188K
10

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Tera Mera Love) Episode 8 & 9

ہاتھ میں کسٹرڈ کا باؤل پکڑے وه احتیاط سے سیڑھیاں اتر رہی تھی۔۔ اس نے اورنج کلر کی شارٹ كیپری شرٹ کے ساتھ سیاہ دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا تھا۔۔
سیاہ سلكی لمبے بال ہمیشہ کی طرح کمر سے نیچے جاتی چوٹی میں مقید تھے۔۔ چند لٹیں چہرے کے اطراف میں بکھری ہوئی تھیں۔۔
خراماں خراماں چلتی وه لاؤنج میں آئی جہاں وه چاروں صوفوں پر بےترتیب بیٹھے ہوئے تھے۔۔ مرحا کی پہلی نظر فارس پر پڑی تھی۔۔
جلدی سے نظروں کا زاویہ بدلتی وه کھنکاری۔۔ اس کے کھنکارنے پر وه چاروں سیدھے ہو بیٹھے۔۔ وه یہ دادو نے بھیجا ہے آپ کے لیے!!!
سب کی نظریں خود پر پا کر وه كنفیوز ہوتی ہوئی بولی۔۔
تھینک یو بہنا!!!
عمر خوش اخلاقی سے کہتا اٹھا اور ندیدی نظروں سے باؤل کو دیکھ کر اس کے ہاتھ سے پکڑتا کچن میں رکھ کر واپس آیا۔۔
فارس تم تھینک یو نہیں کہو گے؟؟
عمر شرارت سے اسے دیکھتا بولا تو فارس اور مرحا اپنی جگہ سٹپٹا گئے۔۔
فارس نے کھا جانے والی نظروں سے عمر کو دیکھا۔۔
اہم اہم۔۔۔!!!
سالار خوامخواہ کھانسنے لگا تھا۔۔۔
مرحا سرخ چہرہ لیے پلٹی تو عالیان نے اسے پکارا۔۔
“سسٹر رکیں ذرا عمر آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہے!!!”
وه عمر کی بے چینی دیکھ کر معصومیت سے بولا تو عمر نے اسے فلائنگ پپی کی جسے عالیان نے ہاتھ میں قید کرتے دور پڑی ڈسٹبن میں اچھال دیا۔۔
سالار کا قہقہہ چھوٹا تھا۔۔
مرحا ہونقوں کی طرح انہیں دیکھنے لگی۔۔ ایسے نمونے پہلے کب دیکھے تھے اس نے۔۔
“وه کچھ دیر پہلے مہمان آئے تھے آپ کے؟؟”
عمر شرافت سے پوچھنے لگا۔۔ محلے کی فسادی آنٹیوں کی طرح اسکے اندر بھی کھد بد مچی ہوئی تھی۔۔
جب تک وه جان نہ لیتا اس کے پیٹ میں درد رہنا تھا۔۔
” جی وه ارحا آپی کے رشتے کے لیے آئے تھے!!!”
اس کو جو سمجھ آیا اس نے بول دیا۔۔
اب وه بےشرموں کی طرح یہ تو نہیں کہہ سکتی تھی کہ میرا رشتہ دیکھنے آئے ہیں۔۔ ویسے بھی وه كنفیوز تھی اس وقت۔۔
اس کے جواب پر عمر کا منہ ایسا ہو گیا جیسے کسی نے اسے كریلے کا جوس پلا دیا ہو۔۔ سالار اور عالیان ہنسنے لگے تھے جبکہ فارس سکون سے عمر کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔۔
“کیا ہوا ؟؟”
انہیں پاگلوں کی طرح ہنستے پا کر اور عمر کا منہ بنا دیکھ کر وه پوچھنے لگی۔۔
“پسند کرتا ہے عمر آپ کی بہن کو!!!”
فار بڑے آرام سے کہتا مزے سے میز پر ٹانگیں رکھ کر ٹی وی دیکھنے لگا۔۔
اسکا تو بدلہ پورا ہوا۔۔ اب آیا تھا نہ اونٹ پہاڑ کے نیچے۔۔ !!!
عمر کی آنکھیں ابل آئیں ۔۔ سالا کمینا ۔۔ تجھے تو میں بعد میں پوچھوں گا۔۔ !
مرحا حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“بکواس کررہا ہے وه آپ سیریس نہ لیں !!! “
وه زبردستی مسکرا کر بولا تو مرحا سر ہلا کر واپس چلی آئی۔۔ اب وه اتنی بھی بچی نہیں تھی کہ ان کی باتیں نہ سمجھ پاتی۔۔
رشتے والی بات پر عمر کے تاثرات یاد کرتے اسکے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔
مطلب وه ارحا آپی کو پسند کرتے ہیں!!!
وه جلدی سے کچن میں جھانکتی ارحا کو ڈھونڈتی ہوئی کمرے میں آئی۔۔
آپی!!! اسکے پرجوش ہو کر کہنے پر ارحا نے اسے دیکھا اور قریب سوئی ہوئی حور کو دیکھ کر اسے خاموش ہونے کا اشارہ کرتی باہر آئی۔۔
ہاں کیا ہوا؟؟
وه اسکے ساتھ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھتی اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔۔
آپی وه نہ۔۔۔۔ !!
وه شرارت سے مسکرائی تو ارحا اکتائی۔۔
اب کہہ بھی چکو!!!
اچھا اچھا اتنی بے صبری۔۔۔۔
وہ اسکی اکتاہٹ کو اور ہی رنگ دے گئی۔۔
” مرحا مار کھاؤ گی مجھ سے کیا بولی جا رہی ہو؟؟ “
اس نے تیکھی نظروں سے مرحا کو دیکھا تو وه شرافت سے اسے ساری بات بتانے لگی۔۔
دوپہر والا منظر یاد کرتے اسکے چہرے پر حیا کی لالی بکھر گئی۔۔
اوہ مائی گاڈ آپی!! آپ بلش کررہی ہیں؟؟
مرحا حیرت زدہ مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگی۔۔ چپ ایک تھپڑ لگاؤں گی میں تمہیں!! خبردار اس بات کا ذکر بھی کیا تم نے کسی سے۔۔ !
اسے ڈپٹ کر وه تن فن کرتی وہاں سے چلی گئی۔۔
ٹھرکی کہیں کا!!!
🌚🌚🌚🌚
کمینے تجھے تو نہیں چھوڑوں گا میں!!
عمر تکیہ اٹھاتا فارس کو مارنے کے لیے دوڑا تو فارس نے بھی لیٹے ہوئے سالار کے سر کے نیچے سے تکیہ کھینچ لیا۔۔
دونوں میں تکیوں سے کی نان اسٹاپ فائٹ شروع ہوگئی۔۔
“سالے تجھے پکڑنے دوں گا تو چھوڑے گا نہ۔۔۔۔ !”
عالیان ان کی چخ چخ سے تنگ آ کر اٹھا اور رکھ کر دو دو چماٹیں انہیں لگائیں۔۔
” حد ہوگئی ہے گھر کو ہر وقت چڑیا گھر بنایا ہوتا ہے بندہ دو گھڑی سکون بھی نہیں لے سکتا!!”
سالار نے عالیان کے ایگزیکٹ ایکشن پر او شیپ میں ہونٹ گھمائے جبکہ عمر اور فارس ابرو اچکائے اس ٹارزن کی اولاد کو دیکھنے لگے۔۔
“اوکے لے لے دو گھڑی سانس لیکن بس دو گھڑی اوکے!!!”
عمر نے انگلیوں کی “وی” بنا کر کہا تو عالیان اسکی بکواس پر نہ چاھتے ہوئے بھی مسکرا دیا۔۔ کمینہ!!؛
اسکی بڑبڑاہٹ سن کر عمر پھر سے بولا۔۔
یو ٹو جانی!!!
عالیان نفی میں سر ہلا کر دوبارہ قالین پر بیٹھ گیا اور ایل سی ڈی پر کارٹون کا چینل لگاتا دیکھنے لگا۔۔
پانی پکڑا!!
فارس نے موبائل یوز کرتے سالار کو دیکھ کر کہا تو اس نے موبائل سے نظریں ہٹائے بغیر اسے پانی کی بوتل تهما دی۔۔
” ابھے تیری کارٹون دیکھنے کی عمر ہے؟؟”
عمر، عالیان کے برابر دهپ سے بیٹھتا افسوس سے بولا تو عالیان نے ٹیڑھی نظروں سے اسے گھورا۔۔
تو اور؟؟ سر جھٹک کر وه پھر سے کارٹون دیکھنے میں مصروف ہوگیا۔۔
” ٹو کارٹون ہی دیکھتا رہ تیرے حصے کے بچے ہم پیدا کرلیں گے!! “
اس نے سالار کو دیکھ کر آنکھ ماری۔۔ فارس کے منہ سے پانی فوارے کی صورت نکلا۔۔
بے غیرتو!!
عالیان سرخ چہرے سے بس اتنا ہی کہہ سکا۔۔ عمر اور سالار ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑے۔۔ ڈونٹ مائینڈ سویٹ ہارٹ!!!
سالار ڈمپل کی نمائش کرتا موبائل پر ٹائیپنگ کرنے لگا۔۔
🌚🌚🌚🌚
گلاب کا پھول کمر کے پیچھے چھپاتا وہ دلکشی سے مسکراتا لان میں چلا آیا۔۔
گلابی شارٹ فراک جینز میں بالوں کا میسی جوڑا بنائے تتلی بنی لان میں اڑتی ایک رنگ برنگی تتلی کے پیچھے بھاگتی پھر رہی تھی۔۔ تتلی اس کے ہاتھ پر آ کر بیٹھی تو وه کھلکھلا دی۔۔
اسکی کھلکھلاہٹ پر سالار کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔ حور کے گالوں میں پڑتے ڈمپل کو گہری نظروں سے دیکھتا وه اسکے قریب چلا آیا۔۔
اہم!!!
