188K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Tera Mera Love) Episode 3

حور کے چیخنے پر تاج بیگم ماتھا پیٹ کر ان کے کمرے کی جانب بڑھیں۔۔ ناک پر ٹکی عینک کو ٹھیک کر کے انہوں نے دروازہ کھولا تو تکیہ سیدھا آ کر ان کے منہ پر لگا۔۔
ایک دوسرے کو زور و شور سے تکیے مارتی نور اور حور کو بریک لگا۔۔
جیسے ہی نور نے تاج بیگم کی طرف دیکھا اسکی ہسی نکل گئی کیونکہ ان کی ناک پر ٹکی عینک ٹیڑھی ہو گئی تھی۔۔ حور کا چہرہ ہسی روکنے کے چکر میں سرخ ہو گیا۔۔
” غضب خدا کا، لوٹھا کی لوٹھا ہو گئی ہو لیکن عقل تم دونوں کی گھٹنوں میں ہے!!”
وہ عینک سیدھی کرتیں دونوں کو ڈپٹنے لگیں۔۔
ان کی بات پر حور نے فوراً اپنے گھٹنوں کو دیکھا تھا۔۔
“ارحا ، مرحا کب سے پیکنگ کرنے میں لگی ہیں لیکن مجال کہ تم دونوں کو توفیق ہوئی ہو بہنوں کی مدد ہی کروا دو۔۔”
وہ عینک کے پیچھے سے انھیں گھورتی ہوئیں بولیں تو وہ ڈھیٹ پنے سے بتیسی کی نمائش کرنے لگیں۔۔
“خبردار اب تم دونوں کی آواز آئی تو۔۔ سارا گھر سر پر اٹھا رکھا ہے”
کڑے تیوروں سے ان دونوں کو گھورتیں وہ واپس چلی گئیں۔۔
یار ہم اتنے سے سر پہ پورا گھر کیسے اٹھا سکتے ہیں؟
حور کے آنکھیں پٹپٹا کر کہنے پر وہ اسکے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہس پڑی۔۔
🌑🌑🌑🌑
کب ختم ہوگی یہ پیکنگ؟؟
مرحا کی اکتاہٹ بھری آواز پر ارحا نے کاٹن میں برتن رکھتے اسکی جانب دیکھا۔۔
کمر سے نیچے جاتی سیاہ سلکی بالوں کی چوٹی سے لٹیں نکلی ہوئیں تھی۔۔
نیلی آنکھوں پر جھکی گھنی پلکیں، تراشیدہ گلابی ہونٹ، ستواں چھوٹی سی ناک، بیضوی چہرہ جس پر از حد معصومیت تھی۔۔
وہ کب سے ارحا کے ساتھ مل کر پیکنگ کر رہی تھی جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔
اسکے مقابلے میں ارحا کے چہرے پر عمر کے لحاظ سے تھوڑی سنجیدگی تھی۔۔ اسکے نین نقش بھی باقیوں کی طرح تھے۔۔
سب بہنوں میں ایک چیز یکساں تھی۔۔” نیلی آنکھیں”
ارحا نے لمبے بالوں کو پھر سے لپیٹ کر جوڑا کیا۔۔
وہ سب سے بڑی اور سمجھدار تھی۔۔ مرحا بھی کسی حد تک سمجھدار تھی۔۔ وہ ارحا کا اکثر ہاتھ بٹا دیا کرتی تھی لیکن حور اور نور میں ابھی بھی بچپنا تھا۔۔
ایک سال کا فرق ہونے کی وجہ سے دونوں کی خوب لگتی تھی۔۔
” اچھا بس کچھ ہی چیزیں رہ گئی ہیں۔۔ یہ باکس بند کرواؤ میرے ساتھ!!”
وہ جوتے اور دیگر چھوٹی موٹی چیزیں ایک کاٹن میں ڈال کر مرحا سے مخاطب ہوئی تو وہ اسکے پاس آتی مدد کروانے لگی۔۔
🌑🌑🌑🌑
وہ چاروں اس وقت “النور منشن” کے دروازے پر کھڑے تھے۔۔ عالیان کے مطابق کرائے دار بس کچھ ہی دیر میں پہنچنے والے تھے۔۔
” یار میرے پیٹ میں نہ گرہیں پڑ رہی ہیں کب آئیں گے؟”
تجسس سے عمر کا برا حال تھا۔۔
سویٹ ہارٹ تجھے واشروم جانے کی ضرورت ہے! سالار نے مسکراہٹ دبا کر کہا۔۔
عمر نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔۔
ابھی وہ کچھ کہتا کہ ایک ٹیکسی گلی کے کونے میں آ کر رک گئی۔۔ دادے شوکت نے دیکھا تو وہ دروازے سے باہر آکر چنی آنکھوں سے گھور گھور کر آنے والوں کو دیکھنے لگا۔۔ ٹیکسی سے چار لڑکیاں باہر نکلیں۔۔
آخر میں ان کی دادی۔۔
اتنی لڑکیاں دیکھ کر سالار اور عمر کی باچھیں کھل گئیں۔۔ عالیان فارس کو اشارہ کرتا ان کے پاس چلا آیا۔۔
نور اور حور نے ان کا سر تا پیر جائزہ لیا۔۔
” لائیں ہم یہ سامان اٹھا لیتے ہیں!!”
فارس نے ان کے ہاتھ سے بیگ پکڑا۔۔
تم لوگ ؟ تاج بیگم ان کی پیشکش پر خوش ہوتیں استفسار کرنے لگیں۔۔
جی ہمارے کرائے دار ہیں آپ۔۔!!
عالیان نرمی سے بولتا گھر کی طرف اشارہ کر گیا۔۔ “ماشاءاللہ بہت اچھا گھر ہے۔۔”
گھر کا جائزہ لیتے ان کی نگاہ دو لڑکوں پر آ کر ٹھہر گئی۔۔ یہ دونوں کون ہیں؟
جی یہ بھی ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔۔ آپ چلیں پلیز ہم سامان لے کر آتے ہیں۔۔!!
عالیان پھر گویا ہوا تو تاج بیگم اسے اپنا بھاری بھرکم بیگ تھما کر آگے بڑھ گئیں۔۔
بیگ عالیان کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا۔۔ حور کی ہسی نکل گئ۔۔ ارحا مرحا کترا کر ان کی سائیڈ سے تاج بیگم کے پیچھے چلی گئیں۔۔
” دیھان سے لانا سامان۔۔!!”
نور لڑاکا انداز میں عالیان کو حکم دے کر حور کو ساتھ لئے چلی گئی تو عالیان فارس کو دیکھ کر گویا ہوا۔۔
” حکم تو ایسے دے کر گئی ہے جیسے میں اس کا زر خرید غلام ہوں ۔۔”
فارس نے مسکرا کر سر جھٹکا۔۔ ایک ایک کر کے وہ ان کے سب بیگز پورچ میں لا کر رکھتے گئے جہاں سے سالار اور عمر بیگز اٹھا اٹھا کر دوسرے پورشن میں رکھتے جا رہے تھے۔۔
توبہ اتنا سامان؟ یہ کرایے پر آئے ہیں یا ہمیشہ کے لیے!! عمر گہری سانس لے کر پورچ میں ان تینوں سے بولا۔۔
پوچھ لے جا کے۔۔!!
عالیان نے تنک کر کہا اور فارس کے ساتھ اندر چلا گیا جہاں وہ لاؤنج میں رکھے صوفوں پر بیٹھے تھے۔
انھیں کولڈرنک پیش کر کے وہ چاروں وہاں آ کر بیٹھ گئے۔۔ شکریہ بیٹا باہر بہت گرمی ہے!
وه گھونٹ گھونٹ حلق سے نیچے اتارتیں ان کا شکریہ ادا کرنے لگیں ۔
” کوئی بات نہیں۔۔ آپ کی رہائش دوسرے فلور پر ہوگی ہم نے سامان پہنچا دیا ہے۔۔”
فارس کے کہنے پر وه سر ہلا گئیں۔
سالار اور عمر اتنی دیر میں سب لڑکیوں کا جائزہ لے چکے تھے۔۔ دو ایک جیسی دکھنے والی لڑکیاں تھیں جن کی ڈریسنگ بھی ملتی جلتی تھی۔۔
جینز کرتے اور جوگرز میں ملبوس۔۔ جبکہ باقی دو كیپری شرٹس میں ملبوس تھیں۔۔
نور نے دونوں کو گھور کر دیکھا۔۔ عمر سٹپٹا کر رخ موڑ گیا جبکہ سالار مسکرا دیا۔۔
“حور اس کا ڈمپل پڑتا ہے یہ گرین آ ئیز والے کا۔۔”
نور نے سرگوشی کی تو حور نے سامنے دیکھا ۔۔
یہ سامنے والے کا ؟ وه بھی جواباً هلكی آواز میں بولی۔۔
ہاں کب سے گھور رہا ہے بندر ! نور کے لقب پر حور نے مسکراہٹ دبائی جس سے اسکا کیوٹ سا ڈمپل نمایاں ہوا۔۔ سالار نے حور کو دلچسپی سے دیکھا تھا۔۔
“اچھا بیٹا ہم ابھی چلتے ہیں بہت تھکن ہو گئی ہے۔۔ پھر ملتے ہیں انشااللہ!”
تاج بیگم اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔
چلو مرحا ۔۔ انہوں نہ آرام سے بیٹھی مرحا کو گھورا تو وه ہربڑا کر کھڑی ہوگئی۔۔
فارس نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر موبائل پر مصروف ہوگیا۔۔ کچھ ہی دیر میں وه سب جا چکی تھیں۔۔
ہائے ہائے مزے !!! عمر اٹھ کر بھنگڑا ڈالنے لگا۔۔
سالار بھی اٹھ کر اس کا ساتھ دینے لگا۔۔
کیا ہوا کل بارات ہے کیا تمہاری؟ جو یوں بنددروں کی طرح اچھل رہے ہو۔۔ !!
عالیان کے طنز پر عمر نے خشمگیں نظروں سے اسے دیکھا۔۔ “مولوی تو چپ رہ ۔۔ تو سدا کا بورنگ بندہ کیا سمجھے گا ہماری خوشی۔۔ فارس سویٹ ہارٹ تم بھی اپنے سوئے جذبات کو جگاؤ۔۔ ایسا موقع بار بار نہیں آتا۔۔”
سالار اسے آنکھ مار کر بولا تو وه افسوس سے سر ہلا گیا۔۔ “مجھے ایسے کاموں میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے اور تم دونوں بھی بعض رہنا اچھے گھر کی لڑکیاں لگ رہی ہیں کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرنا۔۔”
ان دونوں کو تنبیہہ کر کے وه جم کے لئے نکل گیا۔۔
ناچ بعد میں لینا کھانا میرا ابا بنائے گا کیا؟
عالیان موبائل پر ایک پیشنٹ کی رپورٹ دیکھتا سالار سے کہنے لگا۔۔
چل یار اس کے ابے کو بلا کر لائیں !! چل !!
عمر کی بات پر سالار کا قہقہہ چھوٹا۔۔
تم دونوں سے بات کرنا ہی فضول ہے ۔۔!!
وه اٹھ کر جانے لگا تو سالار نے آگے آتے اس کے کندھی پر ہاتھ رکھا۔۔
کیا ہوگیا ہے سویٹ ہارٹ بن جاتا ہے کھانا بھی۔۔ ویسے وه پٹاخہ سی لڑکی تمہیں کافی غور سے دیکھ رہی تھی۔۔!!
“استغفار”
عالیان بدک کر وہاں سے رفو چکر ہوگیا۔۔
“کیا بنے گا مولوی کا ؟ لگتا ہے اسکے حصے کی شادی ہمیں ہی کرنی پڑے گی۔۔”
افسوس سے سر ہلاتا وه کچن میں چلا گیا ۔۔
ہاتھ میں پیاز پلیٹ اور چھڑی پکڑے وه دوبارہ کچن سے نمودار ہوا۔۔
“یہ پکڑو اور کاٹو اسے ہر وقت فارغ پڑے رهتے ہو نکمے سویٹ ہارٹ !!”
عمر منہ کھولے اپنی گود میں رکھی پلیٹ کو دیکھنے لگا۔۔ نکمے سویٹ ہارٹ ؟
اس کا دل کیا اس قدر زیادتی پر سالے کا منہ توڑ دے۔۔ بڑبڑا کر وه کھٹ کھٹ پیاز کاٹنے لگا۔۔
🌚🌚🌚🌚
اٹھ بھی جا نور کی بچ۔چ۔چی!!
وه تنگ آ کر اس کے کان کے پاس چیخی۔۔
کب سے وه اسے اٹھا رہی تھی پر مجال جو اس کے کان پر جوں بھی رینگی ہو۔۔ نور نے مشکل سے مندی مندی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔
کیا ہے کس کی موت آئی ہے؟
وه پھاڑ کھانے والے انداز میں بولی۔۔ حور کی تیوری چڑھ گئی۔۔
“تمہاری موت آئی ہے مرو یہیں۔۔ میں یونی کے لئے تیار ہونے جا رہی ہوں۔۔ پاگل عورت !!”
اسے نئے لقب سے نوازتی وه بڑبڑاتی ہوئی فریش ہونے چلی گئی۔۔
کیا مصیبت ہے! اس کے جانے کے بعد وه برے برے منہ بناتی اٹھ بیٹھی۔۔
حور کے باہر آنے پر وه واشروم میں گھس گئی۔۔
حور آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔۔ سیاہ گھٹنوں تک آتے فراک جینز میں وه بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ اس نے جلدی سے لائٹ پنک میک اپ کیا اور نیلی بلی سی آنکھوں پر بیضوی بڑے سے گلاسز لگائے۔۔
او واؤ یو آر کِنّی کیوٹ حور!!
وه پاؤٹ بنا کر اپنے چہرے کو ہر زاویے سے دیکھنے لگی۔۔ نور باہر نکلی تو گرے ٹاپ اور بلیك جینز میں ملبوس تھے۔۔ اس نے جلدی سے بالوں کا میسی جوڑا بنایا۔۔
سامنے سے بالوں کی چند لٹیں نکال لیں۔۔
کول !! اپنے آپ کو کامپلیمنٹ دے کر اس نے بے بی پنک لپ گلوز اٹھا کر ہونٹوں سے ہلکا سا مس کیا۔۔
کلائی میں ڈھیر سارے رنگ برنگے بینڈز ڈال کر اس نے پیروں میں سیاہ جوگرذ ڈالے تب تک حور بالوں کی دو فرنچ بریڈز کر کے سامنے ڈالتی وائٹ جوگرز پہن چکی تھی۔۔
گلے میں چھوٹا سا سٹالر ڈال کر وه دونوں بیگ اٹھا کر کمرے سے باہر نکلیں۔۔۔
آج ان کا یونی کا پہلا دن تھا۔۔ یہاں آنے سے پہلے ہی وه قریبی یونیورسٹی میں ایڈمشن لے چکی تھیں۔۔
گڈ مارننگ دادو!!
اوپن کچن میں کھڑی تاج بیگم کو وش کرتیں وه ٹیبل پر پڑے جوس کے جگ سے گلاس بھر کر غٹا غٹ پی گئیں۔۔ “ارے آرام سے کیا ہوگیا ہے سکون سے ناشتہ کرو۔۔”
وه بریڈ کے سلائس، جیم اور بٹر ان کے سامنے ٹیبل پر رکھ کر بولیں۔۔
” نہیں دادو لیٹ ہو جائیں گے ہم۔۔ آپ پریشان نہ ہوں وہاں سے کچھ کھا لیں گے۔۔ اوکے !!”
ٹھیک ہے دیهان سے جانا نئی جگہ ہے۔۔!!
وه انہیں ہدایت دینے لگیں۔۔
دادو نور کے ہوتے کس چیز کی ٹنشن ! نور اپنے نہ نظر آنے
والے کالر کھڑے کر کے بولی تو حور نے اسے گھورا۔۔
“چلو بھی اب نور نامہ بعد میں سنا لینا۔۔ اوکے دادو !”
وه باری باری ان کے گال پر بوسہ دیتیں جلدی سے سیڑھیاں پھلانگنے لگیں۔۔
اوئے وه دیکھ!
عمر نے جلدی جلدی ناشتہ ٹھوستے باہر پورچ کو جاتی سیڑھیوں کی طرف ان تینوں کا دیهان کروایا۔۔
صوفے کے پاس کھڑا فارس نظریں گھما کر كف لنکس بند کرنے لگا جبکہ عالیان نے سرے سے دیکھا ہی نہیں۔۔
اس کا دیهان آج کی میٹنگ کی جانب تھا جہاں اس نے جونیئر ڈاکٹرز کو بریفنگ دینی تھی۔۔
سالار بس یونیورسٹی کے لئے نکلنے ہی لگا تھا۔۔ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے وه پانی پی کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ آج بلیک ڈریس شرٹ اور بلیک ہی پنٹ میں ملبوس تھا جس نے اسکی وجاہت میں اور بھی اضافہ کر دیا تھا۔۔
فریم لیس گلاسز لگائے وه پورچ میں آ گیا جہاں وه بس گیٹ پار کرنے ہی لگی تھیں۔۔
اکسکیوز می !!
اس کے مخاطب کرنے پر حور نے جواب دیا۔۔ جی ؟
آپ کو یونیورسٹی جانا ہوگا؟
اس نے اپنی طرف سے اندازه لگایا کیونکہ یہاں آس پاس کوئی کالج نہیں تھا۔۔
“جی وہیں جا رہے ہیں ۔۔!!”
وه پھر سے عجلت میں بولی۔۔ “
اوکے میں ڈراپ کر دیتا ہوں میں بھی وہیں جا رہا ہوں۔۔”
وه پاكٹ میں ہاتھ ڈالتا اس کا تفصیلی جائزہ لینے لگا۔۔ کیوں؟ تم کیوں ڈراپ کرو گے ہم خود چلے جائیں گے اور ہم سے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے اچھا!!
نور تیکھے لہجے میں بولتی حور کا ہاتھ پکڑے گیٹ سے باہر نکل گئی۔۔ وه بد مزہ ہوتا گاڑی کی طرف بڑھا۔۔
🌚🌚🌚🌚
جیسے ہی وه دونوں یونیورسٹی میں داخل ہوئیں چند لڑکوں نے ان کا راستہ روک لیا۔۔ حور نے نور کی طرف دیکھا جس نے اسے ریلیکس ہونے کا اشارہ کیا۔۔
کیا ہے ؟ وه پھاڑ کھانے والے انداز میں بولی۔۔
“جلدی میں لگتی ہو دونوں۔۔ کچھ ٹائم ہمیں بھی دے دو” ایک لڑکے نے بھونڈا قہقہہ لگایا۔۔
” ہاں جلدی ہے اور توُ باپ لگا ہے کیا میرا جو تجھے ٹائم دیں۔۔ جا بیٹا تو مما کی گود میں جا کر فیڈر پی چل شاباش بچے بڑوں کے درمیان نہیں بولتے۔۔”
نور نے اسکے چھوٹے قد پر چوٹ کی۔۔ حور کا قہقہہ چھوٹ گیا۔۔
بہت ہسی آ رہی ہے تمہیں؟
وه حور کو گھور کر بولا تو وه شرارت سے سر ہلا گئی۔۔ “ابھے راستہ چھوڑو نہیں تو بہت پچھتاؤ گے پہلے ہی دیر ہورہی ہے۔۔!!!”
نہیں چھوڑتے جاؤ جو کرنا ہے کرو!!
مقابل بھی ڈھیٹ تھا۔۔
وه دونوں چند قدم آگے بڑھیں اور دونوں نے ایک ساتھ اپنے بیگ ان کے منہ پر مارے۔۔
بھاگ !! ان کو دھکہ دے کر نور، حور کے ساتھ وہاں سے بھاگ گئی۔۔
گراؤنڈ میں آ کر سانس لیتے وه بیگ سے پانی کو بوتل نکال کر منہ سے لگا گئی۔۔
“کیسے بد تمیز لوگ ہیں یہاں لیکن کوئی نہیں اب نئی ڈان آ گئی ہے ایک ایک کو دیکھ لوں گی۔۔!!!”
وه بازو چڑھا کر لڑاکا انداز میں بولی۔۔
یار یہ سب ہمیں گھور کیوں رہے ہیں؟
حور نے آس پاس سے گزرتے سٹوڈنٹس کی نظریں خود پر محسوس کیں تو منہ بنا کر بولی۔۔
” کیونکہ ہم ہے ہی اتنے پیارے !!”
اف یہ نور اور اسکی خود پسندی۔۔
چل نہ پوری یونی دیکھتے ہیں !!
وه دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ٹہلنے لگیں۔۔
” اوئے اسے دیکھ یہ تو وہی ہے نہ جو صبح ملا تھا ہمیں ؟”
حور نے سامنے دیکھتے ہوئے نور کو ٹہوکہ دیا جہاں سے سالار لا پرواہ انداز میں چلتا ہوا آ رہا تھا۔۔
” ہاں یہ کہیں ہمارا پیچھا تو نہیں کررہا؟”
نور کی بات پر حور نے کندھے اچکائے۔۔
“رک میں پوچھتی ہوں!!!”
وه اپنا بیگ نور کو پکڑا کر اسکی طرف چلی آئی۔۔
ہائے !! اپنے سامنے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھ کر سالار کو خوش گوار حیرت ہوئی۔۔
ہلو!! وه مسکرایا تو وه بھی شرارت سے مسکرائی۔۔
دونوں کے ڈمپل نماياں ہوئے۔۔
“آپ ہمیں فولو کر رہے ہیں جی؟؟”
اس کے آنکھیں پٹپٹا کر پوچھنے پر وه مسکراہٹ دباتا گلاسز کے پیچھے اس کی نیلی بلی سی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔۔
“نہیں جی !!”
اسکے جواب پر وہ کھلکھلا کر ہس پڑی۔۔
“جھوٹ جی !!”
پھر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں جی ؟
وه چھوٹے سے گلابی ہونٹوں کو دانتوں میں دبا گئی۔۔
میں یہاں پروفیسر ہوں!!
وه مزے سے بولا تو حور کی آنکھیں پھٹنے کے قریب ہوئیں۔۔
سچی ؟ اسے جیسے یقین نہیں آیا۔۔
“مچی لٹل گرل” اس کے سراپے پر ایک مسکراتی نظر ڈالتا وه شاہانہ چال چلتا وہاں سے چلا گیا۔۔
وه ہونقوں کی طرح اسکی چوڑی پشت دیکھنے لگی۔۔ واپس آ کر اس نے نور کو ساری بات بتائی تو وه شرمنده ہوگئی۔۔
” دعا کرو بس وه ہمارا پروفیسر نہ ہو نہیں تو جس طرح بد تمیزی سے اس سے بات کی تھی وه تو گن گن کر بدلے لے گا۔۔”
نور متفکر ہوئی۔۔
“ارے نہیں وه اچھے ہیں میں نے ابھی بات کی نہ بہت نائس ہیں ۔۔ تم فضول نہ سوچو۔۔ چلو کینٹین پر چل کر کچھ کھاتے ہیں ۔۔!!!”
وه بیگ کندھے پر ڈال کر اسکے ساتھ کینٹین کی طرف چلی گئی ۔۔
🌚🌚🌚🌚
تاج بیگم نے دروازے سے باہر جھانکا، گلی میں اکا دکا گھروں کے باہر خواتین گفتگو میں مصروف نظر آئیں۔۔ انہوں نے سلام دعا کی غرض سے دوپٹہ ٹھیک طرح اوڑھتے قدم باہر رکھا۔۔ کچھ فاصلے پر عمر اور فارس آپس
میں محو گفتگو تھے۔۔
انھوں نے تاج بیگم کو دیکھا تو تھا لیکن ابھی مخاطب کرنا مناسب نہ سمجھا۔۔
وه چلتی ہوئی خواتین کے پاس آئیں اور سلام دعا کے بعد اپنا تعارف کروانے لگیں۔۔
اچانک دادے شوکت نے اینٹری ماری۔۔ وه نئے کرائے داروں کی بابت سن تو چکا تھا لیکن ابھی تک انہیں دیکھا نہ تھا۔۔ وه تاج بیگم کے سامنے آتا یک ٹک دیکھنے لگا۔۔
محلے کی عورتیں منہ پر دوپٹہ رکھے کھی کھی کرنے لگیں۔۔ “السلام علیکم ورحمتہ اللّه و برکاتہ!!!”
وه نہایت ادب سے ان سے مخاطب ہوا۔۔
وعلیکم السلام !
میں شوکت وسیم عرف نیم حکیم۔۔ “میرا مطبل پورا حکیم” !!!
اس نے گڑبڑا کر تصیح کی۔۔
تاج بیگم نے گھور کر اس کے سلام کا جواب دیا۔۔
“اجی بہت خوشی ہوئی آپ کے آنے سے ۔۔ میں یہاں یہ تین گھر چھوڑ کر رہتا ہوں۔۔”
ساتھ ہی اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔۔
دادی نے اسے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں تم دو گھر چھوڑ کر رہو یا سو گھر ،مجھے کیا ۔۔
” وے دادے شوکت تو کہاں سے ٹپک پڑا یہاں یہ عورتوں میں گھسنے کی عادت نہیں گئی تیری۔۔ یہ عمر تیری صحیح گت لگاتا ہے۔”
اپنی تعریف پر عمر کی باچھیں کھل گئیں۔۔
” اس کم بخت ایک نمبر کے چھچھورے کھوتے کا نام نہ لو میرے سامنے!!”
سارے موڈ کا ستیاناس کر دیا۔۔ وه برے منہ بناتا بولا۔۔
“اچھا جی میں چلتا ہوں اگر کسی بھی سلسلے میں میری مدد کی ضرورت ہو تو حاضر ہوں!! “
تاج بیگم کو آنکھ مار کر اس نے بتیسی نكالی اور مستانہ چال چلتا اپنے گھر کو چلا گیا۔۔
وه آنکھیں پھاڑے اسکی حرکتوں کو دیکھتی رہ گئیں۔۔
“تسی ٹنشن نہ لینا جی دادے شوکت کی۔۔ عمر پورا کر لیتا ہے اسے۔۔ آپ کے گھر ہی تو ہے!”
ان کی معلومات پر وه ذرا چونکیں۔۔
کون ؟
عمر نے بے ساختہ آنکھیں میچیں۔۔
“چل وے فارسا نکل یہاں سے۔۔۔ یہ تو میری عزت کا کباڑا کرنے لگی ہیں۔۔”
وه وہاں سے کھسک گیا۔۔
” جی آپ جہاں کرائے پر آئی ہیں وہاں “چار چھڑے” رهتے ہیں ۔۔ ان کی بات ہی کررہی ہوں۔۔!!!”
وه دیدے نچا کر بولی تو تاج بیگم سر ہلا گئیں۔۔
“اچھا میں چلتی ہوں میری بچیاں یونیورسٹی سے آنے والی ہوں گی۔۔۔”
ان کو خدا حافظ کہہ کر وه واپس آ گئیں۔۔ انہوں نے ان لڑکوں کا مکمل تعارف جاننے کا فیصلہ کیا تھا۔۔