Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode02

Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode02

آئمہ بہت خوش تھی وہ کھڑکی کے پاس کھڑی تھی رات کا وقت تھا اور وہ چاند کو دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ ایک ہفتے تک میں آزر کی دلہن بنوں گی اور وہ میرا دولہا ہائے اللہ کتنا مزہ آئے گا۔
ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی کے اچانک اس کا موبائل بجنے لگ پڑا وہ اچانک سے سوچوں کی دنیا سے نکلی اور موبائل
کی طرف دیکھا موبائل پر کسی unknown نمبر سے کال آرہی تھی اس نے سوچا کہ شاید کوئ دوست ہوگی جو کہ مبارکباد دینے کے لئے unknown نمبر سے کال کرہی ہے اس نے کال اٹھائ اور کہا: ہیلو!!!
آگے سے کسی کی سسکیوں کی آواز آرہی تھی اور کوئ مردانہ آواز معلوم ہورہی تھی۔
آئمہ نے حیرانگی سے کہا: ہیلو کون ہے؟؟؟
آگے سے آواز آئ: اوووو بھول گئ تم مجھے اتنی جلدی بھول گئ۔
یہ سن کر آئمہ کافی حیران رہ گئ اس نے کہا: کون ہو تم بولو؟؟؟
اس شخص نے کہا: میں ہو علی جسے تم نے دھوکا دیا ہے وہ۔
یہ سن کر آئمہ کو تو جیسے جھٹکا لگ گیا ہو وہ کانپتے ہوئے بولی: علی تم تم نے مجھے کیسے کال کی اور کیوں کی؟؟؟
یہ سن کر علی نے کہا: اچھا سوال ہے بہت اچھا سوال ہے تو سنو پھر جواب یہ تو تم اچھی طرح سے جانتی ہو کہ میں تم سے محبت کرتا ہو تو تم ایسے کیسے آزر سے شادی کرسکتی ہو بولو آخر کیا کمی ہے مجھ میں بولو۔
یہ سن کر آئمہ نے غصے سے کہا: دیکھوں علی تم اپنی حرکتوں سے باز آجاؤ ورنہ میں تمہیں پولیس کے حوالے کر دو گی۔
یہ سن کر علی نے کہا: کردو تم نے جو کرنا ہے کرلو مگر میں باز نہیں آؤ گا میں تمہیں حاصل کرکے رہو گا چاہے میری جان بھی کیوں نہ چلی جائے محبت کی ہے میں نے اور اپنی آخری دم تک نبھاؤں گا بھی۔
یہ سن کر آئمہ نے کہا: دیکھو علی میرے دل میں تمہارے لئے ایسا کچھ نہیں ہے جیسے تم سوچ رہے ہو میں نے پہلے دن سے ہی آزر کو چاہا ہے اور میں اس سے بہت محبت کرتی ہو محبت میں زبردستی نہیں ہوتی اور اب تو میں اور آزر ایک ہونے والے ہیں۔
یہ سن کر علی نے چیختے ہوئے کہا: میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دو گا یہ یاد رکھنا تم۔
یہ کہہ کر علی نے فون کاٹ دیا۔
اصل میں علی بھی آئمہ کی یونیورسٹی میں پڑھتا تھا اور وہ آئمہ کو دیوانوں کی طرح چاہتا تھا حتٰی کی اس نے آئمہ کو کئ دفعہ پرپوز بھی کیا تھا مگر آئمہ نے ہر بار اسے نظر انداز کیا کیونکہ وہ آزر کو چاہتی تھی۔
جب علی کو پتا چلا کہ وہ آزر سے محبت کرتی ہے تو اس کا دل پوری طرح سے ٹوٹ گیا اس نے آزر کو کئ بار سمجھایا بھی کہ وہ آئمہ سے دور رہے حتٰی کہ ایک بار ان کی یونیورسٹی میں خوب لڑائ بھی ہوئ تھی اس وجہ سے اور اس دن آئمہ یونیورسٹی پر نہیں تھی تب سے لے کر اب تک وہ آئمہ کو مناتا ہے مگر وہ اس کو ہر بار reject کرتی تھی
پھر ایک دن علی کو پتا چلا کہ آزر اور آئمہ کی شادی ہونے والی ہے تو اس سے رہا نا گیا اس نے ایک لگ سم سے آئمہ کو کال کی مگر اس کال میں بھی اسے کوئ فائدہ نظر نہ آیا۔
علی کی پرابلم یہ تھی کہ وہ اتنے مال والا بندہ نہیں تھا بلکہ وہ تو ایک ہوسٹل میں رہتا تھا اور سیکنڈ ٹائم کی نوکری بھی کرتا تھا تب جا اس کا راشن پورا ہوتا تھا علی اپنے گھر والوں سے اپنی خوشی اور مرضی سے دور رہتا تھا علی کی فیملی اول میں گاؤں کی رہنے والی تھی اور ان کی فیملی میں آئے دن لڑائیاں ہوتی رہتی تھی آخر تنگ آکر علی نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی فیملی کو چھوڑ کر چلا جائے بڑی مشکلوں سے اس نے اپنی fsc مکمل کی پھر ایک دن وہ وہاں سے بھاگ کر اپنے ایک دوست کے ہوسٹل میں آگیا وہی پھر اس نے اپنا کاروبار بھی شروع کردیا اب وہ پڑھتا بھی تھا اور نوکری بھی کرتا تھا علی کی فیملی کو بھی یہ سب معلوم تھا مگر وہ شہر تک کا سفر نہیں کرسکتے تھے کیونکہ علی کی فیملی میں زیادہ تر عورتیں ہی تھی ایک بار علی کی والدہ نے علی کے نمبر پر کال کر کے گھر واپس آنے کا کہا تھا مگر علی نے کہا کہ وہ وہاں پر بہت خوش ہے اور انہیں کہا کہ وہ علی کی کوئی فکر نا کرے اسے اس کے حال پر چھوڑ دے یوں پھر علی اپنی فیملی سے ایک الگ زندگی گزار رہا تھا لیکن جب سے اس نے آئمہ کو یونیورسٹی میں دیکھا تھا اس کی راتوں کی نیند اڑ گئی تھی مگر وہ بیچارے کچھ نہیں کرسکتا تھا کیونکہ نا ہی وہ اتنا امیر تھا نا ہی اس کا کوئ خاندان تھا سب کی نظروں میں۔
بہرحال آئمہ بہت پریشان تھی اس نے پریشانی کے عالم میں آزر کو کال کی اور اسے سب کچھ بتا دیا آزر کو بہت غصّہ آیا آزر نے کہا: اس کی اتنی ہمت کے اس نے تمہیں black male کیا میں اسے زندہ نہیں چھوڑو گا۔
یہ سن کر آئمہ نے کہا: ہوش میں آؤ یار اگر اسے زندہ نہیں چھوڑو گے تو پھر کیا ہماری شادی ہوجائے گی میں نے اسے پولیس کا ڈراوا دیا ہے اور ویسے بھی مڈل کلاس لوگ پولیس کا نام سن کر اپنی آئ پر سجاتے ہیں۔
یہ سن کر آزر مسکرا دیا۔
یوں پھر ایک ہفتہ بھی گزر گیا اور آزر اور آئمہ کی شادی دھوم دھام سے ہوگئ سب بہت خوش تھے تھوڑی دیر تک رخصتی بھی ہوگئ اور یوں پھر آئمہ اپنے گھر کی ہوگئ۔
جبکہ علی بیچارا کچھ نا کرسکا۔
آئمہ اپنے کمرے میں بیٹھی دلہن بنی آزر کا انتظار کرہی تھی تھوڑی دیر تک آزر بھی وہاں آگیا آزر جا کر بیڈ پر آئمہ کیساتھ بیٹھ گیا اور آئمہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: ماشاءاللہ تم تو بہت خوبصورت ہو ایسا لگ رہا ہے جیسے چاند زمین پر آگیا ہو۔ جبکہ آئمہ نے شرماتے ہوئے اپنا سنہرا منہ نیچے کو کرلیا۔
آزر نے آئمہ کا ہاتھ پکڑا اور اس کے ہاتھ میں ایک ڈائمنڈ رنگ پہنائی اور کہا: ارے واہ اب یہ رنگ (ring) بہت خوبصورت لگ رہی ہے۔
جبکہ آئمہ مسلسل شرمارہی تھی۔
آزر نے آئمہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا: آئمہ مجھ سے وعدہ کرو کے تم مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔
یہ سن کر آئمہ نے کہا: نہیں میں وعدہ کرتی ہو چاہے کچھ بھی ہوجائے میں آپکو کبھی نہیں چھوڑو گی۔
یہ سن کر آزر مسکرا دیا۔ آزر نے آئمہ کے ماتھے پر بوسہ کیا۔
جبکہ آئمہ نے مکمل طور پر اپنا وجود آزر کے حوالے کردیا۔
یہی ان کی محبت تھی۔
مگر آگے بہت کچھ ہونا باقی تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *