188K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Tera Mera Love) Episode 2

شام کا وقت تھا جب وه ہوسپٹل سے تھکا ہارا آیا۔۔ اندر ٹی وی لاؤنج میں فارس اور سالار آرام ده حالت میں بیٹھے ٹی وی پر کوئی ایکشن مووی دیکھ رہے تھے جب کہ عمر اوپن کچن میں کھڑا کھانا بنا رہا تھا۔۔
آج سالار نے کھانا بنانے سے چھٹی لے لی تھی لہذا عمر نے یہ کہہ کر کے “جیسا بھی بنا ٹھوس لینا” کھانا بنانا شروع کر دیا تھا۔۔
تھک گئے ہو سویٹ ہارٹ؟
سالار نے صوفے پر نیم دراز ہوتے گردن موڑ کر عالیان سے پوچھا۔۔
ہمم ٹف ڈے تھا آج کا!! میں چینج کر کے آتا ہوں۔۔!!!
اس کی بات پر سالار سر ہلا گیا۔۔
سویٹ ہارٹ تمہارا شادی کا کب ارادہ ہے؟
اس نے اب کہ فارس کی جانب رخ کیا جو کندھے اچکا گیا۔۔ “فلحال کوئی اراده نہیں۔۔”
سلیو لیس بلیک لوز سی شرٹ کے ساتھ ٹراؤزر پہنے وه سر کے پیچھے ہاتھ ٹکاتا لاپرواہی سے بولا۔۔
سالار نے اسکے خوبرو چہرے کو دیکھا۔۔۔
کیا؟ ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟
اسکی نظریں خود پر مركوز پا کر وه ٹی وی سے نظریں ہٹا کر بولا۔۔
“فارس ڈیئر کتنی لڑکیوں کو ریجیکٹ کر چکے ہو تم۔۔۔ میرا ایسا سین ہوتا تو اب تک چار پانچ سے شادی کر چکا ہوتا۔۔” وه شرارت سے بولا تو فارس مسکرا کر سر جھٹک گیا۔۔ استغفراللّه!!! تمہارا دل تو “بس” کی طرح ہے۔۔ آتے جاؤ آتے جاؤ!!
عالیان فریش سا ڈھیلے ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس اس کے برابر بیٹھتا خوش گواری سے بولا۔۔
اچانک اس کی نظر عمر پر پڑی جو ان کی طرف پشت کئے چولہے کے پاس کھڑا کمر ہلا ہلا کر کھانے میں چمچ ہلا رہا تھا۔۔
“ابھے وه دیکھ!!”
اس نے سالار اور فارس کا دیہان عمر کی طرف کروایا۔۔ “واليم کم کر۔۔!!!”
عالیان چپ ہو کر منہ پر انگلی رکھ گیا۔۔
” ابھے سویٹ ہارٹ اپنا نہیں ٹی وی کا۔۔”
سالار نے اسکی گدی پر ایک چماٹ رسید کی۔۔
فارس نے آگے ہوتے رموٹ پکڑ کر واليم کم کر دیا۔۔
اب عمر کی آواز واضح ہوئی۔۔
” مائی نیم از عمر۔۔۔ عمر کو جوانی ۔۔۔ آئی ایم تو سک۔۔۔۔ آہ!!!”
سالار نے صوفے پر جھکتے نیچے سے سلیپر اٹھا کے اس کی ہلتی کمر کا نشانہ لیا۔۔
وه جو اپنے آپ میں مست کمر ہلاتا گانا گاتا ہوا چمچ ہلا رہا تھا۔۔
“اوئی ماں! نازک کمر توڑ دی میری۔۔”
وه ناک پھلا کر پلٹا۔۔
کس نے یہ بےہوده حرکت کی ہے؟؟
باری باری اس نے تینوں کو گھورا۔۔
میں نے نہیں کی!! فارس اور عالیان بیک وقت بولے۔۔
اسکی توپوں کا رخ سالار کی جانب ہوا۔۔
“تو کیا ہوگیا سویٹ ہارٹ ایک جوتا ہی تو پڑا ہے” اس کے لاپرواہ انداز پر عمر کو تو پتنگے لگ گئے۔۔ پہلے بھی وه عین اس مقام پر جوتا کھا چکا تھا۔۔
“کسی دن میری کمر ہی اڑا دینی تم نے ، جوتا ہی تو پڑا ہے۔۔”
وه اسکی نقل اتار کر بولا۔۔
پانی پیتے فارس کے منہ سے پانی نکلتے نکلتے بچا۔۔ عالیان بھی ہستا ہوا دونوں کی نوک جونک سے محظوظ ہورہا تھا۔۔ “آج کا دن ہی منحوس ہے پہلے اس چھمک چھلو سے پڑا اور ۔۔۔ “
اس نے زبان دانت تلے دبائی لیکن اب تیر كمان سے نکل چکا تھا۔۔
” ہیں ہیں؟؟ کس سے پڑی کیا پڑی؟”
سالار اس کی سر پر پہنچ گیا۔۔
“ڈرا کیوں رہا ہے منحوس شکل پیچھے کر۔۔!!!”
دیکھ فارس اس کو یہاں سے “دف۔۔فعااان” کر دے نہیں تو میں نے یہ سالن والا چمچہ اس کے منہ پر مل دینا ہے۔۔!
وه جھنجھلا گیا۔۔
فارس نے پانی کا گلاس سلیب پر رکھا اور سالار کو لیے واپس صوفے پر آن بیٹھا۔۔
” ہاں یاد آیا۔۔ میرے ایک جاننے والے ہیں۔۔ ان کے کوئی دور پار کے رشتے دار کرائے پر گھر دیکھ رہے ہیں۔۔ ان کو بہت ضرورت ہے۔۔ وه مجھ سے گزارش کر رہے تھے کہ اگر اس گھر میں کرائے پر کچھ جگہ مل جائے۔۔ “
عالیان سنجیدگی سے فارس کو دیکھ کر بولا۔۔
“میں نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ فیصلہ تم ہی کو کرنا ہے۔۔!”
سالار بھی خاموشی سے فارس کا چہرا دیکھنے لگا۔۔
” اہم تو مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے تم انھیں کہہ دو وه رہ سکتے ہیں یہاں اوپر والا پورشن ویسے بھی فری ہے۔۔!!!”
فارس کے نرمی سے کہنے پر اس نے سینے میں اٹکی سانس خارج کی۔۔ وه فطرتاً ایک نرم دل کا مالک تھا اس لئے چاہتا تھا کہ اگر انہیں واقعی بہت ضرورت ہے گھر کی تو ان کی مدد کرنی چاہئے۔۔
تھینکس بڈی!! اس نے آگے بڑھتے فارس کو گلے لگا لیا۔۔ فارس نے مسکرا کر اس کے گرد بازو پھیلا لئے۔۔
” لیلہ مجنوں کا رومینس ختم ہوگیا ہو تو کھانا کھا لیں۔۔؟؟؟ عمر نے ہانک لگائی تو وه کھانے کے برتن لینے کچن چلا گیا۔۔
🌚🌚🌚🌚
اگلے دن صبح کے وقت فارس جلدی اٹھ گیا۔۔ اتوار کا دن تھا تو باقی تینوں بے سدھ سوئے پڑے تھے۔۔
وه گھر کی پچھلی جانب آ گیا جہاں ورزش کا کچھ سامان پڑا تھا۔۔ اس نے شرٹ اتار دی۔۔
کسرتی سینا سکس پیكس اور بازو کے پھولے مسلز ۔۔ وه ایکسرسائز کے معاملے میں بہت جنونی تھا۔۔
شارٹس میں ملبوس وہ زمین پر فیبرک بچھاتا اس پر ورزش کرنے لگا۔۔ کچھ دیر بعد وه اوندها ہوتا پوزیشن چینج کرتا پش اپس کرنے لگا۔۔
ساٹھ پش اپس مكمل ہوئے ہی تھے کہ عمر اس کی پیٹھ پر دهپ سے آ کر بیٹھ گیا۔۔ فارس کا توازن بگڑا اور وه اوندها زمین پر گرگیا۔۔
“وہاٹ دا۔۔۔۔!!!”
فارس اسے پیچھے گرا کر اٹھا اور اسے دبوچ لیا۔۔
“ہاہاہاہا!!! چھوڑ یار گدگدی ہو رہی ہے میرے کو۔۔”
اسے پاگلوں کی طرح ہستا دیکھ کر فارس خود بھی ہستے ہوئے پیچھے ہٹا۔۔ اتنے میں سالار کے پیچھے آنکھیں ملتا عالیان بھی وہاں آ گیا۔۔
“صبح صبح کیا ہورہا ہے سویٹ ہارٹس؟؟؟”
” یار ایک تو میری تیری یہ سویٹ ہارٹ کی بک بک سے تنگ آ گیا ہوں۔۔ اگلے کو سو جوتے مارنے کے بعد بھی تو کہہ دیتا سویٹ ہارٹ۔۔!”
عمر اسکے سویٹ ہارٹ کہنے پر شدید بدمزہ ہوا۔۔
جواباً سالار نے ناک سے مكهی اڑانے والے انداز میں اسے دیکھا۔۔
” كیمل (اونٹ) رے كیمل (اونٹ) تیری کون سی ٹوٹل (کل) سیدھی ۔۔۔!!!”
محاورے کی ٹانگ بازو توڑ کر عمر پیٹ پوجا کرنے کچن کی جانب چلا گیا۔۔
سالار نے نا سمجھی سے اس چلتی پھرتی بلا کو دیکھا۔۔ کیا کہہ کر گیا ہے یہ۔۔؟
فارس کندھے اچکا کر زمین سے ورزش کا سامان سمیٹنے لگا۔۔
“نائس باڈی!!!”
عالیان نے ستائشی نظروں سے فارس کے کسرتی جسم کو دیکھا۔۔
“شرم کر کچھ۔۔” سالار نے اسے ڈپٹا تو وه سٹپٹا گیا۔۔ بدتمیز!!!
اسے گھوری سے نوازتا وه وہاں سے کھسک گیا۔۔
“بڑا مزہ آتا مجھے اسے تنگ کر کے” اسکے بھاگ جانے پر سالار قہقہہ لگا گیا۔۔
فارس بھی ہنس پڑا۔۔
” کل کرائے دار آ رہے ہیں۔۔ آج یہ کپڑوں کا پھیلاوا سمیٹ لیتے ہیں اور اوپر والے پورشن میں جتنا سامان ہے ہمارا وه نیچے شفٹ کر لیں گے۔۔”
وه سالار کو کرائے داروں کی آمد کے بارے میں آگاہ کرنے لگا۔۔
آئی سی لیکن کتنے لوگ ہیں وه ؟؟
اپنی معلومات میں اضافے کے لئے اس نے فارس کے ساتھ اندر جاتے ہوئے پوچھا۔۔
پتہ نہیں۔۔! عالیان کو پتہ ہوگا اس کے جاننے والے ہیں شاید!! کچن میں آ کر پانی کی بوتل منہ سے لگا کر وه سلیب سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔۔
سالار گہری سانس لیتے فریج سے ناشتے کا سامان نکالا۔۔
” آج کا دن بہت بزی جانے والا ہے۔۔”
وه فرائینگ پین چولہے پر رکھتا فارس کو دیکھ کر بولا۔۔ “ابھی تو مشین بھی لگانی ہے”
فارس کی معلومات پر وه كراه کر رہ گیا۔۔
🌚🌚🌚🌚
یہ لے پکڑ !!!