وه کھنکارا تو حور فوراً سے پلٹی۔۔ ایسا کرنے سے تتلی اس کے ہاتھ سے اڑ گئی۔۔
اس نے افسوس سے اسے خود سے دور جاتے دیکھا۔
ہلو سر!!
وه مسکرا کر اس سے مخاطب ہوئی۔۔
ہلو لٹل گرل۔۔ لكنگ پریٹی!!
وه نرم گرم نظروں سے اسے دیکھتا ہوا بولا تو وه پزل ہوگئی۔۔
تھ۔۔۔ینک یو!!
وه آہستہ سے بولی تھی۔۔
“میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں !!”
اس کے دھیمے آنچ زدہ لہجے پر حور کی دھڑکنیں بےترتیب ہوئیں۔۔ وه خاموشی سے سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔۔
ہری پرتپش آنکھوں کی تاب نہ لاتے وه اپنی نیلی آنکھوں پر پلکوں کی جھالر گرا گئی۔۔ سالار نے دلچسپی سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔
وه اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا اور کمر کے پیچھے چھپا ہاتھ سامنے کرتے اسے پھول پیش کرتے ہوئے بولا ….
” آئی لو یو!!!”
حور حیرت زدہ سی اسے دیکھے گئی۔۔ اسے ایک پل کو تو سمجھ نہ آئی کہ اسکے ساتھ ہوا کیا ہے۔۔
کیا کہا آپ نے؟ اسے لگا اسے سننے میں غلطی ہوئی ہے۔۔
آئی سیڈ آئی لو یو مائی لو!!!
وه دلکشی سے مسکرایا تو حور کے چہرے پر شرمگین مسكرہٹ آئی۔۔ اس نے چھوٹے گلابی لبوں کو دبا کر ایک نظر اسے دیکھا اور ایک قدم آگے آتے اسکا بڑھایا ہوا گلاب کا پھول تھام لیا۔۔
وه اسے نظروں کے حصار میں لیے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ “میں بہت خوش ہوں تھینک یو میری محبّت کو اپنانے کے لیے!!”
وه ایک قدم آگے بڑھاتا اس کے گرد بازو حائل کرتا اسے خود سے لگا گیا۔۔
حور اپنی جگہ ساکت ہوئی تھی۔۔ سالار اس سے الگ ہوتا پیچھے ہٹا تو وه بغیر اسے دیکھے اندر بھاگی تھی۔۔
اسے یوں شرما کر جاتے دیکھ کر وه محظوظ ہوتا بالوں میں ہاتھ پھیر گیا۔۔
دوسری طرف وه تیز تیز دھڑکتے دل پر پریشان ہوتی تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی اپنے فلور پر آئی۔۔
ابھی وہ کسی سے سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے اپنے کمرے میں جانے کی بجائے چھت پر چلی آئی۔۔
اس کے چہرے پر بکھرے رنگ دیکھ کر نور دیوار سے چھلانگ لگاتی فوراً اس کے پاس آئی۔۔
” یہ تمہارا رنگ کیوں اڑا ہوا ہے اور یہ پھول۔۔۔۔ “
اسکی نگاہ اسکے ہاتھ پر پڑی۔۔
ایک منٹ ایک منٹ!!!
اسکے بولنے سے قبل ہی وه کچھ کچھ سمجھ گئی۔۔
” نور چپ کر آہستہ بول کوئی سن لے گا!!”
اس نے گھبرا کر پیچھے دیکھا اور اسے بازو سے پکڑ کر کھینچتی قدرے کونے میں لے آئی۔۔
اسے دیکھ کر وه اپنے اندر وه سب بولنے کی ہمت پیدا کرنے لگی جو ابھی اسکے ساتھ پیش آیا تھا۔۔
نور۔۔۔۔۔ پروفیسر لَوّز می!!
وه سرگوشی میں بولی تو نور پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
کیا مطلب وه پروفیسر سالار؟؟ وه بھی شاک ہوئی تھی۔۔
ہمم!! حور انگلیاں چٹخاتی ہوئی بولی۔۔
تم ۔۔۔ تم ابھی کسی کو نہ بتانا ۔۔ اوکے!!
وه اسے یہ بات ابھی راز میں رکھنے کا وعدہ لے گئی۔۔
🌚🌚🌚🌚
اف !! کتنی گرمی ہے۔۔ !
وه ماتھے سے پسینہ پونچھ کر چولہا بند کرکے پیچھے ہٹی۔۔ اس نے چولہے سے ساس پین اٹھا کر سلیب پر رکھے شیشے کے باؤل میں سوپ ڈالا۔۔
یمی!!!
حور دهپ سے آ کر سلیب پر بیٹھتی سوپ کو چمکتی آنکھوں سے دیکھ کر بولی۔۔
اسکی خوشبو سے حور کے منہ میں پانی آیا تھا۔۔ پیچھے ہٹو!!
مرحا نے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ پر تھپڑ مارا۔۔ “دادو نے کہا تھا نیچے بھی بھجوانا ہے۔۔ رکو الگ برتن میں نکال لوں!!”
وه مصروف سے لہجے میں بولی تو حور پرسوچ انداز میں اسے دیکھنے لگی۔۔
” یار آپی یہ دادو زیادہ مہربان نہیں ہوتی جارہیں ان پر؟”
“ان کا احسان بھی تو بڑا ہے ہم پر، ہماری بہت مدد کی ہے انہوں نے ۔۔۔ایسے نہیں کہتے۔۔ اچھا یہ سوپ دے آؤ انہیں میں یہ سب پھیلاوہ سمیٹ لوں ذرا ۔۔ !”
اس نے سلیب پر جابجا بکھری چیزوں پر اکتاہٹ بھری نظر ڈالی۔۔ حور تو جیسے بدک گئی۔۔
نن ۔۔نہیں میں نہیں جاؤں گی۔۔۔آپ خود دے آئیں!!
وه جلدی سے چھلانگ لگا کر سلیب سے اترتی باہر بھاگ گئی۔۔ مرحا نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
پاگل لڑکی!! سر جھٹک کر وه جلدی جلدی پھیلاوا سمیٹنے لگی۔۔
پھر کچن سے باہر آ کر اس نے نور کو آواز دی۔۔ جواب نہ پا کر وه واپس کچن میں آئی۔۔ اب خود جانا پڑے گا مجھے!!
خودكلامی کرتے اسے پچھلی بار کا منظر یاد آیا جب کچھ دن پہلے وه ایسے ہی ان کو کسٹرڈ دینے گئی تھی تو انہوں نے کتنا چھیڑا تھا فارس کو۔۔
سر جھٹک کر وه دوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی شیشے کا باؤل پکڑتی دادو کو بتا کر نیچے چلی آئی۔ السلام علیکم !! اسکا سامنا فارس سے ہوا تو وه ہچکچا کر سلام کر گئی۔۔
وعلیکم السلام !! وه اسکے سامنے رکتا ہوا سنجیدگی سے بولا۔۔
“یہ ۔۔ یہ لیں ۔۔ سوپ بنایا تھا ہم نے تو دادو نے کہا ۔۔۔۔۔ !”
وه بات ادھوری چھوڑ کر اسکی سر مئی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔
“تھینکس کہیے گا انہیں میری طرف سے!!”
وه اسکی نیلی آنکھوں میں جھانک کر بولا تو وه نظریں جھکا گئی۔۔
“جی کہہ دوں گی۔۔ آ آپ کو اگر کوئی بھی کام ہو تو بلا جھجھک کہیے گا۔۔ “
وه بال کان کے پیچھے اڑستی ہوئی معصومیت سے اسے دیکھنے لگی۔۔
فارس نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھا۔۔
اور کچھ؟؟
ذرا سا جھک کر وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بولا تو وه شرما کر پلٹتی بھاگتی ہوئی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔
اس کے جانے کے بعد فارس نے مسکرا کر سر جھٹکا۔۔
🌚🌚🌚🌚
عالیان ہوسپٹل سے آتا سیدھا کمرے میں آیا۔۔ گاڑی کی چابی سائیڈ ٹیبل پر پھینک کر وه فریش ہونے کی غرض سے فوراً باتھ روم میں گھس گیا۔۔ تھوڑی دیر بعد وه باہر نکلا اور تولیے سے گیلے بال پونچھنے لگا۔۔
اتنے میں سالار بھی یونیورسٹی سے آ گیا۔۔
ہیلو سویٹ ہارٹ!! وٹس۔۔۔۔۔ اسکی اگلی بات منہ میں ہی رہ گئی۔۔
دونوں نے بیک وقت ڈریسنگ روم سے نکلتے عمر کو دیکھا۔۔ ان کا منہ کھل گیا۔۔
سامنے وه پیٹ پر ہاتھ رکھے دوپٹے سے منہ کو چھپاتا باہر نکلا تھا۔۔
تو۔۔۔۔تو ۔۔۔۔ پریگننٹ ہوگیا؟؟
عالیان پوری آنکھیں کھولتا اس کے پھولے ہوئے پیٹ کو دیکھ کر بولا۔۔
کس کے ساتھ منہ کالا کیا ہے تو نے؟
وہ کپتّی عورتوں کی طرح دیدے نچا کر بولا تو عمر نے جھٹکے سے دوپٹہ منہ سے اتارا۔۔
“مولوی صاحب یہ ہے وه جس نے میرے ساتھ منہ کالا کیا!! “
وه سالار کی طرف دیکھ کر آنکھ مارتا باریک سی آواز میں بولا۔۔
ہونے والے چنٹو کے ابا!!!
وه پیٹ پکڑ کر چلتا ہوا سالار کے نزدیک آیا تو اس نے عمر کو لات ماری۔۔
” ایک نمبر کے لعنتی لگ رہے ہو بے غیرت سویٹ ہارٹ!!
آؤچ!!! عمر نے پیٹ پر ہاتھ رکھتے دکھی ہونے کی اداکاری کی۔۔
کیا ہوا وہ ایکسپٹ نہیں کررہا تجھے؟؟
عالیان شرارتی مسکراہٹ سے کہنے لگا تو سالار وہیں بیڈ پر بیٹھتا ہنسنے لگا ۔۔
هستے هستے اسکی آنکھوں میں پانی آ گیا۔۔ عمر نے موبائل آن کر کے لاؤڈ سپیکر پر ڈالا اور گانا لگا دیا۔۔
کیاااااا۔۔۔ کہہ دیا ہے تم نے یہ جانم!!
جب سے ہم تم سے ملے قسم ہم رہے نہیں ہم۔۔!!
او پیا پیا،، کیا کِیا،، کیا کِیا ہے صنم۔۔!!
عمر نچلا دھڑ ہلا کر دونوں ہاتھ ماتھے پر لے جاتا ناگن ڈانس کرنے لگا۔۔
عالیان نے جلدی سے فارس کو ویڈیو کال کردی۔۔ فارس جو میٹنگ میں تھا ۔۔ ایک سیكنڈ کہہ کر کال اٹینڈ کر گیا کہ شاید کوئی ضروری بات ہو۔۔ اسے اندازه نہ ہوا کہ موبائل لاؤڈ سپیکر پر تھا۔۔ اس کے اٹینڈ کرنے کی دیر تھی کہ سپیکر سے گانے کی تیز آواز گونجی اور ناگن ڈانس کرتا عمر سکرین پر ظاہر ہوا۔۔
فارس نے ہڑبڑا کر کال کاٹ دی۔۔
سوری!! کنٹینیو کریں۔۔۔
کمینے کہیں کے!!
زیر لب ان کو القابات سے نوازتا وه دوبارہ میٹنگ پر توجہ مركوز کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔ عالیان نے موبائل پاكٹ میں ڈالا اور عمر کے سامنے آیا۔۔
جانی تم بھول گئے ہو؟؟
وه عالیان کے گال پر انگلی پھیر کر بولا۔۔
کیا بھول گیا؟؟ عالیان نے اسکی انگلی کو پیچھے کرتے دانت میں دبا لیا جس سے وه “سی” کر کے رہ گیا۔۔
عمر کہنے لگا “وه سارے پل جن میں ہم دونوں “نہر والے پل” پر ایک دوسرے کی جوئیں نکالا کرتے تھے۔۔”
کہتے ساتھ ہی وه زوردار قہقہہ لگا گیا۔۔
عالیان جوتا اتار کر اسکی طرف بڑھا تو وہ دوپٹہ لہراتا باہر بھاگ گیا۔۔
“ابھے یار کس بےشرم سے پالا پڑ گیا ہے ہمارا۔۔ دل تو کرتا ہے اسے کوڑے میں پھینک آؤں جا کر۔۔”
وہ سالار کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھا کر بولا۔۔ یکدم باہر سے دھڑام سے کچھ گرنے کی آواز آئی۔۔ دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔
تو بھی وہی سمجھا جو میں سمجھا؟
سالار نے تصدیق چاہی۔۔
ہاں !! عالیان کہتے ساتھ ہی قہقہہ لگا گیا۔۔
اب پڑ گئی تھی کلیجے میں ٹھنڈ!!
🌚🌚🌚🌚
دادووو!! پلیز مان جائیں نہ۔۔۔۔۔
نور اور حور کب سے یونیورسٹی ٹوئر کے لیے انہیں منانے کی کوشش کررہی تھیں۔۔ لیکن وه مان ہی نہیں رہی تھیں۔۔
” میں نے کہا نہ نہیں جانا تو نہیں جانا!!”
تاج بیگم غصے سے بولیں۔۔
“کشمیر جانے کی اجازت دے دوں تم چاروں کو؟ کچھ خوف کرو خدا کا۔۔ میرا حوصلہ نہیں پڑتا تم سب کو اتنی دور بھیجنے کا۔۔”
حور غصے سے اٹھی۔۔
” اگر ہمارے مما بابا ہوتے تو وه کبھی منع نہیں کرتے!!”
غم و غصے کی ملی جلی کیفیت سے بول کر وه روتی ہوئی باہر بھاگ گئی۔۔
تاج بیگم کا غصہ پل میں اڑن چھو ہوا۔۔
“ارے حور بات سنو!! باؤلی ہے یہ لڑکی۔۔”
وه نور کو دیکھ کر بولیں جو خود بھی کچھ سنجیده نظر آ رہی تھی۔۔
” دادو آپ کیوں منع کررہی ہیں کیا آپ کو ہم پر اعتبار نہیں؟؟ “
وه منہ بنا کر بولی۔۔
“نہیں میرے بچے ایسی کوئی بات نہیں ہی بس آج کل کا زمانہ بہت خراب ہے۔۔”
تاج بیگم اس کے بال سنوارتی ہوئی کہنے لگیں۔۔ کیا آپ کو اللّه تعالٰی پر یقین نہیں۔۔؟
نور پھر سے بولی۔۔
ہے بیٹا لیکن۔۔۔۔۔
بس تو پھر ٹھیک ہے نہ!!
وه انکی بات کاٹ کر کہنے لگی۔۔
” پلیز دادو مان جائیں ۔۔ حور بھی دکھی ہوگئی ہے۔۔ آپ نے ہمیشہ ہم سے اتنا پیار کیا ہے۔۔ ہر خوہش پوری کی ہے۔۔ اب بھی مان جائیں!!”
وه ان کا ہاتھ چوم کر بولی تو تاج بیگم کو مانتے ہی بنی۔۔
پہلے کبھی جیت سکی ہوں تم لوگوں کے آگے!! وه مصنوعی خفگی سے بولیں تو وه خوشی سے ان کے گلے لگ گئی۔۔
میں حور کو بتاتی ہوں!!
حور؟؟ وه بھاگتی ہوئی باہر آئی۔۔
“دادو مان گئی ہیں یار اب تو اپنا موڈ ٹھیک کرو!!”
وہ ٹی وی لاؤنج میں اس کے ساتھ دهپ سے بیٹھتے ہوئے بولی۔۔
حور نے چہرہ موڑ کر اسکی جانب دیکھا۔۔ سچ میں؟؟
وه مشکوک نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
ہاں نہ!! نور مزے سے بولی۔۔
ایسا کوئی کام ہے جو نور دی گریٹ نہ کر سکے۔۔!!
کیا ہوا ہے کس بارے میں بات ہورہی ہے؟
مرحا لاؤنج میں آتے ہوئے چاکلیٹ منہ میں ڈال کر بولی۔۔
” یار آپی بندہ صلح ہی مار لیتا ہے۔۔”
حور ندیدی نظروں سے چاکلیٹ کو دیکھ کر اٹھی اور باقی بچی ہوئی اس کے ہاتھ سے کھینچ کر منہ میں ڈال گئی۔۔
مرحا نے اسے گھورا تو وه مزے سے جا کر بیٹھ گئی۔۔
” یونی کا ٹوئر جارہا ہے کشمیر۔۔ آپ کا اور ارحا آپی کا بھی نام لکھوا لیا ہے میں نے۔۔”
نور صوفے پر نیم دراز ہوتے بولی۔۔
” واؤ!! کشمیر جا رہا ہے میں تو جاؤں گی۔۔”
وه فورا اکسائیٹڈ ہوگئی۔۔
” میں نہیں جارہی میرا نام کٹوا دو!!”
ارحا کچن سے جھانک کر بولی تو تینوں کا منہ لٹک گیا۔۔
کیوں آپی؟ وه تینوں اسے منانے کے لئے کچن میں گھس گئیں۔۔
🌚🌚🌚🌚
وه چاروں لان میں گھاس پر بیٹھے محو گفتگو تھے۔۔ گفتگو کا موضوع یونی ٹوئر تھا۔۔ سالار چاہ رہا تھا وه سب جائیں۔۔ ایسے موقع بار بار تھوڑی آتے ہیں۔۔
میں تو چلا جاؤں گا بس ارحا کو بھی منا لو!! عمر شرارت سے مسکرا کر بولا۔۔
بڑا ہی ڈیش قسم کا بندہ ہے تو!!
سالار اسکی کمر پر دھموکا جڑ کر بولا تو عمر بلبلا اٹھا۔۔
“اچھا میں ڈیش قسم کا ہوں تو تُو کیا ہے حور کو پرپوز بھی کر دیا ڈیش نے اور ہمیں بتایا بھی نہیں! ساری خبر ہوتی ہے عمر کو۔۔۔”
اس نے سالار کا بھانڈا پھوڑ دیا۔۔
عالیان دیدے پھاڑے سالار کو دیکھنے لگا۔۔
کیا مطلب ۔۔؟ تو بڑا فاسٹ نکلا۔۔
وه ابھی تک حیرت زدہ سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔ سالار نے منہ پر ہاتھ پھیر کر عمر کو مکا دکھایا۔۔۔
” چھوڑو سویٹ ہارٹ ان باتوں کو۔۔ ڈن کرو تا کہ میں یونی بات کروں۔۔!!”
سالار نے موضوع بدل دیا۔۔
“فارس یار چل نہ تجھے مرحا بھابھی کی قسم!!”
عالیان شرارت سے فارس کو دیکھ کر بولا تو وه آنکھیں دکھاتا اٹھا۔۔
“کیا کہا تو نے؟ بے غیرتو ذرا شرم نہیں تم لوگوں میں۔۔ “
وه اٹھ کر اس کے پیچھے بھاگا۔۔
بچاؤ امی!!۔۔۔۔ عالیان اندھا دهند اندر بھاگا تھا کیونکہ فارس کے تیوروں نے اسے باور کروا دیا کہ اب اسکی بینڈ بجنے والی ہے۔۔
اسکی حالت دیکھ کر عمر قہقہہ لگا گیا۔۔
سالار کو اپنی طرف خونخوار نظروں سے دیکھ کر قہقہہ اسکے حلق میں ہی اٹک گیا۔۔
آپ کون؟۔۔۔۔۔۔ اجنبی لہجے میں کہہ کر وه جلدی سے وہاں سے اٹھ گیا آیا کہ اسکی بھی شامت نہ آجائے۔۔
🌚🌚🌚🌚
ایک دن اور ایک رات کا سفر طے کر کے وه “کشمیر” پہنچے تھے۔۔ سفر کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے تمام سٹوڈنٹس اور ٹیچرز نے ایک لگژری ہوٹل میں قیام کیا تھا۔۔
اگلی صبح وه جلد ہی بیدار ہو گئیں۔۔ نو بجے سب نے ناشتے پر اکٹھا ہونا تھا پھر وہاں سے “وادی نیلم” کے لیے نکلنا تھا۔۔
حور اٹھ جاؤ!!۔۔۔۔۔
ارحا نے جمائی روکتے حور کو ہلایا جو منہ بناتی پھر سے سونے کی تیاری کررہی تھی۔۔
سالار سر آئے ہیں!!۔۔۔۔۔
نور نے جھک کر اسکے کان میں سرگوشی کی تو وه پٹ سے آنکھیں کھول کر اٹھتی ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی ۔۔
ہاہاہا!!۔۔۔۔۔
نور اسکی حالت دیکھ کر ہنسنے لگی۔۔
وه غصے سے اسے دیکھتی اٹھی اور فریش ہونے چلی گئی۔۔ کچھ دیر بعد وه چاروں تیار ہو چکی تھیں۔۔
چاروں نے بلیک ٹاپ کے ساتھ بلیک ہی جینز اور اوپر بلیک لانگ کوٹ پہن رکھا تھا۔۔ ہلکا سا برائے نام میک اپ کیا۔۔
حقیقتاً انہیں میک اپ کی ضرورت ہی نہیں تھی۔۔ وه ویسے ہی بہت حسین تھیں۔۔
چاروں نے بال کھول رکھے تھے۔۔ ارحا اور مرحا کے سلكی گھنے بال کمر سے نیچے تک لہرا رہے تھے۔۔
حور کے بھورے سلكی بال کمر تک آ رہے تھے جسے اس نے آگے کی جانب کندھوں پر ڈال رکھا تھا۔۔
جبکہ نور کے كندهوں سے نیچے تک جاتے سٹیپس میں کٹے بال اس کے ذرا سے ہلنے پر بھی ادھر ادھر لہرا جاتے تھے۔۔
چاروں کی ایک جیسی نیلی آنکھیں، ایک جیسی ڈریسنگ انہیں سب میں ممتاز بنانے والی تھی۔۔ لانگ سٹریپ پرس ٹیڑھا کر کے کندھے پر ڈال کر وه چاروں روم ڈور بند کرتیں نچلے فلور پر آئیں۔۔
آتے ہی ان کی نظر ان چاروں پر پڑی جو ان کے جیسی بلیك ہی ڈریسنگ کر کے آئے تھے۔۔
سیاہ جینز پر سیاہ سویٹرز اور جوگرز ڈالے!! عالیان نے جیکٹ دائیں کاندھے پر ڈال رکھی تھی۔۔ کلائی میں پہنی سمارٹ واچ کو دیکھتا لڑکیوں کو مکمل نظر انداز کرتا وه بے حد ڈیشنگ لگ رہا تھا۔۔
عمر نے خالی سویٹر پہننے کو ترجیح دی تھی۔۔ بقول اس کے وه ایسے زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔ جبکہ سالار نے آنکھوں پر فریم لیس گلاسز چڑھا رکھے تھے جن میں وه بہت گڈ لکنگ لگ رہا تھا۔۔ وه مسلسل کسی نہ کسی سے مسکرا کر بات کررہا تھا۔۔
چھ فٹ سے نكلتا قد گال میں بار بار ظاہر ہوتا ڈمپل۔۔ ہیزل گرین آنکھیں اور بھری بھری داڑھی۔۔ کیوں نہ لڑکیاں اس کے پیچھے پاگل ہوتیں۔۔
ان تینوں سے کچھ فاصلے پر بیٹھا فارس بیزار نظروں سے ارد گرد دیکھ رہا تھا۔۔
اس نے سویٹر کے اوپر گلے میں سیاہ مفلر لے رکھا تھا جس کے دونوں کونے آگے کی طرف گرتے تھے۔۔
سرمئی آنکھوں میں بیزاری لیے وه دیکھنے والوں کو ٹھٹھکنے پر مجبور کررہا تھا۔۔
کسرتی جسم بھری بھری داڑھی مونچھیں تیکھے نقوش اور سیاہی مائل عنابی لب۔۔
جنہیں بھینچے وه بے حد مغرور لگ رہا تھا۔۔
نور نے چور نظروں سے عالیان کو دیکھا جو اسے دیکھ کر ہلکی سی سمائل پاس کر گیا۔۔
وه جلدی سے نظروں کا زاويہ بدل گئی۔۔
حور نے سالار کو ڈھونڈنے کو نگاہ دوڑائی تو وه اسی کی جانب گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔ وه پل میں سرخ ہوئی۔۔
آپی چلیں!!۔۔۔۔۔۔
اس نے مرحا کو دیکھ کر کہا جو فارس کو دیکھ رہی تھی۔۔
فارس کو دیکھتے ہی اسکی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئی تھیں۔۔
حور کو اپنی طرف دیکھتے پا کر وه سٹپٹا گئی۔۔ ہاں چلو!!۔۔۔
ارحا سب کو نظر انداز کرتی ان کے ساتھ سٹوڈنٹس کے ہجوم تک آئی۔۔
اس نے ایک بار بھی عمر کی طرف نہیں دیکھا تھا جبکہ وه مسلسل نرم گرم نظروں سے اسے ہی تکے جا رہا تھا۔۔
اسکی نظروں کی حدت پر وه سرخ ہوتی رخ بدل گئی۔۔
بے شرم!!!۔۔۔۔۔
وه چاروں وہاں سب میں نماياں تھیں۔۔ جبھی سب کی نظروں کے حصار میں تھیں۔۔
اوہو سونیو!!۔۔۔ کوئی لفٹ ہی نہیں!!۔۔۔
ایک لوفر سا لڑکا ان کے پاس آ کر رکتا غیر محسوس انداز میں بولا۔۔
ارحا گھبرا گئی۔۔
” چلو ہم دوسری طرف چلے جاتے ہیں!! “
وه ان تینوں کو دیکھتی ہوئی بولی تو نور کی تیوری چڑھی۔۔
“کیوں جائیں ہم آپ ایک منٹ ركیں ذرا اس خبیث کو اسکا ابا یاد کرواتی ہوں۔۔ لفٹ چاہیے تجھے ہم سے ہاں؟؟”
وه پیر سے شوز اتارتی زور سے بولی تو ارد گرد موجود سٹوڈنٹس کے علاوہ وه چاروں بھی ان کی طرف دیکھتے فورا چلے آئے۔۔
ان کی غیرت نے جوش مارا تھا۔۔
وه لڑکا سب کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر گھبرا گیا۔۔
رکو ذرا صبر کرو!!۔۔۔۔۔
نور نے ان چاروں کو روکتے ہوئے کہا اور شوز پیر سے اتار کر اس کے پیچھے دوڑی۔۔ لوگ انھیں راستہ دیتے ہٹتے جارہے تھے۔۔
ایسا منظر پہلے کبھی دیکھنے کو کہاں ملا تھا ایک لڑکی جوتا پکڑے ایک لڑکے کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔
ان کو کیا خبر کہ لڑکوں کی جوتوں سے پٹائی کرنا نور صاحبہ کا پسندیده مشغلہ تھا۔۔
وه لڑکا جان بچاتا ہوٹل سے باہر بھاگا تھا۔۔
چل نور ایسے ہی نہیں جانے دینا اس لفنگے کو!!۔۔۔۔
اس نے ہاتھ میں پکڑا شوز پوری قوت سے پھینکا جو اس لڑکے کی کمر پر لگا۔۔
وه دوہرا ہوتا ایک پل کو رکا اور پھر سر پر پیر رکھ کر بھاگ گیا۔۔
نور نے جا کر شوز پکڑا اور پیر میں ڈال کر واپس آئی۔۔
سب ستائشی نظروں سے اسے دیکھتے ہنس رہے تھے۔۔
ایسی لڑکیاں ضرور ہونی چاہییں!!
کسی نے تبصرہ کیا تو وه کالر کھڑا کرتی واپس آئی۔۔
“بس کبھی غرور نہیں کیا۔۔ !!”
وه ایک ادا سے بال جھٹک کر بولی۔۔
دیہان سے ہاں!! تبھی کہتی ہوں پنگا نہ لینا مجھ سے۔۔ !!۔۔۔۔۔۔۔
وه عمر کو دیکھ کر نچلا لب دانتوں میں دبا کر ایک پیر زور سے زمین پر مار کر بولی۔۔
تم جیسی ٹڈی کی پروا نہیں مجھے!!
وه بھی حساب بےباق کرتا ہوا بولا۔۔
” نور کیا طریقہ ہے یہ اگر دوبارہ تم نے ایسی کوئی حرکت کی تو میں بہت بری پیش آؤں گی۔۔ !!”
ارحا نے اسے ڈانٹا تو وه اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔۔
اوکے سوری!! ۔۔۔۔۔۔
اس کی درگت بنتی دیکھ کر عمر نے اسے زبان چڑائی تو وه ہنکارا بھر کر رہ گئی۔۔