Tera Mera Love By Mirha Khan Readelle50299 (Tera Mera Love) Episode 7
Rate this Novel
(Tera Mera Love) Episode 7
دادو کہاں جا رہی ہیں آپ؟؟
ارحا نے انھیں سیڑھیوں کی طرف جاتے دیکھا تو پوچھنے لگی۔۔
“بچوں کی خبرگیری کر آؤں ذرا کل سے نظر نہیں آئے۔۔”
وه عینک ناک پر درست کرتیں اسے مطلع کر کے سیڑھیاں اترنے لگیں۔۔ اندر آ کر انھوں نے عالیان کو پکارا۔۔
جواب نہ پا کر وه فکرمند ہوتیں لاؤنج میں آئیں۔۔
عالیان بیٹا؟؟
اب کے انہوں نے پکارا تو کمرے سے عالیان کی آواز آئی۔۔
“آ جائیں میں کمرے میں ہوں”
اس نے اٹھ کر بیٹھتے ان کی پکار کا جواب دیا۔۔ بیٹھنے سے زخموں سے ٹیسیں اٹھنیں لگی تھیں۔۔ انہیں اس طرح اندر آنے کا کہنا اسے عجیب بھی لگا لیکن وه کیا کر سکتا تھا۔۔
باقی تینوں تو اپنے اپنے کاموں پر جا چکے تھے جبکہ اس نے ہسپتال سے تین دن کی چھٹی لے لی تھی۔۔
تاج بیگم اندر آئیں تو اس کے چہرے پر جا بجا زخم اور ہاتھ پر پٹی دیکھ کر پریشان سی ہوگئیں۔۔
” بیٹا یہ کیا ہوا تمھیں؟”
وه اس کے پاس آ کر فکرمندی اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات سے بولیں۔۔۔
” میں ٹھیک ہوں۔۔! بس کل کچھ لڑکوں سے جھگڑا ہوگیا تھا۔۔ تو۔۔۔۔!”
وه نرمی سے بتانے لگا۔۔
“ارے خدا کی مار پڑے انہیں کیا حشر کر دیا ہے تمہارا۔۔ میرے بچے دیکھو کیسا زرد رنگ ہورہا ہے۔۔!!!”
وه غصے سے گویا ہوئیں۔۔
“پولیس میں رپورٹ کروا دی تھی۔۔ آپ پریشان نہ ہوں پلیز۔۔”
وه مسکرا کر بولا۔۔۔
“اچھا تم آرام کرو میں تمهارے لئے ہلدی والا دودھ بھجواتی ہوں۔۔ آرام ملے گا۔۔ !!”
اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر وه اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔
عالیان کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔ “شکریہ آپ کا!!!”
وہ شکرگزاری کے احساس سے گویا ہوا۔۔
“پگلے۔۔۔ دادی ہوں تمہاری۔۔ ایسے اجنبیوں کی طرح نہ بات کرو مجھ سے ۔۔۔ !!!”
پیار سے اسے چپت لگاتیں وه دوسرے فلور پر چلی آئیں۔۔ کچن میں آئیں تو وہاں ارحا پہلے سے موجود تھی۔۔
“بیٹا دودھ میں ہلدی ڈال کر گرم کردو۔۔”
ان کی بات پر وه فکرمندی سے ان کے قریب چلی آئی۔۔
دادو کیا ہوا آپ کو؟ کہیں درد ہے؟
اس کے فکر بھرے انداز پر وه اس کا ماتھا چوم کر گویا ہوئیں۔۔
“نہیں بیٹا میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔ بس ابھی نیچے گئی تھی نہ تو پتہ چلا بچے کی طبیعت خراب ہے۔۔ کیسا زمانہ آ گیا ہے انسان، انسان کا دشمن ہوا پڑا ہے۔۔ کل بچے کو کسی نے پیٹ دیا۔۔ پٹیاں کیے بستر پر پڑا ہے۔۔ “
دادو کس کی بات کرہی ہیں آپ؟
وه بھی ذرا فکرمند ہوئی۔۔
” عالیان بیٹے کی ۔۔۔ تم جلدی سے اسے ہلدی والا دودھ دے آؤ۔۔ پیئے گا تو درد سے آرام ملے گا۔۔۔ !”
کچن کے پاس سے گزرتی نور نے نہ جانے کیوں رک کر ان کی بات سنی تھی۔۔ اس کے چہرے پر اداسی چھا گئی۔۔
🌚🌚🌚🌚
وه کروٹ پر کروٹ بدل رہا تھا۔۔ نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔ اس نے ارد گرد نگاہ دوڑائی تو وه تینوں بے سدھ سوئے پڑے تھے۔۔
اس کا دل گھبرانے لگا تو وه اٹھ بیٹھا۔۔۔ بیڈ سے پیر نیچے رکھ کر اس نے چپل پہنی اور آرام سے اٹھ کر آہستہ آہستہ چلتا باہر لان میں آ گیا۔۔
رات کا پہلا پہر تھا۔۔ آسمان نے اپنے اوپر ٹمٹماتے تاروں کی چادر اوڑھ رکھ تھی۔۔
چاند قدرے دور اکیلا سا جیسے روٹھا پڑا تھا۔۔ وه سینے پر بازو باندھ کر لان کی سیڑھی پر بیٹھ کر خاموشی سے آسمان کو تکنے لگا۔۔
کچھ ساعتیں یوں ہی بیت گئیں۔۔
قدموں کی چاپ ابھری اور وه خاموشی سے اس کے برابر آ بیٹھی۔۔
عالیان نے چہرہ موڑ کر اسکی طرف دیکھا۔۔
آپ یہاں اس وقت؟؟
اسکی سیاہ اداس آنکھیں سوالیہ انداز میں اسے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
جواب نہ پا کر وه دوبارہ چہرہ سیدھا کرتا آسمان کو تکنے لگا۔۔
“اب کیسی طبیعت ہے تمہاری؟؟”
وه اداسی سے بولی۔۔ پتہ نہیں کیوں آج دل بہت اداس ہو چلا تھا۔۔
عالیان اپنے پیروں کو دیکھنے لگا۔۔
” آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟”
یونہی!!
کہہ کر وه اسے دیکھتی خاموش ہوئی تھی۔۔ کچھ دیر وه خاموشی سے رات کی تاریکی میں اپنی اداسی کی وجہ کھوجتے رہے۔۔
” دادو نے بتایا تھا کہ تمہیں چوٹیں آئی ہیں۔۔۔!”
وه دھیمی آواز میں بولی تو عالیان نے چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔۔
“ہاں آئی تو ہیں۔۔ !!”
” تم ان سے فائٹ کرتے یوں مار کھا کر آ گئے۔۔”
خفگی سی خفگی تھی۔۔
مجھے لڑنا نہیں آتا۔۔ ! جواب دیا گیا۔۔
وه پل میں خاموش ہوئی تھی۔۔
آپ اداس ہیں؟
اسے لگا جیسے وه اداس تھی۔۔ نہ جانے کس احساس کے تحت پوچھ بیٹھا۔۔
پتہ نہیں!! میں کچھ سمجھ نہیں پا رہی۔۔ !
وه بے چارگی سے بولتی اٹھ کھڑی ہوئی اور جانے کے لئے پلٹ گئی۔۔
نور؟؟ اسکی دھیمی آواز پر وه اپنی جگہ ساکت ہوئی تھی۔۔
“ان راستوں پر سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیے گا۔۔ ہر کسی کو اس کی منزل نہیں ملا کرتی”
وه آسمان پر نظریں ٹکائے بولا۔۔ چند لمحوں بعد اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔ وہ جا چکی تھی۔۔۔
🌚🌚🌚🌚
یہ نور کی بچی کو بھی آج چھٹی ضرور کرنی تھی۔۔ اب اکیلی کیا کروں گی میں یہاں؟
وه خفگی سے سوچتی یونیورسٹی میں داخل ہوئی تھی۔۔ وه سیدھا گراؤنڈ میں آ گئی۔۔۔ ابھی اس کا کلاس اٹینڈ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔ چوئینگم چباتی وه بنچ پر بیٹھ گئی اور ارد گرد کا جائزہ لینے لگی۔۔
توبہ یہ لڑکیاں تو جیسے کسی فیشن شو میں آئی ہیں!!
لڑکیوں کے میکپ سے اٹے چہرے دیکھ کر وه دیدے گھما گئی۔۔
تازہ ہوا میں گہرا سانس لیتی وہ کچھ دیر وہیں بیٹھی رہی۔۔ پھر بور ہوتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
بیگ کندھے پر ڈال کر وه اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف آ گئی۔۔ وه سیدھ میں دیکھ کر چل رہی تھی کہ اچانک اس کا پیر مڑا اور وه زمین بوس ہوگئی۔۔۔
اس کے پیر میں شدید درد اٹھا تھا۔۔۔ وه وہیں بیٹھتی رونے لگی۔۔
” آر یو فائن؟”
وه جو ابھی لیکچر لے کر فارغ ہوتا اپنے آفس کی جانب جا رہا تھا کسی لڑکی کو راستے میں بیٹھا دیکھ کر اسے شک گزرا کہ وه حور ہے۔۔ اس لئے پوچھ بیٹھا۔۔
آواز پر اس نے روتے ہوئے سر اٹھایا۔۔ نیلی آنکھوں کے کناروں سے ٹپکتے شفاف آنسو، رونے سے سوجھے گلابی ہونٹ۔۔
وه مسمرائز ہوگیا۔۔
“میرا پیر مڑ گیا ہے”وه آنسو پونچھ کر بولی۔۔ سالار نے ایک پل کو سوچا اور پھر نیچے جھک کر اسے بازوؤں میں اٹھاتا اپنے آفس کی جانب بڑھ گیا۔۔
حور ہکا بكا سی رہ گئی۔۔۔ شکر تھا کہ اس راہداری میں کوئی نہیں تھا ورنہ وه کچھ ہی دیر میں یونی میں مشہور ہوجاتی۔۔
سالار نے آفس میں آ کر اسے اپنی رولنگ چیئر پر بٹھایا اور نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کے پیر کو جوتوں کی قید سے آزاد کیا۔۔
حور نے جھجھک کر اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے اسے روک دیا۔۔
ڈونٹ !! وہ نظریں جھکا کر بولی تو وه نرم گرم نگاہوں سے اسے دیکھے گیا۔۔
“لیٹ می چیک لٹل گرل”
اس نے دونوں ہاتھوں میں اسکا پیر تھاما اور آہستہ سے مختلف زاویوں سے حرکت دینے لگا۔۔ “سی!!! “
درد سے اس کے منہ سے سسكی نکلی۔۔
سالار نے اسکی نیلی آنکھوں میں اپنی ہیزل گرین آنکھیں گاڑ دیں۔۔
“لک ان ٹو مائی آئیز”
یو آر ویری بیوٹیفل لٹل گرل۔۔۔!!!
وه اس آنکھوں کے سحر میں کھو گئی۔۔ یک ٹک اسے دیکھے گئی۔۔
سالار نے جھٹکے سے اسکا پیر موڑا تو وه اس کا کندھا دبوچ کر آنکھیں میچ گئی۔۔۔
“اب ٹھیک ہے!! موو کر کے دیکھو۔۔۔”
حور نے اسکی ہدایت پر پیر کو حرکت دی تو وه واقعی ٹھیک تھا۔۔
تھینک یو سو مچ سر !!
وه مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئی تو وه بھی اس کے مقابل کھڑا ہوگیا۔۔
دونوں کے مابین بس چند انچ کا فاصلہ تھا۔۔ وہ جھجھک سی گئی۔۔
“میں چلتی ہوں کلاس کا وقت ہورہا ہے”
نظریں جھکا کر کہتی وه آہستہ سے اسکے سائیڈ سے نکل گئی۔۔
سالار نے گردن موڑ کر اسے آفس سے باہر جاتے دیکھا تھا۔۔
سر جھٹک کر مسکراتا وه اسکی چھوڑی ہوئی جگہ پر بیٹھ کر آنکھیں موند گیا۔۔۔
🌚🌚🌚🌚
اس نے چھت پر ایک آخری نظر ڈالی۔۔ وه سارے کپڑے اتار چکی تھی۔۔ ہاتھ میں سوکھے کپڑوں کا ڈھیر پکڑے وه سنبهل کر چلتی سیڑھیاں اتارنے لگی۔۔
کپڑوں کی وجہ سے وہ سامنے دیکھ نہ پائی اور اپنے دیہان میں آتے عمر سے ٹکرا گئی۔۔۔
اس کا پیر پهسلا اور وه گرنے کے قریب تھی کہ عمر نے فوراً سے اسے کمر سے تھام لیا۔۔
وه دونوں ایک لمحے کو خوفزدہ ہوئے تھے۔۔ چند پل یونہی وه ایک دوسرے کے قریب رہے۔۔
ارحا کو پہلے ہوش آیا تو وه جھجھک کر پیچھے ہٹی ۔۔۔ اس کا چہرہ شرم سے سرخ پڑ گیا۔۔
عمر نے دلچسپی سے اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھا تھا۔۔ اسکی نظروں سے پزل ہوتی وہ جلدی سے سیڑھیوں میں بکھرے کپڑے اٹھانے لگی۔۔
بغیر نظریں اٹھائے وه سیڑھیاں اترتی نیچے آئی اور لاؤنج میں کپڑے رکھ کر مڑ کر پیچھے دیکھا جہاں سے وه چھت پر جا چکا تھا۔۔
“بے شرم !!” بڑبڑا کر وه وہیں بیٹھتی کپڑے تہہ کرنے لگی۔۔۔
🌚🌚🌚🌚
وه سب تاج بیگم کے کمرے میں بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھیں کہ ایک عورت کمرے کے باہر کھنکاری۔۔
وه چپ ہوتیں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگیں۔۔ تاج بیگم نے بھی ایک نظر انہیں دیکھا اور پیروں میں چپل پہن کر باہر آئیں۔۔۔
السلام علیکم !!
باہر موجود خاتون اور ان کے ساتھ عجیب حلیے والے لڑکے کم آدمی کو انہوں نے سر تا پیر دیکھا اور پھر جواب دیا۔۔۔
وعلیکم السلام !! آئیں بیٹھیں ۔۔ !
وه انہیں لئے وہیں لاؤنج میں بیٹھ گئیں۔۔۔
جی میں نے آپ کو پہچانا نہیں؟؟
ان کی بات پر وہ خاتون اپنے بیٹے کو دیکھ کر بولیں۔۔
“جی ہم آپ کے ساتھ والی گلی میں رہتے ہیں۔”
اچھا !! تاج بیگم نے سر ہلایا۔۔
وه ان کی آمد کا مقصد ابھی بھی نہیں سمجھی تھیں۔۔
وه چاروں جو دروازے کے پیچھے چھپی باہر لاؤنج میں جھانک رہی تھیں گرتے گرتے بچیں۔۔ “ابھے یہ شیخ کہاں سے ٹپک پڑا۔۔”
لڑکے کا عربیوں والا حلیہ دیکھ کر نور کی ہنسی نکل گئی۔۔
لڑکے نے سر پر عربیوں کے اسٹائل میں رومال باندھ رکھا تھا جب کہ ساتھ سفید کھلا سا چولا پہن رکھا تھا جو اس کے پاؤں تک آتا تھا۔۔ “اونٹوں کی ریس میں اونٹ نے اسے لات مار کر یہاں پہنچا دیا ہوگا۔۔۔”
حور نے کچھ اس انداز سے کہا کہ وه سب کھی کھی کرنے لگیں۔۔۔
سلام یا امی،، اَنَا سلیم !!
وه تاج بیگم کو دیکھ کر ایک انداز سے بولا۔۔۔ انہوں نے جواباً عینک کے پیچھے سے اسے گھورتے سے ہلایا۔۔
‘اجی اصل میں وه ہم کافی دن سے دیکھ رہے تھے آپ یہاں آئے ہیں ۔۔۔ ماشاءالله اتنی پیاری بچیاں ہیں آپ کی۔۔!!”
بچیوں کے نام پر تاج بیگم کے ذہن میں الارم سا بجا۔۔
نور کو شرارت سی سوجھی۔۔ وہ کمرے سے باہر نکلی تو مرحا نے اسکا بازو پکڑ لیا۔۔
“تم کہاں جا رہی ہو ؟ اندر آؤ دادو غصہ ہوں گی۔۔ “
وه اسے گھور کر بولی تو نور نے اثر لئے بغیر ہاتھ چھڑایا۔۔
“یار کچھ نہیں کہتیں وه ۔۔۔ رکو ذرا ابھی دیکھنا مزہ چکھاتی ہوں یا اہلِ امی ابو کو۔۔۔”
اس کی بات پر حور پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگی جبکہ ارحا نے مسکراہٹ دبائی۔۔
السلام علیکم !
وه ان کو سلام کرتی تاج بیگم کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔۔ دو نمبر عربی لڑکے کی تو آنکھیں ابل آئیں۔۔
“ماشاءالله یا امی ۔۔۔ بنت خوووب صورررت!!”
وه بتیسی کی نمائش کرتا ہوا بولا تو نور نے آنکھیں چھوٹی کیے اسے گھورا۔۔۔
” استغفراللّه یا امی ابو ابنِ لعععنتی!!!”
اس کے کمپلیمنٹ پر عورت نے اپنے بیٹے کو گھور کر چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔
“معذرت چاہتی ہوں۔۔۔ سیدھا مدعے پر آتی ہوں۔۔ اصل میں، میں اپنے بیٹے کا رشتہ دیکھ رہی ہوں۔۔۔ کسی جاننے والے نے بتایا کہ ماشاءالله آپ کی چار چار بیٹیاں ہیں۔۔”
وه نور کا سر تا پیر جائزہ لے کر بولیں جو ٹانگ پر ٹانگ رکھے تاج بیگم کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔۔
ان کی بات پر تاج بیگم نے آنكهیں گھمائی تھیں۔۔
“یس یا امی !! آنا هذا یا یخ آ ۔۔۔۔ ہم کو تو چار چار شادیاں جائز ہیں هذا۔۔ آ۔۔ یَو!!”
یا امی ابو ! چار چار بیویاں هذا آنا کو ایک منٹ میں سیدھا ۔۔۔۔
نور نے آنکھ مار کر اوپر کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ “اوپر بھی پہنچا سکتی ہیں۔۔۔”
اسکی بات پر لڑکے نے تھوک نگلا۔۔۔
ہاہاہا ۔۔ مزاقاً بنت شریراً !!!
وه خوامخواہ میں ہنس پڑا۔۔۔
تاج بیگم کی بس ہوئی تھی۔۔
” بہن بات یہ ہے کہ ابھی میری بچیاں بہت چھوٹی ہیں۔۔۔ پڑھ رہی ہیں۔۔۔ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔ معذرت آپ جو چاہتی ہیں ویسا ممکن نہیں۔۔۔”
ان کی صاف گوئی پر مقابل بیٹھی عورت منہ بنا گئی۔۔۔
“چلو بیٹا ۔۔۔ “
وه اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔
ہم چلتے ہیں ۔۔۔ !!
پھیکا سا مسکرا کر وه یا امی هذا کو لئے وہاں سے چلی گئیں۔۔
” دادو کیسے کیسے لوگ آ جاتے ہیں منہ اٹھا کر ۔۔۔ نہ کوئی جان پہچان نہ کوئی تمیز ۔۔۔ کہ بندہ گھر میں آنے سے پہلے اطلاع کر دے ۔۔ “
حور منہ بنا کر کہتی ہوئی ان کے برابر دهپ سے آ کر بیٹھ گئی۔۔۔
“بس بیٹا ہوتے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی۔۔۔ ” ارحا مرحا بھی وہیں آ گئیں۔۔۔
ویسے تم نے خوب جواب دیے انھیں!!!
مرحا نور کو دیکھ کر ہستی ہوئی بولی۔۔
ہیں نہ ؟؟
وه اس دو نمبر عربی کی صورت یاد کرتی کھلکھلا دی۔۔۔
“دادو آج کسٹرڈ کھانے کا دل کررہا ہے بہت ۔۔۔ آپی آج بنا لیں نہ !!”
حور پہلے دادی کو دیکھتی پھر ارحا سے لاڈ کرتے بولی تو وه مسکرا دی۔۔۔
اچھا بنا لیتی ہوں۔۔۔ !
پیار سے اسکا گال تهپتهپا کر بولی تو حور مسکرا کر اس سے لپٹ گئی۔۔۔
ماشاءالله !! اللّه تم سب کو نظر بد سے محفوظ رکھے۔۔۔
اور آپ کو بھی !!
مرحا نے پیار سے انہیں دیکھا تو وه مسکرا پڑیں۔۔
