Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor NovelR50830 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode10
Rate this Novel
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode01 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode02 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode03 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode04 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode05 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode06 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode07 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode08 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode09 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode10 (Watching)Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode11 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode12 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode13 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode14 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode15 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode16 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode17 Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Last Episode
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode10
Tera Ishq Zehar Jaisa by Moaen Noor Episode10
سب لوگ ہسپتال سے گھر واپس آئے سب کے چہروں پر ایک نئ خوشی تھی۔
آزر بھی بہت خوش تھا آخر کار اسکی خواہش پوری ہونے جارہی تھی جبکہ آئمہ بھی آزر کی خوشی میں خوش تھی۔
سب آئمہ کو اندر لے کر گئے۔
آئمہ کی ساس نے آئمہ کو صوفے پر بٹھایا اور باقی سب بھی وہی پر صوفوں پر بیٹھ گئے۔
آئمہ کی ساس کچن سے مٹھائ کا ڈبہ لے کر آئ اور سب کا منہ میٹھا کیا اور کہا: آج میں بہت خوش ہو آخر کا مجھے بھی اس گھر میں اپنا پوتا یا پھر پوتی کھیلنے کو ملے گے جو مجھے پیار سے دادو دادو بلائے گے۔
اس کے چہرے پر ایک نئ خوشی جگمگا رہی تھی۔
آئمہ نیچے منہ کرکے بیٹھی تھی وہ کافی خوش نظر آرہی تھی ۔
آزر بھی آئمہ کیساتھ ہی بیٹھا تھا جو کہ خوشی سے اپنی ماں کی باتیں سن رہا تھا۔
آئمہ کے سسر نے کہا: بھائ اب تو میں دادا بننے والا ہووووو۔
وہ اصل میں کافی خوش تھا اور پتا نہیں کیا کیا کہی جارہا تھا۔
اچانک ہی وہاں پر عثمان بھی آگیا عثمان نے حیرانگی سے سب کی طرف دیکھا اور کہا: ارے سب یہاں پر اور یہ مٹھائ کس خوشی میں۔
عثمان کو دیکھ کر آئمہ نے اپنا سر اور جھکا لیا کیونکہ وہ عثمان کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی تھی اس خوشی کہ موقع پر۔
عثمان کی ماں نے کہا: ارے بیٹا آج بہت ہی خوشی کی خبر ملی ہے ہمیں۔
عثمان نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور کہا: خوشی کی خبر مگر کیسی؟؟؟
اس کی والدہ نے مٹھائ کے ڈبے میں سے ایک لڈو اٹھایا اور عثمان کو کھلاتے ہوئے کہا: مبارک ہو تم تایا بننے والے ہو۔۔۔
یہ سن کر عثمان کو حیرت کا جھٹکا لگا اس نے اپنی پھٹی آنکھوں سے آئمہ کی طرف دیکھا۔
اسے یقین نہیں آرہا تھا مگر وہی سچ تھا۔
کیا وہ کوئ خواب دیکھ رہا تھا؟؟؟
مگر نہیں وہی حقیقت ہی تھی۔
عثمان کا یہ رویہ دیکھ کر سب حیران ہوگئے۔
آزر نے عثمان کو دیکھا اور عثمان کے پاس جاکر کہا: بھائ کیا ہوا سب ٹھیک ہے؟؟؟
عثمان نے آزر کی طرف دیکھا اور بڑی مشکلوں سے کہا: ہا ہاں میں میں ٹھیک ہو مبارک ہو تمہیں۔
عثمان نے بڑی مشکلوں سے خود کو سنبھالا۔
آزر نے کہا: مگر آپ کو یہ اچانک کیا ہوا۔
اب تو آئمہ بھی عثمان کی طرف دیکھ رہی تھی۔
عثمان نے آئمہ کی طرف دیکھا آئمہ نے پھر سے غصے سے اپنی نگاہیں نیچے کرلی۔
عثمان نے بڑی مشکلوں سے اپنے چہرے پر مسکراہٹ بھکیری اور کیا: مبارک ہو آزر میں بہت خوش ہو۔
پھر جا سب کو سکون ملا۔
عثمان نے کہا: اچھا میں چلتا ہو مجھے آرام کی ضرورت ہے۔
یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا۔
آزر اور اس کے ماں باپ نے زیادہ توجہ نا دی اور بھر واپس جاکر اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔
آئمہ کی ساس نے آئمہ کو کہا: بیٹا اب سے تمہیں کسی بھی قسم کے کام کو کرنے کی کوئ ضرورت نہیں ہے گھر میں بہت سے نوکر ہے اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو نوکروں سے کہہ دینا۔
آئمہ ابھی کچھ کہنے ہی لگی کہ اس کی ساس نے آئمہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا: بس جو میں نے کہہ دیا سو کہہ دیا۔
آئمہ نے پھر سے اپنی نگاہیں نیچے کرلی۔
تھوڑی دیر تک وہ سب باتیں کرتے رہے پھر وہ سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے آزر کمرے میں جاکر بھی آئمہ کیساتھ بیڈ پر لیٹ کر بھی کافی دیر تک باتیں کرتا رہا تھا بچے کے بارے میں کہ جب بچہ آئے گے وہ اس کا یہ نام رکھے اس سے وہ کروائے گا یہی باتیں کرتے کرتے اسکی آنکھ لگ گئ آئمہ نے آزر کے اوپر کمبل کیا اور خود بھی لیٹ کر سوگئ۔
مگر!
دوسری طرف عثمان کی نیند تو شاید کوسوں دور تھی اس کا دل یہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا کہ جو اس نے سنا اور دیکھا کیا وہ سچ تھا۔
مگر نہیں وہ سب حقیقت تھا۔
اسے لگ رہا تھا کہ آئمہ کے پیٹ میں جو بچہ تھا وہ اس کا تھا وہ آزر کا نہیں تھا۔
اسے یہ بات ستائ جارہی تھی۔
اسے ڈر تھا کہ اگر آزر نے ڈی این اے کروا لیا تو کیا ہوگا۔
اس کا راز فاش ہوجائے گا۔
اففففف یہی سوچ سوچ کر اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔
اسے لگ رہا تھا کہ آئمہ کے پیٹ میں جو بچہ تھا وہ آزر کا نہیں تھا بلکہ اس کا تھا۔
یہی سوچتے سوچتے رات کے تین بج چکے تھے کے اچانک اسے کچن سے شور کی آواز آئ۔
وہ اپنے بستر سے اٹھا اور دروازہ کھول کر کچن کی طرف گیا اس نے دیکھا کہ سامنے آئمہ فرج سے پانی کی بوتل لے کر گلاس میں بھر کر پی رہی تھی آئمہ کا منہ دوسری طرف تھا۔
عثمان آئمہ کے ٹھیک پیچھے جاکر کھڑا ہوگیا۔
آئمہ کو شک ہوا کہ اس کے پیچھے کوئ کھڑا ہے اس نے پلٹ کر دیکھا تو پیچھے عثمان تھا عثمان کو دیکھ کر اس کا میٹر گھوم گیا اس سے پہلے کے اسے اور غصہ اجاتا وہ وہاں سے جانے لگی کہ اچانک عثمان اس کے راستے میں کھڑا ہوگیا۔
آئمہ کو غصہ آگیا اس نے عثمان کی طرف دیکھا اور غصے سے کہا: اس سے پہلے کہ میں شور مچا کر سب کو اکھٹا کرو میرے راستے سے دفع ہوجاو۔
عثمان نے کہا: ہوجاو گا دفع پہلے میری ایک بات تو سنو پلیز!
آئمہ نے مزید غصے سے کہا: مجھے تمہاری کوئ بھی بات نہیں سننی دفع ہو جاؤ۔
وہ ایک پرت ہوکر جانے لگی کہ عثمان نے آئمہ کا بازو پکڑ لیا اور کہا: مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے آخر بات ہمارے بچے کی ہے!!!!
یہ سن کر آئمہ نے زور سے اپنا بازو چھڑایا اور آنکھیں پھاڑ کر عثمان کی طرف نہایت غصے سے دیکھتے ہوئے کہا؛ ہمارے بچے کی؟؟؟؟ کونسے بچے کی بولوووو کونسے بچے کی؟؟؟؟
عثمان نے کہا: وہی بچہ جو تمہارے کوک میں پل رہا ہے وہ ہمارا بچہ ہے میرا بچہ ہے!!!!!
بس عثمان نے ابھی اتنا ہی کہا کہ آئمہ سے اور برداشت نا ہوا اور اس نے ایک سہی بناکر عثمان کے منہ پر تھپڑ دے مارا اور اپنی لال سرخ آنکھیں پھاڑ کر عثمان کی طرف دیکھا اور کہا: بسسس بہت سن لی میں نے تمہاری بکواس بسسسس اب اگر آئندہ تم نے ایسی کوئ بھی بات کی تو اس بار تو میں نے تمہیں تھپڑ مارا ہے اگلی بار گولی مارو گی سمجھ آئی۔۔۔۔۔
یہ کہہ کر وہ وہاں سے سیدھا سیڑھیاں چڑھنے لگ پڑی اور اوپر اپنے کمرے کے جانب بڑھنے لگ پڑی عثمان نے پیچھے سے آئمہ کو آواز بھی دی اور کہا: تم حقیقت نہیں بدل سکتی سمجھ آئی نہیں بدل سکتی۔۔۔۔۔
صبح کے 8 بج چکے تھے اور آئمہ ابھی تک سو رہی تھی رات کو وہ کافی دیر تک عثمان کی پریشانی لے لے کر نہیں سو پائ تھی۔
آزر پہلے ہی اٹھ چکا تھا اور آفس کے لئے تیار ہورہا تھا۔
آئمہ کافی گہری نیند میں سو رہی تھی پھر آزر کو آئمہ کو اٹھانا مناسب نہیں لگا اور ویسے بھی آئمہ پریگننٹ تھی اور اسے آرام کی ہی ضرورت تھی۔
یو پھر آزر جلدی جلدی تیار ہوا اور پھر سب کیساتھ ناشتہ کرکے آفس کے لئے نکل گیا عثمان بھی ساری رات سو نہیں پایا تھا کیونکہ وہ بھی کافی پریشان تھا اسے پکا پتا تھا کہ آئمہ کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ اس کا ہے۔
بس یہی سوچ سوچ کر اس کا دماغ ماؤف ہورہا تھا۔
وہ کمرے میں ہی تھا اس کی والدہ کو فکر ہوئ کیونکہ وہ ناشتہ کے ٹیبل پر بھی نہیں۔ آیا تھا۔
اس نے دروازہ کھولا اور دیکھا کہ عثمان سو رہا ہے اس نے عثمان کو جگانا مناسب نا سمجھا اور پھر واپس چلی گئ کیونکہ وہ خود بھی یہی چاہتی تھی کہ عثمان اور آزر ہفتے میں کم از کم ایک بار چھٹی کرلیا کرے گھر والو کو بھی ٹائم دے دیا کرے۔
اور ہر ماں ہی ایسا ہی سوچتی ہے۔
عثمان کی ماں اوپر آزر کے کمرے میں آئمہ کو بھی دیکھنے گئ اور آئمہ بھی سو رہی تھی آئمہ کو سوتے دیکھ کر وہ نیچے آگئ۔
کیونکہ آئمہ کو آرام کی ہی ضرورت تھی۔
دن کے 11 بج چکے تھے پھر جا آئمہ کی آنکھ کھلی اس نے اس پاس دیکھا مگر وہاں کوئ نہیں تھا پھر اس نے اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں گیارہ بجے پڑے تھے وہ کبھی اتنا لیٹ نہیں اٹھی تھی اور اس بات سے وہ کافی حیران بھی ہوئ۔
اور اسے اس بات پر دکھ بھی ہورہا تھا کہ آزر کو وہ ناشتہ بھی نا بناکر دے سکی اور وہ چلا گیا۔
یہی سوچتے سوچتے وہ اپنے بیڈ سے اتری اور واش چلی گئ ہاتھ منہ دھو کر وہ نیچے آگئی نیچے جاکر وہ اپنی ساس کے کمرے میں گئ اس کی ساس کمرے میں ہی موجود تھی آئمہ اپنی ساس کے قریب گئ۔
آئمہ کی ساس نے آئمہ کی طرف دیکھا اور کہا: ارے بیٹا تم اٹھ گئ؟؟؟
آئمہ نے کہا: جی امی!
اس کی ساس نے کہا: اچھا طبیعت کیسی ہے اب تمہاری؟؟؟
آئمہ نے کہا: جی ٹھیک ہو۔ امی کیا آزر چلا گیا افس؟؟؟
اس کی ساس نے کہا: ہاں وہ تو کب کا چلا گیا تم سو رہی تھی نا شاید اس نے جگانا مناسب نہیں سمجھا۔
آئمہ نے کہا: اوووو ہووو امی کچھ نہیں ہونا تھا مجھے میری نماز بھی رہ گئ۔
اس کی ساس نے کہا: اوووو چلو کوئ بات نہیں اگر مجھے پتا ہوتا تو میں اٹھا دیتی تمہیں چلو میں آئندہ خیال رکھو گی تم چلو میرے ساتھ اب میں تمہیں ایک صحت مند ناشتہ بناکر دیتی ہو۔
آئمہ نے منع کرنے کی کوشش بھی کی مگر ناکام رہی۔
عثمان اپنے کمرے میں ہی سو رہا تھا کہ اچانک اس کے فون کی بیل بجی بیل کی آواز سن کر اس کی آنکھ کھل گئی اس نے بڑی مشکلوں سے نیند میں فون اٹھایا اور بغیر دیکھے فون کی کال اٹھا لی۔
ہاں کہا ہو تم”
عثمان نے کہا: کون ہو تم؟؟؟
میں ہو علی”
عثمان اٹھی کر بیٹھ گیا علی کا نام سن کر جیسے اس کی نیند دور ہوگئ ہو۔
عثمان نے کہا: ہاں بولو کیسے کال کی؟؟؟
علی نے کہا: تم آج آفس نہیں آئے کیوں؟؟؟
عثمان نے کہا: جی خیریت ہی ہے بس آج زرا میری طبیعت خراب ہے کیوں کیا ہو؟؟؟
علی نے غصے سے کہا: میں یہاں صبح سے تمہارے دفتر میں۔ بیٹھا تمہارا انتظار کرہا ہو اور تم آرام فرما رہے ہو۔
یہ سن کر عثمان نے حیرانگی سے پوچھا: کیوں تم میرے دفتر میں کیا کرہے ہو بولو۔
علی نے ایک لمبا سانس خارج کیا اور کہا: ہاں مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت تھی۔۔۔
یہ سن کر عثمان کو بھی غصّہ آگیا اور اس نے کہا: کیا مطلب پیسوں کی ضرورت ہے تمہیں میں نے تمہیں تمہارے پیسے دے دئے ہیں اب کونسے پیسے لینے تم میرے دفتر میں بیٹھے ہو؟؟؟
علی نے غصے سے جواب دیا: اوووو لگتا ہے تم کچھ بھول رہے ہو۔
عثمان نے کہا: دیکھو میں نے تمہیں تمہارے پیسے دے دئے تھے اب میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کوئ پیسے نہیں ہے۔
علی نے کہا: تمہارے پاس بہت پیسہ ہے مگر تم دینا نہیں چاہتے مگر فکر مت کرو مجھے لینے آتے ہیں پیسے۔
یہ سن کر عثمان کا بھی میٹر گھوم گیا اس نے کہا: کیوں کیا کر لو گے تم میری ریکارڈنگ سب کو سنا دو گے تو سنا دو تمہیں کیا لگتا ہے تم جو کہوں گے ویسا ہی ہوگا۔
یہ سن کر علی نے اپنے دانتوں کو غصے سے بھینچا اور کہا: تمہاری اتنی ہمت رکو زرا اب دیکھنا میں تمہارا کیا حال کرو گا۔
یہ کہہ کر علی نے فون کاٹ دیا۔
عثمان نے غصے میں آکر ناجانے علی کو کیا کیا کہہ دیا تھا یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا لیکن اب اسے ڈر لگنے لگ پڑا تھا وہ جلدی سے اٹھا اپنی شرٹ پہنی اور جلدی سے باہر نکلا اپنی گاڑی نکالی اور سیدھا اپنے آفس کی طرف روانہ ہوگیا جب وہ اپنے آفس پہنچا تو وہاں کوئ موجود نہیں تھا اب اسے ڈر لگ رہا تھا پتا نہیں علی کہاں چلا گیا تھا۔
سوچ سوچ کر اس کا دماغ پھٹنے کو آرہا تھا۔
وہ دل ہی دل میں خود کو ہی گالیاں دے رہا تھا اس نے اپنا فون نکالا اور ناچاہتے ہوئے بھی علی کو کال کی مگر علی کا موبائل بند تھا اس نے پھر سے کال کی مگر علی کا نمبر بند تھا یہ دیکھ کر اس کے پسینے چھوٹنے لگ پڑے تھے۔۔۔۔
ابھی وہ یہی سوچ رہا تھا کہ اچانک اس کا موبائل پھر سے بجنے لگ پڑا اس نے جھپٹ سے کال اٹھائ۔
ہیلو عثمان کہاں ہو تم؟؟؟ عثمان کے والد نے کہا۔
عثمان نے کہا: جی جی ابو میں آفس ہو!!
عثمان کے والد نے کہا: ابھی اور اسی وقت گھر آؤ جلدی۔
عثمان نے ڈرتے ہوئے کہا: کیوں ابو سب خیریت ہے؟؟؟؟؟
عثمان کے والد نے کہا: تم گھر آؤ جلدی بس سب پتا چل جائے گا جلدی آؤ۔
یہ کہہ کر عثمان کے والد نے کال کاٹ دی عثمان کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔
عثمان نے کچھ دیر سوچا پھر وہ وہاں سے سیدھا اپنے گھر گیا جب وہ گھر کے اندر داخل ہوا توووووووووووووووووووووووووووو؟؟؟؟؟؟؟؟؟!!!!!!!