عمر نے گندے کپڑوں کا ڈھیر لا کر سالار اور عالیان کے اوپر پھینک دیا۔۔
“جاہل سویٹ ہارٹ یہ کیا بدتمیزی ہے”
سالار کپڑوں کے ڈھیر سے سر نکالتا چیخا۔۔
” یخ تیرے گندے موزوں کی بو سے میں دمہ کا مریض بن جاؤں گا۔۔”
عالیان نے جھنجهلا کر گندے کپڑے پرے پھینکے۔۔
” میرے موزے کی بدبو سے تجھے دمہ ہوگا مولوی لیکن تیرے بنیان کی بدبو سے بندہ سیدھا اوپر پہنچ جائے گا۔۔!!”
عمر نے بھی حساب بے باق کیا۔۔
فارس نے ان کو افسوس بھری نظروں سے دیکھا۔۔
“تم لوگوں کا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔!!!”
“ہوسکتا ہے نہ،، اسکی شادی ہوسکتی ہے کروا دے تجھے اللّه کا واسطہ جان چھوٹے اس خبیث سے۔۔”
سالار نے اسے کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھتے فارس کو مشورہ دیا۔۔
عالیان، فارس کے ساتھ کھڑا ہوتا مشین میں پانی بھر کے صرف ڈالنے لگا۔۔ جب خوب جھاگ بن گئی تو اس نے چند کپڑے مشین میں ڈال دیے۔۔
فارس ٹیپ کھول کر ٹب میں پانی بھرنے لگا۔۔ چند منٹوں بعد عالیان نے کپڑے نکال کر فارس کے پاس زمین پر رکھ دیے۔۔
یوں عالیان کپڑے ڈالتا اور نکالتا جاتا،، فارس کپڑے دھوتا ،، سالار ڈرائیر می ڈال کر سکھاتا جارہا تھا۔۔
جبکہ عمر ۔۔۔۔۔ تار پر ڈال کر فارغ کھڑا ایک پیر اوپر اٹھاتا بازو پھیلا کر فضا میں پرواز کرنے کی تیاری کررہا تھا۔۔ فارس کو شرارت سوجھی۔۔
اس نے ہاتھ میں پکڑے صابن لگے تولیے کو دیکھا۔۔ اگلے لمحے اس نے تولیہ کھینچ کر عمر کے منہ پر دے مارا۔۔
ایک تانگ پر کھڑے عمر کا توازن بگڑا اور وه پورے قد سے نیچے گیلی زمین پر دھڑام سے گرا۔۔
سالار اور عالیان کے قہقہے چھوٹ گئے۔۔ عمر کو اٹھ کر اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر فارس نے سالار کے ہاتھ سے جلدی سے پائپ پکڑا اور اسکا رخ عمر کے پیروں کی جانب کر دیا۔۔ اسکا پیر پهسلا اور وه ایک بار پھر سے گیا۔۔
عالیان ہنس ہنس کر دہرا ہوگیا۔۔
“بڑی ہسی آرہی ہے تجھے۔۔۔؟؟”
عمر نے عالیان کی ٹانگ اپنی طرف کھینچی۔۔
آہ!! وه چیختا ہوا اس کے اوپر آ گرا۔۔
” لو شروع ہوگیا ان کا رومینس!!”
سالار کے تبصرے پر فارس دوہرا ہو کر ہنسنے لگا۔۔
مسسل ہسنے سے اس کی آنکھوں میں پانی آ گیا تھا۔۔
عمر کی بس ہوئی تھی۔۔ وه اٹھا اور ان دونوں کے پیچھے بھاگا۔۔ راستے میں اس نے صابن سے لتھری پینٹیں اٹھائیں اور ایک ایک دونوں کی جانب اچھالی۔۔
سالار کی ناک میں صابن گھس گیا۔۔ وه جلدی سے ٹیپ کی طرف دوڑا۔۔ فارس کے بال گندے ہو چکے تھے۔۔ بھاگتے ہوئے زمین پر گرے پانی سے اس کا پیر پھسلا اور وه زمین بوس ہوگیا۔۔۔
لیکن ۔۔۔۔ ساتھ عمر کا بازو پکڑنا نہ بھولا۔۔
سالار اپنا بدلہ لینے کے لئے عمر کے اوپر آ کر بیٹھ گیا۔۔ عالیان نے پائپ پکڑ کر تینوں کو مکمل بھگو دیا۔۔
” پرے مر موٹے بھینسے ۔۔ یا اللّه تو ان کو اوپر اٹھا لے۔۔ ایسے کمینے دوست نہیں چاہیے مجھے۔۔!!!”
اسکی بکواس پر سالار نے رکھ کر دو اسکی گردن پر لگائیں۔۔
فارس زمین سے اٹھا اور اپنی جگہ جا کر بچے ہوئے کپڑے دھونے شروع کر دیے۔۔ اس کی دیکھا دیکھی باقی بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔۔ وقت کم تھا اور ابھی بہت سے کام کرنے تھے۔۔
🌚🌚🌚🌚
شام ڈھل رہی تھی۔۔ وه چاروں محلے کے لڑکوں کے ساتھ گلی میں کرکٹ کھیل رہے تھے۔۔ لڑکیاں گھروں سے جھانک رہی تھیں تو کچھ گھروں کے کھلے دروازوں کے باہر بڑی بیبیاں بیٹھی چغلیوں میں مشغول تھیں۔۔
فارس نے زوردار بال کروائی۔۔ عمر نے بیٹ سنبهال کر پوری قوت سے بال کو ہٹ کیا۔۔
بال اڑتی ہوئی جا کر دادے شوکت کی کھڑکی توڑ کر اس کی آنکھ پر بجی۔۔
عالیان اور سالار نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔
“یہ تو گیو کام سے” ان کے ساتھ کرکٹ کھیلتا ایک لڑکا اپنے ساتھیوں کو لے کر وہاں سے کھسک گیا۔۔
کھوتے!!!
دادے کی آواز پر لڑکیوں کی کھی کھی نکل گئی۔۔
” وے عمر توں سارا دن نکما ناکارہ پھردا رہنا اے۔۔ تو ویاہ (شادی) کرا کے محلے دی جان کیوں نئی چھڈدا؟؟”
پڑوس کی ایک چاچی نے اسے گھوری ڈالتے کہا تو وه بتیسی نکال کر ان کی طرف مڑا۔۔
“اپنی کُڑی دے دیو فر!!!”
(اپنی لڑکی دے دیں پھر)
چاچی نے پیر سے چپل اتار کر اسے دے ماری۔۔ محلے کی خواتین عمر کی بات پر ہسنیں لگیں۔۔
“وے فارس تو تے سمجهدار ایں اینوں وی کچھ عقل مت دے۔۔ “
وه دوبارہ فارس سے مخاطب ہوئیں تو وه سر ہلا گیا۔۔
اب بال کا کیا کریں؟ سالار ان کے قریب آیا۔۔
میں دسوں؟ (بتاؤں )
دادے شوکت کی آواز پر وه چاروں پلٹے۔۔ تہہ بند باندھے سوجھی آنکھ لئے وه غیض و غضب سے ان چاروں کو گھورنے لگا۔۔
“لو آ گیا شوکت سوپ!!!”
عمر کی ہانک پر عالیان نے سلگ کر ایک دھموکا اسکی کمر میں جڑا۔۔ وه سی کر کے رہ گیا۔۔
“میں معافی چاہتا ہوں سب کی طرف سے۔۔ غلطی سے ہوا ہے”
فارس معذرت خواہانہ نظروں سے انہیں دیکھتا بولا تو دادے شوکت نے تیکھی نظروں اپس چُنی چُنی آنکھوں سے عمر کو پھر اسکے ہاتھ میں پکڑے بیٹ کو گھورا۔۔
“تمہارا اشارہ کھڑکی کی جانب ہے یا میری آنکھ کی جو اس کھوتے نے جان کر سجهائی ہے؟”
فارس نے بہت مشکل سی امڈتی مسکراہٹ دبائی۔۔
“دادا سویٹ ہارٹ عمر کھوتے کو چھوڑیں آپ بھی ہمارے ساتھ کرکٹ كهیلیں نہ۔۔!!!”
سالار نے فارس اور عالیان کو دیکھتے آنکھ ماری۔۔
” میں کھیلوں اس عمر میں؟؟؟”
دادے شوکت کو نئی سوجھی۔۔
” ہاں نہ ابھی تو آپ کی ہنسنے کھیلنے کی عمر ہے!!!”
عالیان نے زیادہ ہی لمبی چھوڑدی ۔۔
تینوں سے ہنسی روکنا محال ہوگیا۔۔ عمر نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔۔
دادے شوکت نے کڑے تیوروں سے اسے گھورا تو وه منہ سے ہاتھ ہٹاتا ناک کے آگے ہلانے لگا۔۔
“بد بو بہت آ رہی ہے۔۔”
فارس ہنسی روکنے کو کھنکارا۔۔
“اہم یہ لیں پہلے آپ کی باری ہے”
سالار نے زمین پر گرا بال ان کی طرف بڑھایا تو وه سوکھے سڑے بازو کو گول گھما کر عمر کے سامنے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو گئے۔۔
دادے نے پیچھے دیکھا تو پیٹ پکڑ کر ہستے عالیان اور سالار کے چہرے پل میں سنجیده ہوئے۔۔
فارس منہ پر ہاتھ کی مٹھی بنا کر رکھ گیا۔۔
دادا شوکت بال گھما کر کچھوے کی رفتار سے دوڑا۔۔ دو قدم آگے جاتے ہی اس کا تہہ بندھ کھل گیا۔۔
محلے کی خواتین دوپٹہ منہ پر رکھتیں اندر دوڑیں۔۔
” ہاہاہا!!! ۔۔۔ دادے تو نے دل والا کچھا ڈالا ہے۔۔۔ !!!”
عمر مزید اپنی ہنسی نہ روک سکا۔۔ وہیں زمین پر بیٹھ کر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔۔
دادے شوکت نے تہہ بند زمین سے اٹھا کر باندھا اور پیر سے جوتا اتارا۔۔ وه چاروں بلا وہیں چھوڑتے سر پر پیر رکھ کر بھاگ گئے۔۔
🌚🌚🌚🌚
چور!! چور!! چھوڑ میرا بیگ۔۔۔ !!!
ابھے گدھے رک، دیکھ آخری بار کہہ رہی ہوں میرا بیگ چھوڑ دے نہیں تو۔۔۔ !!!
وہ راستے میں آتی رکاوٹوں کو پھلانگتی مسلسل اسکے پیچھے دوڑ رہی تھی جو اسکا بیگ چھین کر بھاگا تھا۔۔
راہ چلتے لوگ مڑ مڑ کر انہیں دیکھ رہے تھے۔۔ البتہ اس لڑکی کی مدد کرنے کی زحمت کسی نے نہیں کی تھی اور نہ اسے کسی کی مدد کی ضرورت تھی۔۔
وہ اکیلی ہی سب کو کافی تھی۔۔ سٹیپس میں کٹے کندھوں تک آتے سلکی بال جو اونچی پونی میں مقید بھاگنے کے باعث ادھر اُدھر لہرا رہے تھے۔۔
جینز کے ساتھ گھٹنوں تک آتا کرتا پہنے پیروں میں پہنے جوگرز سے اس نے راستے میں آتے پتھر کو ٹھوکر ماری۔۔ نیلی بلی سی تیز بڑی بڑی آنکھوں سے اس نے لڑکے کی پشت کو کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھا۔۔
“میرا دل یہ پکارے آ جا ۔۔۔۔ !!!”
