Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 5)

Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes

سنان صاحب جنکی طبیعت کچھ دنوں سے کافی گری گری سی تھی ” وہ اسٹڈی روم سے وہیل چیر گھسیٹتے باہر نکلے تو لاؤنج میں موجود اس قدر سناٹا دیکھ کر چونکے ،، ملازمہ جو لاؤنج میں دسٹنگ کر رہی تھی اپنا کام چھورتی عجلت میں ان کے قریب آتے موئدب انداز میں سر جھکائے استفسار کیا ۔۔

سر آپکو کچھ چاہیے ؟؟..

انہوں نے نفی میں سر ہلاتے
اس کی جانب دیکھا ،، باقی سب کہاں ہیں ۔۔ اس قدر سناٹا کیوں ہے ۔
انکی پروقار سنجیدہ آواز خاموشی میں گونجی ۔

سر باجی یونی ورسٹی ہیں ،، زیست بیبی کالج اور بڑی میم صاحبہ محب کی طبیعت خراب تھی تو ان کو لے کر ہسپتال گئی ہیں ۔

وہ ایک سانس میں انہیں سب کے متعلق آگاہ کر گئی ۔۔۔
سنان بھٹی سے سارے ملازم ہی پناہ مانگتے تھے ،، انکی طبیعت کافی سخت ہی چکی تھی ” اور اپنی پہلی بیوی کی وفات کے بعد وہ زیادہ خاموش رہنے لگے تھے ۔

زیادہ تر وقت اسٹڈی روم میں گزارتے ” اور کمرے سے بھی کم ہی باہر آتے ،مہینے میں ایک بار آفس کا چکر لگاتے ۔
ہمم ہنکار بھرتے انھوں نے اسے جانے کا اشارہ کیا اور خود اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے

اضطراب میں گھرا وہ عجلت میں ہاسپٹل کے اندر داخل ہوا اور تیز قدم بڑھاتے کوریڈور میں موجود افشاں بیگم کی جانب دیکھا جو زارو قطار روتی تسبیح تھامے ورد کر رہی تھی ۔۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے ان کے قریب پہنچا ۔۔

کیا ہوا مان میرے بیٹے کو !! اس کی آواز میں چھپا درد وہ محسوس کر سکتی تھی ۔

بیٹے اسے کافی تیز بخار تھا ،،ملازمہ نے اسے نہلا دیا تو بچہ نیلا پڑنے لگا ،، وہ روتی ہچکیاں بھرتے بول رہی تھی ۔
حارب نے انہیں اپنے سینے سے لگایا انشاء اللہ سب ٹھیک ہو گا ۔ میں ڈاکٹر سے بات کرتا ہوں نرمی سے کہتا وہ آگے بڑھا تو وہ اس معصوم بچے کی صحت یابی کے لیے دعا کرنے لگی

ڈاکٹر سے بات کرنے کے بعد وہ باہر آیا تو آنکھوں میں نمی تیرنے لگی ،، آج اسے اپنے غلط فیصلے کا بری طرح احساس ہوا تھا وہ بنفشہ کی طبیعت سے انجان نہ تھا اس کے باوجود اس نے اسکے ساتھ فیملی بڑھانی چاہی ، اسے لگا تھا کہ اولاد ہی جائے گی تو وہ سمبھل جائے گی

وہ اس کے ساتھ ایک خوبصورت زندگی کا تصور کیے ہوئے تھا ” شادی کے تین سال بعد اولاد ہونے کے باوجود اسے اپنے بچے سے کوئی لگاؤ نہ تھا ,, وہ معصوم جان ماں کے ہوتے ہوئے بھی اسکی آغوش کے لیے ترستا رہتا ۔۔

اسکے دل میں ملال بھرنے لگا ” بظاہر وہ خاموش نظر آنے والا ایک حسن و جمال رکھنے والا شخص تھا ” جس کی خوبصورت آواز اور لہجہ ہزاروں لڑکیوں کا دل مونہہ لینے کا ہنر رکھتا تھا ” لیکن اس نے کبھی کسی لڑکی کی جانب قدم نہ بڑھائے ..

انکی ماں نے انہیں صرف دنیاوی تعلیم ہی نہیں دلوائیں تھی بلکہ دینی تعلیم پر بھی خاص توجہ دی تھی جسکی وجہ سے وہ اپنی حدود سے اچھے سے آگاہ تھے ،، وہ آنکھوں میں شرم رکھنے والا سحر انگیز شخصیت کا مالک تھا جس کے چہرے کے ساتھ اُسکا دل بھی بہت خوبصورت تھا ۔

اس نے ہمیشہ سے ایک خوبصورت زنگی کا تصور کیا تھا لیکن بنفشہ کی سوشل ایکٹیویٹیز نے اسے کبھی مل کے بیٹھنے کا موقع ہی نہ دیا ۔

وہ اسکی ہر خواہش پوری کرتا ” مگر ان کے بیچ ایک دیوار سی بن چکی تھی ۔۔انکا تعلق بہت کھوکھلا سا ہو چکا تھا ۔
بنفشہ کے پاس اسے اور اسکی اولاد کو دینے کے لیے وقت نہ تھا اور یہی بات اسے بری طرح ڈسٹرب کرتی تھی ۔

سب کے سامنے گویا وہ یہی اعلان کرتا کہ سب بہتر ہے اسے اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا مگر اندر کا بکھراؤ یہ صرف وہی جانتا تھا اسکا دل چاہتا تھا کہی غائب ہو جائے سب سے دور جہاں وہ دل کھول کر سانس لے سکے ۔

آج اس کے دل نے اقرار کیا تھا کہ بنفشہ رحمان سے شادی اسکی سب سے بڑی غلطی تھی ،، جس کے باعث آج اسکی اولاد بھی سفر کر رہی ہے ۔

افشاں بیگم اس کے قریب آتے مضطرب سی مستفسر ہوی بیٹے کیا کہا ہے ڈاکٹر نے ہمارا بچہ ٹھیک تو ہے نہ وہ سرخ نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔

حارب کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر فرش پر گرا تھا ” ۔۔۔
افشاں بیگم اپنے بیٹے کے آنسو پر ترپ اٹھی تھی ،، دل پھٹنے کو ہوا تھا ۔حارب میری جان میرے بیٹے ،، مجھے کچھ ایسی خبر نہ سنانا جس کو میرا دل برداشت نہ کر پائے وہ دل برداشتہ لہجے میں کہتی اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھامے گویا ہوئی ۔

ماں میں مر رہا ہوں میرا بچہ اندر تکلیف میں ہے ،،ڈاکٹر کہتا ہے بخار کا اثر اسکے دماغ پر ہوا ہے جس کی وجہ سے اسے فٹس پڑنے لگے ہیں ،اس میں ول پاور بہت کم ہے ۔
وہ مشکل سے سانسیں لے پا رہا ہے

سب میری وجہ سے ہوا ہے ،، مجھے اسکا خیال رکھنا چاہیے تھا ۔۔
یہ میری غلطی ہے وہ بے تخاشہ گلٹ میں مبتلا ان کے کندھے پر سر رکھتا بولا ۔میں نے اس معصوم جان کو اس کھوکھلے رشتے کی بھینٹ چڑھا دیا ۔اسکی آواز اسے کھونے کے خوف سے لرز گئی ۔۔

اور یہی لمحہ تھا جب افشاں بیگم کو اپنا آپ ہوا میں معلق ہوتا محسوس ہوا ” انکے سیدھے سادھے بچے کے ساتھ بہت زیادتی ہو چکی تھی جانے انجانے میں وہ بھی اس کی زمہ دار تھی ۔
وہ بنفشہ کی عادت سے بخوبی آگاہ تھی لیکن بھائی کی محبت میں خاموش رہیں جسکا خمیازہ انہیں اپنے بیٹے کو تکلیف میں دیکھ کر بھگتنا پر رہا ہے ۔

انکا دل ہزار ٹکڑوں میں بنٹا تھا جب اسکی آنکھ سے آنسو گرا تھا ” جیسے کسی نے دل چیر کے رکھ دیا ہو
انہوں نے ان بچوں کو جنم نہیں دیا تھا لیکن جتنی محبت انہوں نے انکو دی تھی انکی سگی مان بھی نہ دیتی ۔

میرا بیٹا میری جان ” انشاء اللہ و بلکل ٹھیک ہو جائے گا بچے بیمار پر جاتے ہیں اس میں آپکا کوئی قصور نہیں آپ خود کو الزام دینا بند کرو ،، اللہ پاک کی جانب سے آزمائش ہے یہ اور آپ تو جانتے ہیں آزمائشیں کن پر آتی ہیں ان کے نرم لہجے اور لفظوں کی تاثیر سے اس نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا تھا جن کی اپنی آنکھیں آنسو سے بھری پڑی تھی ۔

لفظوں سے تسخیر کرنے کا ہنر رکھتی ہیں آپ میری پہلی محبت ” اس کے خوبرو سے چہرے اور آسودگی سے بھری مسکراہٹ نمایاں ہوئ ۔

تو وہ روتے ہولے سے ہنس دی ” ۔۔
آپ تینوں میری زندگی کا کل اثاثہ ہو میری جان ” آپکو یوں ٹوٹا ہوا دیکھنا میرے جسم و جان میں جانے کتنے ہنجر پیوست کر دیتا ہے ۔

دوبارہ کبھی میں آپکو اس طرح نہیں دیکھنا چاہتی ” میری جان بستی ہے آپ میں ۔۔۔

آپ میرے بڑے بیٹے ہو اور آپ جانتے ہو مان کو اپنی بڑی اولاد سے سب سے زیادہ محبت ہوتی ہے ۔
بے شک میں نے آپکو جنم نہیں دیا ” مگر میری جان جاتی ہے آپ کو یوں افسردہ دیکھ کر ۔

میں ٹھیک ہوں مان ” بس اپنے بیٹے کو یوں نالیوں میں جکڑا دیکھ کر میرا دل مزید خولناکی سے همکنار
ہونے لگا تھا ۔

آپ پریشان نہ ہوں ” وہ انہیں تسلی دیتا اٹھا تھا اور ڈاکٹر سے ایک آخری ملاقات کے لیے گیا تھا ۔
ڈاکٹر سے ملی تسلی اور خوشی کی نوید سے اسکا روم روم میں تشکر اترا تھا ۔

محب کی طبیعت پہلے سے کافی بہتر تھی ” اسے جو مصنوعی آکسیجن لگائی گئی تھی وہ اُتار دی گئی تھی ،،اسکی سانسیں پہلے سے قدرے بہتر تھی ،، ڈاکٹر نے کچھ گھنٹوں میں ڈسچارج کا بتایا تھا ۔

——————–

زیست لاؤنج میں داخل ہوئی تو ہال میں اتنا سکوت دیکھ کر حیران ہوتی ملازمہ سے افشاں بیگم کا پوچھنے لگی۔
جنہوں نے اسے ساری بات بتا دی ۔۔ وہ محب کی طبیعت کا سنتی کافی پریشان ہوئ تھی اور حارب کو فون کیا تھا کہ وہ ہاسپٹل آنا چاہتی ہے لیکن اس نے انکار کر دیا کے وہ کچھ دیر تک واپس گھر کے لیے ہی روانہ ہو رہے ہیں۔

وہ بیگ رکھتی سنان صاحب کے کمرے کی جانب گئی تھی اور دروازہ بجاتے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو وہ جو کوئی کتاب تھامے چشمہ لگائے ورق گردانی کرنے میں مصروف تھے اسکی آواز سنتے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے اجازت دے گئے ۔

مسٹر عبدلرحمن بھٹی ” ۔۔۔ اگر آپکا تنہا رہنے کا شغف پورا ہو گیا ہو تو کیا مجھے آپ سے گفتگو کا کچھ وقت درکار ہو سکتا ہے ۔
دروازے کے قریب کھڑی وہ کمر پر ہاتھ رکھے خاصے تپے ہوے لہجے میں گویا ہوئ تو اسکے طرز تخاطب پر انکا جی دار قہقہ فضا میں گونجا ۔

اتنی ثقیل اردو آپ نے کہاں سے سیکھی محترمہ “

جہاں تک میں آگاہ ہوں آپ سے آپ کے تمام موضوعات انگریزی پر مشتمل ہیں ۔

انہوں نے چشمہ اتارتے ایک جانب رکھا ۔اب تشریف لے آئیں کے آپکو خاص لخاص دعوت دوں ۔

ان کے برجستگی سے جواب دینے پر وہ بے ساختہ مسکرا دی ۔
اور انکے قریب جاتے ان کے گلے میں بانہیں پھیلائے ان کے سینے سے لگ گئی ۔

میری جان ” ۔۔۔۔

انہوں نے پیار سے اس کے ماتھے پر لب رکھے ۔

بابا جان آپ سب سے زیادہ پیار کس سے کرتے ہیں ؟..

اس کے کئی مرتبہ کیے گئے سوال پر انہوں نے اسے شاکی نگاہوں سے دیکھا ۔

اب آپ کہیں گے تینوں سے ” جبکہ حقیقت میں جانتی ہوں ۔

آپ آپو سے سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں “

وہ منھ پھلاتے بولی تو انہیں وہ چھوٹی سی معصوم بچی لگی ۔
جلا مت کریں کالی ہو جائیں گی ” اسے چڑھانے کے لیے وہ شرارت سے کہتے اس کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھنے لگے ۔

میں جا رہی ہو ” مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ” آپ ہیں ہی بس آپو کے بابا جان ۔مجھ سے تو آپ پیار ہی نہیں کرتے وہ پاؤ پٹختی کمرے سے باہر نکل گئی پیچھے وہ اسے پکارتے رہ گئے ۔

—————————

اس نے اپنا فون پر نوٹیفکیشن دیکھا تو وٹس ایپ اوپن کیا ۔

کیسے بتاؤں تمہیں میں

میرے لیے تم کون ہو

کیسے بتاؤں میں

تم دھڑکنوں کا گیت ہو

جیون کا تم سنگیت ہو

تم زندگی ،،تم بندگی تم روشنی

تم تازگی ،،تم ہر خوشی

پیار ہو ،،پریت ہو

منزل ہو ،آنکھوں میں تم

یادو میں تم ،نیندوں میں تم

تم ہو میری ہر بات میں

تم صبح میں ،،تم شام میں

تم سوچ میں ،تم کام میں

میرے لیے پانا بھی تم ،

میرے لیے کھونا بھی تم

میرے لیے ہسنا بھی تم ،رونا بھی تم

جاؤ کہیں دیکھو کہیں

ہر جگہ تم ،کیسے بتاؤں میں ۔

تم بن تو میں کچھ نہیں ۔

To love of my life 

حاشر کا میسج پڑھتے اس کی دھڑکنیں سینے میں ادھم مچانے لگی تھی ۔

اس کے بھیجے گئے دل میں ” جانے کیا تھا کہ اسکا دل بند ہونے لگا تھا ۔
وہ ہر بار اپنے لفظوں سے اسے معتبر کر دیتا تھا ۔

اس نے شکریہ کا میسج بھیجا تھا ۔

اس کے ہاتھ کانپنے لگے تھے ۔
اسے رشک ہوتا تھا اپنے نصیب پر ” جسے اتنا چاہنے والا مکمل شخص ملا تھا جس کے پاس سب کچھ تھا مگر وہ سب کچھ پیچھے چھوڑتا اس کے لیے وقت نکالتا تھا ۔

یہ احساس ہی بہت خوبصورت تھا ،، چاہا جانا کسے نہیں پسند ۔
اور رعنین رحمان تو اسے قبل دو سالوں سے اپنا دل دے چکی تھی ” اپنی روح پر اُسکا نام قلم بند کر چکی تھی ۔اس دل پر صرف حاشر حسین کی حکومت تھی ۔