Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode06

Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode06

دو دن گزر گئے آئمہ کو لینے آزر آیا تھا آئمہ بہت پریشان تھی
کیونکہ اسے ڈر لگ رہا تھا کہ اگر وہ واپس گئ تو عثمان اس
کے پھر سے پیچھے پڑ جائے گا۔
آزر آئمہ کے ماں باپ سے ملا کچھ دیر وہی بیٹھا پھر جب آئمہ واپس گھر جانے کے لئے تیار ہوگئی پھر آزر اور آئمہ وہاں سے چلے گئے۔
آئمہ خاموش گاڑی میں بیٹھی تھی وہ آزر کو سب بتانا چاہتی تھی مگر عثمان کی دھمکیوں سے ہر بار ڈر جاتی
تھی کیونکہ عثمان نے بات ہی ایسی کی تھی۔
آزر نے آئمہ کو دیکھا اور کہا: ارے آئمہ کیا ہوا تم اتنی چپ کیوں ہو؟؟؟
آئمہ نے چونک کر آزر کی طرف دیکھا اور کہا: ہاں کچھ نہیں۔
آزر نے کہا: پھر اتنی خاموش کیوں ہو؟؟؟
آئمہ نے کہا: ویسے ہی امی ابو کے گھر سے پھر سے جاتے وقت تھوڑا دکھ ہورہا ہے۔
آزر نے کہا: چلو جی یار تمہارا جب دل کرے تم اپنے ماں باپ کے گھر جاسکتی ہو مگر پلیز میرے سامنے ایسے دکھی سا منہ بناکر مت بیٹھا کرو میں تمہیں ہمیشہ خوش رکھنا چاہتا ہوں۔
یہ سن کر آئمہ مسکرا دی۔
تھوڑی دیر بعد وہ دونوں گھر پہنچ گئے آزر نے آئمہ کو کہا: آئمہ تم اندر جاؤ میں ایک کام نپٹا کر آتا ہو۔
آئمہ نے کہا: کیسا کام؟؟؟
آزر نے کہا: یار وہ گارڈ کافی دنوں سے اپنے گھر بیمار پڑا ہے آج اس کا مجھے فون آیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اسے اپنے علاج کے لئے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے بس میں وہی اسے دینے جارہا ہو۔
یہ سن کر آئمہ کو بہت اچھا لگا اس نے کہا: بہت اچھی بات ہے ٹھیک ہے تم جاؤ جلدی آجانا۔
یہ سن کر آزر وہاں سے چلاگیا۔
آئمہ گھر کے اندر داخل ہوئی سامنے عثمان کھڑا تھا۔
آئمہ نے عثمان کو دیکھا اور وہ کافی ڈر گئ وہ چپ چاپ نیچے منہ کرتے ہوئے اپنے کمرے کے جانب بڑھی کے عثمان اس کے ٹھیک سامنے کھڑا ہوگیا۔
آئمہ نے عثمان کی طرف دیکھا اور نہایت غصے سے کہا: یہ کیا کر رہے ہو تم ہٹو میرے راستے سے۔
یہ سن کر عثمان مسکرایا اور آئمہ کو سر سے پاؤں تک دیکھتے ہوئے کہا: راستے سے ہٹنے کے لئے تھوڑی کھڑا ہوا ہو میری جان۔
آئمہ نے کہا: دیکھو تم باز آجاؤ ورنہ میں۔
عثمان نے آئمہ کی بات ٹوکتے ہوئے کہا: ورنہ ورنہ کیا کرو گی تم بولو۔
یہ سن کر آئمہ نے نیچے منہ کرلیا۔
عثمان نے کہا: دیکھوں مجھے تم بہت اچھی لگتی ہو تم بہت خوبصورت ہو ہروقت تمہارے خیالوں میں ہی میں گم رہتا ہو دیکھو آزر ابھی گھر پر نہیں ہے اور امی ابو بھی پڑوس کے گھر گئے ہیں اب اس وقت تم اور میں گھر پر اکیلے ہیں۔
ابھی وہ اور کچھ بولتا آئمہ کافی ڈر گئ وہ وہاں سے باہر کی جانب بھاگنے لگی کہ عثمان اس سے پہلے دروازے کے پاس پہنچ گیا اور دروازہ بند کردیا۔
آئمہ نے روتے ہوئے کہا: دیکھوں پلیز مجھے جانے دو تمہیں خدا کا واسطہ ہے پلیز جانے دو۔
عثمان اس کے قریب گیا اور اس کے بازوؤں کو کس کے پکڑ لیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا: اتنا حسین موقع میں ایسے کیسے جانے دے سکتا ہو۔
آئمہ نے چھوٹنے کی بہت کوشش کی مگر وہ نا چھوٹ سکی کیونکہ عثمان نے اسے بہت مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔
عثمان پوری طرح سے وحشی بن چکا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے اندر شیطان آگیا ہو۔
آئمہ رو رو کر کہہ رہی تھی کہ مجھے چھوڑ دو تمہیں خدا کا واسطہ ہے چھوڑ دو مگر اس نے اسکی ایک نا سنی۔
عثمان نے آئمہ کا گلہ زور سے پکڑا اور کہا: اگر تم نے شور مچایا تو میں تمہاری جان نکال دو گا۔
آئمہ نے اس کے ہاتھ پر زور سے اپنے دانتوں کی مدد سے کاٹا جس کی وجہ سے عثمان چیخا اور اس کی گرفت کمزور پڑگئ آئمہ نے اپنے آپکو چھڑایا اور اپنے کمرے کی طرف بھاگی عثمان کو مزید غصّہ آیا وہ بھی اس کے پیچھے کی طرف بھاگا آئمہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی اور دروازہ بند ہی کرنے لگی کے عثمان نے زور سے دروازے کو دھکا مارا
جس کی وجہ سے آئمہ زمین پر گر گئ عثمان کمرے میں داخل ہوا اس نے آئمہ کو اٹھایا اور اسے بیڈ پر دھکا دیا۔
عثمان نے کہا: تمہاری اتنی ہمت کے تم نے مجھے نقصان پہنچایا اب دیکھنے میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہو۔
آئمہ چیخی مگر اس نے آئمہ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اس دن
عثمان آئمہ کی عزت کیساتھ خوب کھیلا وہ پوری طرح سے جانور بن چکا تھا اور ایسے ہی وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *