Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 8)

Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes

کمرے میں آتے وہ اپنے گلال ہوتے چہرے پر ہاتھ پھرتی سرخی کم کرنے کی سعی میں تھی جب دھر کی آواز سے دروازہ کھولتی زیست کمرے میں داخل ہوئی ۔

ہائے ٹھمک ٹھمک جانی آ مائیے دے نال ،،ہائے ٹھمک ٹھمک جانی آ مایے دے نال ۔۔

ایک ہاتھ اپنے پہلو پر رکھتی دوسرا سر پر رکھتی ٹھمکے لگاتے کمرے میں ایک طوفان برپا کرتی داخل ہوئی اور نین کے قریب آتے اسکو زبردستی ٹھمکے مارتی اپنے ساتھ کھینچنے لگی ۔
یہ کیا طریقہ ہے وہ اپنی بوکھلاہٹ اور شرم کو خفگی کی آڑ میں چھپاتی ذرا سختی سے بولی لیکن زیست نے ایسے ظاہر کیا جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو ، آپکی شادی کی تیاری ۔۔
شادی نہیں نکاح ” اسکی تردید کرتے اسکا دل ایک لہر پر دھڑکا تھا ۔
ہاں ہاں وہی نہ ،، آپو مجھے نہ بہت سی تیاریاں کرنی ہیں آپکے نکاح کے لیے ۔
سارے نیو ٹرینڈز فالو کرنے ہیں ،سب سے پہلے تو آپکے ساتھ اس گانے پر ڈانس پریکٹس کرنی ہے اور پھر ہم نے نکاح کے لیے خوبصورت سا ویڈیو بنوانا ہے ڈیجیٹل دور ہے نہ سمجھا کرو اور پھر وہ بولتی جا رہی تھی اور وہ جو کھڑی تھی اسکی گوہر افشانیاں سن کر بیٹھ گئی ۔

اچھا میری مان جو دل چاہے کرنا لیکن ڈانس میں نہیں کرونگی اچھا نہیں لگتا سب کے سامنے وہ اسکی ساری باتوں پر رضامند ہوتی بس ایک بات پر انکاری تھی جو زیست کے بقول سب سے اہم تھی وہ تو ترپ ہی اٹھی ۔
نہ مانے میری کوئی بات بھی ،کچھ نہیں کرنا مجھے میری یہاں کوئی سنتا ہی نہیں ” نہ بھابھی اچھی ملی کے انکے ساتھ کوئی ویڈیوز بنا سکو میری دوستیں اتنی سٹریکس ڈالتی لیکن ایک میں ہوں فضول فضول کی اسٹریک چلاتی وہ روہانسی ہوتی اپنا نائٹ سوٹ نکالتی رندھے ہوے لہجے میں بولی تو مرتے کیا نہ کرتی کی مصداق اسے حامی بھرنی پڑی چونکہ وہ جانتی تھی کہ زیست اسکے مقابلے میں کافی چھوٹے دل کی تھی ،، غصے کی وہ بہت تیز تھی لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل سے لگا کر فوراً بیمار ہو جایا کرتی یہی وجہ تھی کہ افشاں بیگم اسکے زیادہ لاڈ اٹھاتی اور اس کی مکمنہ باتوں پر رضامند ہوتی ۔

اچھا میری جان جو کہو گی کر لیں گے لیکن کل سے آج میں بہت تھک چکی ہوں بس چینج کرکے سونا چاہتی ہوں آج وہ کافی تھک چکی تھی اور دوسری وجہ اس شخص سے استوار رشتے کی تھی جو جلد ہی اسکے ساتھ اٹوٹ بندھن میں بندھنے والی تھی اسکی بولتی آنکھوں میں اپنے لیے ابھرتے الگ سے احساس ،، اس کے دل کی دھڑکنوں کو پاگل کرنے کے در پر تھا ۔
بلا شبہ وہ ایک حسین مرد تھا ” دو سالوں سے وہ اس کے ساتھ رابطے میں تھی لیکن آج بھی اس میں اسکا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی اس کے قریب جانے کا خیال ہی اسے کپکپانے پر مجبور کر دیتا ۔
اسکا دل ڈوب کر ابھرا تھا اس شخص کی قربت کا سوچ کر جو اسے بارہا بتلا چکا تھا کے وہ رخصتی کے لیے زیادہ دیر انتظار نہیں کرے گا ۔
اسکو سوچتے گلنار ہوتے چہرے سے وہ اسکا نمبر پر ہاتھ رکھتی اسکی چیٹ کھول گئی جہان اس نے اسکے ساتھ شاپنگ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی ۔۔
جس پر اسکا جواب نہ پا کر اس نے اسے ایک ویڈیو سینڈ کی تھی جسے اوپن کرتے اسکا دل دھڑک اٹھا تھا ۔

کیوں ہو تم شرمائی ہوئ سی

لگتی ہو کچھ گھبرائی ہوی سی

ڈھلتا ہوا سا آنچل کیوں ہے

یہ میرے دل میں ہلچل کیوں ہے۔

اسکی کال آنے لگی تھی ،، اس نے کال بند کرتے اسے میسج کیا تھا
میں سونے لگی
لیڈی یہ زیادتی ہے میرے ساتھ اُسکا میسج موصول ہوا تو وہ لب دبا گئی
ویسے مجھے کبھی کبھار آپ پر شک ہوتا ہے کہ آپ ڈاکٹر ہی ہیں نہ وہ بھی ہارٹ کے ؟؟…
اس نے استہفامیہ انداز میں کہا تو اسکا جو میسج موصل ہوا وہ جھنپ سی گئی ۔
لیڈی آپ جب قریب آیں گی تو آپکو اچھے سے باور کرواؤ گا کہ میں ہارٹ سپیشلسٹ ہوں ۔۔
مجھے تو لگتا آپ نے شاعری میں ڈگری لے رکھی ہے .
کیا کریں میڈم عشق نے نکما کیا غالب ،، ورنہ آدمی ہم بھی بڑے کام کے تھے ۔اسکا اس انداز دلربائی پر وہ شرمائی سی اپنا فون سائلنٹ پر کرتی چینج کرنے کے لیے چلی گئی ایک نگاہ قریب سوئے وجود پر ڈالی جو نائٹ سوٹ میں ملبوس اتنی جلدی سو گئی تھی ،،آپو کی جان ، میرا بچہ جھک کر اس کے گالوں پر لب رکھتی وہ اسکے بالو میں ہاتھ پھیرتے چینج کرنے چلی گئی

ہراول رحمان بھٹی کو ہربری میں آسٹریلیا واپس جانا پڑا جبکہ دوسری جانب بنفشہ اپنی من مرضی سے اپنے ماں باپ کے گھر وقت گزار رہی تھی جنت بیگم کو اپنی بیٹی کی ذرا برابر بھی پرواہ نہ تھی چونکہ وہ خود بھی آزاد خیال تھی اور اپنی دوستوں کے ساتھ اس عمر میں بھی انکا سوشل سرکل بہت گہرا تھا تو وہ دونوں دن کی گئی رات کو واپس آتی ۔
بنفشہ کی دوستی حارث کے ساتھ کافی گہری ہوتی جا رہی تھی ” اسے اپنے شوہر اور بچے کی ذرا برابر بھی فکر نہ تھی اور رحمان صاحب کو یہ بات اندر ہے اندر کچوکے لگاتی تھی ۔
وہ بچہ کیسے بن مان کے پل رہا تھا حارب کی جانب سے مکمل خاموشی تھی نہ اس نے اسکے ساتھ رابطہ کیا اور نہ وہ اسے واپس لے کر آیا ۔
بنفشہ کو غیر شعوری طور پر یہ بات چبی تھی محض کچھ پل کے لیے پھر وہ اپنی مستی میں گم ہو گئی
ہراول بھٹی جو اپنی یونی میں ڈیول کے نام سے جانا جاتا تھا اس کے دوستوں کو وہاں ڈرگ کیس میں جا لیا گیا تھا اور اسی وجہ سے وہ ضروری کام کا کہتا فوراً وہاں پہنچا تھا ۔
ڈرگ اسکے فلیٹ سے برآمد ہوا تھا تو کیس بھی اسی پر بنتا تھا وہاں پہنچنے اس نے اپنے ذرائع کا استعمال کرتے یہ کیس ہٹوایا تھا ۔
اور اب سکون سے ایک بار میں بیٹھا تھا جہاں اس وقت اس کے دوست نشے میں چور صوفو پر گرے پڑے تھے اور وہ جھکتا سفید پاوڈر سلیب پر انڈیلتا اسے اپنے ناک کے ذریعے سونگھتا اپنی لال آنکھوں سے سیدھا ہوا تھا ،اسکی آنکھوں سے اس کے نشے میں مست ہونے کو بیان کیا تھا اور سامنے رقص کرتی لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا جو عریاں کپڑوں میں لپٹی پول پر لٹکتی اپنا باقی بچا جسم بھی عیاں کر رہی تھی ۔
اسے ڈیول کا نام اس کے دوستوں نے ہی دیا تھا کہ وہ واحد ایسا تھا جو آج تک نشے کی حالت میں ہونے کے باوجود کسی عورت کو اپنے نزدیک نہیں آنے دیتا تھا اور اس کے پیچھے پوشیدہ بھی ایک صنف نازک ہی تھی جسکی محبت میں مبتلا ہوتے وہ سب کچھ بھلاتا اسے پرپوز کر گیا تھا مصلحتاً تو اس لڑکی نے لالچ میں آ کر ہاں کردی لیکن اس کے بعد وہ اسے اچھا خاصا لوٹتی رہی اور ایک دن ہراول نے اسے اپنی آنکھوں سے کسی کے بستر کی زینت بنے دیکھ لیا وہ دن اور آج کا دن اسے عورت ذات سے نفرت محسوس ہونے لگی اور وہ نامحسوس انداز میں حرام کے قریب جانے لگا ۔
اسکی یونیورسٹی کا لاسٹ ایئر تھا اور وہ وہی آسٹرلیا میں ہی بزنس کرنا چاہتا تھا لیکن جانتا تھا کہ رحمان صاحب اسے کبھی اسکی اجازت نہ دیں گے اور کچھ وہ پاکستان رہ کے آیا تو اسے انکی طبیعت کچھ ناساز لگی تھی ۔

وہ ظاہر نہیں کرتا تھا لیکن رحمان صاحب میں اسکی جان بستی تھی اپنے تینوں رشتوں کو ہی لے کر وہ کافی پوزیسو تھا اور کبھی انکو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا ۔
رات کے اڑھائی بجے جب وہ اپنے فلیٹ میں داخل ہوا تو اسے بنفشہ کی کال آئی تھی وہ حیرت و پریشانی میں مبتلا ہوتا فون کان سے لگا گیا لیکن دوسری جانب سے اسے جو خبر دی گئی وہ اسے مٹھیاں بنچنے پر مجبور کر گئی ۔
اسکی کنپٹی کی محسوس رگ بڑی تیزی سے پھڑکنے لگی تم پریشان نہ ہو بس دیکھتی جاؤ میں کیا حال کرتا ہوں انکا کسی کے قابل نہیں چھوڑوں گا میں ان بہن بھائی کو شدید اشتعال میں کہتا وہ لب بینچ گیا اور فون بند کر گیا ۔
دفعتاً اگلے لمحے فون پر جو تصاویر اس نے دیکھی وہ اسکے اندر ابلتے الاؤ برپا کر گئی ،،اسکا دماغ میں صرف گہری تنفر کی لکیریں بننے لگی جو آگے چل کے ایک بڑی تباہی کا سبب بننے والی تھی ۔
میں تمہیں دنیا کو منھ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑوں گا دانت پیستا وہ آنکھوں سے اگلتے شعلے بھڑکاتا کاٹ دار لہجے میں کہتا آگے کا لائخہ عمل پیرا کرنے لگا اسے اب جلد از جلد واپس جانا تھا
مے آئی کم ان سر ” وہ جو اپنے لیپ ٹاپ پر جھکا تیزی سے انگلیاں چلا رہا تھا ایک مترنم آواز سنتا چہرہ اٹھا کے سامنے نمودار ہوتی شخصیت کو دیکھ کر سر اثبات میں ہلاتے اندر آنے کی اجازت دے گیا ۔

تھینک یو سر ” مس آیت ” ۔۔۔

یقیناً آپکو صوفی صاحب نے بھیجا ہے اس نے لیپ ٹاپ ایک جانب رکھتے استفسار کیا تو وہ معصوم سی لڑکی سر اثبات میں ہلا گئی ۔
کہیے مس آیت میں آپکی کیسے مدد کر سکتا ہوں ” سامنے بیٹھی نگاہیں جھکائے وہ معصوم سانولی سی لڑکی عمر میں کافی چھوٹی لگ رہی تھی ۔
سر مجھے جوب کی سخت ضرورت ہے ” میرے گھر میں میری امی اور میں ہوں بس ” امی کافی بیمار رہتی ہے جس وجہ سے میں نے جاب کا سوچا صوفی انکل ہماری کافی مدد کرتے ہیں لیکن میں مزید ان سے احسان نہیں لینا چاہتی مجھے کوئی بھی چھوٹی موٹی پوسٹ پر ہائر کر لیں ” وہ لڑکھڑاتے لہجے میں پرنم آواز میں کہتی رو دینے کو تھی ۔

ریلکس مس انشاء اللہ آپ کے لیے بہتری ہوگی ۔
آپکی ایجوکیشن ” ۔۔۔

سر میں بی ایس فائنانس میں ایڈمشن لیا ہے ،، مجھے اسکالرشپ ملی ہے تو فیس کا مسلہ حل ہو گیا ہے ۔
اس نے فائل آگے کرتے کہا تو حارب نے فائل تھامی ” اور اسکا ریکارڈ چیک کرنے لگا ۔
آیت ہارون سامنے بیٹھے اس خوبرو شخصیت کے مالک اور نرم لہجے سے متاثر ہوئی اسے دیکھے گئی
مس آیت آپکا ریکارڈ بہت اچھا ہے چونکہ آپکی پڑھائی ابھی کم ہے تو ہم آپکو ابھی ۔۔۔۔
سر پلز پلز مجھے یہ جاب چاہئے ،،اسکے بات مکمل کرنے سے پہلے ہی وہ بول پری تو وہ مبھم سا مسکرا دیا سن تو لیں مس آیت ،،
تو وہ جو اپنی جلدبازی میں بول گئی تھی ہونٹ دانتوں تلے دباتے شرمندہ سی ہو گئی ۔

آپ مسٹر الطاف کے ساتھ ایز آ جونیئر اسسٹنٹ کام کریں گی ۔
تھینک یو تھنک یو سو مچ سر وہ اسکا بازو تھامے خوشی سے سرشار ہوتی بولی تو اپنے بازو پر اسکا نرم گرم لمس محسوس کرتے اس نے بازو پیچھے سرکایہ ۔۔
یو ویلکم ” آپکو باقی سارا کام مسٹر الطاف سمجھا دیں گے اور آفس ٹائمنگ بھی ۔
جی اوک سر ” اس سے پہلے کے وہ اٹھتی وہ بول اٹھا ” اکاؤنٹنٹ سے اپنی پے کا بھی پوچھ لیجئے گا آپکو اچھے سے سب سمجھا دیں گے ۔
بہت شکریہ سر ” اس لڑکی کی آنکھوں میں چمکتی خوشی دیکھ کے وہ چونک اٹھا تھا ۔
نفی میں سر ہلاتا وہ اپنے کام میں مصروف ہو گیا یہ جانے بغیر کے کوئی دور بیٹھا اس کے خالف کیسی سازش رچنے والا ہے ۔