔!!! وه اس آنکھوں کے سحر میں کھو گئی۔۔ یک ٹک اسے دیکھے گئی۔۔ سالار نے جھٹکے سے اسکا پیر موڑا تو وه اس کا کندھا دبوچ کر آنکھیں میچ گئی۔۔۔ "اب ٹھیک ہے!! موو کر کے دیکھو۔۔۔" حور نے اسکی ہدایت پر پیر کو حرکت دی تو وه واقعی ٹھیک تھا۔۔ تھینک یو سو مچ سر !! وه مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئی تو وه بھی اس کے مقابل کھڑا ہوگیا۔۔ دونوں کے مابین بس چند انچ کا فاصلہ تھا۔۔ وہ جھجھک سی گئی۔۔ "میں چلتی ہوں کلاس کا وقت ہورہا ہے" نظریں جھکا کر کہتی وه آہستہ سے اسکے سائیڈ سے نکل گئی۔۔ سالار نے گردن موڑ کر اسے آفس سے باہر جاتے دیکھا تھا۔۔ سر جھٹک کر مسکراتا وه اسکی چھوڑی ہوئی جگہ پر بیٹھ کر آنکھیں موند گیا۔۔۔