وہ لڑکا اسکا بیگ لہرا کر گنگناتا ہوا آگے آتے سیڑھیوں کے طویل سلسلے کو پھلانگ کر آگے نکل گیا۔۔
نور نے گلابی چھوٹے سے لب دانتوں میں دبا کر ایک نظر سیڑھیوں کو دیکھا۔۔
بس اب بہت ہوا!!
تیکھے نقوش میں غصے کی سرخی شامل ہو چکی تھی۔۔ بازو فولڈ کرتے اسنے سپیڈ تیز کی اور سیڑھیاں پھلانگ کر اسکے قریب پہنچتی اسکی گدی پر رکھ کر دو ماریں۔۔
“ابھے کدھر جا رہا ہے کسی مرتے انسان کی آخری سانس،، تجھے کیا لگا نور کے ہاتھ سے بچ جائے گا تو ہاں؟؟”
اس سے اپنا بیگ چھینتی اسکی کمر میں ایک لات رسید کرتی وہ دانت کچکچا کر بولی۔۔
راہ گزر محظوظ ہو کر ایک لڑکی سے لڑکے کو پٹتا دیکھ رہے تھے۔۔
اس کے بال نوچ کر دو چار اور رسید کرتی اپنے کرتے کو جھٹکے سے سیدھا کرتی وہ سیدھی ہوئی۔۔
ہنہ!!! گھنی پلکیں اٹھا کر لوگوں کو دیکھ کر ہنکارا بھرتی وہ بیگ کندھے پر ڈالتی اپنے مغرور انداز میں چلتی چلتی واپس آئی۔۔
کھلے دروازے سے اندر داخل ہو کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں آئی۔۔ اندر کا منظر دیکھ کر اس کا دل کیا مقابل کا کچھ کر ڈالے۔۔
حور ۔۔۔ ؟؟ یہ کون تھی جس نے دوسروں کی ناک میں دم کرکے رکھ دینے والی نور کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔۔
نیلی آنکھیں، بڑی گھنی پلکیں، کیوٹ چھوٹے سے عنابی لب، مسکرانے سے گال میں پڑتے ڈمپل والی کیوٹ سی حور! نور کی بہن۔۔!
اس وقت وہ کمر تک آتے بھورے سلکی بالوں کی اونچی پونی کئے ہوئے تھی۔۔ وہ اپنی شرارتوں سے سب کو تنگ کر کے رکھنا اپنا فرض سمجھتی تھی۔۔
اب بھی وہ نور کے کمرے میں گھسی اسکی چھپائی چاکلیٹس پر ہاتھ صاف کررہی تھی کہ نور کی آواز پر پلٹی۔۔ نور خطرناک تیوروں سے اسکی جانب بڑھی۔۔
حور نے تکیہ اٹھا لیا۔۔ نور نے بھی ایک تکیہ کھینچ کر اٹھایا اور یہ شروع ہوئی دونوں کی نہ ختم ہونے والی جنگ۔۔!!!
” تو نے میری چاکلیٹس کو ہاتھ کیسے لگایا؟؟؟ ۔۔۔”
نور نے تکیہ اس کے سر پر مار کر پوچھا۔۔
حور نے بکھرے بال ایک ہاتھ سے سمیٹ کر پاس پڑی چاکلیٹس کو ہاتھ لگایا۔۔
” ایسے!!! ۔۔۔ “
زبان چڑا کر اسنے نور کو دیکھا تو وہ دانت کچکچا کر اسکو تکیے مارنے لگی۔۔۔
داااادوووووو؟؟ حور اسکے وار کو روکتی چلائی۔۔۔