Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes Readelle 50359 Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 9)
No Download Link
Rate this Novel
Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 9)
Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes
وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ تیزی سے گزرنے لگا ” بھٹی ولا میں گزشتہ ایک مہینے سے خوشیوں کا سماں تھا نکاح کی تیاریوں اور گھر کی ڈیکوریشن میں وہ اس قدر مصروف تھے کہ وہ بنفشہ کو پوری طرح بھلا چکے تھے ” حارب نے ایک بار بھی اسکا ذکر نہیں کیا تھا محب ماشاء اللہ سے چار ماہ کا ہو چکا تھا اور خاصا صحت مند بھی ،گولو مولو سا سرخ و سفید رنگت والا محب سب کی جان بن چکا تھا ۔
اسکی چھوٹی قلقاریاں ولا کے درو دیوار میں خوبصورتی بکھیرتی ماحول کو مزید تقویت بخشتی کہ انکے دن خوبصورت اور دلکش گزرنے لگے ” زیست کی خواہش پر وہ اس کے ساتھ ڈانس پریکٹس کرتی ، اس کی خواہش کو مد نظر رکھتے انہوں نے ساری شاپنگ کی تھی اس سب میں نین کی بیسٹ فرینڈ نے بھی بڑھ چڑھ کر شمولیت کی تھی ۔
انہیں کھلکھلاہٹوں اور ساتھ میں انکا وقت گزر گیا ، نکاح کا جوڑا وہ حاشر کے ساتھ خریدنے گئی تھی کہ اسکی خواہش حاشر نے ظاہر کی تھی ۔
اس سب میں حاشر کافی مصروف تھا کہ گھر میں پہلی شادی تھی اور وہ اکلوتا بیٹا تھا اسے ہاسپٹل کے ساتھ ساتھ گھر کو بھی دیکھنا پر رہا تھا البتہ اسکے کزن دس دن پہلے ہی تشریف لا چکے تھے کہ انکا زیادہ تر ددھیال امریکہ میں آباد تھا تو وہ نکاح سے پہلے انکی خوشی میں شامل ہونے کے لیے آئے تھے ۔
دونوں جانب زورو شورو سے انتظامات مکمل کیے جا رہے تھے حارب نے بنفشہ سے کوئی رابطہ نہ کیا تھا اور نہ اسکی جانب سے کوئی پیش رفت ہوئی تھی لیکن وہ اسکی مصروفیات سے اچھے سے آگاہ تھا ۔وہ کہاں جاتی ہے کس کے ساتھ جاتی ہے وہ سب سے با خبر تھا
مگر کسی مصلحت کے تحت خاموشی اختیار کی ہوئ تھی اور رحمان صاحب کو بھی بس خاموش رہنے کا کہا تھا ۔
آیت ہارون کو اس کے آفس میں کام کرتے مہینہ ہونے کو آیا تھا اور اسکی پروگریس اچھی جا رہی تھی اس کے سیکرٹری نے آیت ہارون کی تعریف ہی کی تھی وہ خود بھی اس پر زیادہ بوجھ ڈالنے سے اسے منع کر چکا تھا کہ وہ معصوم بچی اسے اپنی زیست جیسی لگتی تھی اور وہ ہر طرح سے اسکی مدد کے لیے حاضر تھا یہ بات وہ اسے بلا کر بارہا بول چکا تھا مقابل کے احساسات جانے بغیر جو اسے چوری چوری تکتی رہتی تھی اس کے آفس میں آنے کے بہانے تلاش کرتی تھی اسے پسند کرنے لگی تھی اسکی سحر انگیز شخصیت اور نرم لہجے نے اس معصوم لڑکی کو اپنی جانب بری طرح متوجہ کیا تھا ۔
جو ایک حساس طبیعت اور محرومیوں میں پلی بڑھی تھی اسکی تھوڑی سی توجہ پر خوشی سے کھل اٹھتی
کافی بار وہ بہانے تلاش کرتی اس کی گاڑی میں اس کے ساتھ بیٹھتے اپنے گھر گئی تھی اسے وہ شخص پسند آ چکا تھا اور دوسرا اسکی دولت اس سب سے انجان حارب اپنی الجھنوں میں الجھا بٹھا تھا ۔
یار سر کیا لگ رہے ہیں نہ ” آئ لو ہم ہی از سو کول “….. وہ حارب کے آفس کی جانب دیکھتی آنکھوں میں ستائش لیے چمکتی بولی تو ساتھ بیٹھی آرزو نے اسے ٹوکا ” بس کرو شادی شدہ ہیں اور ایک بچے کے باپ ” ۔
تو کیا ہوا محبت یہ سب نہیں دیکھتی ۔ میں تو پھر عشق کی راہی بن چکی ہوں جو مجھے ان کے احساس سے ہی امر کر دیتا ہے ۔ان کی ایک نگاہ مجھے انکی عنائت التفات لگتی ہے انکے ہونٹوں سے نکلا ایک ایک لفظ مجھے امرت سا لگتا ہے انکے لہجے کی گھمبیرتا اور خمار مجھے اپنا اسیر کر گیا ہے ۔ وہ نہ بھی میسر ہوں تو انکی خوشبو ہی میرے روم روم میں اترتی میری سانسوں میں بس چکی ہے ۔
تم کیا جانو محبت کے میم کا مطلب۔ ،، وہ ایک جذب سے کہتی دل پر ہاتھ رکھ گئی ۔
نہ بھئی میں تو جاننا بھی نہیں چاہتی مجھے اپنی جاب بہت پیاری ہے بے شک سر ایک خوبصورت شخصیت اور کردار کے مالک ہیں لیکن یہ جائز نہیں ، جس طرح مرد پر اپنی آنکھوں کو جھکانا واجب ہے اسی طرح عورت پر بھی لازم ہے کہ وہ مرد کو دیکھ کر اپنی نگاہیں جھکائے ، ہاں اگر آپ پسند کرتے ہو کسی کو تو شرعی احکام کے مطابق اس کے ساتھ رشتہِ ازدواج میں بندھ جاؤ لیکن جب آپ جانتے ہو کہ ایسا ممکن نہیں تو پیچھے ھٹ جاؤ ورنہ حصارہ اٹھاو گے کیوں کہ یہ اللہ پاک کی بھی نافرمانی ہے اور ناجائز بھی آرزو نے بڑی سہولت سے اسے سمجھایا تو وہ پست پر گئی ۔
میں کیا کروں آرزو میرا خود پر بس نہیں رہا وہ بے بس سی بولی ” میں جتنا خود کو روکتی ہوں دل اتنا ہی ہمک ہمک کر انہیں دیکھنے کی چاہ کرتا ہے میں خود غرض نہیں ہونا چاہتی لیکن جب مجھے علم ہوا کے سر کی وائف کا ان کے ساتھ تعلق زیادہ اچھا نہیں اور وہ کافی مشکل سے ان کے ساتھ گزارہ کر رہے ہیں تب سے میرا دل مزید انکی جانب مبذول ہونے لگا ہے ۔
میں ہار رہی ہوں خود سے ” اور یہ بات زیادہ اذیت ناک ہے کے میں یک طرفہ محبت کی راہی ہوں وہ میری محبت سے انجان ہیں اور میں چاہتی بھی نہیں کہ یہ کبھی اس راز کو جانیں جو میرے دل اور دماغ میں دفن کر چکی ہوں میں ۔ میں کبھی خود کو ان پر مسلط نہیں کرنا چاہتی میں خود کو ہزار بار باور کرواتی ہوں کہ وہ میرے لیے نہیں ہیں اس دنیا میں ،اور میرا ان سے ملنا انکو دیکھنا مجھے ایک ان دیکھی آگ میں جھونک رہا ہے لیکن اس دل کا کیا کروں ۔ میں جانتی ہوں آپ سوچ رہی ہوں گی کہ یہ دل لگی کیونکر لگائی میں نے سب جانتے ہوے ،، اور یہ بے جا محبت اور دیوانہ پن بہت معیوب سمجھا جائے گا اس کے باوجود میں خود کو پیچھے نہیں ہٹا پا رہی ۔ اس کا بے چین لہجہ اور آنکھوں سے بہتے زارو قطار آنسو اس کے دل کی حالت بیان کے رہے تھے ” میں نے ان سے محبت خود نہیں کی ۔۔ میں تو اس لفظ سے بھی واقف نہ تھی وہ ٹوٹے ہوے لہجے میں روتی بولی تو آرزو کا بھی دل بھر آیا اس کے اس حال پر ۔
بس خاموش ہو جاؤ انشاء اللہ سب بہتر ہوگا ۔۔
میں جاب تلاش کرونگی دوسری کوئی ،،ہو سکتا وہ میری آنکھوں سے دور ہو تو مجھے چین آ جائے ۔
انشاء اللہ اللہ پاک تمہارے حق میں بہتر فرمایں گے تم حق کے راستے پر رہنا کسی کا گھر خراب کرنے سے سوائے بد دعاو کے تمہیں کچھ نہیں ملے گا آرزو کا پر یقین لہجہ اور باتیں اس کے دل پر کاری ضرب لگا رہے تھے ۔
اس معصوم لڑکی کے دل میں کچھ ٹوٹا تھا کیوں میں ہی کیوں!!!…
ایک نگاہ سامنے آفس سے نکلتے حارب پر ڈالی اور اپنی سرخ سوجی آنکھیں جھکا لی ۔
حسن حیا کے پردو میں چھپا ہے
نجانے لوگ اسے کیوں بکھرے بالو اور کم کپڑوں میں تلاش کرتے ہیں ۔
اس نے اپنی چادر کو اپنے گرد لپیٹا اور آروز سے ملتی گھر کے لیے نکلی کے اسے راستے میں کچھ ضروری سامان بھی خریدنا تھا ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــ
ہراول بھٹی پاکستان کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا مغرور بے تحاشہ حسن کا مالک ایک بد دماغ غصیل دولت اور اقتدار کے نشے میں چور اپنی مرضی کا مالک اور آسٹریلیا کا جانا مانا براؤن ڈیول ” جسے لوگ ڈیر ڈیول اور اسکی سانولی رنگت اور تیکھے نقوش کے باعث اسے براون بوائے بھی کہتے تھے ۔
جو اپنی عیاشیوں پرخرچ کرتا اور اپنی یونی ورسٹی والو کے لیے کسی ہیرو سے کم نہ تھا ، ڈانس موسیقی ، ٹینس بولنگ ہر طرح کے کھیلوں میں وہ سب سے سبقت لے جایا کرتا ۔
یونی ورسٹی کا ٹاپر اور سب کی جان” ہراول رحمان بھٹی ” ۔۔۔
اپنے اندر حارب بھٹی کو تباہ کرنے کا عزم لیے وہ وہاں موجود تھا کم عقل انسان یہ جانے بغیر کہ اسکی بہن کیا کرتی پھرتی تھی ۔
اس کی ناقص سوچ میں اسکی مان نے جو خناس بھر دیا تھا وہی اب زہر بنتا دوسروں کو ڈسنے کے لیے تیار تھا ۔
اسکی نگاہ میں اسکی مان بہن سب سے معصوم تھی ” باپ کی محبت اپنی جگہ مگر بہت سی جگہوں پر اسے باپ سے شکایات ہوتی اور وہ انکی بات سے انحراف کرتا ۔
ولا پہنچتے اسے رات کے تین بج چکے تھے ” جب وہ اپنے بھاری قدم اٹھاتا طویل لاؤنج میں داخل ہوا تو سامنے جنت بیگم کو اپنے انتظار میں بیٹھے پایا ” جس چہرے پر سختی اور کڑحتگی کے علاہ کچھ دکھائی نہیں دیتا اس وقت اس پر ملائمت اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی جو سامنے والے کا چین لوٹ لے ” میری جان میرا شہزادہ ” موم وہ آگے بڑھتا انہیں اپنے مضبوط خصار میں جکڑ گیا ۔
یس مم کی جان ” ۔۔۔۔ اس کے خوبصورت شانے تک آتے بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ محبت بھرے لہجے میں گویا ہوئ ۔
آپ کیوں اٹھی ہوئ ہیں میں صبح مل لیتا ” تھک گئی ہونگی آپ ان کے ہاتھوں پر لب رکھتا عقیدت اور احترام سے بولا
آپکو دیکھے بغیر مجھے کب چین آتا ہے میرا بچہ ” بنفشہ سو گئی ۔
جی ” وہ چہرے پر رنج لیے دہیمے لہجے میں گویا ہوئی مجھ سے اس کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی راوی ” وہ بلکل خاموش ہو گئی ہے میری بچی چھوٹی سی عمر میں اتنا بڑا دکھ برداشت کر رہی ہے اور سب سے بڑھ کر اسکا بچہ بھی اس سے چھین لیا ہے ،،کسی طرح کا کوئی رابطہ نہیں کیا ۔
تمہارے ڈیڈ بھی بلکل خاموش ہیں کچھ بولتے نہیں انہیں” میرا تو جی چاہتا ہے حارب کا گریبان پکڑ کر پوچھو اس سے کیوں میری معصوم بچی کی زندگی برباد کی ” کیوں اسے اس روگ میں مبتلا کیا ، میری ہستی کھیلتی بچی پر اپنی خواہشات کا بوجھ ڈالتے اس پر اتنی بڑی زمہ داری ڈال دی ” اس کم ظرف ، بے عقل ،بے مروت شخص نے میری پھول سی بچی پر اتنا بوجھ ڈال دیا کہ وہ تھک کر اس سب سے بھاگ جانا چاہتی ہے ۔
وہ اس شخص سے دوبارہ روبرو ہونے کو تیار نہیں جس کو کبھی اس نے اپنی پسند سے چنا تھا ” وہ تنفر سے بولتی قریب بیٹھے ہراول کے دل میں نفرت کا ایسا بیج بو رہی تھی جو آگے چل کر ایک تنا آور درخت کی شکل اختیار کرنے والا تھا ۔
ہراول کا دل اپنی بہن کے لیے رہ رہ کر ترپ رہا تھا ، ماتھے کی محسوس رگ بڑی تیزی سے پھرکنے لگی تھی اپنی مٹھیاں بینچتا وہ اندر اٹھتے اشتعال اور الاو کو کم کرنے کی کوشش میں تھا آنکھوں سے شعلے بھڑک رہے تھے ۔
اور اب میری معصوم بچی کو راضی کیے بغیر گھر میں نکاح کی تیاریاں زوروں شور سے کر رہے ہیں
جب تمام رشتے دار آیں گے تو میری بچی کو ان کے سامنے بھی برا بھلا ہی کہیں گے ،، وہ آنسو بہاتی بولی
موم آپ بے فکر رہیں میں انکو ایسا سبق سکھاؤ گا کہ وہ اپنی عزت کی بھیک مانگیں گے تب انہیں کچھ حاصل نہ ہوگا تنفر بھرے لہجے میں کہتے وہ سرد و اسپاٹ تاثرات سے اٹھتا اپنا سامان لیتا سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا ۔
پیچھے جنت بیگم نے عقب میں چھپی بنفشہ کو اشارہ کیا تو وہ دونوں مسکرا دی ۔
کر لیں میرے بغیر نکاح کی تیاریاں میں بھی دیکھتی ہوں کیسے اس گھر میں میرے بغیر خوشیاں مناتے ہیں وہ لوگ ،خون کے آنسو نہ نہ رلایا ان سب کو تو میرا نام بھی بنفشہ نہیں نفرت و بیزاری سے کہتی وہ جنت بیگم کے ہاتھ پر ہاتھ مارتی قہقہ لگا اٹھی
حارب لاؤنج میں داخل ہوا تو سامنے کا منظر دیکھ کر وہ حیران ہوتا انہیں دیکھنے لگا ” تیجی تیجی وار منو آپ لین آ گیا آپ لین آ گیا ۔
ٹھمک ٹھمک جانی آ مایے دے نال
سامنے زیست رعنین اور اسکی دوست آرزو سر بکھیرتے گانے پر ڈانس کر رہی تھی ۔
افشاں بیگم محب کو گود میں لیے اسے کھڑا کرے گانے کے بول پر ہلا رہی تھی بھائی آپ کب آئے وہ مسکاتی اسے دیکھتی آگے بڑھی
بھائی آپ بھی آیں ہم آپو کی ڈھولک کی تیاری کر رہے ہیں ۔
اللہ بچے مجھے تو اس سب سے پرے ہی رکھو وہ ہاتھ اٹھاتا لب دباتا بولا جو اس کے بولتے ہی اسکا بازو کھینچتی اسے اپنے ساتھ رگید چکی تھی ۔
بھائی تھوڑا سا بس ” اس کے اصرار پر نین کی بچپن کی دوست جو اسے بھی بھائی ہی کہتی تھی اور کافی فرینک بھی تھی اس نے گانا بدل دیا اور اب وہ نچ پنجابن لگا چکی تھی ۔
اس سب میں بھائی کو دیکھ کر نین جو شرم سے سرخ پڑتے بیٹھنے لگی تھی زیست نے اسے جلدی سے قریب کھینچا ” بھائی بس ایک بار آپو جیسے بھائی کی مہندی پر کیا تھا وہ جو سٹپٹاتی بیٹھنے لگی تھی اس کے احتجاج اور ناراضگی کہ سوچ کر وہی کھڑی ہو گئی اور مسکراتے حارب کی جانب دیکھنے لگی ہو جائے پھر حارب اسے اشارہ کرتا اپنا کوٹ اترتا ایک جانب رکھتے بولا ۔
سنان صاحب جو باہر سے آتے ہلے گلے سے اپنی وہیل چیر پر باہر آئے تو سامنے کا خوش کن منظر دیکھ کر مسکرا اٹھے واه بھئی یہاں تو خوب رونق جمی ہوئی ہے ۔
آیں بابا آپ بھی دیکھیں ہمیں ” ماں جان محب کو بابا کو دین محب کو لیتے سنان صاحب کی گود میں دیا اور افشاں بیگم کے ہزار نہ نہ کرنے کے باوجود انہیں بھی بیچ میں گھسیٹ لیا ۔
ہر فکر سے آزاد وہ اس وقت گانے کے بول پر پاؤں ہلانے لگے
” ہیلو اُو مائ ڈارلنگ ۔۔۔
زیست نے آگے بڑھتے افشاں بیگم کو تھامتے گول گھومایا ۔
نچا میں اودھے نال نال جدے لمبے لمبے وال ” گانے کے بول پر وہ تھرکتے ماحول میں کھلکھلاہٹیں رقص کرنے لگی اور
نین کے سنان صاحب کی جانب اشارہ کرنے پر وہ اسکی بات کا پس منظر سمجھتے انکی جانب بڑھے اور ان کے سمجھنے سے پہلے ہی ان کی ویل چیر کو تھامتے انہیں گول گھومانے لگے ” ارے ارے رک جاؤ ان کی متبسم آواز اور سب کی کھکھلاھٹیں عروج پر تھی انکے آنگن میں خوشیان دستک دے چکی تھی اور ایک بار پھر سے ولا کے درو دیوار پر خوشیاں رقص کرنے لگی تھی ۔
اس سب میں رعنین نے افشاں بیگم کا پھیکا پڑتا چہرہ دیکھا تھا جو اس وقت سنان صاحب کے ہاتھ پر ہاتھ دھڑے سب کو نم آسودہ نگاہوں سے دیکھتی مسکرا دی
میرے بچے ” تینوں جب ان کے سینے سے لگے تو وہ بولتی ان کے ماتھے پر باری باری لب رکھ گئی ۔
