Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor NovelR50830 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode01
Rate this Novel
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode01 (Watching)Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode02 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode03 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode04 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode05 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode06 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode07 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode08 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode09 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode10 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode11 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode12 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode13 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode14 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode15 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode16 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode17 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Last Episode
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode01
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode01
مجھے یقین نہیں آرہا ہے آزر کے کل ہماری شادی ہے افففف میں بہت خوش ہو۔ آئمہ بہت خوش تھی کیونکہ اس کی شادی اسکی پسند کی ہورہی تھی اور وہ خوشی سے جھوم رہی تھی اور تقریباً 2 گھنٹے سے فون پر آزر کو کہہ رہی تھی کے کل ہماری شادی ہے میں بہت خوش ہو۔
جبکہ آزر بھی بہت خوش تھا یہ دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں۔
اصل میں آئمہ اور آزر ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے یہ اور ایک ہی کلاس کے اسٹوڈنٹس تھے سب سے پہلے آزر نے آئمہ کو پرپوز کیا تھا کیونکہ اسے آئمہ پہلے دن سے ہی بہت پسند تھی اور وہ موقع کی تلاش میں ہی رہتا تھا کہ کب وہ آئمہ کو پرپوز کرے اور آخر کار اسے موقع تب ملا جب آئمہ کلاس میں اکیلی تھی اور وہ بھی اکیلا تھا آزر نے جب سے آئمہ کو دیکھا تھا وہ تب سے ہی اپنے بیگ میں ایک گلاب کا پھول رکھتا تھا تاکہ جب اسے موقع ملے وہ اس پھول سے آئمہ کو پرپوز کرے اور آخر وہ دن آ ہی گیا آزر کو بہت گھبراہٹ ہورہی تھی اور اسے بہت ڈر بھی لگ رہا تھا مگر دوستوں کی اسپورٹ کی وجہ سے آزر نے ہمت کی وہ آئمہ کے پاس گیا آئمہ اپنا سر جھکائے کتاب پڑ رہی تھی آزر اس کے قریب گیا آزر نے گلاب کا پھول اپنے پیٹھ پیچھے چھپایا ہوا تھا آزر نے بڑی مشکل سے آئمہ کی طرف دیکھا اور کہا: excuse me آئمہ نے اپنا سر اٹھایا اور آزر کی طرف دیکھنے لگی اور کہا: Yes۔
آزر نے کہا: جی کیا آپ میری بات سنے گی۔
آئمہ نے کہا: جی بولئے۔
آزر نے کہا: وہ وہ وہ میں۔۔۔
آئمہ نے کہا: ارے وہ میں کیا کہیے جو کہنا ہے؟؟؟
آزر نے پھول آئمہ کی طرف کیا اور کہا: I love you میری بات کا برا مت مانیے گا مگر یہی سچ ہے کہ میں آپ سے بہت محبت کرتا ہو قسم سے جب سے آپکو دیکھا ہے میں خود کو روک نہیں پایا اور آج موقع ملتے ہی آپکو بتا دیا پلیز مجھے غلط مت سمجھئے گا۔
آئمہ نے کہا: اوووو پھول تو بہت اچھا ہے۔
اس نے پھول پکڑ لیا اور کہا: مجھے بھی اسی موقع کا ہی انتظار تھا کیونکہ میں چاہتی تھی کہ آپ خود آکر مجھے پرپوز کرے اور میری دوستوں نے مجھے پہلے ہی اطلاع دے دی تھی کے آل مجھے پرپوز کرنے آرہے ہے کیونکہ میں نے اپنی دوستوں کو آپکی جاسوسی کے لئے رکھا ہوا تھا by the way I love you too.
یہ سن کر آزر کو یوں لگا جیسے وہ کوئ خواب دیکھ رہا ہو مگر وہ سب حقیقت تھی وہ بہت خوش ہوا اس نے کہا: ارے واہ مطلب آپ بھی o my god مجھے یقین نہیں ہورہا۔
آئمہ نے کہا: میں نے بھی جب سے آپکو دیکھا ہے میرے دل میں جیسے اب آپکی ہی دنیا ہے آپ نے اپنی جگہ بنا لی ہے میرے دل میں۔
آزر نے آئمہ کی طرف دیکھا اور کہا: آپ مانے یا نا مانے لیکن یہی محبت ہے۔
اتنے میں آزر کے دوست اور آئمہ کی دوست جو کہ کب سے باہر کھڑے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے وہ سب کلاس کے اندر ہنستے ہوئے آئے۔
آزر اور آئمہ نے چونک کر ان سب کی طرف دیکھا۔
آزر کے دوستوں نے کہا: ارے واہ آزر صاحب آخر آپکی پریشانی بھی حل ہو ہی گئ۔
یہ سن کر سب ہنسنے لگ پڑے سب بہت خوش تھے۔
یوں پھر ایک سال گزر گیا آزر اور آئمہ ہر وقت فون پر بات کرتے رہتے تھے ایک دن آزر نے آئمہ سے کہا: آئمہ آئمہ بہت دن ہوگئے اب میں کل اپنے والدین کو تمہارے گھر بھیج رہا ہو رشتے کے لئے۔
یہ سن کر آئمہ حیران ہوئ اور کہا: ارے اچانک سے ہی ابھی رہنے دو ہمیں تیاریاں بھی تو کرنی ہے۔
آزر نے ہنستے ہوئے کہا: ارے میں کونسا برات لے کر آرہا ہو جو تیاریاں کرنی ہے۔
آئمہ بھی مسکرا دی اور کہا: اچھا چلو ٹھیک ہے میں اپنے parents کو بتا دو گی۔
یہ سن کر آزر بہت خوش ہوا تھوڑی دیر بعد آئمہ نے کھانے کے ٹیبل پر اپنے والدین کو سب کچھ بتا دیا۔
آئمہ کے والدین نے کہا: بیٹا تمہاری خوشی میں ہی ہماری خوشی ہے ہم راضی ہے۔
یہ سن کر آئمہ بہت خوش ہوئ اور کہا: موم ڈیڈ آپ دونوں بہت اچھے ہیں میں بہت lucky ہو۔
آئمہ کے والدین نے کہا: تم ہماری اکلوتی اولاد ہو اور تم ہی ہماری سب کچھ ہو۔
یہ سن کر آئمہ نے کہا: thank you mom thank you dad یہ کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں گئ اور آزر کو فون کرکے اسے سب کچھ بتایا اور کہا: تم کل اپنے والدین کیساتھ آسکتے ہو۔
آزر بہت خوش ہوا اور کہا: میں آرہا ہو کل۔
یہ سن کر آئمہ نے کل کاٹ دی آزر نے بھی جاکر سب کچھ اپنے والدین کو کہا آزر کے والدین بھی بہت خوش ہوئے اور کہا: ٹھیک ہے بیٹا مگر؟؟؟
یہ سن کر آزر نے کہا: مگر کیا امی؟
اس کے والدین نے کہا: آزر بیٹا تمہارا ابھی بڑا بھائ بھی ہے ہم ایسا کرتے ہیں کل آئمہ کے گھر جاکر انہیں ایک سال کا تاہم دے اتے ہیں۔
یہ سن کر آزر نے کہا: نہیں امی ایسے نہیں چلے گا بھائ کی شادی مجھ سے پہلے کیسے ہوسکتی ہے اب اسکی بیوی مرگئ اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کے میں ایسے ہی بیٹھا رہو۔
اس کے والدین نے کہا: بیٹا مگر!
یہ سن کر آزر نے بات کاٹتے ہوئے کہا: اگر مگر کچھ نہیں بس جو ہونا ہے وہی ہوگا اور ویسے بھی بھائ شادی نہیں کرنا چاہتے آپ بس میری شادی کا سوچے۔
یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا آزر کے والد نے کہا: ٹھیک ہی کہہ رہا ہے ہمیں اسکی شادی پہلے ہی کردیں چاہئے عثمان کی شادی بھی ہو ہی جائے گی اللہ کرے گا۔
یہ سن کر آزر کی والدہ بھی راضی ہوگئ۔
یوں پھر کل آزر اور اس کے والدین آئمہ کے گھر گئے انہیں آئمہ بہت پسند آئ اور اس کے والدین بھی آزر مسلسل آئمہ کی طرف دیکھ رہا تھا اور اسے آنکھ مار رہا تھا آئمہ اشاروں سے اسے روک رہی تھی یوں پھر شادی کی ڈیٹ بھی فکس ہوگئ دونوں بہت خوش تھے۔
لیکن ابھی انکی خوشیوں کو نظر لگنا باقی تھی۔
