Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode09

Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode09

عثمان کافی حیران اور پریشان ہوگیا اس نے بڑی حیرانگی سے علی کی طرف دیکھا اور کہا: دیکھوں میں تمہیں کچھ نہیں کہو گا مگر پلیز تتتت تم میری ریکارڈنگ کسی کو مت سنانا۔
عثمان کی حالت نازک پڑگئ۔
علی کافی مسکرایا اور کہا: ٹھیک ہے نہیں بتاؤ گا لیکن ایک شرط پر!
عثمان نے حیرانگی سے پوچھا: کککک کیسی شرط؟؟؟
علی نے ہنستے ہوئے کہا: دیکھو تم تو جانتے ہی ہو کہ میں نے نوکری چھوڑ دی ہے اور اب مجھے گھر چلانے کے لئے پیسوں کی بھی ضرورت ہے تو اسی لئے تمہیں مجھے کل 10 لاکھ روپے دینے ہونگے؟
عثمان نے کہا: ٹھیک ہے مجھے منظور ہے مگر تم وعدہ کرو کے کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گے؟؟؟
علی نے کہا: ہاں ہاں وعدہ نہیں نہیں بتاؤ گا۔
عثمان نے ایک لمبی سانس خارج کرتے ہوئے کہا: ٹھیک ہے تم کل آفس آجانا میرے روم پر وہاں سے آکر تم مجھے سے 10 لاکھ روپے کا چیک لے لینا۔
علی نے کہا: ہمممم ٹھیک ہے کل ملتے ہے خدا حافظ۔
یہ کہہ کر وہ واپس اپنے گھر کے اندر مسکراتا ہوا چلا گیا۔
عثمان وہی کھڑا اسے دیکھتے رہ گیا تھوڑی دیر بعد عثمان بھی وہاں سے چلا گیا۔
عثمان سیدھا ہسپتال واپس گیا عثمان کو دیکھ کر اس کے باپ نے اس سے کہا: ہاں عثمان کچھ کچھ پتا چلا اس کا؟؟؟
عثمان نے ایک نگاہ سب کی طرف پھیری اس کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔
عثمان کی والدہ نے کہا: عثمان کچھ پوچھا ہے تم سے کہاں ہے وہ جس نے میرے بیٹے کا یہ حال کیا؟؟؟
پاس کھڑی آئمہ بھی عثمان کو ہی دیکھ رہی تھی۔
عثمان نے گھبراتے ہوئے کہا: وہ امی علی نہیں ملا میں اس کککک کے گھر گیا تھا مگر وہ وہاں ننن نہیں تھا!
اس کے والد نے کہا: ہممم لگتا ہے بھاگ گیا حرام زادہ۔
عثمان کی والدہ نے کہا: تو پھر تم پولیس اسٹیشن گئے جاکر رپورٹ درج کروائی؟؟؟
عثمان نے کہا: نننن نہیں امی!
عثمان کے والد نے حیرانگی سے پوچھا: کیوں کیوں نہیں گئے؟؟؟
عثمان نے کہا: ابو میں صرف اس علی کے گھر ہی گیا تھا پولیس اسٹیشن کافی دور تھا اسی لئے نہیں گیا اور ویسے بھی پولیس نے کونسا ہمیں فوراً ہی پکڑ کر لا دینا ہے علی کو؟؟؟
عثمان کے والد نے حیرانگی سے کہا: تو چار پیسے دے کر رپورٹ لکھوا دیتے پولیس کو رشوت ہی دے دینی تھی تاکہ وہ ہمارا کام جلدی کردیتے۔
عثمان نے کہا: ابو چھوڑے کل کروا دے گے ابھی ہمیں آزر کی فکر کرنی چاہئے۔
یہ سن کر آئمہ کو بھی غصہ آگیا اس نے جاکر عثمان کو نہایت غصے سے کہا: کیوں چھوڑ دے ہم جس نے آزر کو اس حال تک پہنچایا اسے کیسے چھوڑ دے آزر بھائ ہی ہینا تمہارا؟؟؟
عثمان کی والدہ نے آئمہ سے کہا: آئمہ ہوش میں آؤ تمہارے بھائ کا بڑا بھائ ہے یہ کیسے بات کرہی ہو تم اس سے؟؟؟
آئمہ نے اپنی ساس کی طرف دیکھا اور کہا: میں سہی بات کرہی ہو اب خدانخواستہ آزر کو کچھ ہوگیا تو ہم کیا کرے گے ہمارے پاس ابھی موقع تھا کہ ٹائم پر جاکر رپورٹ درج کروالیتے اب نجانے وہ علی کہاں پہنچ گیا ہوگا؟؟؟
عثمان کے والد نے کہا: آئمہ ٹھیک کہہ رہی ہے ہمیں ٹائم پر ہی رپورٹ درج کروالینی چاہئے تھی۔
ابھی وہ سب باتیں کر ہی رہے تھے کہ ایک ڈاکٹر آپریشن وارڈ سے باہر نکلا۔
آئمہ اور اس کی ساس اور سسر ڈاکٹر کے پاس گئے اور کہا: ڈاکٹر صاحب کیسا ہے میرا بیٹا؟؟؟
ڈاکٹر نے کہا: دیکھئے آپ سب ہمت سے کام لے وہ ابھی بے ہوش ہے انہیں گولی کافی نزدیک سے لگی تھی اور زخم کافی گہرا ہے آپ سب دعا کرے۔
یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا۔
ائمہ سے اور انتظار نا ہوا وہ پاگلوں کی طرح آپریشن وارڈ میں داخل ہوئی اور ازر کے قریب گئ۔
آزر کو بوتل لگی ہوئ تھی اور پیٹ پر کافی پٹیاں لگی ہوئ تھی اور وہ بے ہوش تھا آزر کا یہ حال دیکھ کر آئمہ کی حالت کافی خراب ہوگئ وہ روتے ہوئے آزر کے قریب گئ اور جاکر آزر کے بالوں میں ہاتھ مارتے ہوئے کہا: آزر آزر اٹھو دیکھو میں آئ ہو آئمہ تمہاری محبت پلیز آنکھیں کھولو آزر
تم نے تو کہا تھا کہ تم میری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتے اور اب تم ہی مجھے اتنا رلارہے ہو آزر خدا کے لئے اپنی آنکھیں کھولو پلیز۔
رو رو کر اس کا برا حال تھا مگر آزر نے کوئ جواب نا دیا وہ ویسے کے ویسے پڑا تھا آئمہ کا دل پھٹنے کو آرہا تھا اس نے چیختے ہوئے کہا: آزر کیا یہی ہے تمہاری محبت کیا اسے کہتے ہے محبت تم مجھے جواب کیوں نہیں دے رہے ہو اپنی آنکھیں کھولو آزر میں مرجاؤ گی قسم سے اپنی آنکھیں کھولو۔
شور کی آواز سن کر ڈاکٹرز بھی اندر آگئے انہوں نے آئمہ سے کہا: دیکھئے آپ پلیز باہر جائے ایسے تو انہیں اور تکلیف ہوگی patient disturb ہورہا ہے پلیز جائے یہاں سے۔
آئمہ نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا اور چیختے ہوئے کہا: آزر میری باتوں سے disturb نہیں ہوتا آزر مجھ سے محبت کرتا ہے۔
آئمہ کی ساس آگے بڑھی اور آئمہ کو سنبھالتے ہوئے کہا: آئمہ میری بیٹی دیکھو آزر ٹھیک ہو جائے گا ہا چلو میرے ساتھ باہر۔
یہ کہہ کر اس نے بڑی مشکلوں سے آئمہ کو باہر نکالا آئمہ کی بری حالت تھی اس کے منہ سے آزر کے علاوہ کوئ لفظ نکل ہی نہیں رہا تھا۔
اس کی ساس نے اسے پانی پلایا تھوڑی دیر بعد آئمہ نے عشاء کی نماز ادا کی اور اللہ سے رو رو کر آزر کی زندگی کے لئے دعا کی اس کے صحت کے لئے دعا کی آئمہ کافی دکھی تھی۔
سب آزر کے لئے دعا کرہے تھے۔
جب صبح ہوئی تو عثمان جلدی سے تیار ہوا عثمان نے اپنی گاڑی نکالی اور سیدھا آفس چلا گیا جب وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ سامنے علی بیٹھا اس کا انتظار کرہا تھا علی نے عثمان کی طرف دیکھا اور کہا: اوووو آگئے آپ سر جی ہاہاہا۔
عثمان نے کہا: اپنی بکواس بند کرو۔
علی نے کہا: اووپس سوری سر جی آئے بیٹھے پلیز۔
علی اصل میں اس جگہ پر بیٹھا ہوا تھا جہاں پر عثمان بیٹھتا تھا عثمان کو نا چاہتے ہوئے بھی guest seat پر بیٹھنا پڑا۔
علی نے کہا: تم وہاں بیٹھے ہوئے زیادہ اچھے لگ رہے ہو ہاہاہا۔
علی مسلسل مسکرا رہا تھا۔
عثمان نے خود پر بڑی مشکلوں سے کنٹرول کیا ہوا تھا۔
عثمان نے کہا: دیکھو یہ میرا آفس ہے اور یہاں کوئ بھی آسکتا ہے تو پلیز تم اپنا منہ بند رکھو۔
علی نے کہا: اوووو اچھا اچھا ٹھیک ہے اب کام کی بات کرتے ہیں ٹھیک ہے۔
عثمان نے کہا: کوئ ضرورت نہیں ہے میرا وقت ضائع کرنے کی۔
