Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes Readelle 50359 Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 7)
No Download Link
Rate this Novel
Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 7)
Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes
اگلی صبح کا سورج نئی امیدیں لے کر نمودار ہوا تھا ۔ ہوا میں ہلکی ہلکی خنکی تھی ” گرمیاں اپنے تاخیر پر تھی ایسے میں سورج بادلوں سے کھیلتا اٹکیلیان کرتا کبھی چھپ جاتا تو کبھی نکل آتا ۔
بھٹی ولا میں آج خاصی رونق تھی ” رحمان صاحب کی اکلوتی بہن آج اپنی فیملی کے ساتھ نکاح کی تاریخ فکس کرنے آ رہی تھی ،،ایسے میں ولا میں افراتفری کا عالم تھا ۔
ملازم کاموں میں مصروف تھے جبکہ نین افشا بیگم کے ساتھ باقی کاموں میں مصروف تھی ” وہ الگ بات تھی کہ دل آج قابو میں نہ آ رہا تھا ۔
حارب محب کو ہاسپٹل لے کر گیا تھا اور ڈاکٹر کی تسلی سے کافی پرسکون ہوا تھا ۔
نین کی بوکھلاہٹ کو دیکھ کر افشاں بیگم نے ایک نگاہ اس کے سرخ چہرے پر ڈالی ” کیا بات ہے میری جان کیوں پریشان ہو رہی ہو ۔
حاشر کوئی غیر تو نہیں ،انہیں اسکی رنگت اور بوکھلائے انداز نے خاصا اچنبھے میں ڈال دیا تھا ۔نہیں ماں جان ایسی کوئی بات نہیں بس دل عجیب ہو رہا ہے آپ لوگو سے دور جانے کے احساس سے ہی دل بھر رہا ہے وہ روہانسی ہوتی بولی تو افشاں بیگم نے اسے سینے سے لگا لیا ۔
میری بیٹی ” اللہ پاک میری بچی کے نصیب بہت بلند فرمائیں گے ،،اللہ پاک کبھی کوئی دکھ نہ آنے دے ۔
اللہ پاک میری بچی کو دل زخمی اور روح گھائل کر دینے والوں سے بچائے ، تم ہر قدم پر خیر پاؤ ۔۔
تمہارے چاروں طرف رب العالمین کی رحمت کا حصار رہے ،، اللہ پاک تمہیں سکون دینے والا ہمسفر دیں ،،آنکھیں رکھنے والا جو تمہارے دکھ ،درد دیکھ سکے ۔
اللہ میری بچی کو کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچنے پائے ” ۔
وہ نم آسودہ نگاہوں سے اسے دیکھتی بے شمار دعائیں دیتی اپنے ساتھ ہوئی زیادتیوں اور محرومیوں کو سوچتی رو دی ۔
ماں میں ٹھیک ہوں آپ پریشان نہ ہو انہیں اس طرح بکھرتا دیکھ اسکے دل کو دھکا سا لگا ” زیست جو لاؤنج میں خوبصورتی سے غبارے سیٹ کروا رہی تھی جس کے عین نیچے گولڈن لڑیاں لٹک رہی تھی ۔
کمرے کا دروازہ دھک سے کھولتی اندر داخل ہوئی تو سامنے کا سینٹی منظر دیکھ کر کمر پر ہاتھ رکھے چیخ اٹھی ، آپو وہ لوگ آنے والے ہیں اور آپ کا یہاں ایموشنل سین چل رہا ہے ،، تو وہ نفی میں سر ہلاتے اٹھی ۔
زیست جو خود بھی کافی افسردہ سی ہو رہی تھی کہ اسکی جان سے پیاری آپو اس کے پاس سے چلے جائیں گی تو وہ اکیلی ہو جائے گی لیکن اس پر بلکل بھی ظاہر ہونے نہیں دیا کہ نین کا دل بہت چھوٹا تھا کسی کو روتا دیکھ وہ خود رو پڑتی تھی ۔
جلدی جاؤ آپو چنیج کرو آپکی ساسو مان نے آ کر سب سے پہلے آپکے متعلق ہی استفسار کرنا ہے ، بابا جان کہاں ہیں ۔۔
وہ ریڈی ہو گئے ؟..
جی وہ باہر ہی ہیں آپ جاؤ جلدی تو سنتے تیزی سے اپنے کمرے کی جانب چل دی ۔
حارب جو اپنے کمرے میں موجود تھا ” محب کی طبیعت خرابی کے باعث انہیں کسی نے ڈسٹرب نہیں کیا تھا ۔
کچھ نکاح کی تاریخ فکس کرنی تھی اس وجہ سے انہوں نے کسی کو نہیں بلایا تھا ،البتہ افشاں بیگم کو بارہا بنفشہ کا خیال آیا چکا تھا کہ اس منظر میں اسکا یہاں ہونا ضروری تھا ۔
اسی وجہ سے وہ حارب کے کمرے میں دروازہ بجاتے اندر داخل ہوئی تو سامنے وہ نکھرا نکھرا سا سفید لباس میں اپنے گیلے بالوں میں تولیہ پھیرتا انہیں دیکھتا لبوں پر دلکش مسکراہٹ لیے گویا ہوا ۔
زہے نصیب ” آج تو میرے کمرے میں چاند اُتر آیا ہے ان کے گلابی رنگ کے سادہ نفیس سے سوٹ میں ملبوس دیکھ کر وہ ٹوکھا لگاتے گویا ہوا تو وہ پل میں لال ہوتے اسے شاکی نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔
آگے بڑھتے بیڈ پر سوئے محب کی جانب قدم بڑھاتے حجالت کا شکار ہوتی گویا ہوئی ،میں آپ سے ایک اہم بات کرنے کے اردے سے آئی ہوں امید ہے آپ میری بات کو رد نہیں کریں گے ،، متانت بھرے لہجے میں کہتی وہ محب کو پیار کرتے اس کے خوبرو چہرے کی جانب دیکھتے بولی جو اب ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ہوتا خود پر بے دریغ پرفیوم چهڑک رہا تھا ،، ۔۔۔
اس نے ہنکارہ بھرتے آئینے میں ابھرتے ان کے عکس کو دیکھتے بولنے کا اشارہ کیا تو وہ جو تذبذب کا شکار ہوتی بولنے کے لیے لفظ جوڑنے لگی ۔
بیٹے آپ جانتے تو ہیں آج ہماری بچی کے لیے کتنا بڑا دن ہے تو ایسے میں سب گھر والوں کا موجود ہونا ضروری ہے ،،کچھ ہی دیر میں آپکی پھو جان بھی اپنی فیملی کے ساتھ آنے والی ہیں ایسے میں بنفشہ کی عدم موجودگی سب پر کیسا اثر ڈالے گی ،، میں چاہ رہی تھی آپ اپنا دل بڑا کرو بچے ” وہ کم عقل ہیں نہیں سمجھ پا رہی رشتے کی نزاکتوں کو ، لیکن میری جان آپ تو سب سمجھتے ہو نہ ، آپ اسے لے آئیں ۔
ماں اتنے اچھے دن اور خوشی کے موقع پر میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا وہ جیسے گئی تھی واپس بھی خود ہی آ جائیں گی اس لیے آپ انہیں سوچ کر اپنا دن خراب نہ کریں ۔
اپنے اندر اٹھتے اشتعال پر قابو پاتے اس نے ان کی بات کو قطع کرتے انہیں اس بات کو ختم کرنے کا کہا تو پل میں انکے انگ انگ میں نے چینی اور اضطراب بھرنے لگا ۔
بیٹے آپ کیوں نہیں سمجھ رہے ” ایک بار پھر اسے سمجھآنے کی کوشش کی گئی ،وہ اس کے انداز اور تکلیف دہ کیفیت سے واقف تھی لیکن اسکا اس وقت یہان موجود ہونا بھی ناگزیر تھا ۔
ماں جان میں آپ کو واضح الفاظ میں بتا چکا ہوں کہ وہ جیسے گئی تھی ویسے ہی خود واپس آئیں گی اگر آنا ہوا تو نہیں تو جیسے وہ چاہیں گی میں انکی حسب منشا مراد پوری کرنے کی کوشش کرونگا ، اس کے اکھڑ انداز اور بے لچک لہجے کو محسوس کرتے انکا دل اچانک سکڑنے لگا ۔
کیا آپ ان سے اس رشتے کو خ ۔۔ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں انہوں نے کانپتے لہجے اور سرخ رنگ چہرے سے اسکی جانب دیکھتے لرزتے لبوں سے الفاظ ادا کیے تو وہ مٹھیاں بنچتا ان کے چہرے کے تاثرات کا ملاحظہ کرتا تیزی سے ان کے قریب آتا ان کے گرد اپنا مضبوط حصار قائم کر گیا ۔
کمرے میں ہولناک سناٹا چھایا ہوا تھا انہیں بیڈ پر بٹھاتے خود ان کے قدموں میں بیٹھا تھا ” آپ جانتی ہیں میں ان سے کتنی محبت کرتا ہوں اور اسی محبت کے ہی بھنور میں پھنسا میں انکی ہر ضد ہر زیادتی خاموشی سے برداشت کرتا رہا لیکن اب بات میری نہیں بلکہ اس معصوم بچے کی ہے جن کو وہ ایک ضرر چیز کی بجائے کچھ نہیں گردانتی ، آپ نے کبھی کسی کو ماں کو اتنا کٹھور سنگ دل دیکھا ہے جو اپنا تین ماہ کا بچہ چھوڑ کر سیر سپاٹے میں مشغول ہوں ۔
دل میں چھناکے سے کچھ ٹوٹا تھا جس کی کرچیاں آنکھوں میں چبتی اس کی بھوری گھور گھٹاؤ جیسی خوبصورت آنکھوں کو سرخ لہو رنگ میں بدل گئی ۔
آپ کے نزدیک میرے الفاظ بہت بے رحم ہیں کیا آپ کو انکا بتایا گیا ایک ایک پل میرے ساتھ بے رحم نہیں لگا وہ جو میرے ساتھ رہتے ایک کمرے میں غیرو کی طرح کا رویہ اختیار کیے ہوتی تھی کیا وہ بے رحمی نہیں ہے ۔ جو میں ان کے الفاظ انکے رویے سب کچھ فراموش کرتا انہیں وقت دیتا رہا و آپکو نظر نہیں آ رہا ۔
تین سال سے جن زخموں کو وہ خود سے بھی چھپاے ہوے تھا آج وہ انہیں ان پر عیاں کر بیٹھا تھا ، جو آج برسوں بعد پھر سے ادھرتے تازہ ہوئے تھے اور ان میں رستا خون پھر آج اسے دوبارہ دہرئی اذیت سے دوچار کرنے لگے تھے ۔
افشاں بیگم نے اس کے بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیرے تھے اپنے بچے کی اذیت سے تو وہ واقف تھی لیکن اس بات سے قاصر تھی کہ وہ کتنی خود اذیتی کا شکار تھا ۔کتنی تکلیف میں مبتلا تھا اچانک انہیں ہوا میں آکسیجن کی کمی محسوس ہونے لگی تھی اس کمرے میں دم گھٹنے لگا تھا جہاں ان کے بچے نے اذیت و وحشت میں ایک ایک دن گزارا تھا اور اب بھی گزار رہا تھا ۔
میں آپ پر مزید اپنا کوئی فیصلہ نہیں تھوپنا چاہتی میں جانتی ہوں آپ نے اپنی ہر ممکن کوششں کی اس رشتے کو بچانے کے لیے میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے جیسے ہوتے ہیں جس میں دونوں کے ساتھ کی ازحد ضرورت ہوتی ہے ایک ہی جانب پر جب سارا وزن ڈال دیا جائے تو رشتہ خراب ہونے لگتا ہے ۔
اگر آپ ان سے علیحدگی کرنا بھی چاہتے ہو تو خاموشی سے کرنا ، انہیں ذلیل نہیں کرنا کسی کے سامنے
بے دین گھروں میں عورتوں کو ذلیل کیا جاتا ہے ، صالحین کے گھروں میں عورتوں کو ملکہ کی طرح رکھا جاتا ہے ۔
اس کے سر پر لب رکھتی وہ اپنے محسوس انداز نرمی اور ملائمت سے گویا ہوئ تو وہ مبھم سا مسکرا دیا ۔
کیوں ہیں آپ اتنے چھوٹے دل کی ” ان کے ہاتھوں پر لب رکھتے وہ عقیدت و احترام سے بولا تو وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔
تو وہ لب بینچتا افسوس سے سر ہلا گیا آپ پریشان نہ ہوں میری جانب سے انہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی انکے رد عمل کو دیکھتے وہ سلگتی نگاہوں سے انہیں دیکھتے بولا ۔
آپ جائیں اب نیچے مہمان آنے والے ہیں میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں ،تو وہ اٹھتی سر ہلا گئی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حاشر اپنی والدہ زینب بیگم اور والد صاحب اور دادی جان کے ساتھ ان کے گھر تشریف لایا تھا ۔
حسب توقع افشاں بیگم ،زیست رحمان صاحب اور حارب نے انکا بہت گرم جوشی اور محبت سے استقبال کیا تھا وہ لاؤنج میں داخل ہوتے خوبصورت دیدہ زیب صوفو پر بیٹھتے سب کے ساتھ باتوں میں مشغول ہو گئے ۔
نین جو اس وقت لائٹ پرپل کلر کے خوبصورت پاؤں کو چھوتے امبروریڈڈ فراک میں ڈارک پرپل سکارف لپیٹے شانوں پر دوبٹہ پھیلائے ہلکے پھلکے میک اپ میں اس وقت حد سے زیادہ خوبصورت دکھائی دے رہی تھی ۔
کھڑکی کے پار انہیں آتے دیکھ کر اسکا دل دھونکنی کی مانند دھڑکنے لگا تھا ،اسے اپنی دھڑکنیں کانوں میں بجتی محسوس ہونے لگی تھی ۔
ہاتھ گویا کپکپانے لگے ،فون بلنک ہوتے دیکھ اس نے تیزی سے آگے بڑھتے اٹھایا تو اس پر موجود حاشر کا میسج دیکھ کر اسکا دل گویا باہر آنے کو بے تاب ہوتا اسے عجیب حالت سے دوچار کرنے لگا ۔
لب دباتے اس نے اسکے میسج دیکھا
عمدہ کیا ہے ۔۔۔
اسکا چہرہ
جھیلیں کیا ہیں ،،اسکی آنکھیں
خوشیاں کیا ہیں ،، اسکا ہونا
غم کیا ہے ،،اس سے جدائی
خوشبو کیا ہے ،،اسکی سانسیں
ساون کیا ہے ،،اسکا رونا
سردی کیا ہے ،،اسکی اداسی
گرمی کیا ہے ،،اسکا رونا
بہار کیا ہے ،،اسکا ہنسنا
اور کڑوا کیا ہے ،میری باتیں ۔
My lady
am waiting…
اس کے سادگی بھرے اس پیغام میں جانے کیا تھا کہ اسکے دل کے تار ہلا گئے ۔
مجھے یقین تو نہیں ہے مگر یہی سچ ہے ،،
میں تیرے واسطے عمریں گزار سکتی ہوں ۔
یہی نہیں کہ مجھے جیتنے کی خواہش ہے ۔
میں تیرے واسطے خود کو ہار سکتی ہوں ۔
لب دباتے سوچتے سینڈ کیا تھا اور فون ایک جانب رکھا ۔
زیست کمرے میں داخل ہوتی آنکھیں گھماتے پر شوق نگاہوں سے اسے دیکھتی بولی
آپو آپ کو سب یاد کر رہے ہیں آ جائیں اب تو حاشر بھائی کی بس ہو گئی ہے مزید اگر انہیں انتظار کی سولی پر لٹکایا تو کوئی بعید نہیں وہ خود اٹھ کر آ جائیں اس کے شریر انداز پر رعنین کا دل بے قابو ہونے لگا ۔
جسم کا سارا خون نچر کر چہرے پر آیا ،اب بلش کرتی رہیں گی کہ باہر بھی چلیں گی اسکی بات سنتے وہ اسے کینہ توڑ نگاہوں سے دیکھتی باہر نکلی ۔
آ جائیں میرا بچہ ” رحمان صاحب نے لہجے میں محبت سموئے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا تو وہ ان کے ہاتھ تھامے ان پر لب رکھ گئی
میری بچی ” ۔۔۔ دیکھ رہی ہیں مان ان کی محبت کے نظارے ۔۔پھر مجھے کہتے ہیں کہ میں ویسے ہی زیادہ سوچتی کیسے سب کو نظر انداز کرکے باپ بیٹی کا پیار عود آیا ہے وہ جلتی کہتی منھ پھلا گئی تو سب کے جاندار قہقہ فضا میں گونجے ۔
آپ میرے پاس آ جاؤ میری بچی ،، افشاں بیگم نے اسے سینے سے لگایا ۔
انکو سہارا دیتی
قدم سب کی جانب بڑھاتے اسکے دل کی دھڑکنیں منتشر ہونے لگی ،، اپنی لرزتی ٹانگوں پر قابو پاتے وہ سب کو بلند آواز میں اسلام کرتے نگاہیں جھکائے ہوئے تھی کہ زینب بیگم نے اسے سینے سے لگاتے اپنے ساتھ بٹھایا ۔
حارب نے آگے بڑھتے رحمان صاحب کو سربراہی کرسی پر بٹھایا
حاشر جو اسے اپنی جانب آتا دیکھ رہا تھا اسکا مہکتا دلنشیں سراپا دیکھ کے مبہوت ہوتا اس سے نگاہ پلٹنا بھول گیا ۔
اپنے چہرے پر اسکی نگاہوں کی تپش محسوس کرتے وہ اپنی انگلیاں چٹخانے لگی اور اپنی گھنیری پلکیں اٹھا کر دیکھا تو نگاہوں کے کا زبردست تصادم پر اسکا دل انجانے لہے پر دھڑکنے لگی ۔
فوراً سے بیشتر نگاہوں کا زاویہ بدلتی وہ ان سے باتوں میں مصروف ہو گئی جبکہ حارب جو حاشر کے ساتھ بات کر رہا تھا اسکی نگاہو کا بار بار بھٹکنا محسوس کر چکا تھا اور دہیمے سے مسکرا دیا ۔
خوشگوار ماحول میں سب نے کھانا کھایا اور اگلے مہینے کی نکاح کی تاریخ فکس کی گئی ۔
رخصتی رعنین کی پڑھائی کے بعد منعقد ہوئ ۔
جاتے ھوئے حاشر کی دادو بیگم اسے سینے سے لگاتے بے شمار دعائیں اور صدقہ دے کر نکلی ، انکا کہنا تھا کہ انکی بچی کو انہیں کی نظر نہ لگ جائے ۔اس سب میں حاشر کی پرشوخ نگاہیں اس کے من موہنے چہرے پر اٹکی ہوئی تھی ۔
