Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Last Episode

Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Last Episode

دل خون کے آنسو رو رہا تھا آزر گاڑی میں بیٹھا بہت رو رہا تھا اس سے اور برداشت نہیں ہورہا تھا ناجانے کیسے وہ گاڑی ڈرائیو کررہا تھا اس کی آنکھوں کہ سامنے سے آئمہ کی تصویر ہٹ ہی نہیں رہی تھی اس کی آنکھوں کہ سامنے آئمہ کا وہ معصوم روتا ہوا چہرا بار بار آرہا تھا آئمہ کیسے رو رو کر اپنی بے گناہی ثابت کررہی تھی اس کہ وہ جڑے ہوئے ہاتھ آزر کا دل چیرنے کے لئے کافی تھے۔اس کا وجود تھر تھر کانپ رہا تھا پتا نہیں وہ آئمہ کہ سامنے کیسے جائے گا ناجانے آئمہ اسے معاف کردے گی یہ بات اسے بہت ڈرا رہی تھی پھر اچانک اسے اپنے مرتے ہوئے بھائ کے آخری الفاظ یاد آگئے۔۔۔ اس کے اندر پھر سے تھوڑا بہت حوصلہ پیدا ہوگیا کیونکہ عثمان کی یہ آخری خواہش آزر کے سوا اور کوئی پورا نہیں کرسکتا تھا۔
جو ایڈریس آئمہ کہ ماں باپ نے آئمہ کا آزر کو دیا تھا آزر ٹھیک وہی پہنچ گیا جب آزر نے باہر سے گھر کی جانب دیکھا تو اسے یہ احساس ہونے لگا کہ خدا کا طرح خوشی کو غم میں بدلتا ہے وہ انسان کو کبھی غم میں نہیں رکھتا گھر اتنا خوبصورت اور اتنا پیارا تھا کہ آزر کو یہ یقین ہوگیا کہ آئمہ یہاں کتنی خوش رہتی ہے یہ سب اللہ کا ہی کرم ہے۔
ابھی وہ گاڑی سے باہر ہی نکلا تھا کہ اس کا وجود ایک بار پھر ساکت پڑ گیا وہ چاہ کر بھی آگے بڑھ نہیں پارہا تھا۔
آنکھوں سے آنسو پھر سے نکل آئے تھے۔
اس کا دل اس کہ قابو میں ہی نہیں تھا۔
ڈر کہ مارے وہ پھر سے گاڑی میں جا بیٹھا اور خود کہ منہ پر تھپڑ مارا اور پھر سے رو دیا۔
یہ سن اسے کیا ہوگیا تھا کیوں اس میں ہمت باقی نہیں رہی تھی۔
کیوں اس کا دل اسے آگے بڑھنے نہیں دے رہا تھا آخر کیوں؟؟؟؟؟
ابھی وہ یہی سوچ رہا تھا کہ اسکی نظر گھر کے گیٹ پر پڑی جہاں ایک 4 سالہ بچہ اپنی گیند کو پکڑتے پکڑتے باہر آگیا تھا اتنا معصوم اور اتنا پیارا بچہ آزر نے پہلی بار دیکھا تھا۔
کہ اچانک اس کہ پیچھے اسکی ماں بھی بھاگتی ہوئی باہر آگئ۔
“ریحان! ریحان بیٹا باہر مت جاؤ سڑک پر رکو میرے بیٹے!
مگر ریحان تو کھیل میں مست تھا اور اسکی گیند آزر کی گاڑی کہ پاس آکر رک گئ۔
ریحان نے جاکر اپنی گیند اٹھائ اور اس کیساتھ کھیلنے لگا آزر نے کھڑکی سے اس بچے کو قریب سے دیکھا اس بچے کی شکل ہوبہو آئمہ سے مل رہی تھی۔
“ریحان ادھر آؤ بیٹا” اسکی ماں بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئ جب آزر نے اسکی ماں کی طرف دیکھا تو اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا آنکھوں پر یقین کرنا مشکل ہورہا تھا جسم بلکل ٹھنڈا پڑ گیا اور حرکت کرنے کہ قابل ہی نہیں رہا۔
کیونکہ سامنے آئمہ تھی۔
وہ بھاگتی ہوئی ریحان کہ پاس گئ اور ریحان کو پکڑ کر کہا: بیٹا دیکھو کتنا تھکا دیا آپ نے اپنی ممی کو چلو اب گھر چلے چلو آج میں نے آپکا فیورٹ چاکلیٹ والا پراٹھا بنایا ہے چلو۔۔۔
یہ سن کر بچہ خوشی سے جھوم اٹھا اور اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ کر واپس گھر کی جانب بڑھنے لگے۔
آزر پتا نہیں کیسے یہ سب اپنی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کیا وہ کوئ خواب تو نہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔
آئمہ کا دیکھ کر وہ خود کو نا روک سکا اب اسکے برداشت کی حد ختم ہوچکی تھی۔
وہ گاڑی سے باہر نکلا اور آئمہ کو تڑپتی ہوئ آواز سے پکارا۔
آواز سن کر آئمہ چونکی جب اس نے پلٹ کر دیکھا تو اس کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کہ پیروں کہ نیچے سے زمین کھسک گئ ہو۔۔۔
وہ جلدی سے اپنے بچے کو پکڑے تیزی سے واپس گھر کی طرف بھاگی۔
“ریحان جلدی چلو گھر جلدی!!! وہ رک رک کر بول رہی تھی۔
آزر پیچھے سے چیخ چیخ کر اسے پکار رہا تھا۔
“آئمہ! آئمہ رکو رک جاؤ میری بات سنو خدا کے لئے رک جاو۔
لیکن تب تک آئمہ اپنے گھر کہ اندر جاچکی تھی۔
آئمہ اس قدر ڈر گئ تھی کہ اسکا سانس تک پھول رہا تھا۔
آزر کا رو رو کر برا حال ہوچکا تھا وہ سڑک پر بیٹھ کر رو رو کر آئمہ کو پکار رہا تھا۔
اچانک کیف کی نظر آئمہ پر پڑی جو کہ اندر سے ہی آرہا تھا۔
اس نے آئمہ کو یوں دیکھا تو اس نے جلدی سے جاکر آئمہ سے فوراً پوچھا: آئمہ یہ کیا ہوا تمہیں اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو۔؟؟؟
آئمہ نے چونک کر کیف کی طرف دیکھا اور رک رک کر کہا: وہ وہ ببب باہر…!
کیف نے کہا: کیا ہوا کیا ہے باہر!
اچانک کیف کہ کانوں میں آزر کی آواز آئ جو کہ رو رو کر باہر سے آئمہ کو پکار رہا تھا۔۔۔
کیف نے حیرانگی سے بھری نگاہ سے آئمہ کی طرف دیکھا اور کہا: یہ باہر تمہیں کون رو رو کر بلا رہا ہے بولو۔
آئمہ کہ پسینے چھوٹ رہے تھے اس نے کہا: ببب باہر وہ پھر سے آگیا ہے…
کیف نے کہا: کون کون آگیا ہے؟؟؟؟
آئمہ نے کہا: آآآ آزر!
کیف نے کہا: کیا! مگر کیوں۔
آئمہ نے کہا؛ میں نہیں جانتی۔
آزر باہر سڑک پر بیٹھا آئمہ کو بار بار پکار رہا تھا۔۔۔۔
آواز میں اتنا دکھ تھا جسے سن کر کیف نے آئمہ سے کہا: تمہیں اسکی بات سن لینی چاہئے۔۔۔
آئمہ نے چونک کر کیف کی طرف دیکھا اور کہا: یہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہے۔
کیف نے کہا: مجھے لگتا ہے اس نے تم سے کوئ ضروری بات کرنی ہوگی۔
آئمہ نے کہا: مممم میں۔ اسکی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی۔
کیف نے کہا: آئمہ وہ باہر بیٹھا تمہارا انتظار کررہا ہے آخر پتا تو چلے وہ کہنا کیا چاہتا ہے اب کیوں آیا ہے وہ اور تمہیں اس طرح سے کیوں بلا رہا ہے مجھے لگتا ہے تمہیں اسکی بات ایک بار سن لینی چاہئے۔
آئمہ نے کہا: مگر کیف!.
کیف نے کہا: اگر مگر کچھ نہیں آئمہ چلو۔
آئمہ نے کہا: تتتت تو پھر آپ بھی میرے ساتھ چلیں میں اکیلی نہیں جاؤ گی۔۔۔
کیف نے کہا: اچھا چلو۔
کیف اور آئمہ دونوں باہر گئے۔
آزر نے دیکھا کہ آئمہ اور کیف اسکی جانب بڑھ رہے ہے۔۔۔
آزر کی آنکھوں سے بے شمار آنسو گرنا شروع ہوگئے۔
جب کیف اور آئمہ اس کہ قریب جاکر کھڑے ہوئے تو آزر نے کھڑے ہوکر آئمہ کو دیکھا۔۔۔۔
آئمہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھا اسکی آنکھیں اس قدر سوجن کا شکار ہوگئ تھی کہ دیکھ کر آئمہ بھی حیران رہ گئ۔
آزر نے بغیر کوئ وقت ضائع کئے آئمہ کے آگے ہاتھ جوڑ دئے اور تڑپتے ہوئے رو کر کہا: آآآ آئمہ ممم مجھے مجھے معاف کردو۔۔۔
آئمہ ایک دم چپ آزر کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔
آزر نے مزید کہا: میں نے تتت تمہارے ساتھ بےفائ کی تم پر الزام لگائے میں مممم معافی کہ کابل تو ننن نہیں ہو مگر پلیز مجھے معاف کردو اگر تم مجھے معاف نہیں کرو گی تم میں میں مرجاؤ گا۔۔۔۔
آئمہ نے ایک پل بھی اپنی پلکیں نا جھپکی اس نے آزر کو دیکھتے ہوئے کہا: ہا معافی! کس رشتے سے؟؟؟؟
یہ سن کر آزر کو دھچکا لگا۔
آئمہ نے مزید کہا: کس رشتے سے معافی مانگنے آئے ہو تم اب کونسا رشتہ ہے تمہارے اور میرے درمیان جو تم معافی مانگنے آئے ہو۔۔۔۔ تمہارے لئے بہتر یہی ہوگا کہ تم تم یہاں سے چلے جاؤ میں تمہاری شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی۔
آزر کا دل پھٹنے کو آرہا تھا۔۔
“نہیں نہیں آئمہ ایسا مت کرنا 😢 نہیں تو میں مرجاؤ گا میں تمہارا گنہگار ہو میں نے بہت دکھ دئے ہے تمہیں ایسا مت کرو میرا دل پھٹ جائے گا۔
آزر نے تڑپتے ہوئے کہا۔
“یہ دل اس وقت کیوں نہیں پھٹا جب جب تم نے مجھ پر اتنے گھٹیا الزام لگائے تھے مجھے گزرا ہوا وقت یاد مت دلاؤ خدا کے لئے یہاں سے چلے جاؤ۔
آزر آئمہ کہ پیروں پر گر گیا اور کہا: میں نہیں جاؤ گا جب تک تم مجھے معاف نہیں کرو گی میں نہیں جاؤ گا۔
یہ دیکھ کر آئمہ جلدی سے پیچھے ہٹ گئ اور کہا:یہ کیا کررہے ہو تم تم بچے نہیں ہو!!!!
آزر نے کہا: میں بہت برا ہو میں نے بہت برا کیا تمہارے ساتھ مجھے میری غلطی کا احساس ہوگیا ہے مجھے معاف کردو۔۔۔
کیف نے آزر کو کھڑا کیا اور کہا: یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
آزر نے چیخ کر کہا: تو اور کیا کرو میں۔۔۔
آزر نے آئمہ کی طرف دیکھا اور کہا: تم ایسا کرو تم میرا گلہ دبا دو مار دو مجھے اب یہی راستہ رہ گیا ہے کیونکہ میں اس طرح سے زندگی نہیں گزار سکتا عثمان کو بھی۔۔۔۔
ابھی آزر بول ہی رہا تھا کہ آئمہ نے چیخ کر کہا: اس کا نام مت لینا نہیں تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا۔۔۔
آزر نے منہ نیچے کرتے ہوئے کہا: اسے اس کے کئے کی سزا مل چکی ہے۔۔۔
یہ سن کر آئمہ کافی حیران ہوئ۔
کیف نے آزر سے پوچھا: کیا مطلب؟
آزر نے روتے ہوئے کہا؛ بھائ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔۔۔
یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
یہ سن کر آئمہ کافی حیران ہوئ۔
کیف نے کہا: مگر کیسے!
آزر نے کیف کی طرف دیکھا اور کہا: اللہ نے اسے اس کے کئے کی سزا دے دی ہیں اور اس نے مرتے وقت سب کچھ سچ بتا دیا تھا موت کہ قریب جاکر اس نے مجھ سے یہ کہا کہ آئمہ سے اس کہ کئے کی معافی مانگنا یہ کہہ کر وہ اس دنیا سے چلے گئے۔
آئمہ بڑی حیرانی سے اللہ کی کرنی سن رہی تھی اب جب اللہ نے اس کہ حصے کا سارا بدلہ لے لیا ہے تو پھر اب اس کہ چیخنے چلانے کا کیا فایدہ۔
اس نے آزر سے کہا: میں نے تمہیں اور عثمان کو معاف کیا اللہ تمہارے بھائ کہ درجات بلند کرے اور اسے بخش دے میں نے سچے دل سے تم دونوں کو معاف کیا۔
یہ سن کر آزر کہ چہرے پر کافی دنوں بعد مسکراہٹ سی بکھری اس نے حیرانگی سے ایک بارپھر پوچھا: واقعی واقعی کیا یہ سچ ہے۔۔۔
آئمہ نے کہا: ہاں یہ سچ ہے۔۔۔۔
آزر خوشی سے جھوم اٹھا اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا۔۔۔
آئمہ نے مزید کہا: میرے دل میں اب کسی کے لئے کوئ بھی گلہ شکوہ باقی نہیں رہا میں اپنے اللہ کے کئے گئے فیصلوں پر خوش ہو۔۔۔
آزر خوشی سے پاگل ہورہا تھا۔۔۔۔
یہ سن کر آزر نے ایک آخری دفع آئمہ کی طرف دیکھا اور کہا: بہت شکریہ امی ٹھیک کہتی تھی تم معاف کردو گی کیونکہ تم کسی کو دکھی نہیں دیکھ سکتی بہت شکریہ بہت شکریہ۔
آزر کی آنکھوں سے خوشی کہ آنسوں نکل رہے تھے۔۔۔
پھر آزر نے آئمہ کی طرف ایک آخری دفعہ دیکھا اور وہاں سے چلے گیا آئمہ بھی آزر کو آخر تک دیکھتی رہی کہ اچانک کیف نے آئمہ کہ پاس اپنا ہاتھ لے جاکر چٹکی بجائ جس سے آئمہ بلکل چونک گئ۔۔۔
کیف نے مسکراتے ہوئے کہا: ویسے مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ تم اتنی پیاری باتیں بھی کرتی ہو جائے تیری باتیں۔۔۔
کیف کو دیکھ کر آئمہ مسکرا دی اور کہا: تمیز سے رہو میں تو پیاری باتیں ہی کرتی ہو۔۔۔
یہ سن کر کیف نے آئمہ کو اپنے سینے سے لگایا وہ آئمہ سے بہت خوش تھا آئمہ بھی کافی راحت محسوس کررہی تھی پھر وہ دونوں وہاں سے سیدھا اپنے گھر کی طرف خوشی خوشی چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو عائشہ ہمیں قبرستان بھی جانا ہے۔۔۔
آزر نے جلدی جلدی میں تیار ہوتے ہوئے کہا۔
عائشہ جلدی جلدی تیار ہورہی تھی اور پھر اس نے کہا: جی جی بس میں امی کو دیکھ آؤ کہ وہ تیار ہوگئی کہ نہیں۔۔۔
یہ کہہ کر وہ نیچے چلی گئ۔۔۔
کچھ دیر بعد آزر کی ڈیڈھ سالہ بیٹی حریم بھی تیار ہوگئی اور اپنے باپ سے لپٹ گئ آزر کو اپنی بیٹی جان سے بھی زیادہ پیاری تھی آزر نے اس کو اپنے کندھوں پر بٹھایا اور اسے نیچے گاڑی تک لے کر گیا جس سے حریم بہت خوش ہوئ اور ہنستی رہی پھر آزر اس کی بیوی عائشہ اور اس کی ماں قبرستان گئے اور جاکر انہوں نے اپنے پیاروں کی قبروں پر پھول رکھے آزر کی ماں اپنے بیٹے عثمان کی قبر کیساتھ جاکر بیٹھی اور اللہ سے روکر اسکی مغفرت کی دعا مانگتی رہی۔۔۔ آزر اس کی بیوی عائشہ اور اسکی ننھی سی بیٹی بھی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے قبر پر کھڑی ہوکر دعا کررہی تھی۔۔۔ عائشہ اسے جیسے کہلا رہی تھی وہ بلکل ویسے ہی پڑھ رہی تھی عثمان کی قبر اسکے والد کیساتھ ہی تھی سب نے دونوں قبروں پر ڈھیر سارے پھول چڑھائے اور پھر وہاں سے خوشی سے چلے گئے۔۔۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
سچ کہتے ہے لوگ
شاخ ہے تو پتے بھی آئے گے
آج اگر غم ہے تو پھر کل
خوشیاں بھی آئے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *