Tera Mera Love By Mirha Khan Readelle50299 (Tera Mera Love) Episode 10
Rate this Novel
(Tera Mera Love) Episode 10
وادی نیلم میں داخل ہوتے ہی وه سب مبہوت ہوئے تھے۔۔ سبزے سے ڈھکے اونچے پہاڑوں کے بیچ بنے دس فٹ چوڑے راستے پر چلتے وه مبہوت سے قدرت کے عظیم شاہکار کو دیکھ رہے تھے۔۔
وه چاروں بھی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے سر اٹھا کر ارد گرد کے مناظر سے نظروں کو ٹھنڈک پہنچاتیں آگے بڑھ رہی تھیں۔۔
اس کے پیچھے سٹوڈنٹس کے ہجوم میں وه چاروں بھی قدم بڑھاتے ارد گرد کے مناظر کیمروں میں محفوظ کررہے تھے۔۔
فارس کو یہاں آنے کا آئیڈیا اب اتنا برا بھی نہیں لگ رہا تھا۔۔ حور اور نور ہاتھ پکڑتی آگے بھاگ گئیں۔۔
ارحا نے افسوس سے انہیں دیکھا۔۔ مرحا نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔
ہم ساتھ ہیں نہ!!
وه مسکرا کر آگے بڑھنے لگیں۔۔ آہستہ آہستہ چلنے کے باعث فارس عمر وغیرہ ان کے قریب پہنچ چکے تھے۔۔
سبزے اور پھولوں کی میٹھی سی خوشبو ہوا کے دوش پر سفر کرتی مرحا کے نتھنوں سے آ ٹکرائی تو اس نو خوش کن احساس کے زیر اثر آنکھیں موند لیں۔۔۔
اٹس لائک ہیون!!
وہ سرگوشی میں بولی جو اس کے برابر سے گزرتے فارس نے سن لی۔۔
اس نے مرحا کی جانب دیکھا تو اسکی نظروں نے بند آنکھوں پر جھکی پلکوں سے ستواں چھوٹی سی ناک سے گلابی گال اور گالوں سے عنابی تراشیدہ لبوں تک کا سفر کیا۔۔
عالیان کےٹہوکہ دینے پر وه مسكان دباتا آگے چلا گیا۔۔
مرحا نے موندی آنکھیں کھولیں تو عین سامنے اسکی چوڑی پشت کو دیکھ کر اسکی دھڑکنیں بےترتیب ہوئیں۔۔
ایسے ہی قدرت کے نظاروں سے لطف اٹھاتے ہنستے مسکراتے وه سارا دن وادی کی سیر کرتے رہے۔۔
رات کو سب تھکے ہارے بستروں پر گرتے ہی نیند کی آغوش میں سوگئے۔۔
🌚🌚🌚🌚
“پِیر چیناسی” ۔۔۔۔۔۔
جو کشمیر کا ایک نہایت دلکش اور جاذب نظر مقام ہے۔۔ قدرے وسط میں ایک سرسبز پہاڑ کی چوٹی پر بنے لكڑی کے خوبصورت گھر ہوٹل کا کام دیتے تھے۔۔
یہ پہاڑ چاروں جانب سے جنگلات اور آسمان کی بلندی کو چھوتے بلند پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا۔۔
اطراف میں دهند میں لپٹے پہاڑ اس جگہ کو عجیب جاذبیت بخشتے تھے۔۔
آسمان پر تیزی سے گزرتے بادلوں کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ انسان کسی اور دنیا میں قدم رکھ چکا ہے۔۔
یہ مقام کسی کو بھی ایسے ہی سحر زدہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔ وه سب ہجوم کی صورت کھڑے ڈین کی بات سن رہے تھے۔۔
“اگر سفر میں ایڈونچر نہ ہو تو پھر مزہ نہیں آتا۔۔ ہم سیدھے راستے سے جانے کی بجائے یہاں کیوں آئے ہیں؟ میں وضاحت کرتا ہوں!!”
“میرے پیچھے آپ کو جنگلات کا طویل سلسلہ نظر آ رہا ہوگا۔۔ اسے پار کر کے ایک پہاڑ نظر آتا ہے جس پر جابجا درخت لگے ہیں۔۔ آپ کو اس پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنا ہے۔۔ وہیں ہماری رہائش ہوگی۔۔ آپ سب اپنا پارٹنر ڈھونڈ لیں جس کے ساتھ آپ یہ جنگل پار کریں گے۔۔ اگر کسی کو مسلہ ہے تو وه مت جائے۔۔ یہ آپکی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔۔ اور جو سب سے پہلے پہنچے گا اسے یونیورسٹی کی طرف سے انعام دیا جائے گا۔۔ ہیو سیف جرنی!!”
انگهوٹھا دکھا کر وہ بات ختم کرتے وہاں سے چلے گئے۔۔
نور جلدی سے حور کے ساتھ ان دونوں کے پاس آئی۔۔
” یار آپی ہم لڑکیاں ہیں پیئر بھی لڑکیوں کا ہی بنے گا۔۔ اگر کوئی پرابلم ہوگئی جنگل میں تو؟”
وه ذرا فکرمند ہوئی۔۔
ارحا نے کڑے تیوروں سے اسے دیکھا۔۔
” ہاں تو تمہیں ہی پڑی تھی یہاں آنے کی!!”
اکسکیوز می!!
عمر کھنکارا تو انہوں نے پلٹ کر دیکھا جہاں عمر کے عقب میں وه تینوں آتے دکھائی دے رہے تھے۔۔
جی!! حور نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔
” ہم آپ کا یہ مسلہ حل کر سکتے ہیں وه اس طرح کہ آپ میں سے ہر ایک ہم میں سے ایک ایک کو جوائن کر لے۔۔”
دیکھیں آپ ہمارے کرائےدار ہیں اور سب سے بڑھ کر دادو نے آپ چاروں کا خیال رکھنے کی خاص تاکید کی تھی۔۔ جنگل میں اکیلی لڑکی کا جانا سیف نہیں ہے۔۔ باقی جیسا آپ کو مناسب لگے۔۔ !!!
وه سنجیده ہوتے ہوئے بولا جبکہ حقیقت میں اسکے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔۔
انھیں اسکی بات مناسب لگی۔۔
” ٹھیک ہے آپ بتا دیں کون کس کے ساتھ جائے گا!!”
مرحا کا کہنا تھا کہ نور عالیان کے ساتھ جا کر کھڑی ہوگئی۔۔
“میں اس انوسنٹ بوائے کے ساتھ جاؤں گی کیا پتہ اسے میری مدد کی ضرورت پڑ جائے۔۔ !!”
اسکی بات پر لڑکوں کا قہقہہ گونجا جبکہ وه تینوں مسکرا دیں۔۔
” لٹل گرل ڈو یو وانا جوائن یور پروفیسر؟؟”
سالار نرمی سے مسکرا کر بولا تو وه سر ہلا گئی۔۔
میں سر کے ساتھ جاؤں گی۔۔!!
” وہ سالار کے برابر آتی بیگ میں ضروری چیزیں چیک کرنے لگی۔۔
“آ۔۔۔ بہنا آپ فارس کو جوائن کر لیں۔۔ میں آپ کی بہن کو جوائن کر لیتا ہوں !! “
ان دونوں کو کشمکش میں دیکھ کر وه خود ہی فیصلہ سنا گیا۔۔
چلیں؟ وه ارحا کو گہری نظروں سے دیکھتا مسکرایا تو وه سٹپٹا گئی۔۔
بےشرم !! وه منہ میں بڑبڑائی۔۔
فارس آرام سے چلتا مرحا کے پاس آیا۔۔
” یہ تو وقت ضائع کرتے رہیں گے ہمیں چلنا چاہیے !! “
مرحا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تو سرمئی آنکھوں کی تاب نہ لاتے فورا نظریں جھکا گئی۔۔
وه دونوں اپنے ساتھیوں کو بیسٹ آف لک کہتے جنگل میں داخل ہو گئے۔۔
پانچ منٹ تک تو وه ریلیکس سے آگے بڑھتے رہے اس دوران انہوں نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی۔۔
مرحا خاصا نروس ہورہی تھی اور فارس اسکی نروس-نیس محسوس کررہا تھا۔۔
آج مرحا لوگوں نے وائٹ شارٹ گھٹنوں تک آتی فراک کے ساتھ وائٹ ہی پینٹ اور لیدر کی میرون جیکٹ پہن رکھی تھی جبکہ فارس لوگوں نے كیمل کلر کی شرٹ کے ساتھ بلیک جینز اور بلیک ہی لیدر جیكٹ پہن رکھی تھی۔۔ جھاڑیوں میں سے گزرتے عجیب سی آواز آئی جسے سن کر وه سہم گئی۔۔
اس نے ڈر کر فارس کا بازو پکڑ لیا اور خوفزدہ نظروں سے چاروں اوڑھ دیکھنے لگی۔۔
یہاں کچھ ہے !!
وه فارس کو یقین دلاتے ہوئے بولی تو وه ہلکا سا مسکرایا۔۔ ڈونٹ وری یہاں کچھ نہیں ہے !!
کہتے ہوئے اس نے اپنے بازو پر نظر ڈالی تو مرحا نے شرمنده ہو کر ہاتھ ہٹا لیا۔۔
سوری !! ۔۔۔۔۔
وه کھلے بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے اڑس کر اس سے کچھ فاصلے پر ہوگئی۔۔
وه اس کے وجود سے اٹھنے والی مہک اور اپنے عجیب ہوتے احساسات کو محسوس کرتا سیدھ میں دیکھتا چلنے لگا۔۔ “بورنگ انسان بندہ کوئی بات ہی کر لیتا ہے !! “
وه دل ہی دل میں بڑبڑائی لیکن زبان نے خوب ساتھ دیا کہ اسکے الفاظ زبان سے ادا ہوتے فارس کے کانوں تک پہنچنے کا شرف حاصل کر چکے تھے۔۔
وه رکا اور عین اسکے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔
مرحا اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔ وه بڑی بڑی نیلی آنکھوں کو اور بڑا کرتی اسے دیکھنے لگی جو اسکا راستہ روکے کھڑا تھا۔۔
” آپ ہی بتا دیں کیا بات کروں میں؟ دوست ہم ہیں نہیں اور کوئی رشتہ ہمارے بیچ ہے نہیں۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ جو آپ محسوس کررہی ہیں اس بارے میں بات کروں تو آپ کو کوئی مسلہ تو نہیں ہوگا؟”
وه اسکے چہرے کے پل پل بدلتے رنگوں کو دیکھ کر محظوظ ہوتا نچلے لب کا کونہ دانتوں میں دبا گیا۔۔
مرحا سرخ چہرے سے اسے دیکھتی دو قدم پیچھے ہٹی۔۔ نن۔ ۔نہیں تو ۔۔ ایسی ۔۔کوئی بات نہیں ہے !!
“اوکے اوکے آئیں !!!”
وه اسے گھبراتا دیکھ کر دوبارہ سے قدم بڑھانے لگا۔۔
وه اس سے کچھ آگے چلا گیا تو جلدی چلنے کے چکر میں اس کا پیر جھاڑیوں میں اٹکا اور وہ دھڑام سے نیچے گری۔۔ آہ !!! ۔۔۔۔۔
وہ درد سے چلائی تو فارس فوراً پلٹا اور تیزی سے اس تک آیا جو پیر پکڑے رونے لگی تھی۔۔
فارس نے ہاتھ آگے بڑھایا تو وه روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی۔۔
وه لب بھینچ کر پنجوں کے بل نیچے بیٹھا اور اس کا پیر پکڑ کر شوز سے آزاد کیا۔۔ وه درد کی شدت سے چیخی پڑی۔۔ خاردار جھاڑی کا ایک کانٹا اس کے شوز میں سے ہوتا پیر میں گھس گیا تھا۔۔
فارس کے شوز اتارنے پر کانٹا ایک جھٹکے سے نکلا تھا جس کی وجہ سے وہ درد سے چلائی تھی۔۔
آئی ایم سوری !! ٹشو ہوگا آپ کے پاس؟ ۔۔۔۔۔
وہ نرمی سے کہتا اس کے پیر کو دیکھنے لگا جہاں ایڑهی سے ہلکا سا خون نکلنے لگا تھا۔۔
مرحا نے منہ بسورتے پرس میں سے ٹشو نکال کر اسے دیا۔۔ اس کے منہ بسورنے پر فارس دهیما سا مسکرایا۔۔
وه آرام سے اسکے پیر کو صاف کرنے لگا۔۔ جیب سے رومال نکال کر اس نے اسکے پیر پر باندھ دیا اور شوز پہنانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو مرحا نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔۔ میں پہن لیتی ہوں !!
گال سے آنسو صاف کرتے اس نے شوز پہنا تو فارس اٹھ کھڑا ہوا۔۔
اٹھیں کچھ نہیں ہوگا !! ۔۔۔
وه اسے پچکارتے ہوئے بولا۔۔
نو ۔۔۔ درد ہوگا !! ۔۔۔۔۔
وہ سر اٹھا کر اس طرف دیکھتی آنسو روکنے کی کوشش میں ہلکان نظر آئی۔۔
اس کی معصوممیت پر فارس کا دل بے ساختہ چاہا کہ اس کے آنسو اپنی انگلیوں کی پوروں پر چن لے۔۔
وه گہری سانس لے کر جھکا اور اور اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر دونوں بازوؤں میں اٹھا کر سیدھا ہوا اور آگے بڑھنے لگا۔۔
مرحا کو اس لمحے اس سے اتنی حیا آئی کہ اسکا دل چاہا وه کہیں غائب ہوجائے۔۔
اس نے فارس کی گردن کے گرد لپٹے اپنے بازوؤں کو ایک پل دیکھا اور پھر نظریں جھکا گئی۔۔ اسکی یہ ادا فارس کے دل پر نقش ہوگئی۔۔
🌚🌚🌚🌚
اتنا بڑا کتا ؟ عالیان کا حلق سوکھ گیا۔۔
“تم اپنا منہ بند رکھو تمہاری آواز سن کر وه سیدھا تمہیں ہی کھانے آئے گا !! “
نور نے کڑے تیوروں سے اسے گھورا۔۔
بڑا ہوں تم سے میں “آپ” کہو مجھے۔۔ !!!
وه بھی سب بھولتا خفگی سے بولا۔۔
نہیں کہتی کیا کرلو گے؟
وه کمر پر ہاتھ ٹکا کر پوری پٹاخہ بنی اسے گھورنے لگی۔۔ بہت کچھ کر سکتا ہوں میں !!
عالیان سے اسے چیلنج کیا۔۔
“اچھا میں بھی تو دیکھوں” ۔۔۔۔۔
نور نے جیکٹ کے بازو موڑتے ہوئے کہا۔۔
عالیان نے اچھا کے انداز میں سر ہلایا اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے قریب کر گیا۔۔
نور نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے دور دهكیلنا چاہا۔۔
اب اتنا بھی شریف نہیں ہوں میں !! ۔۔۔۔۔
عالیان نے جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔
“کتے صاحب” لائیو رومانٹک شو ملاحظہ کررہے تھے۔۔ جب انہیں اندازہ ہوا کہ وه یہاں کس کام کے لیے آئے ہیں تو انہوں نے زور زور سے بھونکنا شروع کر دیا۔۔
وه دونوں جھٹ سے الگ ہوئے۔۔
“یہ تو ہماری طرف آ رہا ہے۔۔۔ !!
عالیان کی ہیروپنتی پل میں اڑن چھو ہوئی۔۔
اسکی تو میں !! ۔۔۔۔
نور نے دانت پیس کر کتے کو دیکھا اور بڑا سا پتھر اٹھا کر اسکی طرف دوڑی۔۔
کتے کو پہلے تو سمجھ نہ آئی وه بھی اسکی طرف دوڑا لیکن جب بڑا سا پتھر اسکے جسم پر لگا تو دم دبا کر وہاں سے بھاگ گیا۔۔
چلو اب !! کہ یہیں رات گزارنی ہے؟ ۔۔۔
نور روانی میں بول تو گئی لیکن جب سمجھ آئی تو زبان دانت تلے دبا کر سیدھی ہوتی چلنے لگی۔۔
عالیان محظوظ ہوتا دوڑ کر اس کے قریب آتا اسکے قدم سے قدم ملانے لگا۔۔
ایک دفعہ پھر کہنا !! ۔۔۔۔
وه اسے تنگ کرتے بولا تو وه تیکھی نظروں سے اسے دیکھتی جلدی جلدی چلنے لگی۔۔
اچھا سنو تو ۔۔۔۔ اچھا سوری !! ۔۔۔۔۔
وه ہنستا ہوا پیچھے سے ہانک لگانے لگا تو وه مزید خفا ہوگئی۔۔