عثمان نے جلدی سے اپنے بیگ سے 10 لاکھ روپے کا چیک نکالا اور اس پر اپنے دستخط کرکے وہ چیک علی کو دے دیا اور کہا: یہ لو جس کام کے لئے تم آئے تھے اب جاؤ یہاں سے۔
علی نے جلدی سے وہ چیک پکڑا اور کہا: واہ 10 لاکھ۔
عثمان نے غصے سے کہا: میں نے کہا جاؤ یہاں سے۔
ی نے کہا: جی جی ٹھیک ہے خدا حافظ۔
علی جانے ہی لگا تھا کہ عثمان نے اسے روکتے ہوئے کہا: سنو اب تم اپنا منہ بند رکھنا اور میری ریکارڈنگ بھی ڈلیٹ کردو پلیز۔
علی نے کہا: ہاں ہاں ٹھیک ہے کردو گا خدا حافظ۔
یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا۔
عثمان نے سکھ کا سانس لیا اور واپس اپنی سیٹ پر جاکر بیٹھ گیا۔
علی بہت خوش تھا اب وہ ان دس لاکھ روپے کے ساتھ خوب ایاشیاں کرنا چاہتا تھا اور ویسا ہی وہ کررہا تھا وہ گھومنے کے لئے ملک سے دو دن بعد باہر چلا گیا۔
دوسری طرف آزر اور اس کے گھر والے کافی پریشان تھے آزر کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا ڈاکٹر بھی مسلسل علاج کررہے تھے۔
آئمہ رو رو کر اللہ سے دعا کررہی تھی۔
پھر ایک دن آئمہ آزر کے پاس گئ جب وہاں کوئ ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔
آئمہ آزر کے قریب روتے ہوئے گئ آئمہ نے آزر کی حالت سر سے پاؤں تک دیکھی اس کا دل پھٹنے کو آرہا تھا۔
آئمہ آزر کے قریب جاکر بیٹھ گئ اور آزر کا ہاتھ پکڑ کر روتے ہوئے کہا؛اااا آزر آزر دیکھو میں آئ ہو تمہاری محبت دیکھو آنکھیں کھولو پلیز۔
لیکن آزر ویسے کا ویسا پڑا تھا۔
آئمہ نے پھر سے روتے ہوئے کہا: آزر مجھ سے تمہاری یہ حالت نہیں دیکھی جارہی ہے پلیز خدا کے لئے اپنی آنکھیں کھولو پلیز۔
مگر آزر بلکل بھی نہیں ہلا تھا۔
آئمہ آزر کے اور قریب گئ اپنا منہ آزر کے منہ کے پاس لے کر گئ اور اپنا ہاتھ اس کے منہ پر پھیرتے ہوئے پھر سے روتے ہوئے کہا: آزر آنکھیں کھولو پلیز۔
آئمہ کا رو رو کر برا حال تھا جب آئمہ کی آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسو آزر کے گالوں پر گرے تو آزر نے اپنا ہاتھ ہلکا سا ہلایا آئمہ نے جب یہ دیکھا تو اس کی آنکھوں میں ایک نیا چمک ابھر آئی۔
آئمہ نے آزر کی طرف دیکھا اور کہا: آزر آزر کوشش کرو پلیز تم یہ کرسکتے ہو اٹھو آزر میں تمہارے ساتھ ہو۔
ایک منٹ تک تو آزر نے کوئ جواب نہیں دیا پھر اچانک آزر نے دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی یہ دیکھ کر آئمہ خوشی سے پاگل ہورہی تھی۔
آئمہ نے اونچی اونچی ڈاکٹرز کو آواز دی شور کی آواز سن کر ڈاکٹرز سمیت آئمہ کے ساس سسر بھی اندر آگئے آئمہ نے ڈاکٹرز کو کہا: ڈاکٹر دیکھئے آزر کو ہوش آرہا ہے دیکھئے۔
ڈاکٹر آگے بڑھا اور اس نے آزر کی آنکھیں کھول کر دیکھا۔
آزر کو واقعی ہوش آرہا تھا سب بہت خوش ہوئے ڈاکٹر نے جلدی سے آزر کو تھوڑا سا ہلایا جس کی وجہ سے آزر نے فوراً اپنی آنکھیں کھول دی یہ دیکھ کر سب لوگ بہت بہت خوش ہوئے آزر نے سب کی طرف دیکھا آئمہ آزر کے قریب گئ اور روتے ہوئے کہا: آزر دیکھو تم ٹھیک ہوگئے اللہ نے ہماری دعا سن لی ازر۔
آزر نے آئمہ کی طرف دیکھا۔
آزر اب مکمل طور پر ہوش میں آچکا تھا۔
ڈاکٹر نے کہا: آزر کیا تم ٹھیک ہو؟؟؟
آزر نے آہستہ سی آواز نکالتے ہوئے کہا: ہاں میں ٹھیک ہو۔
یہ سن کر آزر کے ماں باپ آگے بڑھے اور آزر کی ماں نے آزر کا ماتھا چومتے ہوئے کہا: شکر ہے میرے مالک کا میرا بچہ سہی ہوگیا۔
آزر نے کہا: مجھے کیا ہوا تھا؟؟؟
آئمہ نے کہا: کچھ نہیں ہوا تھا کچھ نہیں۔
آزر نے آئمہ کی طرف دیکھا اور کہا: تم رو کیوں رہی ہو میں نے تمہیں کہا تھا نا کہ رونا مت کیوں رو رہی ہو۔
یہ سن کر آئمہ مسکرائ اور اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا: اچھا نہیں رو گی۔
اس وقت آئمہ اور باقی سب اتنے خوش تھے کہ اللہ سے دعا کرتے ہی نہیں تھکتے تھے۔
تھوڑی دیر بعد عثمان بھی وہاں پر آگیا عثمان نے آزر کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا: ارے واہ میرے بھائی کیسے ہو؟؟؟
آزر نے مسکراتے ہوئے کہا: ہاں میں ٹھیک ہو۔
عثمان نے ڈاکٹر سے کہا: کیا اب ہم اپنے آزر کو گھر لے جاسکتے ہیں؟؟؟
ڈاکٹر نے کہا: جی جی ضرور مگر گھر لے جانے سے پہلے آزر کے کچھ ٹیسٹ کروانے ہونگے جو کہ ضروری ہے۔
عثمان نے کہا: ٹھیک ہے پلیز جلدی کردے ڈاکٹر نے سب کو باہر بھیجا اور کہا: دیکھئے آپ سب باہر جائے کچھ دیر کے لئے جب ٹیسٹ ہوجائے گے تو سب آجائیے گا۔
آزر ۔ے باہر جاکر ظہر کی نماز ادا کی اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا: یااللہ تیرا شکر ہے تو نے آزر کی جان بخشی تو نے اسے ندگی دی میں تیری شکر گزار ہو۔
وہ بہت خوش تھی۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر واپس باہر آیا اور سب کو کہا: جی ٹیسٹ بلکل ٹھیک ہے آزر کے اور زخم بھی اب بھر چکا ہے اب آپ لوگ آزر کو گھر لے جاسکتے ہے۔
یہ سن کر سب کے اندر خوشی کی لہر دوڑ اٹھی انہوں نے دیکھا کہ آزر خود چل کر ان کی طرف آرہا ہے۔
یہ دیکھ کر عثمان اور اس کے والد نے جلدی سے آگے بڑھ کر آزر کو سنبھالا۔
آزر نے کہا: میں ٹھیک ہو۔
آزر کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ سب آزر کو سہارا دیتے ہوئے گھر لے گئے گھر جاکر آزر نے کہا: میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں۔
یہ سن کر عثمان اور اس کے والد نے آزر کو اس کے کمرے میں چھوڑا آزر کی ماں نے آزر کو ہلدی والا دودھ پلایا
تھوڑی دیر تک وہ سب آزر کیساتھ ہی رہے پھر جب آزر کی آنکھ لگ گئ تو وہ سب بھی وہاں سے چلے گئے مگر آئمہ وہی آزر کے پاس تھی سب بہت خوش تھے۔
اللہ نے اتنی جلدی اچانک ہی آزر کو تندرست کیا اسے اس کے پیروں پر کھڑا کیا اور اسے بولنے کی بھی طاقت دی یہ سب اللہ کی قدرت تھی دیکھتے ہی دیکھتے آزر بلکل ٹھیک ہوگیا تھا آئمہ روز آزر کے پیروں کی مالش کرتی تھی جس کی وجہ سے آزر اپنے پیروں پر ٹھیک کھڑا ہوگیا تھا آزر نے ایک دن آئمہ سے کہا: اگر تم نا ہوتی تو میرا کیا ہوتا۔
آئمہ نے مسکراتے ہوئے کہا: کیوں میں نے ایسا کیا کیا ہے؟
آزر نے کہا: میری مالش میرا اتنا خیال رکھا تم نے یہ سب کچھ کرنے کے باوجود تم پوچھ رہی تھی کہ تم نے کچھ نہیں کیا۔
آئمہ نے کہا: یہ کوئ بڑی بات نہیں ہے تم میرے شوہر ہو میری محبت ہو اور یہ سب کچھ کرنا میرا فرض ہے۔
آزر نے کہا؛ میں بہت خوش ہو۔
آئمہ نے کہا: بس آزر اب کل ہم دونوں مل کر پولیس اسٹیشن جائے گے۔
آزر نے حیرانگی سے کہا؛ کیو؟؟؟
آئمہ نے کہا: جس نے تمہارا یہ حال کیا تھا وہ یوں ہی آزاد پھر رہا ہے اس کو پکڑنا ہے۔
آزر نے کہا: رہنے دو!
آئمہ نے حیرانگی سے آزر کی طرف دیکھا اور کہا: کیوں ایسے کیسے میں اسے چھوڑو گی نہیں۔
آزر نے کہا: میں نے اسے معاف کیا ویسے بھی سب میں بلکل ٹھیک تمہارے سامنے کھڑا ہو اب کیا ضرورت ہے جانے کی۔
آئمہ ابھی کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ آزر نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا: بس آئمہ رہنے دو۔
آئمہ کو غصّہ تو بہت آرہا تھا مگر وہ کچھ بھی نہیں کرسکتی تھی آخر تھک ہار کر اس نے آزر کا کہا مان لیا۔
کچھ دن بعد علی باہر سے واپس آگیا اس کے پاس جتنے پیسے تھے وہ سب اس نے اپنی ایاشیوں میں اڑا دئے تھے اب اس کے پاس گھر چلانے کے لئے بلکل بھی پیسے نہیں تھے
اس کے گھر میں راشن پانی سب ختم ہوچکا تھا۔
اس کا بے حال تھا آخر تھک ہار کر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ دوبارہ عثمان سے پیسے مانگے گا اسے دھمکی دے کر کیونکہ ابھی تک اس نے عثمان کی وہ ریکارڈنگ ڈلیٹ نہیں کی تھی۔
اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ کل عثمان کے پاس جائے گا پیسوں کے لئے۔
رات ہوگئ تھی آئمہ کچن میں تھی آزر کے لئے سوپ بنارہی تھی کہ اچانک اسے چکر آگئے اور اس کے ہاتھوں سے سوپ کا برتن گر کے ٹوٹ گیا آئمہ کو چکر کیساتھ ساتھ الٹی بھی آرہی تھی وہ جلدی سے لڑکھڑاتی ہوئی واش روم گئ اور الٹیاں کرنی شروع کردی شور کی آواز سن کر آزر اور باقی گھر والے وہاں پر آگئے انہوں نے جلدی سے آئمہ کی حالت دیکھی آزر نے آگے بڑھ کر آئمہ کو سنبھالا۔
آزر کی ماں نے آزر سے کہا: مجھے لگتا ہے آئمہ کو ہسپتال لے کر جانا چاہئے۔
آزر نے کہا: ٹھیک ہے امی چلتے ہیں۔
آزر نے جلدی سے آئمہ کو گاڑی میں بٹھایا اور سیدھا اسے ہسپتال لے گیا آزر کیساتھ ساتھ اس کے والدین بھی گئے تھے۔
ہسپتال پہنچ کر ڈاکٹر نے آئمہ کو چیک کیا مکلم چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے سب کو اندر آنے کو کہا؛ سب اندر آئے ڈاکٹر نے سب کو مسکراتے ہوئے کہا: مبارک ہو آپکی بہو ماں بننے والی ہے۔
یہ سن کر آزر نے خوشی سے آئمہ کی طرف دیکھا آئمہ بھی یہ سن کر مسکرا رہی تھی جبکہ آزر کے ماں باپ کی تو خوشی کی کوئ انتہا ہی باقی نا رہی آزر نے ڈاکٹر سے کہا: کیا واقعی؟؟؟
ڈاکٹر نے کہا: جی جی بلکل آپ باپ بننے والے ہے۔
یہ سن کر آزر کی آنکھوں سے خوشی کہ انسو نکلنا شروع ہوگئے آزر کے ماں باپ بھی بہت خوش تھے تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر نے انہیں دوائیاں لکھ کر دی اور دوائیاں لے کر وہ سب وہاں سے چلے گئے سب بہت خوش تھے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *