Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 4)

Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes

وہ یونی کے کیفے میں بیٹھی اپنی دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں موجود تھی جب اُسکا فون گنگنا اٹھا ،، اس نے میز پر پڑا فون پکڑا تو سکرین پر موجود نام دیکھ کر اسکے ہونٹوں پر حسین مسکراہٹ بکھر گئی ۔۔۔

آ ہاں آ ہن !!! یقیناً حاشر بھائی کا فون ہے جو ہنٹوں پر مسکراہٹ اور گالوں پر لالیاں بکھرنے لگی ہیں ۔
اسکی دوست اسکو چهیرتی شریر انداز میں بولی تو وہ لب دانتوں تلے دباتے اسے زبردست گوری سے نوازتی کال یس کر گئی ۔

کہاں گم ہیں میڈم “؟؟..

اس ناچیز کو بھی یاد کر لیا کریں جو خالص آپکے لیے وقت نکال کر آتا ہے ۔۔
اس کے دلربائی لب و لہجے پر اسکے رخصار تپ اٹھے ،، زیادہ نہ بنیں ۔

مجھے بتاین آپ یونی آئیں ہیں ؟؟

وہ اردگرد دیکھتی سوال کرتی اپنے دل کے بے قابو ہونے پر آنکھیں میچ گئی ۔
جی میڈم ‘ یہ خادم اسپیشل آپ کے لیے اپنے مریضوں کو چھوڑ کر آیا ہے ۔اب اپنا روح روشن کروانا پسند کریں گی یان نہیں ،، اسکی گھمبیر آواز گونجی تو وہ مسکراتی گویا ہوئی ۔
آپ کیفے میں آ جائیں ” میں اس وقت وہی بیٹھی ہوں ۔
اسکی دوستیں اسے چھیڑنے لگی تو وہ بلاوجہ سرخ پڑنے لگی ۔
اسکی آنکھیں سامنے سے آتے حاشر پر ٹکی تھی جو اسکی محبت کے ساتھ ساتھ اُسکا کزن بھی تھا ۔

فارمل ڈریس میں موجود وہ سرخ و سفید رنگت لیے گہری سبز آنکھیں اور ماتھے پر بکھرے گولڈن بال دیکھنے والے کو وہ کسی ریاست کا شہزادہ معلوم ہوتا ۔۔

اس کے قریب آتے وہ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے اسلام کرتا قریب بیٹھا تو اسکی دوستیں جو پہلے ہی اسے چھیر رہی تھی اس خوبرو شخص کو دیکھ کر اسلام کرتے وہاں سے اٹھنے لگی ،، آپ لوگ باتیں کریں ہم آتے ہیں ،،

انکی جانب متبسم نگاہوں سے دیکھتا وہ سر حم کرتا ان سے نگاہیں ہٹاتے سامنے موجود سرخ اور سفید رنگ کے لانگ میں ،، سفید سکارف سر پر لپیٹے ،،شانوں پر سرخ دوبٹہ پھیلائے ،، اسکی بولتی آنکھوں سے کنفیوز ہوتی ہاتھ مروڑ رہی تھی ۔

سفید رنگت پر بھوری آنکھیں ،،
مڑی ہوئ غلافِ پلکیں ،، پنک گلوز سے سجے خوبصورت لب ۔۔
ایک پل کے لیے اس کی نگاہیں اس کے خوبصورت چہرے پر ٹک سی گئی ۔۔

بے شک وہ اسکے لیے بہار بن کر اُتری تھی ،، ۔۔۔تشنہ نگاہیں اسکے من موہنے چہرے پر ٹکی تھی ،، اچھا اب ایسے دیکھنا بس کریں ،،
آپ مجھے کنفیوز کر رہے ہیں ۔

وہ حجالت سے کہتی اسکی جانب دیکھنے سے گریزپا تھی ،

دفعتاً اُسکے لبوں پر خوبصورت تبسم بکھرا ،، آپکے نقوش تو اس دل پر رقم ہیں ۔۔۔ پھر یہ گریز ممکنہ نہیں لگتا مجھے ،، کچھ رحم کریں بندے پر کل بھیج رہا ہوں مم ڈیڈ کو ،، خدرا مجھ پر رحم کریں اور میری دو سال کی ریاضت کا صلہ مجھے ملنے دیں ،، کل نکاح کی ڈیٹ فائنل کر لیں تاکہ دل کی تشنگی کو کچھ سکون
میسر ہو ،،

وہ حسین و جمیل شہزادہ اسکی جانب والہانہ نگاہوں سے دیکھتا اسے سرتاپا رنگوں میں ڈھال گیا ۔
وہ جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی اسکی بات پر اپنا دھونکنی کی مانند دھڑکتے دل پر اپنا دلفریب چہرہ اٹھاتی دلچسب نگاہوں سے اسے دیکھتی لبوں کے گوشوں پر امڈتی مسکراہٹ چھپا گئی ۔
ابھی میرا لاسٹ سمسٹر باقی ہے اس نے ملتجی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھتے متانت بھرے لہجے میں بولی تو وہ بے ساختہ نفی میں سر ہلا گیا ۔

بلکل نہیں ———— میں مزید یہ ہجر نہیں کاٹ سکتا لیڈی ۔

آپ سے دوری مزید ایک پل برداشت نہیں ۔۔اس کے رسانیت بھرے لہجے اور بے دھڑک لب و لہجے پر وہ سٹپٹاتی نگاہیں اردگرد دوڑانے لگی ۔

آپ یہاں کیوں آئے ہیں ؟…

اسے کچھ نہ سوجا تو الٹا اس سے وہاں آمد کی وجہ تلاش کرنے لگی تو وہ جو اسکی جانب دیکھ رہا تھا اس کے یوں بے ساختہ بولنے پر فضا میں قہقہ گونجا ۔

یو آر سو انوسینٹ لیڈی ” ۔۔ اس کے گھمبیر آواز اور خوبصورت لہجے پر وہ میسمرایز ہوتی اس کی حسین چمکتی آنکھوں کو دیکھنے لگی تو وہ اپنی آئی برو سکیرتا اسکی جانب استہفامیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا ۔
اس کے انداز پر اُسکا دل سینے میں سر پٹخنے لگا ،، اچھا بتائیں

کیا کھائیں گے آپ ؟؟…

بات بدلنے کو وہ بولی تو وہ بھی نارمل انداز میں گویا ہوا ۔
جو آپ کھلا دیں ….
امم ” ڈاکٹر صاحب کے لیے کچھ آرڈر کرتے ہوے بھی خوف ہی آتا ہے مجھے ۔۔
ہاہاہا اس کا قہقہ بلند ہوا ” یہ ڈاکٹر تو آپ پر دل و جان سے فدا ہے جو چاہیں اسے کھلا دیں ،، خاموشی سے نوش فرما لیں گے ۔
نہایت محبت بھرے انداز میں جواب دیا تو وہ سر ہلا گئی ۔۔۔

نین ” ۔۔۔۔

نگاہیں اسکے چہرے پر ٹکائے سنجیدہ لہجے میں اسے پکارا تو وہ جو آرڈر کر رہی تھی اسکی جانب دیکھنے لگی ۔۔
لڑکا آرڈر لے کر جا چکا تھا ” اگر آپکو ایسا لگتا ہے کہ شادی کے بعد آپکی پڑھائی ایفیکٹ ہوگی یان آپ توجہ نہیں دے پائیں گی ،، تو آپ بے فکر رہیں ۔۔

میں خود آپکو پک اینڈ ڈراپ کرونگا ،، آپکی ساری رسپونسیبلٹی میری ہوگی آپ بے فکر رہیں ،، باقی رہا سوال ہاؤس جاب کا تو اسکی آپکو ضرورت نہیں ،، آپ ڈائریکٹ ہمارے ہاسپٹل میں اپائنٹ ہونگی ۔۔اسکے نہایت سادگی بھرے انداز پر اور اسکی مشکل کو سمجھنے پر اُسکے دل و دماغ میں سکون بھر گیا ۔
وہ مقابل کی اسیر اسی لیے تو تھی جو کچھ نہ کہنے پر بھی اس کے دل کے تمام راز جان جایا کرتا تھا ۔
وہ سر ہلاتے مسکرا دی ۔

مسکراتے رہا کریں اچھی لگتی ہیں ،، اسکی لفاظی روح و رواں میں سکون کی لہر دوڑا جایا کرتی تھی ۔۔
اسکی موجودگی کا احساس ہی اسے پرسکون کر جاتا تھا ۔
_________________

یہاں لاؤ بچے کو سلمی ” تمہیں اندازہ ہے کہ بچہ کیسے بخار میں پھنک رہا ہے اور تم نے اسے ٹھنڈے پانی سے نہلا دیا ۔
دماغ کہا تھا تمہارا پاگل لڑکی ،، افشاں بیگم جنکی طبیعت کل رات کی ہوئ بدمزگی کی وجہ سے کافی خراب تھی ،، انہوں نے جب ملازمہ سے محب کا پوچھا تو وہ اس معصوم بچے کو کپڑے تبدیل کرواتی انکے پاس لے کر آئی ۔
اس کے گرم جسم اور سرخ چہرے اور نظر پڑتے ہی وہ بونچا کہ رہ گئی ۔

اس سے پہلے کہ وہ اسے سینے سے لگاتی محب نے لب سختی سے آپس میں پیوست کر لیے اور سرخ لال چہرہ پر موٹی موٹی آنکھیں کھولے جھٹکے کھانے لگا
افشاں بیگم تو اس افتاد پر حقا بقا سی ہوتی اس کے پاؤں ملنے لگی لیکن وہ مسلسل لب بنچے جھٹکے کھا رہا تھا ۔
لبوں سے جاگ نما محلول نکلنے لگا تو وہ عجلت میں اٹھتے چیخ پری ۔

میرا فون لاؤ جلدی ” اور باہر ڈرائیور کو بولو گاڑی باہر نکالے ۔
سختی سے کہتی وہ حارب کو کال ملانے لگی” حارب بیٹے ” انکی آواز میں کرب و رنج کی آمیزش تھی ۔
کاپنتے لہجے میں وہ بولی تو حارب کو بے ساختہ کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا ۔

ماں جان کیا ہوا ہے ؟؟؟ سب خیریت ہے نا ۔۔

اس نے بے چینی سے استفسار کیا ۔

نہیں بچہ کچھ بھی ٹھیک نہیں ” محب کی طبیعت اچانک بگڑنے لگی ہے ،، ہم اسے ہاسپٹل لے کر جا رہے ہیں آپ بھی سیدھا وہی آؤ ۔
آپ نکلیں میں آ رہا ہوں ،، اسکی آواز میں باقاعدہ لغزش تھی ،، ۔۔۔ اس معصوم جان کا سوچتے دل بھاری بوجھ تلے دب سا گیا ۔
وہ کرب سے آنکھیں میچتا تیزی سے آفس سے نکلا تھا ۔