Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor NovelR50830 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode03
Rate this Novel
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode01 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode02 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode03 (Watching)Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode04 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode05 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode06 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode07 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode08 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode09 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode10 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode11 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode12 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode13 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode14 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode15 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode16 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode17 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Last Episode
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode03
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode03
آئمہ اور آزر جیسا چاہتے تھے انہیں ویسا ہی ملا ان کی شادی بھی ہوگئ اور اب وہ ایک ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔
یوں پھر آئمہ کا آزر کے گھر پر پہلا دن تھا اور وہ بہت خوش تھی اس نے فیصلہ کیا کہ وہ صبح جلدی اٹھ کر سب گھر والوں کے لیے اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنائے گی اور ایسا ہی ہوا وہ صبح جلدی اٹھی اور نیچے کچن میں گئ اس نے الگ الگ طرح کے آملیٹ پراٹھے بنائیں وہ کھانا بھی بہت مزے کا بناتی تھی اس نے چائے بھی بنائ اور سب کے اٹھنے سے پہلے ہی اس نے ٹیبل پر ناشتہ لگا دیا آزر کی والدہ اور والد کو صبح جلدی اٹھنے کی عادت تھی وہ دونوں صبح جلدی اٹھ کر نماز پڑھتے تھے نماز سے فارغ ہو کر وہ دونوں باہر آجاتے تھے اور چائے بناکر پیتے تھے مگر اس بار جب وہ دونوں باہر آئے تو انہوں نے دیکھا کہ کھانے کے ٹیبل پر ناشتہ پہلے کا ہی سجا ہوا ہے یہ دیکھ وہ وہ کافی حیران ہوئے جب انہوں نے دیکھا کے آئمہ کچن سے چائے کے برتن لے کر آرہی تھی تب انہیں یقین ہوگیا کہ یہ سب آئمہ نے بنایا ہیں آئمہ نے اپنے ساس اور سسر کو دیکھا اور جلدی سے برتن ٹیبل پر رکھ کر کہا: السلام و علیکم! امی ابو آپ دونوں اٹھ گئے؟؟؟
یہ سن کر آزر کی والدہ نے کہا: جی ہم تو اٹھ گئے مگر آپ ہم سے بھی پہلے کی اٹھی ہوئ ہے؟؟؟
یہ سن کر آئمہ نے کہا: جی امی!
آزر کی والدہ نے مسکراتے ہوئے ٹیبل کو دیکھا پھر آئمہ کو کہا: ماشاءاللہ یہ سب کچھ تم نے بنایا ہے بیٹا؟؟؟
آئمہ نے کہا: جی جی میں نے بنایا ہے آپ سب کے لئے۔
یہ سن کر آزر کے والد نے کہا: ارے واہ خوشبو تو بہت اچھی آرہی ہے ماشاءاللہ۔
یہ سن کر آئمہ نے انہیں ٹیبل کی کرسیوں پر بٹھایا اور کہا: آپ دونوں بیٹھے اور چائے پیجئے۔
آئمہ نے انہیں چائے ڈال کر دی۔
انہوں نے چائے پی اور کہا: واہ کیا چائے بنائ ہے۔
آئمہ بہت خوش تھی کہ انہیں اس کے ہاتھ کا ناشتہ پسند آیا۔
آزر کی والدہ اور والد دونوں ہی بہت خوش تھے۔
ابھی وہ سب باتیں کرہی رہے تھے کہ اچانک وہاں پر آزر کا بڑا بھائ اپنے کمرے سے اٹھ کر وہاں پر آگیا آزر کے بھائی کو دیکھ کر آئمہ نے انہیں سلام کیا آزر کے بھائی نے آئمہ کی طرف دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا وہ اس قدر خوبصورت لگ رہی تھی کے جیسے آسمان پر سے کوئی پری آگئ ہو وہ آئمہ کو دیکھتے ہی جارہا تھا آئمہ نے کہا: آئے آپ بھی ہمارے ساتھ ناشتہ کرے پلیز۔
یہ سن کر اس نے اپنی آنکھیں کافی دیر بعد جھپکائ اور کہا: اوووو تھینکس۔
یہ کہہ کر وہ بھی وہاں پر بیٹھ گیا آئمہ نے اسے چائے ڈال کر دی اور کہا: لیجئے۔
وہ اس وقت بھی آئمہ کو ہی دیکھی جارہا تھا آئمہ نے پھر سے کہا: بھائ لیجیے چائے۔
پھر جا اس کو دوبارہ ہوش آئ اور کہا: آوو سوری۔
اس نے وہ چائے پکڑی اور کہا: شکریہ۔
آزر کی والدہ نے آزر کے بھائی کو مخاطب ہوتے کہا: تمہیں پتا ہے عثمان یہ سب کچھ کس نے بنایا ہیں؟؟؟
اس نے کہا: کس نے امی؟؟؟
یہ سن کر آزر کے والد نے کہا: یہ سب کچھ آئمہ نے بنایا ہے.
