Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor NovelR50830 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode17
Rate this Novel
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode01 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode02 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode03 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode04 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode05 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode06 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode07 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode08 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode09 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode10 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode11 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode12 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode13 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode14 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode15 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode16 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode17 (Watching)Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Last Episode
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode17
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode17
عثمان کو فوت ہوئے دو ماہ گزر چکے تھے اور ان دو ماہ میں آزر اور اسکی ماں کو ایک رات بھی چین سے نیند نا آئ اس کی ماں تو ہر وقت اپنے بیٹے کی یاد میں روتی تھی اور اللہ سے رو رو کر اسکی مغفرت کی دعا کرتی تھی۔۔۔
عثمان کے جانے کہ بعد آزر کی تو راتوں کی نیند ہی اڑگئ تھی ساری سچائ جاننے کہ بعد اسکو آئمہ کا وہ روتا ہوا معصوم سا چہرا یاد آتا تھا جس سے وہ رو رو کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی ناکام کوششیں کرتی تھی۔۔۔ وہ کس طرح سے تڑپ کر آزر کو سمجھاتی تھی کس طرح سے وہ ہاتھ جوڑ جوڑ کر ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر روتی اور تڑپتی تھی۔۔۔
یہ بات سوچ کر آزر کا دل پھٹنے کو اجاتا تھا۔۔۔
رو رو کر اپنا برا حال کردیا تھا اس نے خود کہ منہ پر تھپڑ مار مار کر اپنا منہ سجا دیا تھا۔۔۔
کبھی وہ اپنے بال نوچتا تو کبھی خود کو تھپڑ مارتا اور رو رو کر آئمہ کو پکارتا تھا۔۔۔۔۔ مگر اب تو آئمہ کبھی بھی نہیں آسکتی تھی کبھی نہیں


ایک رات آزر کی ماں اسکے کمرے میں آئ اس نے دیکھا کہ آزر زمین پر لیٹا ہوا ہے۔۔۔
جب اسکی ماں نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا تو اسکی آنکھوں سے آنسو نکلنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
آزر اتنا روتا تھا کہ اسکی آنکھیں تک سوجن کا شکار ہوگئے تھی۔۔۔
آزر نا اپنے کھانے کا خیال رکھتا تھا نا ہی پینے کا۔۔۔
جس کی وجہ سے وہ اتنا کمزور ہوگیا تھا کہ دیکھ کر لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہی وہ آزر ہے۔۔۔
اسکی ماں حیرت بھری نگاہ سے آزر کو دیکھی جارہی تھی۔۔۔
“آئمہ! آئمہ مجھے معاف کردو آئمہ مجھ سے بہت بڑی غغغ غلطی ہوگئ آئمہ کہاں ہو تم آئمہ واپس آجاو خدا کے لئے واپس آجاو۔۔۔۔
آزر کے منہ سے یہ الفاظ مسلسل نکل رہے تھے اور اس قدر درد تھا اسکی آواز میں کہ سن کر اسکی ماں بھی رو پڑی۔۔۔
اسکی ماں سے اور کچھ دیکھا نا گیا وہ بھاگتی ہوئی آگے بڑھی اور خود بھی زمین پر اپنے بیٹے کیساتھ بیٹھ گئ اور آزر کا سر اپنی گود میں رکھتے ہوئے رو کر کہا: ااا آزر بیٹا میری جان یہ سب کیا ہے بیٹا یہ تم نے اپنا کیا حال کردیا ہے بیٹا؟؟؟؟
آزر نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور کہا: امی دعا کرے کہ میں مرجاؤ۔۔۔
یہ سن کر اسکی ماں نے چیختے ہوئے کہا: اللہ نے کرے میرے بچے یہ کیسی باتیں کررہے ہو ایسا نہیں کہتے میرے بچے میرے پاس تمہارے علاوہ اس دنیا میں اور کوئ ہے ہی کون؟؟؟؟
یہ کہتے کہتے اسکی ماں پھر سے رودی۔۔۔
آزر نے اپنی روتی ہوئ ماں کو اٹھ کر چپ کرایا اور کہا: امی آپ سمجھ کیوں نہیں رہی ہے میں بہت تکلیف میں ہو امی میرا دل پھٹ رہا ہے میں خود کی نظروں میں بہت بری طرح سے گرچکا ہو آپ بتائے میں کیا کرو بولے میں کیا کرو بولے۔۔۔
آزر نے پھر سے چیختے ہوئے کہا۔
اسکی ماں نے کہا: ایک ہی راستہ ہے بیٹا!
وہ کیا؟؟؟؟؟؟؟ آزر نے فوراً کہا۔
اسکی ماں نے کہا: تمہیں آئمہ سے مل کر اس سے معافی مانگنی ہونگی اور اپنے بھائ کے لئے بھی معافی مانگنی ہوگی تاکہ تمہارا بھائ آگے چین سے رہ سکے۔۔۔۔
اسکی ماں نے آزر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔
آزر نے کہا: مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ میں آئمہ کو دیکھ بھی سکو۔۔۔۔
آزر نے ڈرتے ہوئے جواب دیا۔
آزر کی ماں نے اسکا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا: تمہیں یہ کرنا ہوگا تمہیں تمہاری ماں کی قسم لگے آزر آزر تمہارا بھائ بہت تکلیف میں ہے اسے اس تکلیف سے چھٹکارا تب ہی ملے گا جب آئمہ اسے معاف کرے گی تمہیں اپنے بھائ کو اس تکلیف سے نجات دینی ہوگی اسکی یہ آخری خواہش پوری کردو۔۔۔۔ ددد دیکھوں دیکھوں میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہو آزر وہ بہت تکلیف میں ہے بچا لو اسے۔۔۔۔
یہ کہہ کر اسکی ماں پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔۔
آزر نے اپنی ماں کے جڑے ہوئے ہاتھ پکڑے اور کہا: ننن نہیں امی خدا کے لئے ایسا مت کرے مممم میں میں ککککک کل آئمہ سے ملنے جاؤ گا اسکے آگے ہاتھ جوڑ کر اسکے پپپپ پیر پکڑ کر معافی مانگوں گا کیا کیا وہ مجھے معاف کردے گی امی؟؟؟؟؟
اسکی ماں نے فوراً کہا: ہا ہاں بیٹا ضرور کرے گی معاف۔۔۔ ضرور کرے گی۔۔۔۔
یہ کہہ کر اسکی ماں نے اسے سینے سے لگا لیا اور اسے چپ کرایا آزر کسی بچے کی طرح اپنی ماں سے لپٹ گیا۔۔۔۔
جب صبح ہوئی تو آزر اپنے گھر سے باہر نکلا آج کافی دنوں بعد اس نے نیلے آسمان کو دیکھا تھا اس کی آنکھوں میں اس قدر شرمندگی تھی کہ وہ اپنے آپ کو بھی شیشے میں دیکھ نہیں پا رہا تھا ناجانے وہ کیسے آئمہ سے ملے گا۔۔۔ یہ سوچ سوچ کر اسکی جان نکل رہی تھی۔۔۔۔ اسکا دل اسے یہ کرنے سے سختی سے روک رہا تھا جیسے وہ اسے وارننگ دے رہا ہو کہ اگر وہ اس کے سامنے بھی گیا تو اس کا دل مر جائے گا۔۔۔۔
لیکن اس کہ زہن میں اس کہ مرتے ہوئے بھائ کی آخری خواہش گونج رہی تھی اور اسکی ماں کہ وہ جڑے ہوئے ہاتھ اسے آگے بڑھنے پر مجبور کررہے تھے۔۔۔۔
زندگی اسے آج یہ کس موڑ پر لے آئ تھی وہ یہ نہیں جانتا تھا اسے اب اپنی زندگی پر کوئ یقین نہیں رہا تھا۔۔۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔۔۔۔
راستے میں اس کا سارا جسم کانپ رہا تھا اس کا سارا جسم ٹھنڈا پڑ گیا تھا پتا نہیں وہ گاڑی کیسے چلا رہا تھا وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ آئمہ کہ ماں باپ کہ گھر کہ سامنے کھڑا ہوگیا اور گھر کو اپنی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔۔۔۔
اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور گھر کہ سامنے جا کھڑا ہوا۔۔۔
جب وہ گھر کہ دروازے تک پہنچا تو اس کہ پاؤں وہی جم گئے دروازہ کھٹکھٹانے سے پہلے اس کہ دل نے اسے ایک بار پھر سے روکا۔۔۔۔
اب اس کی ہمت جواب دے رہی تھی اس کے قدم وہی رک گئے تھے آگے وہ کیسے جائے کس منہ سے جائے کس شکل سے جائے کس نیت سے جائے وہ کچھ نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئ فیصلہ کرتا سامنے دروازے سے ایک شخص باہر نکلا اور اس نے آزر کو دیکھا۔۔۔۔۔
“تم! تم یہاں کیا کرہے ہو حرام زادے تجھے میں زندہ نہیں چھوڑو گا”.
آواز میں اس قدر غصہ تھا کہ آزر کی روح تک کانپ اٹھی جب اس نے نگاہ اٹھاکر سامنے کی طرف دیکھا تو سامنے آئمہ کا والد کھڑا تھا جو کہ دفتر کے لئے نکل رہا تھا۔۔۔۔
آزر کو دیکھتے ہی وہ غصہ سے آگ بگولہ ہوگیا وہ دوڑتا ہوا آزر کے پاس گیا اور اس کا گریبان پکڑ لیا اور نہایت غصے سے چیخ کر کہا: تیری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی؟؟؟
آزر میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ نگاہ اٹھا کر دیکھ سکے۔۔۔
اس سے پہلے کہ آئمہ کا والد غصے میں آکر کچھ کرتا آزر نے ان کے آگے ہاتھ جوڑ دئے اور تڑپتے ہوئے کہا: ممممم مجھ مجھ سے بہت بہت بڑی غلطی ہوئی تھی اس کی معافی مانگنے آیا ہو مممم میں یہاں خدا کے لئے مجھے آآآآ آئمہ آئمہ سے مممم ملوا دے خدا کے لئے۔۔۔۔
“اپنی گھٹیا زبان سے میری پاکیزہ بیٹی کا نام مت لو آئ سمجھ تم جانتے بھی ہو کہ تمہارے یہ الفاظ مجھے کس قدر گھٹیا لگ رہے ہے میرا بس چلے تو میں تمہیں ابھی اور اسی وقت ختم کردو لیکن میں تمہیں کچھ نہیں کہو گا میرا اللہ ہی تمہارے لئے کافی ہے” آئمہ کا والد بہت غصے میں تھا۔۔۔۔
یہ الفاظ آزر کہ دل کو زخمی کرنے کے لئے کافی تھے۔۔۔
آزر نے تڑپ کر کہا: انکل انکل مجھے میری غلطی کککک کا احساس ہوگیا ہے میں آپکے پاؤں پکڑتا ہو انکل مجھے بس ایک بار ایک بار آئمہ سے ملوا دے پلیز خدا کے لئے ملوا دے نہیں تو میرا اندر باہر آجائے گا میں مر جاؤ گا انکل پلیز انکل۔۔۔۔۔
آزر کی آواز اس قدر تکلیف سے بھری ہوئ تھی جسے اگر کوئ بھی سنتا تو اسے آزر پر ترس اجاتا۔۔۔۔
شور کی آواز سن کر آئمہ کی والدہ بھی گھر سے باہر نکل آئ اور سامنے والا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی آزر کس طرح سے اس کے شوہر کہ قدموں پر ڈھیر پڑا تھا اور جس قدر وہ تڑپ رہا تھا آئمہ کی ماں کو اس پر ترس آگیا وہ آگے بڑھی اور جاکر آزر کو کھڑا ہونے کا کہا۔۔۔۔
آزر نے آئمہ کی ماں کی طرف دیکھا اور کہا: آآآنٹی خدا کے لئے ایک بار مجھے آئمہ سے ملوا دے۔۔۔۔۔ خدا کے لئے۔۔۔۔
آزر کی آنکھوں کا رنگ ہی بدل گیا تھا۔۔۔
آئمہ کی ماں نے کہا: مگر کیوں کیوں ملنا چاہتے ہو تم آئمہ سے بولو اب کیا چاہتے ہو تم اس سے کیا ابھی کوئ اور دکھ بھی رہ گیا ہے جو تم آج اسے دینے آئے ہو؟؟؟؟
اسکی ماں نے آزر سے ایک ہی سانس میں کئ سوال پوچھے۔۔۔
آزر نے تڑپتے ہوئے کہا: آنٹی ایسا مت کہے میں آئمہ سے معافی مانگنے آیا ہو اس سے معافی مانگنے کے لئے میں اپنی جان کی بازی بھی لگا دو گا میں اس سے عثمان کہ حصے کی بھی ممممم معافی مانگنا چاہتا ہو ۔۔۔۔
یہ سن کر آئمہ کہ والد نے چیخ کر کہا,: نام مت لو اس شیطان کا یہاں پر اس کا انجام بہت برا ہوگا تم دیکھنا۔۔۔۔
آزر نے سر جھکاتے ہوئے کہا: جی انجام دیکھ لیا ہے اس کا!!!
آزر کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
یہ سن کر آئمہ کی ماں نے فوراً کہا: ایسا کیوں کہہ رہے ہو؟؟؟؟
آزر نے روتے ہوئے کہا: عثمان اب اس اس دددد دنیا میں نہیں رہا۔۔۔۔
یہ سن کر آئمہ کہ والدین کو حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔
آزر نے مزید کہا: عثمان نے اپنے آخری لمحات میں سب کچھ سچ سچ بتا دیا تھا مجھے اور وہ مرتے وقت بھی یہی چاہتا تھا کہ آئمہ اسے معاف کردے تاکہ اسے آگے آسانی ہو۔۔۔۔ میں نے ان سے وعدہ کیا ہے خدا کے لئے آئمہ کو بلوائے پلیز۔۔۔۔
یہ سن کر آئمہ کے والد کا دل کچھ ہلکا ہوا اللہ کا انصاف دیکھ کر اس نے کہا: یہ اور کچھ نہیں ہے یہ اللہ کا انصاف ہے میرے مالک کا انصاف ہے یہ۔۔۔۔
یہ سن کر آزر بہت شرمندہ ہوا۔۔۔۔
آئمہ کی والدہ نے کہا: آئمہ اب یہاں نہیں ہے؟؟؟؟
یہ سن کر آزر کافی حیران ہوا حیرت بھری نگاہ سے اس نے آئمہ کی والدہ کی طرف دیکھا اور کہا: تتتتتت تو تو پھر کہاں ہے آئمہ؟؟؟؟؟
آئمہ کی ماں نے کہا: اسکی شادی ہوچکی ہے اور اس وقت اسکا ایک بچہ بھی ہے اور وہ اپنے گھر میں خوش رہ رہی ہے۔۔۔۔
یہ الفاظ آزر کہ دل پر کسی تیر کی طرح بجے اس سے کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا۔۔۔۔
اسے اتنی شرمندگی اور اتنا غصہ اپنے آپ پر آرہا تھا کہ اس سے اور برداشت نہیں ہورہا تھا اس نے ایک آخری بات آئمہ کے والدین سے پوچھیں: آآآ آئمہ کا گگگگ گھر کہاں ہے آپ لوگ پلیز مجھے اس کے گھر کا بتا دے میں وہی جججج جا کر اس سے مممم مل لو گا۔۔۔۔
آزر کی آواز رولا دینے والی تھی۔۔۔۔
اس کہ آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔۔
آئمہ کی والدہ نے اسے آئمہ کہ گھر کا پتا بتایا۔۔۔۔
پتا جان کر آزر وہاں سے سیدھا آئمہ کی طرف نکل گیا۔۔۔۔۔
