188K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Tera Mera Love) Episode 11

“بولنے پر ٹیکس نہیں لگتا”
عمر نے اس سے بات کرنے کی ایک اور کوشش کی۔۔ ارحا نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا۔۔
“ایسے دیکھنے پر لگتا ہے!!!”
وه ناک کی سیدھ میں دیکھتا شرارت سے گویا ہوا۔۔
“تم اپنا منہ بند ہی رکھو کہیں تڑوا نہ لینا۔۔۔۔ !!!”
ارحا ضبط کھوتی كلس کر بولی۔۔
عمر سے ہنسی ضبط کرنا محال ہوگیا۔۔
کیسے توڑیں گی میرا خوبصورت منہ؟ اپنے چنے چنے ہاتھوں سے؟؟
وه قہقہہ لگا گیا۔۔ اسکی بات پر ہنسی تو ارحا کو بھی آئی لیکن وه ہنس کر اسے مزید شوخا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ “جلدی چلو ہم پیچھے ہی نہ رہ جائیں بس باتیں ہی بگھارنی آتی ہیں تمہیں !!!”
وه میرون جیکٹ کی پاكٹ میں دونوں ہاتھ ڈالتی تیز تیز چلنے لگی تو وه بھی اسکے ساتھ قدم بڑھانے لگا۔۔
“نہیں جی بس باتیں ہی نہیں بندے بھی بگاڑنے آتے ہیں مجھے” ۔۔۔۔۔
وه شرٹ کے نہ نظر آنے والے کالر کھڑے کرتا فخر سے بولا۔۔ ابھی وه کچھ کہتی کہ دونوں کو محسوس ہوا ان کے پیر زمین سے اوپر اٹھ رہے ہیں۔۔
دونوں نے حیران نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر اچانک وه دونوں ایک جال میں مقید الٹے لٹک گئے۔۔
کسی جنگلی نے شاید یہ جال کسی جانور کے لیے لگا رکھا تھا جس میں وه دونوں پھنس گئے تھے۔۔
اب سین کچھ یوں تھا کہ وه دونوں درخت کہ پار سے آتی رسی کے ساتھ بندھنے جال میں الٹے لٹکے بری طرح پھنس گئے تھے۔۔
ارحا اسے دبوچے آنکھیں میچ کر چیختی جا رہی تھی۔۔ جب کہ عمر ہونقوں کی طرح سر گھما کر ادھر ادھر دیکھ رہا تھا جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہو وه دونوں واقعی قید ہوگئے تھے۔۔
ارحا کو اپنے بےانتہا قریب دیکھ کر اسے شرارت سوجھی۔۔ عمر۔۔۔۔اور اپنی حرکتوں سے باز آ جائے؟ امپوسیبل !!!
سنسان جنگل،، ہم دونوں،، قید ،، تنہائی۔۔۔ ہاؤ رومینٹک !! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وه بتیسی نکال کر بولا تو ارحا نے غصے سے نتھنے پھلائے۔۔
“شٹ اپ !!!” ۔۔۔۔۔
وه اسکے کان میں اتنی زور سے چیخی کہ وه اپنا کان سہلانے لگا۔۔
“بہرا نہیں ہوں میں” ۔۔۔۔۔
اب کہ وه بھی تنک کر بولا اور جیب سے نیل کٹر نکال کر پہلے دونوں کے پیر سے لپٹی رسی نکالی۔۔ وه دونوں کافی تگ و دو کے بعد سیدھے ہو کر بیٹھے تو وه جال کترنے لگا۔۔
چند منٹوں بعد جب جال میں کافی بڑا سوراخ ہوگیا تو اس نے پیر باہر نکالے اور ارحا کو بھی ایسا کرنے کا کہا۔۔
جب اس نے ڈرتے ڈرتے پیر باہر نکالے تو عمر اسکا ہاتھ تھام کر نیچے کود گیا۔۔ ارحا کی چیخ بلند ہوئی تھی۔۔
وه ڈر کے مارے آنکھیں زور سے بند کر چکی تھی۔۔ جب اسے لگا کہ وه صحیح سلامت ہے تو اس نے آنکھیں کھول دیں۔۔
وه دونوں صحیح سلامت تھے۔۔ اس نے شکر کا سانس لیا۔۔ عمر نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا اور منہ بناتا آگے چل پڑا۔۔
وه بھی جلدی سے اسکے ساتھ چلتی کنکھیوں سے اسکا پھولا چہرہ دیکھنے لگی۔۔
🌚🌚🌚🌚
سر کتنا انٹرسٹنگ لگ رہا یہ سب۔۔۔ آئی ایم ریلی انجوائنگ آل دس !!!۔۔۔۔۔۔۔۔
وه اکسائٹڈ سی جنگل کو دیکھتی اس کے ساتھ چل رہی تھی۔۔
سالار اس کی بات پر مسکرایا۔۔
دیٹس گڈ !! ۔۔۔۔۔ میرے لئے بھی یہ سفر یادگار رہے گا کیونکہ۔۔۔۔۔۔
وه رکا تو حور گردن موڑ کر سر اٹھاتی اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
کیونکہ آپ میرے ساتھ ہو لٹل گرل۔۔۔۔ !!!
وه دلکشی سے مسکرایا تو اسکی گال میں پڑتا ڈمپل نمایاں ہوا۔۔ وه بھی مسکرانے لگی۔۔
ایک منٹ۔۔۔۔۔ وہ اسکے سامنے آتا اسکا راستہ روک گیا۔۔
کیا ہوا سر؟؟ ۔۔۔۔۔
وه معصومیت سے سے اٹھاتی اسے دیکھنے لگی۔۔
سالار کا دل بےقابو ہوا۔۔ وه بے اختیار جھکا اور اسکے نرم و ملائم گال پر اپنے نرم گرم لب رکھ کر پیچھے ہٹا۔۔
حور اپنی جگہ جم گئی۔۔ کچھ پلوں کے لیے تو اسے سمجھ ہی نہ آیا کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔۔
سالار کی مسکراتی نظریں خود پر پا کر وه پزل ہوئی۔۔
وائے ڈڈ یو کس می؟؟ ۔۔۔۔۔
وه آنکھوں پر پلکوں کی جھالر گرا کر کہنے لگی تو سالار اس کا ہاتھ تھامے چلنے لگا۔۔
” آئی ایم سوری اف یو مائنڈ اٹ۔۔ مجھ خود نہیں پتہ میں نے ایسا کیوں کیا !!! “۔۔۔۔۔۔۔
وہ کہہ کر خاموش ہوا تو وه بھی بغیر کچھ کہے اسکے ہاتھ میں موجود اپنے ہاتھ کو دیکھتی ہلکا سا مسکرائی۔۔
واپس جا کر میں دادو سے بات کروں گی !!! دل میں عزم کرتی وه اسکے قدموں سے قدم ملانے لگی۔۔
🌚🌚🌚🌚
ان سب کو پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے شام ہوگئی تھی۔۔ سب نے خوب انجوائے کیا۔۔
اس دوران کچھ دلوں میں نئے جذبات پروان چڑھنے لگے تھے۔۔
چاہت کی میٹھی مہک چہار سو چھانے لگی تھی۔۔
بلاشبہ یہ سفر ان آٹھوں کو ہمیشہ یاد رہنے والا تھا۔۔
🌚🌚🌚🌚
وقت کا کام ہے گزرنا اور وه گزرتا چلا جاتا ہے۔۔ وه چاروں جب یہاں آئی تھیں تو انہوں نے سوچا تک نہ تھا کہ وه یوں کسی کی محبت میں گرفتار ہوجائیں گی۔۔
انہوں نے اس متعلق سب سے پہلے دادو کو بتایا تھا پھر اپنے جذبات ایک دوسرے سے بانٹے تھے۔۔
تاج بیگم کے لیے یہی کافی تھا کہ ان کی بچیوں نے کوئی غلط قدم نہیں اٹھایا بلکہ ان پر اعتماد کرتے سب سے پہلے انہیں اپنی پسند سے آگاہ کیا تھا۔۔
انہوں نے مناسب وقت پر بات کرنے کا کہتے انہیں فلحال خاموشی اختیار کرنے کا کہا تھا۔۔
دوسری جانب بھی جذبات کی مہک پہنچ چکی تھی۔۔
وه جانتے تھے سب کہ کون کس کے لیے کیا جذبات رکھتا ہے اور مطمئن تھے سب سوائے سالار کے۔۔
اس نے تو یہ سب اپنی عادت کے مطابق وقت گزاری کی نیت سے شروع کیا تھا لیکن اب اسکے جذبات بدلنے لگے تھے۔۔
وه اپنے آپ کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔ اسی سلسلے میں وه عمر سے بات کررہا تھا۔۔
یار میں سیریس ہورہا ہوں !!!
اسکی بات پر عمر کا قہقہہ گونجا۔۔
“نہ کر تو اور سیریس؟ ابھے گدھا سمجھتا ہے تو مجھے لیکن میں ہوں نہیں۔۔ پوری یونیورسٹی تجھے “کیوٹ کمینے” کے نام سے جانتی ہے اور ایسا تیری رنگین مزاج طبیعت کی وجہ سے ہے۔۔ “
انہیں بے خبری میں علم نہ ہوا کہ حور اور ارحا کب سے پیچھے کھڑی ان کی باتیں سن رہی ہیں۔۔
سالار نے نفی میں سر ہلایا۔۔
“نہیں یار اب بات کچھ اور ہے۔۔”
وه آہستہ سے بولا تو عمر سر ہلا گیا۔۔
“سمجھ سکتا ہوں میں، پہلے مجھے بھی لگتا تھا کہ لڑکیاں وقت گزاری کے لئے ہوتی ہیں اور کوئی محبت وحبت نامی چیز نہیں ہوتی۔۔”
وه اس کے کان کے پاس جھکا۔۔
“لیکن جب سے مجھے ارحا سے محبت ہوئی ہے میری سوچ بدل گئی ہے برو ہر لڑکی کریکٹر لیس نہیں ہوتی۔۔”
اسکی پہلی آدھی بات تو ان دونوں کے کانوں تک پہنچ گئی لیکن اگلی بات آہستہ بولنے کے باعث وه سن نہ سکیں۔۔
حور کی آنکھوں میں بےيقینی ہی بے يقینی تھی۔۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔۔
کسی احساس کے تحت اس نے پلٹ کر دیکھا تو ان دونوں کو وہاں کھڑا دیکھ کر گھبرا کر اٹھا۔۔
سالار نے اسے یوں اٹھتے دیکھ کر اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو اسکی بھی سٹی گم ہوگئی۔۔
شٹ !!! ۔۔۔۔۔۔
اسے خود پر بےانتہا غصہ آیا۔۔
حور کی آنکھوں سے گرتے آنسو اسے باور کروا چکے تھے کہ وه سب سن چکی ہے۔۔
وه نفی میں سرہلاتے پلٹی تھی اور دوڑتی ہوئی گال پر بہتے آنسو صاف کرتی سیڑھاں چڑھنے لگی۔۔
عمر نے ارحا سے کہنا چاہا ۔۔۔ ” جو تم نے سنا وه غلط ہے یار میرا مطلب ہے تم غلط سمجھ رہی ہو ایسا کچھ نہیں ہے !!! ۔۔۔۔
وه بےاختیار کراہا۔۔
ارحا آنکھوں میں غصے کی سرخی لیے اسے دیکھتی رہی۔۔ یکدم وه پلٹی اور تن فن کرتی وہاں سے چلی گئی۔۔
عمر غصے سے سالار کو گھورتے اس کے پیچھے بھاگا جو لان کے وسط تک پہنچی تھی۔۔
رکو بات سنو میری !!!
وه خود پر ضبط کرتا ہوا بولا۔۔
اسے بھی غصہ آنے لگا تھا اب۔۔ ایسے کیسے وه پوری بات جانے بغیر اس کو غلط سمجھ رہی تھی۔۔
راستہ چھوڑو میرا !!!۔۔۔۔۔۔
عمر کو اپنے راستے میں حائل دیکھ کر وه نتھنے پھلا کر بولی۔۔ اسکا بس نہ چل رہا تھا کہ اس کے منہ پر ایک چماٹ لگا دیتی۔۔
اتنا سب کر کے بھی وه کس طرح دیدہ دلیری سے اس کا راستہ روکے کھڑا تھا۔۔
“نہیں چھوڑوں گا راستہ اور تم مجھے اپنے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرو بھی نہ کیونکہ تمهارا ہر راستہ میری طرف ہی آتا ہے۔۔” ۔۔۔۔۔
وه بھی آنکھوں میں غصہ سموئے اس ٹڈی سی لڑکی کو دیکھ کر بولا جو اسکے دل پر پوری شان سےحکومت کرنے لگی تھی۔۔
“تو پھر مرو یہیں، میں جا رہی ہوں !! “۔۔۔۔۔
وه سرخ آنکھوں سے اسے گھورتی اسکی سائیڈ سے نکلنے لگی کہ عمر کا دماغ گھوم گیا۔۔
“تمہیں سمجھ نہیں آ رہی بات کرنا چاہتا ہوں میں تم سے”
وه اسے بازو سے پکڑ کر جھٹکا دیتا نچلے لہجے میں داڑھا۔۔ ارحا کی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔
کیا رہ گیا ہے بات کرنے کو اب ہاں؟ تم بھی اپنے دوست کی طرح گھٹیا ہو،، اب میں مزید تمہیں اپنے جذبات سے کھیلنے کی اجازت ہرگز نہیں دوں گی۔۔ سمجھ کیا رکھا ہے تم دونوں نے ہم بہنوں کو ؟ ایسی گری پڑی ہیں کہ تم ہمیں وقت گزاری کا سامان بناؤ !! ۔۔۔۔۔
وه بغیر سوچے سمجھے بولتی چلی گئی۔۔
شٹ اپ !! ۔۔۔۔۔۔
وه سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتا داڑھا تو وه ڈر کر پیچھے ہٹی۔۔
“بہت بکواس کرلی تم نے اور میں نے سن لی۔۔ اب اگر تم نے کچھ ۔۔۔۔۔۔۔ “
لان میں کسی کے قدموں کی آواز سن کر وه لب بھینچ کر اسے کھینچتا لان کے پچھلے حصے میں لے آیا اور جھٹکے سے اسے دیوار سے لگاتا اس کے گرد دیوار پر بازو رکھ گیا۔۔
“چھچھ ۔۔ چھوڑو مجھے وحشی انسان !! میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی۔۔ !!! “
وه جنگلی بلی بنی اسکا منہ نوچنے کے در پے ہوئی۔۔ عمر کا اب صحیح معنوں میں دماغ گھوما تھا۔۔
اس نے غصے سے لان میں دیکھتے اسکے منہ پر اپنا مظبوط ہاتھ رکھ کر اسکی آواز کا گلا گھونٹ دیا۔۔
“بس !! بہت بول لیا تم نے بغیر کچھ جانے کیسے تم میرے بارے میں ایسی رائے قائم کر سکتی ہو؟؟”
وه اپنی مظبوط گرفت میں پھرپھراتی اس نازک لڑکی کی نیلی آنکھوں میں اپنی سرخی مائل آنکھیں گاڑ کر سردمہری سے بولا۔۔
بتاؤ ایسا لگتا ہوں میں تمہیں؟؟ بولو!؛ اگر اتنا ہی گھٹیا اور آوارہ لگتا تھا تو کیوں مجھے اپنے دل میں بسايا تم نے؟
وه دیوار پر اسکے برابر ہاتھ مارتا درشتگی سے بولا تو وه بھیگے نین کٹوروں سے اسے شکایتی نظروں سے دیکھتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔
یار !!! ۔۔۔۔۔
وه اسے روتے دیکھ کر بےبسی سے بولا۔۔
ایک بار میری بات سن لو پھر جیسا تمہیں ٹھیک لگے ویسا کرنا۔۔ !!!
وہ اس سے فاصلے پر ہوتا سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔
” سالار ایسا تھا۔۔۔۔ میں مانتا ہوں لیکن وه بدل گیا ہے۔۔ وه یہی بات ڈسکس کررہا تھا مجھ سے اور جہاں تک میری بات ہے میرے جذبات میں کہاں کھوٹ دیکھا تم نے؟ میں نے کبھی میلی نظر سے دیکھا تمہیں بتاؤ؟ میں نے سچی محبت کی ہے تم سے اور اس کا ثبوت تم بہت جلد دیکھ لو گی جب میں تمہارا رشتہ مانگنے آؤں گا۔۔ لیکن خالی محبتوں کے سہارے رشتے نہیں چلا کرتے،، رشتے اعتبار مانگتے ہیں۔۔ آج تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے بےاعتباری دیکھ کر مجھ بہت دکھ پہنچا ہے۔۔ !!!”
عمر کی آنکھیں سرخ ہوئیں تو ارحا کو اپنے کہے الفاظ پر ندامت ہوئی۔۔ جذبات کی رو میں بہہ کر وه اسے پتہ نہیں کیا کیا کہہ گئی تھی۔۔
آئی ایم سوری !!! ۔۔۔۔
وه بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتی رو دینے کو ہوئی۔۔
“مجھے یہ سوری نہیں چاہیے۔۔ مجھے وعدہ چاہیے تم سے کہ آئندہ کچھ بھی ہو تم میرا اعتبار کرو گی”۔۔۔۔۔
وه اسکی آنکھوں میں جھانکتا اس سے اعتبار مانگ رہا تھا۔۔
“کروں گی،، وعدہ !!” ۔۔۔
وه گیلی سانس اندر کھینچتی اسے اعتبار سونپ گئی تو وه بھی سکون کا سانس لیتا مسکرا دیا۔۔