Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor NovelR50830 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode04
Rate this Novel
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode01 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode02 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode03 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode04 (Watching)Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode05 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode06 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode07 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode08 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode09 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode10 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode11 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode12 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode13 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode14 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode15 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode16 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode17 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Last Episode
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode04
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode04
رات ہوگئ تھی آزر اور آئمہ اپنے کمرے میں بیٹھے تھے آزر نے آئمہ سے کہا: آئمہ میں سوچ رہا تھا کہ کل ہم کہی گھومنے جائے سب گھر والے کیا خیال ہے؟؟؟
جب آزر نے آئمہ کی طرف دیکھا تو آئمہ کسی گہری سوچ میں گم تھی آزر نے آئمہ کے منہ کے پاس جا کر چٹکی بجائ جس سے آئمہ یک دم سوچ کی دنیا سے باہر آئ اور آزر کی طرف دیکھنے لگی۔۔
آزر نے کہا: کیا ہوا اتنا گہرا کیوں سوچ رہی ہو سب ٹھیک ہے نا۔
آئمہ اصل میں آزر کے بڑے بھائی عثمان کے بارے میں سوچ
رہی تھی کہ وہ اسے اتنے تیز اور گہرائیوں والی نظروں سے کیوں گھور رہا تھا اسے اس کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔
آئمہ آزر کو بتانے کی لگی کہ وہ اصل میں کیا سوچ رہی تھی مگر ایک لمحے کے لئے رک گئ اور سوچنے لگی کہ اگر وہ آزر کو اس بارے میں بتائے گی تو آزر کا اس پر سے اعتماد اٹھ جائے گا کہ میں اس کی بڑے بھائ پر الزام لگارہی ہو اور ویسے بھی دونوں بھائ ایک دوسرے سے بہت محبت بھی کرتے تھے تو یہ سب کچھ آئمہ کو آزر کو بتانا مناسب نا لگا۔
آزر نے یک بار پھر آئمہ کو ہلایا اور کہا: ارے کیا ہوگیا ہے اتنا کیا سوچ رہی ہوں ???is everything ok
آئمہ نے کہا: ہاں ہاں سب سب ٹھیک ہے وہ میں امی کے بارے سوچ رہی تھی انکی طبیعت کافی خراب رہتی ہے نا تو مجھے انکی فکر ہورہی ہے۔
یہ سن کر آزر نے کہا: ارے یار بس اتنی سی بات ایسا کرتے ہے ہم دونوں کل ہی انکل آنٹی سے ملنے جائے گے۔
یہ سن کر آئمہ مسکرا دی اور کہا: آپ بہت اچھے ہے۔
آزر نے کہا: یہ کونسی بڑی بات ہے پلیز شرمندہ مت کرو۔
یہ سن کر آئمہ پھر سے مسکرا دی۔
صبح پھر جلدی اٹھ کر آئمہ نے فجر کی نماز ادا کی اور نیچے کچن میں چلی گئ سب کے لئے ناشتہ بنانے۔
حالانکہ گھر میں کافی نوکر تھے اور کھانا بنانے والی کوکر بھی موجود تھی مگر آئمہ نے سوچا کہ سب کے لئے ایک بار پھر ناشتہ بناکر پھر وہ اپنے امی ابو کہ گھر جائے گی۔
آئمہ نے کوکر سے کہا: آپ ایسا کرے کہ آج چھٹی کرلے میں سب سنبھال لو گی مجھے امی کے گھر بھی جانا ہے اور وہاں سے واپسی کے وقت میں اور آزر بازار سے کھانے کے لئے لے آئے گے آپ بے فکر ہوکر گھر جائے۔
کوکر نے لاکھ کہا مگر آئمہ نا مانی اسی وجہ سے کوکر کو مجبوراً وہاں سے جانا پڑا۔
یوں پھر آئمہ اپنے کام میں لگ گئ اچانک کچن میں آزر کا بڑا بھائی عثمان اپنے کمرے سے اٹھ کر کچن میں پانی پینے کے لیا آیا تھا جب وہ کچن میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ کچن میں آئمہ موجود ہے جبکہ آئمہ نے عثمان کو نہیں دیکھا تھا کیونکہ اس کا منہ دوسری طرف چولہے پر تھا
عثمان آہستہ آہستہ آئمہ کے قریب گیا اور ٹھیک اس کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور آئمہ کے بالوں کی مہک کو سونگھنے لگا مہک اس قدر حسین تھی کہ وہ کسی اور دنیا میں ہی چلا گیا اچانک آئمہ کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کے پیچھے کوئی کھڑا ہے اس نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تو پیچھے سے عثمان کو اپنے اتنے قریب کھڑا پاکر وہ گھبرا گئ آئمہ نے کہا: ارے آپ آپ یہاں پر کیا کرہے ہے۔
عثمان نے کہا: وہ میں کچن سے پانی پینے آیا تھا۔
یہ سن کر آئمہ نے فرج سے پانی کی بوتل نکالی اور ایک گلاس میں پانی ڈال کر گلاس عثمان کی طرف کرتے ہوئے کہا: یہ لیجئے۔
عثمان نے گلاس کیساتھ ساتھ آئمہ کے ہاتھوں کو بھی چھوا اور اس کے ہاتھوں سے گلاس لے کر پانی پینے لگا آئمہ کافی گھبرا گئ کیونکہ اس وقت وہ وہاں پر اکیلی تھی آئمہ نے چولہے کی طرف دیکھا جہاں پر پراٹھا جل رہا تھا اس نے جلدی سے پراٹھا چمٹے کی مدد سے اتارا اور چولہا بند کردیا تاکہ توا تھوڑا ٹھنڈا ہوجائے۔
عثمان ابھی بھی وہی کھڑا تھا آئمہ کافی ڈر رہی تھی مگر وہ خود کو کسی کام میں مصروف کرنے کی کوشش کرہی تھی تاکہ عثمان وہاں سے چلا جائے اچانک عثمان نے کہا: ویسے آپ بہت خوبصورت ہے۔
یہ سن کر آئمہ کو تو جیسے کرنٹ لگ گیا ہو اس نے عثمان کی طرف دیکھا اور ڈرتے ہوئے کہا: وہ وہ مجھے لگتا ہے آزر اٹھ گیا ہوگا میں اسے اٹھا کر لاتی ہو یہ کہہ کر وہ وہاں سے جانے ہی لگی کہ عثمان نے زبردستی اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور مسکراتے ہوئے کہا: ارے بھابھی آپ ڈر کیوں رہی ہے میری بات کا جواب تو دے۔
آئمہ کو شدید غصّہ آیا اس نے اپنا ہاتھ چھڑایا اور کہا: میرے پاس ایسے فالتو سوالوں کے کوئ جواب نہیں ہے اور آئندہ آپ نے مجھے ہاتھ بھی لگایا تو میں سب کچھ آزر کو بتا دو گی۔
یہ سن کر عثمان نے کہا: کیا بتاؤ گی تم آزر کو بولو۔
آئمہ نے کہا: وہی جو آپ کر رہے ہے۔
عثمان نے کہا: کیا کرہا ہو میں پیار ہا ہا ہا ہا۔
یہ کہہ کر وہ کھلکھلا کر مسکرانے لگے پڑا
عثمان نے کہا: دیکھوں میری بات سنو مجھے تم بہت خوبصورت لگتی ہو اور قسم سے مجھے تم سے محبت ہورہی ہے صرف ایک رات کے لئے۔۔۔۔
