188K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Tera Mera Love) Episode 1

شوکت وسیم عرف نیم حکیم !! اپنی بوڑھی ہڈیوں پر بوجھ ڈالتے معمول کے انداز میں چہل قدمی کرتے گلی سے گزر رہے تھے۔۔
یہ ایک مڈل کلاس محلہ تھا جہاں کے لوگ بلکل ویسے ہی تھے جیسے عموماً درميانی طبقے کے ہوا کرتے ہیں۔۔
اس محلے میں بس ایک گھر ایسا تھا جو سب گھروں میں منفرد لگتا تھا۔۔
بہترین انداز میں بنے سفید ٹائلوں والے اس گھر کے سامنے وه رک گئے۔۔
شوکت وسیم عرف نیم حکیم نے سر اٹھا کر تنقیدی نظروں سے اوپر کی کھلی کھڑکی کو دیکھا جہاں سے کھٹ پٹ کی آوازیں آنے لگی تھیں۔۔
ہونہہ!! انہیں اس گھر کے مکینوں سے اللّه واسطے بیر تھا۔۔ انہوں نے ایک لات گیٹ کو رسید کی۔۔
ہائے اللّه!! ان شودوں کا گیٹ بھی ان کے جیسا ہے۔۔ بڑبڑا کر وه وہاں سے نکل لئے۔۔
تھوڑا سا آگے جا کر زمین پر ایک لکڑی کا پھٹا پڑا ہوا تھا۔۔ انہوں نے بے دیهانی میں اس پر پاؤں رکھ دیا۔۔
کھڑاک کی آواز آئی اور ان کا پیر گیا گڑھے کے اندر جس کے اوپر پھٹا رکھ کے انہیں دھوکے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی۔۔
دادا شوکت دهڑام سے توازن کھو کر نیچے گرے۔۔ غصے سے ان کے” نکے” سے ناک کے نتھنے پھول گئے اور پولے پولے ہاتھ کانپنے لگے۔۔
انہیں سیکنڈ لگا تھا یہ سمجھنے میں کہ یہ حرکت کس نے کی تھی۔۔
اوئے عمر !!
ان کی چنگھاڑتی۔۔۔ اپس!!! پھنسی ہوئی آواز پر محلے کے تین چار گھروں کی کھڑکیوں سے لوگوں کی مُنڈیاں باہر نکلیں۔۔
لو جی آج پھر دادا شوکت کی بینڈ بجا دی عمر نے!! بعض تو دادا بھی نہیں آتا۔۔
لوگ سفید ٹائلوں والے گھر کو دیکھ کر كهسر پهسر کرنے لگے۔۔ چلئے چلتے ہیں سفید ٹائلوں والے گھر میں جس کے مکینوں نے دادا شوکت کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔۔
🌚🌚🌚🌚
الارم کی چنگھارتی آواز پر وه ہڑبڑا کر اٹھا۔۔ اپنے اوپر سے سالار کی ٹانگ ہٹا کر اس نے جلدی سے گھڑی میں ٹائم دیکھا۔۔
اوہ نو!!
اس نے بے خبر سوئے سالار ، عمر اور فارس پر نظر ڈالی جو گدھے گھوڑے سب بیچ کر سو رہے تھے ۔۔
جلدی اٹھو نو بج گئے ہیں!!
وه ہڑبڑی میں انہیں اٹھاتا واش روم کی جانب بھاگا۔۔ تینوں کی نیند بھک سے اڑی۔۔
سالار نے خود سے چپکے عمر کو لات مار کر پرے کیا۔۔
“پڑے ہٹو سویٹ ہارٹ”
غصے میں اس نے اپنا پسندیدہ لفظ بولا۔۔
عمر کے دل پر گھونسا پڑا۔۔
“ایک لات پلس سویٹ ہارٹ؟؟…”
وه کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھتا اٹھا۔۔
” ابھے باہر نکل بھی جا اب کیا اندر درس دینے لگا ہے” !!!
عمر نے واش روم کا دروازه بجاتے اندر موجود عالیان پر طنز کیا۔۔
“کیا ایسے ہی باہر آ جاؤں پھر کہو گے مولوی بے غیرت ہوگیا۔۔”
عالیان کی جوابی کاروائی پر سالار کا زبردست قہقہہ چھوٹا۔۔
فارس خاموشی سے دیوار سے ٹیک لگائے ان کی نوک جھونک دیکھ رہا تھا۔۔
تم کیوں چپ ہو سویٹ ہارٹ؟؟
سالار نے اپنے ڈمپل کی نمائش کی۔۔
” اس کی محبوبہ نے اسے اپنے بچوں کا ماموں بنا دیا ہے” عمر نے نیا شوشہ چوڑا۔۔
وہاٹ دا۔۔۔۔۔۔!!
فارس اسے گھور کر رہ گیا۔۔
اتنے میں عالیان واش روم سے باہر نکلا۔۔ اس کے بعد عمر گھس گیا۔۔ باری باری سب فریش ہوئے۔۔
فارس اور سالار کچن میں گھس گئے جب کہ عالیان نے شرٹ کے بازو فولڈ کیے اور جھاڑ پونجھ والا كپڑا پکڑتے جلدی سے سب کمروں کی ڈسٹنگ کرنے لگا۔۔
شاندار کوٹ سوٹ میں ملبوس جھاڑ پونجھ کرتا یہ نوجوان اپنے شہر کا كامياب ڈاکٹر تھا۔۔
کنواروں کی بستی میں رہتے اس کے زمے صفائی ستهرائی کا کام تھا۔۔ اس کی ٹف روٹین کو دیکھ کر اس پر ترس کھاتے تینوں نے اسے یہ کام سونپا تھا۔۔
جھاڑ پونجھ کر کے اس نے کپڑہ کسی ناپاک چیز کی طرح دور اچھال دیا جو رات کے جوٹھے برتن اٹھا کر کچن میں جاتے عمر کے منہ پر پڑا۔۔
اوئے کھوتے تو پاگل ہے؟؟
وه برتن وہیں زمین پر رکھتے عالیان کے پیچھے دوڑا۔۔ عالیان نے اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر دوڑ لگا دی۔۔
سالار ہاتھ میں لکڑی کا چمچہ پکڑے کچن سے باہر آیا۔۔۔ پہلے ہی دیر ہورہی ہے سویٹ ہاااارٹ۔ٹ…..
وه ان دونوں کو سرزنش کر رہا تھا کہ زمین پر پڑے برتنوں سے ٹھوکر کھا کر گرا۔۔
یہ کس کی حرکت ہے سویٹ ہارٹ؟؟
وه زمین سے اٹھتا غصے سے بولا۔۔
لیکن اس کی پرواہ کیے بغیر دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے۔۔ درمیان میں صوفہ تھا۔۔
عالیان نے پاس رکھا جھاڑو پکڑ لیا۔۔
“دیکھ غلطی سے ہوا تھا۔۔ “
واہ غلطی تیری اور منہ میرا کالا ہوا”
عمر ہاتھ نچا کر بولا۔۔
انف!! فارس تپ کر کچن سے باہر آتا داڑھا تو سب چپ چاپ اپنے کاموں میں جت گئے۔۔
وه واپس کچن میں آیا اور آملیٹ کے لئے پیاز کاٹنے لگا۔۔
اس کی سرمئی آنکھیں پیاز کی وجہ سے نم ہو رہی تھیں۔۔ سالار ککنگ میں اچھا تھا اس لئے وہ ناشتہ بنا رہا تھا۔۔ عالیان صفائی ستھرائی کر کے دهپ سے لاؤنج میں آ بیٹھا۔۔ چند ہی سیكنڈ بعد وه دونوں ناشتہ لے آئے۔۔
اتنے میں عمر بھی رات کے برتن دھو چکا تھا۔۔ اب ناشتے کے برتن وه آ کر ہی دھوئے گا۔۔
یہ کیا ؟؟ عالیان آملیٹ کی عجیب و غریب شکل دیکھ کر منہ بنا گیا۔۔
فارس نے بنایا ہے سویٹ ہارٹ!!
سالار جلدی جلدی لقمے لیتے ہوئے بولا۔۔ فارس بس تھوڑا سا کھا کر اٹھ گیا۔۔ وه آل ریڈی آفس کے لئے بہت لیٹ ہو چکا تھا۔۔
” تم پر شکل گئی ہے آملیٹ کی اس لئے عجیب و غریب لگ رہا ہے۔۔”
عمر نے عالیان کو چھیڑا تو وه منہ بناتا جلدی جلدی کھا کر اٹھا۔۔
کمرے سے اپنا بیگ پکڑتے وه ہوسپٹل کے لیے نکل گیا۔۔ سالار البتہ تھوڑا ریلیکس تھا کیونکہ اسکا تھرڈ لیکچر تھا آج۔۔ عمر کے آفس جانے کے بعد وه دروازه لاک کرتا اپنی گاڑی میں بیٹھ کر یونیورسٹی کے لئے روانہ ہوگیا۔۔
🌚🌚🌚🌚
سفید ٹائلوں سے مزين “النور مینشن” میں کل چار افراد مقیم ہیں۔۔ چاروں ایک سے بڑھ کر ایک اور اہلِ محلہ کے بقول کسی نہ کام کے “چھڑے”۔۔
چھڑے وه اس لیے کہلائے جاتے ہیں کیونکہ وه چاروں کے چاروں کنوارے ہیں۔۔ فارس، سالار، عمر اور عالیان۔۔
فارس قدرے سنجیدہ اور اپنے کام سے کام رکھنے والا بندہ ہے جو اپنی شاندار پرسنالٹی سے بے پرواہ رہتا ہے۔۔
سرمئی آنکھیں ، مغرور ناک، سیاہی مائل عنابی لب ، بھری بھری داڑھی، سیاہ گھنے گردن کو چھوتے بال، چھ فٹ دو انچ قد اور کسرتی جسم کا مالک وه کسی بھی لڑکی کو اپنی کلر لكس سے دیوانہ بنا سکتا ہے۔۔
ایک کامیاب بزنس مین جو بزنس کی دنیا میں اپنا ایک نام بنا چکا ہے۔۔ فارس تن تنہا “النور منشن” میں پھیکی زندگی گزار رہا تھا جب اس کی ملاقات “سالار اور عمر” سے ہوئی۔۔ جنہوں نے اس کی زندگی کے سکون کو تہہ و بالا کر کے اسے کھل کر جینا سکھا دیا تھا۔۔
ہیزل گرین آنکھیں ، ڈارک براؤن سٹائلش بال، تراشیدہ داڑھی مونچھیں، عنابی لب اور گال میں پڑتے ڈمپل۔۔ چھ فٹ سے نكلتا قد اور کسرتی جسم ۔۔۔
یہ ہے ہمارا سالار جو یونیورسٹی میں لیکچرار اور سٹوڈنٹس کا کرش ہے۔۔ اس کا دل ہر لڑکی پر آ جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ “کیوٹ کمینے” کے نام سے مشہور ہے۔۔
عمر ، سالار کا یونیورسٹی کے ٹائم کا جگری دوست ہے۔۔ ڈارک براؤن آنکھیں، سیاہ گھنے بال جو سیدھے ماتھے پر گرتے اسے بے حد معصوم بناتے تھے۔۔ آنکھ کے پاس تل اسے جاذب نظر بناتا تھا۔۔
وه الگ بات ہے کہ عمر ان لوگوں میں سے تھا جو صرف شکل سے ہی معصوم تھے۔۔
بقول دادے شوکت کے عمر “شیطان کا سالا ہے” کچھ ایسا ہی جینا حرام کر رکھا تھا اس نے دادے شوکت کا ۔۔
ہلکے گلابی بھرے بھرے لبوں پر ہر وقت شرارتی مسکراہٹ ٹھہری رہتی۔۔ سیاہ ہلکی داڑھی میں مجموعی طور پر وه ایک خوش شکل نوجوان تھا۔۔
اچھی شکل کے ساتھ ذہانت بھی کمال تھی۔۔ کمپیوٹر میں دلچسپی تھی لہٰذا کورسز کر کے وه ایک فرم میں کمپیوٹر ایکسپرٹ کے طور پر ہائر کر لیا گیا۔۔
سالار اور عمر ہوسٹل میں رہتے تھے لیکن فارس سے راہ و رسم بڑھنے پر فارس نے انھیں اپنے ساتھ رہنے کی پیشکش کی جسے ہچکچاہٹ کے بعد انہوں نے بالاخر قبول کرلیا۔۔ یوں تینوں کی گہری دوستی ہوگئی۔۔
اس دوستی کا چوتھا حصہ دار عالیان بنا۔۔ ایک دن فارس کے معمولی ایکسیڈنٹ پر وه اسے قریبی ہسپتال لے گئے جہاں ان کی ملاقات ڈاکٹر عالیان سے ہوئی۔۔
سیاہ آنکھیں، ستواں ناک، عنابی لب، سیاہ داڑھی میں ہلکا سا ابھرتا ڈمپل، ورزشی جسم کا مالک فٹ سا عالیان مہربان اور نرم دل کا مالک تھا۔۔
تینوں اس کے اخلاق سے بے حد متاثر نظر آئے۔۔ عمر کی شرارتوں کی وجہ سے اکثر انہیں اسپتال آنا پڑتا یوں ڈاکٹر عالیان سے ان کی جان پہچان ہوگئی۔۔
پوچھ گچھ پر پتہ چلا کہ وه ایک فلیٹ میں اکیلا رہتا ہے۔۔ چاروں ایک سے تھے۔۔ فیملی سے محروم۔۔ ان کی نوک جھونک دیکھ کر عالیان کا بھی دل چاہتا کہ ان کے ساتھ وقت گزارے۔۔
ایک دن یونہی اس نے کہہ دیا۔۔ پھر کیا تھا تینوں اسکی نہ نہ کے باوجود اسے گھسٹتے ہوئے “النور منشن” میں لے آئے۔۔ یوں اس محلے کے برے دن شروع ہوگئے۔۔
فارس اور عالیان کا تو یونہی نام خراب تھا۔۔۔ اصل کام تو سالار اور عمر کر جاتے تھے۔۔
سالار نے محلے کی کوئی لڑکی نہیں چھوڑی تھی جس پر اس نے لائن نہ ماری ہو۔۔ وہ اپنے ٹائیٹل “کیوٹ کمینے” پر پورا اترتا تھا۔۔
البتہ عمر ان کاموں سے کوسوں دور شرارتوں میں مگن رہتا۔۔ دادا شوکت اسکی شرارتوں میں اپنی سوکھی سڑی ٹانگ ضرور اڑاتا تھا جس سے دونوں میں ٹھنی رہتی۔۔
🌚🌚🌚🌚
بلیک ہاف سلیو شرٹ بلو جینز اور جوگرز میں وه آنکھوں پر گلاسز لگائے یونی میں داخل ہوا۔۔ لڑکیاں مڑ مڑ کر اسے دیکھنے لگیں۔۔
گڈ مارننگ سر!!
چند قدموں کے فاصلے پر کھڑی ایک لڑکی نے بتیسی نکالتے اسے مخاطب کیا۔۔
مارننگ!!
سالار نے ڈمپل کی نمائش کرتے ایک جان لیوا مسکراہٹ اسکی طرف اچھالی جس پر وه دل تھام کر رہ گئی۔
“اف سر کتنے کیوٹ ہیں۔۔”
وه اپنے دیهان میں سیدھ میں دیکھتا آفس کی جانب جا رہا تھا جب کسی اور لڑکی کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔۔ یپ آئی ایم!!
خود كلامی کرتا وه آفس میں داخل ہوگیا۔۔ چند منٹوں کے بعد وہ ہاتھ میں ایک فائل پکڑے اپنی کلاس کی جانب بڑھ گیا جہاں آج اسکا لیکچر تھا۔۔ وه الگ بات ہے کہ اسکا لیکچر دینے کا کوئی اراده نہ تھا۔۔
گڈ مارننگ سر!! اس کے کلاس میں داخل ہوتے ہی سب سٹوڈنٹس کھڑے ہو گئے۔۔
مارننگ سٹ ڈاؤن!!
وه ڈائس پر فائل رکھتا کلاس کا چکر لگانے لگا۔۔
“آج ہم روز کے بورنگ لیکچر پر بات نہیں کریں گے۔۔”
کلاس میں شور اٹھا۔۔ ان کے خاموش ہونے پر اس نے بات جاری کی۔۔
Today’s lecture is on love! What is love……
وه دلکشی سے مسكرایا۔۔ وه ڈائس کے پاس جا کر پینٹ کی پاكٹ میں ہاتھ ڈال کر کھڑا ہوگیا۔۔
بلیک شرٹ کے ہاف سلیوز سے اسکے کسرتی پھولے بازو نماياں ہورہے تھے۔۔ سینے سے چپکی شرٹ دیکھ کر لڑکیاں ٹھنڈی آہیں بھر کر رہ گئی تھیں۔۔
anyone ?
اس نے کلاس پر نظر دوڑائی۔۔
“سر !!!”
ایک لڑکے نے ہاتھ اٹھایا۔۔
سالار نے سر کو خم دیا۔۔
تمام سٹوڈنٹس دلچسپی سے اسے دیکھنے لگے۔۔
“پیار۔۔۔۔ ایک بہت خوبصورت احساس ہے جسے محسوس تو کیا جاسکتا ہے لیکن لفظوں میں بیاں نہیں کیا جاسکتا!!!”
وه ایک جزب سے بولا۔۔
اوہ!! پوری کلاس میں شور اٹھا۔۔
گڈ!! سالار مسكرایا۔۔
ایک لڑکی کھڑی ہوئی۔۔
“میں بھی کچھ کہنا چاہتی ہوں۔۔ “
یس شیور!! سالار کے اشارے پر اس نے گلہ کھنکارہ۔۔
“پیار۔۔۔۔ نری سر درد ہے سر اگر کسی بزدل سے ہو جائے”
اس نے اگلی رو میں بیٹھے لڑکے کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ کر کہا جس سے کلاس میں زبردست قہقہے پڑے۔۔ سالار نے مشکل سے اپنے قہقہے کا گلا گھونٹا۔۔
اور ؟؟
سر میں۔۔۔!!! ایک اور لڑکی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
“پیار وہ ہے۔۔۔۔” وه ایک پل کو ٹھہری۔۔
اس نے سالار کو دیکھ کر لب دبائے۔۔
“پیار وه ہے جو ہر بار آپ کو دیکھنے پر ہوتا ہے”
اسکی دلیری پر سالار کھانسنے لگا۔۔
کلاس میں زبردست شور اٹھا۔۔ سٹوڈنٹس کافی دیر تک ہوٹنگ کرتے رہے۔۔۔
جب شور تهما تو وه خاموشی سے کلاس پر نظر دوڑانے لگا۔۔ “سب کا پیار کے بارے میں اپنا ایک فلسفہ ہے۔۔ کسی کے نزدیک پیار “درد” ہے اور کسی کے نزدیک پیار “دوا” ہے۔۔ کوئی اسے “حاصل” اور کوئی “لا حاصل” سمجھتا ہے۔۔ ہر کسی کی پیار کے بارے میں منفرد رائے ہے لیکن میرے نزدیک ۔۔۔ “پیار دوستی ہے”
اوہ!!! کلاس میں آوازیں بلند ہوئیں۔۔
“ہمم دوستی۔۔۔ دوستی ہمیشہ رہتی ہے۔۔”
ساتھ ہی بیل کی آواز آئی۔۔ تو وه کلاس کو گڈ بائے کہتا فائل اٹھا کر باہر نکل گیا۔۔
🌚🌚🌚🌚
سیٹی کی آواز پر راہ چلتی لڑکی نے پلٹ کر دیکھا تو عمر منہ دوسری جانب کرتا خوامخوا میں نظریں گھمانے لگا۔۔
وه کچھ دیر پہلے ہی آفس سے آیا تھا۔۔ گھر میں فارس کو سویا پا کر وه باہر گلی میں نکل آیا۔۔
دل میں کھد بد مچی تھی۔۔ بقول عمر کے “شوکت سوپ” یعنی دادا شوکت آج کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔۔
اس کی نظر کسی کام سے مٹک مٹک کر جاتی صبا پر پڑی جو دادے شوکت کے گھر سے دو گھر چھوڑ کر رہتی تھی۔۔ کی اے؟؟
وه رکتی اسے تیکھی نظروں سے دیکھ کر بولی۔۔
کیا ؟؟ میں نے کیا کہا؟؟
وه فورا انجان بن گیا۔۔
تم نے مجھے دیکھ کر سیٹی کیوں بجائی؟
وہ چند قدم اسکی طرف آتی کمر پر ہاتھ ٹکا کر بولی۔۔
عمر نے ابرو اچکا کر اس کے لڑاکا انداز کو دیکھا۔۔
“او ہیلو میں بھینسوں کو دیکھ کر سیٹی نہیں بجاتا۔۔اتنا گندہ ٹیسٹ نہیں ہے میرا۔۔”
وه بھی کمر پر ہاتھ ٹکا کر بولا تو صبا کے سر پر لگی تلووں پر بجی۔۔
“تم ہوگے موٹے بھینسے۔۔ اپنی شکل دیکھی ہے شیشے میں۔۔ بن مانس کے جڑوا بھائی لگتے ہو۔۔ آئے بڑے۔۔ ہونہہ!!!”
وه اسے کھا کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی پلٹ گئی۔۔ عمر نے گھر کے اندر ایک پیر رکھا اور دوسرا باہر ہی رکھتے گردن ٹیڑھی کر کے اسے دیکھا۔۔
“تم ہوگی کھوت۔۔ میرا مطلب گدھی ، تمہارا شوہر ہوگا بن مانس ۔۔ کالے بچے ہوں گے تمہارے “کالے” ۔۔
وه ہاتھ اٹھا کر منہ پر پھیر کر آمین کہتا اندر کی طرف بھاگا لیکن اس سے پہلے ہی صبا نے تان کر جوتا اسکی کمر میں دے مارا۔۔
منحوس مارا کمبخت!!!
اس کو صلواتیں سناتی وه مٹکتی ہوئی چلی گئی۔۔
عمر نے دروازه بند کر کے اپنی کمر کم کمرے پر ہاتھ رکھا۔۔ آہ!! بھینس کہیں کی۔۔!!!
اسکی کمر پر نیل پڑ گیا تھا۔۔ آرام آرام سے چلتا وہ کمرے میں آ کر لیٹ گیا۔۔
“شکر ہے کسی نے دیکھا نہیں۔۔”
دل میں اسے کوستے وه سونے کی تیاری کرنے لگا کیونکہ رات کو ان نمونوں نے جلدی سونے کب دینا تھا۔۔
🌚🌚🌚🌚
وه معمول کے انداز میں ہوسپٹل کا راؤنڈ لگا رہا تھا۔۔ ڈاکٹروں کے مخصوص یونیفارم میں وه ایک وارڈ کے سامنے رکا۔۔
جہاں ایک لڑکی ڈاکٹر عالیان سے چیک اپ کروانے پر اسرار کر رہی تھی۔۔
“دیکھیں ڈاکٹر عالیان مصروف ہیں آپ یہیں سے چیک اپ کروا لیں۔۔”
جونیئر ڈاکٹر نے بے چارگی سے کہا۔۔ وه عجیب سی سچوایشن میں پھنس گئی تھی۔۔
اہم!! اس نے کھنکار کر انہیں اپنی جانب متوجہ کیا۔۔
” آ جائیں میں آپ کا چیک اپ کر دیتا ہوں۔۔”
پاس کھڑی نرس نے مسکراہٹ دبا کر عالیان کو دیکھا تو وه جھینپ کر اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔۔
رولنگ چیئر پر بیٹھ کر وه سامنے بیٹھتی پیشنٹ کی طرف متوجہ ہوا۔۔
جی کیا تكلیف ہے؟ کس چیز کا چیک اپ کروانا ہے آپ نے؟ وه سنجیدہ مگر نرم لہجے میں بولا۔۔
“ڈاکٹر عالیان بہت سنجیده مسلہ ہے بلکہ مرض ہے جو بس آپ ہی دور کر سکتے ہیں۔۔”
وہ تفكر سے کرسی پر آگے ہوتی بولی۔۔
وه نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔۔
“دیکھیں آپ مرض بتائیں گی تو ہم اسکا علاج کر سکیں گے نہ؟”
وه دونوں ہاتھوں کو باہم ملا کر اس سے پوچھنے لگا۔۔
آج اس نے ایک آپریشن کیا تھا جس پر کافی وقت صرف ہوا تھا۔۔ وه کافی تھک چکا تھا اور اب جلد از جلد واپسی کے لئے نكلنا چاہتا تھا۔۔
اس نے گھڑی میں وقت دیکھ کر اسے بولنے کا اشارہ کیا۔۔ “وه اصل میں مجھے مرضِ عشق لاحق ہوگیا ہے ڈاکٹر عالیان !!!”
وه آنکھیں بار بار جھپک کر بولی۔۔
لیکن اس میں میں کیا مدد کر سکتا ہوں آپ کی۔۔ ؟
وه سٹپٹا گیا۔۔
” آپ ہی تو میری مدد کر سکتے ہیں مجھ سے شادی کر لیں۔۔۔ “
وه اس کے سامنے آتی گھٹنوں کے بل بیٹھتی التجا آمیز نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
وه بدک کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ اس کا چہرہ سرخ پڑ چکا تھا۔۔ “دیکھیں اٹھیں یہاں سے۔۔ پلیز جائیں یہاں سے آپ کو واقعی علاج کی ضرورت ہے۔۔”
جلدی سے چیزیں سمیٹ کر وه روم سے باہر نکل گیا۔۔
وه لڑکی بھی اسکے پیچھے آنے لگی۔۔
“سسٹر اس پیشنٹ کو دیکھیں۔۔’
جھنجهلا کر وہ ایک نرس کو اسے لے جانے کا اشارہ کرتا اپنا بیگ تھامے تیزی سے ہوسپٹل کی سیڑھیاں پھلانگتا کار میں آ بیٹھا۔۔
اف!!! سر کی پشت سیٹ سے ٹکا کر وه آنکھیں موند گیا۔۔ چند سیکنڈ خود کو نارمل کرنے کے بعد اس نے کار سٹارٹ کی اور گھر کے لیے نکل گیا۔۔