یہ سن کر عثمان نے کہا: ارے واہ۔
آئمہ نیچے منہ کرکے مسکرا دی عثمان نے چائے کا ایک گھونٹ بھرا اور ہنستے ہوئے کہا: ارے واہ یہ تو بہت اچھی چائے ہے مزہ آگیا۔
آئمہ مسلسل شرماتے ہوئے نیچے منہ کرکے ہنس رہی تھی پھر آئمہ نے کہا: اچھا میں اوپر سے آزر کو اٹھا کر لاتی ہو تاکہ وہ بھی آکر ناشتہ کرلے۔
یہ سن کر آزر کی والدہ نے کہا: ہاں بیٹا جاؤ بلا لاؤ۔
جواب سنتے ہی وہ اوپر چلی گئ جبکہ عثمان آئمہ کو سر سے پاؤں تک دیکھتا ہی رہا اس نے اس سے خوبصورت لڑکی آج تک نہیں دیکھی تھی۔
اصل میں جب آزر کی شادی تھی تب وہ وہاں موجود نہیں تھا وہ ملک سے باہر تھا کام کی وجہ سے اور وہ کل رات کو ہی واپس آیا تھا کام میں زیادہ مصروفیات کی وجہ سے وہ شادی اٹینڈ نا کرسکا جب وہ کام سے فارغ ہوا تھا اسی دن وہ اپنے ملک واپس آگیا مگر تب تک آزر کی شادی ہوچکی تھی اور آزر اپنی دلہن کیساتھ کمرے میں تھا اسی لئے اس کا اس وقت آزر سے ملنا مناسب نہیں تھا اسی لئے اس نے اس وقت صرف اپنے ماں باپ سے ہی ملاقات کی تھی۔
خیر جب آئمہ اوپر آزر کو جگانے گئ تو پیچھے سے عثمان نے اپنے ماں باپ سے کہا: امی کیا یہی ہے آزر کی دلہن آئمہ۔
اس کی والدہ نے کہا: ہاں یہی ہے۔
عثمان نے کہا: اوووو اچھا.
اس کے والد نے کہا: ویسے عجیب بات ہے تم اپنے بھائ کی شادی پر ہی نہیں آئے دیکھ لو۔
عثمان نے کہا: ابو کام ہی بہت تھا اب جو ہی مجھے ٹائم ملا میں آگیا آپکو کل رات سے بتا رہا ہو۔
یہ سن کر اس کے والد نے کہا: شادی پر سب پوچھ رہے تھے مجھ سے۔
عثمان نے کہا: آپ بتا دیتے کے میں کام کی وجہ سے نہیں آسکا۔
اس کے والدہ نے کہا: اچھا چلو چھوڑو دیکھو آزر اگیا۔
عثمان نے آزر کی طرف دیکھا جبکہ آزر نے بھی اپنے بھائی کو دیکھ لیا اور بھاگتے ہوئے جا کر اپنے بھائ کو گلے سے لگایا اور کہا: بھائ آپ آگئے شکر ہے۔
عثمان نے کہا: ہاں آگیا دیکھ لو۔
سب دیکھ کر ہنس رہے تھے۔
آزر نے کہا: بھائی آپ نے تو حد ہی کردی آپ اپنے ہی بھائی کی شادی پر نہیں آئے۔
عثمان نے کہا: ارے یار سوری قسم سے بہت کام تھا جوہی موقع ملا میں اگیا۔
یہ سن کر آزر نے کہا: اوووو اچھا۔
تھوڑی دیر بعد سب نے بیٹھ کر ناشتہ کیا اور خوب باتیں کی آئمہ ان سب میں خوب گھل مل گئ جبکہ عثمان مسلسل آئمہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔
آزر نے مکمل آئمہ کا تعارف اپنے بھائ کو کروایا۔
آئمہ نے پہلے کا ہی عثمان کو دیکھا ہوا تھا آزر نے اپنے بھائی کی تصویر شادی سے پہلے ہی آئمہ کو سینڈ کی ہوئ تھی اسی لیے آئمہ نے اتنا نہیں پوچھا۔
عثمان مسلسل آئمہ کو گھور رہا تھا اور یہ بات آئمہ بھی نوٹ کررہی تھی مگر وہ سب کے سامنے کچھ نہیں کرسکتی تھی۔
عثمان اصل میں پہلے کا ہی شادی شدہ تھا مگر شادی سے 2 سال بعد ہی اس کی بیوی کینسر کی بیماری کی وجہ سے خدا کو پیاری ہوگئ عثمان نے بھی اپنے پسند کی ہی شادی کی تھی وہ اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا لیکن جب اس کی بیوی فوت ہوگئی تو وہ بلکل اکیلا ہوگیا اسے اس کے گھر میں اپنی بیوی کی یاد بہت ستاتی تھی اسی لئے وہ اپنی بیوی کی یاد سے نکلنے کے لئے اس نے ملک سے باہر جوب کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسی وجہ سے پھر اس نے باہر نوکری کرنا شروع کردی اس کی عمر 40 کے قریب ہوگئ تھی اسی وجہ سے اس نے کوئ شادی ہی نہیں کی اس کے ماں باپ نے بھی بہت رشتے ڈھونڈے مگر ہر بار انہیں ناکامی کا سامنا ہوا کیونکہ عثمان کی عمر کافی ہوگئ تھی اور کوئ بھی اڈے اپنی بیٹی دینے پر راضی نہیں تھا پھر عثمان نے خود ہی اپنے ماں باپ کو منع کردیا کہ وہ اب کسی سے بھی اس کی شادی کے لئے رشتہ نہیں مانگے گے یہ سن کر وہ دونوں بھی راستے سے ہٹ گئے یوں پھر عثمان ایک سادہ زندگی گزارنے لگا لیکن ایک بار پھر سے اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ پھر سے اپنی زندگی جی لے ایک بار پھر اس کا دل کرہا تھا کہ وہ اپنی زندگی کو بے رنگ سے رنگ میں تبدیل کردے کیونکہ جب سے اس نے آئمہ کو دیکھا تھا وہ دن رات اس کے ہی بارے میں سوچنے لگا اس کی آنکھوں کے سامنے سے آئمہ کی شکل ہٹتی ہی نہیں تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے اس پر کسی نے جادو کردیا ہو۔
دوستوں اگلی قسط کل آئے گی۔