ابھی اس نے اتنا ہی کہا کہ آئمہ نے اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔
عثمان نے اپنا منہ پکڑا اور غصے سے آئمہ کی طرف دیکھنے لگا۔
آئمہ نے کہا: شرم نہیں آرہی آپکو یہ بات کرتے ہوئے بولیں اپنے ہی سگے بھائ کی خوشیوں کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہے انسانیت نام کی کوئ چیز بھی ہے آپ میں شرم کرے۔
آئمہ کی آنکھیں لال پڑگئ تھی اتنا غصّہ اسے پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔
آئمہ نے پھر سے کہا: میں آپکو آخری دفعہ سمجھا رہی ہو اگر آپ اپنی حرکتوں سے باز نا آئے تو۔۔۔۔
ابھی آئمہ نے اتنا ہی کہا تھا کہ عثمان نے اسے اس کا بازوؤں کو مظبوطی سے پکڑ لیا اور کہا: تووو تو کیا کرو گی تم بولوووو کیا کرو گی۔
آئمہ کو تکلیف ہورہی تھی کیونکہ اس نے آئمہ کو بڑے مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا تکلیف اتنی ہورہی تھی کہ آئمہ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے آئمہ نے روتے ہوئے کہا: اااا پلیز چھوڑو مجھے خدا کا واسطہ ہے۔
عثمان نے دیکھا کہ وہ رو رہی ہے تو اس نے اسے چھوڑا۔
آئمہ جونہی چھوٹی تو اس نے عثمان کو ایک زور دار دھکا دیا جس کی وجہ سے وہ گر گیا آئمہ بجلی کی سی رفتار سے اوپر اپنے کمرے کی طرف بھاگی اور کمرے میں پہنچ کر جلدی سے دروازہ لوک کردیا۔
آئمہ کی بری حالت تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کچھ اس کیساتھ ہوا کیا ہے وہ نیچے زمین پر بیٹھ کر رو رہی تھی اس نے سامنے دیکھا تو سامنے آزر سویا ہوا تھا
وہ اٹھ کر آزر کو اٹھانے ہی لگی کے دروازے کی دوسری طرف سے عثمان نے کہا: دیکھوں آئمہ اگر تم نے آزر کو اٹھا کر اسے سب کچھ بتایا تو تمہاری عزت دو ٹکے کی نہیں رہنے دو گا میں آئ سمجھ آزر مجھ پر اندھا اعتبار کرتا ہے اور اگر آزر نے پھر بھی مجھ سے پوچھا تو میں اسے یہی کہو گا کہ تم نے مجھے اپنی طرف مائل کیا تھا اس کی وجہ سے تمہاری عزت کہی نہیں رہے گی۔
وہ دروزے کیساتھ منہ کرکے بول رہا تھا جس سے آوازیں صاف اندر جارہی تھی اور آئمہ سن رہی تھی۔
جبکہ آزر سو رہا تھا اس تک آواز نہیں پہنچ پارہی تھی صرف دروازے کے پاس کھڑی آئمہ ہی وہ آواز رہی تھی۔
یہ سب کچھ سن کر آئمہ کافی ڈر گئ تھوڑی دیر تک عثمان بھی وہاں سے چلا گیا آئمہ کا پورا جسم کانپ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے عثمان کی باتیں سن کر وہ کافی ڈر گئ تھی اس کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔
کچھ دیر تک آزر بھی اٹھ گیا آزر نے اپنے سامنے آئمہ کو کھڑے دیکھا تو وہ اٹھ کر آئمہ کے پاس گیا اور آئمہ کے بازوں سے پکڑ کر کہا: آئمہ کیا ہوا تم دروازے کے پاس کھڑی کیا کرہی ہو ارے تمہیں تو بہت پسینہ چھوٹ رہا ہے۔
آئمہ نے آزر کی طرف دیکھا پھر روتے ہوئے آزر کو گلے سے لگایا اور کہا: آزر مجھے امی کے پاس لے چلو پلیز۔
آزر نے کہا: اچھا اچھا چلتے ہیں مگر تمہاری یہ حالت کیسے ہوئ۔
آئمہ نے کہا: آزر مجھے امی کے بارے میں بہت برا خواب آیا تھا پلیز مجھے لے چلو امی کے پاس۔
آزر نے اسے چپ کرایا اور تھوڑی دیر بعد وہ اسے وہاں سے لے کر اس کی امی کے گھر لے گیا۔۔۔۔۔
دوستوں اگلی قسط کل آئے گی۔
