Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes Readelle 50359 Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 19)
No Download Link
Rate this Novel
Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 19)
Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes
اوائل نومبر کا بڑا دلنشیں سا دن تھا ،،نیلا آسمان بادلوں سے اٹا پڑا تھا ،، جگہ جگہ بادلوں کے جتھے بنے پرے تھے ،، آج کی صبح واقع بڑی خوبصورت تھی وہ فریش سی آج نیچے سب کے درمیان بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی سب اس میں یہ مثبت تبدیلی دیکھ کر کافی خوش تھے ،،،
حارب آگے بڑھتے اس کے سر پر پیار دیتا بیسٹ آف لک ” کہتا جا چکا تھا کہ آج اسے ڈائریکٹ آفس نہیں جانا تھا بلکہ رحمان صاحب سے ملاقات کرنے انکے آفس جانا تھا ۔
پیچھے زیست جو ہمیشہ کی طرح لیٹ اٹھی تھی اب بھاگی بھاگی تیاری پکڑ رہی تھی کہ جانتی تھی نین کبھی لیٹ نہیں ہوتی وہ اسے چھوڑ جائے گی ،،آپو … پلیز بس دو منٹ ” وہ متانت بھرے لہجے میں کہتی ہاتھ سے اشارہ کرتی سب کے لبوں پر مبھم سی مسکراہٹ لانے کا سبب بنی ۔۔
کون کہتا ہے لیٹ اٹھو ” جلدی کرو اب میں گاڑی میں بیٹھ رہی ہوں وہ کہتی باہر جا چکی تھی ۔۔گاڑی میں بیٹھتے اس کا دل بیتے لمحات اور حدشات کی زد میں آنے لگا تھا ۔
بے چینی حد سے زیادہ ہونے لگی تھی ” دل میں گھبراہٹ طاری ہونے لگی اس سے پہلے کے وہ باہر نکلتی زیست تیزی سے باہر آتی اس کے ساتھ بیٹھی تھی اور ڈرائیور اجازت لیتا گاڑی سٹارٹ کر گیا ۔
اسکا دل سست پڑنے لگا تھا زیست مسلسل بولتی جا رہی تھی لیکن وہ اسے سن ہی کب رہی تھی دل و دماغ میں بسے وحشت ناک لمحات اسے آگے بڑھنے سے روک رہے تھے ۔
اسکی یونی آ چکی تھی ” آپو جائیں آپکی یونی آ گئی ہے زیست نے اسے جنجورتے بولا جو جانے کن سوچوں میں مدفن تھی ۔
ہاں۔۔۔ہمم وہ بوکھلاہٹ سے اسے غائب دماغی سے دیکھتی بولی تو اسکے سپید پرتی رنگت کو دیکھ کر زیست بھی ایک پل کے لیے خوف کا شکار ہوئ لیکن کب تک ،،کب تک وہ یونہی گھر بیٹھے رہے گی ۔
جائیں آپی ” اسے باہر نکلنے کا اشارہ کرتے وہ اسکی جانب کا دروازہ کھول گئی ،، نین نے بے چین نگاہوں سے اسے دیکھا تھا ۔۔مجھے نہیں جانا زیست ،، میرا دل گھبرا رہا ہے نم لہجے میں بولتی وہ اسے دیکھنے لگی جو اسے تقریباً دھکیلنے کے انداز میں باہر کر گئی کچھ نہیں ہوگا جائیں آپ ،، چھوٹی بچی نہیں ہیں آپ فیز کرنا سیکھیں اور اپنے لیے آواز اٹھائیں سرعت سے کہتی وہ ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا اشارہ کرتے دروازہ بند کر گئی جبکہ پیچھے نین نم آنکھو سے یونی کے گیٹ پر کھڑی تھی ۔۔قدم آگے بڑھنے سے انکاری تھے دل تھا کہ باہر آنے کو بے تاب ” خود میں ہمت بحال کرتے وہ آگے بڑھی تھی اور رستے میں ہی اسکی دوستوں نے اسے جھا لیا تھا ۔
سارے پیریڈز اس نے لیے تھے کسی نے کچھ نہ پوچھا تھا نہ اسے کچھ محسوس کروایا ۔۔اُسکا دل پرسکون ہوا تھا اور وہ جو دل میں سو سوالات کے جواب لیے بیٹھی تھی کہ کسی نے مجھ سے پوچھا تو میں یہ جواب دونگی ،،یہ بہانہ گھڑو گی سب دھڑے رہ گئے ۔
ــــــــــــــــــــــــــ
سربراہی کرسی پر رحمان صاحب براجمان تھے جبکہ وہ ان کے سامنے نگاہیں جھکائے بیٹھا تھا جیسے بہت بڑا گناہ کا مرتکب ہو ۔
میں ایسا نہیں تھا چاہتا ماموں جان ،،لیکن مجھے مجبور کر دیا اس نے میری ماں اور میرے رشتے کو سوال بنا کے رکھ دیا ۔۔وہ مجھ سے نگاہیں چراتے پھرتی ہیں ۔
میں اس اذیت میں پل پل مرتا ہوں کہ میری ماں جس نے مجھے پال پوس کر جوان کیا وہ کسی کے چند غلیظ جملوں کو دل سے لگائے مجھے دیکھنے ،،مجھ سے بات کرنے سے گریز برت رہی ہیں یہ بات مجھے کسی زہر کی طرح اندر سے کھائے جا رہی ہے وہ اذیت میں مبتلا تھکے ماندے لہجے میں دل میں جلتی آگ کو ان کے سامنے رکھتا سر جھکا گیا ۔
میرا بیٹا اس میں خود کو اذیت دینے والی کوئی بات نہیں میں جانتا ہوں اسکی ماں اور وہ دونوں ایک جیسی ہیں بے حد سفاک ” مجھے آپ سے کوئی شکوہ نہیں بلکہ میں تو آپکا بے حد مشکور ہوں کہ آپ نے اس طرح کی خود سر اور بدتمیز لڑکی کو اتنے سال جھیلا وہ تنے تاثرات سے بول اٹھے ۔
میں اب سب کچھ حالات کے دھارے پر چھوڑ چکا ہوں جنہیں انسان اور حالات نہ کچھ سیکھا پائے انہیں وقت اور خدا سدھائے گا اور اس وقت یہ لوگ اپنی بدقسمتی پر ماتم کریں گے وہ تھکے ہارے لہجے میں کہتے اسکے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیر گئے ۔۔
اللہ پاک آپکو ڈھیروں سکون عطا فرمائے اور ایسی شریک حیات سے نوازے جو آپ کی روح پر لگے زخموں کو مندمل کر سکے اسے دعا اور پیار دیتے وہ اسے سینے سے لگا گئے ۔۔۔ زبان کچھ اور کہہ رہی تھی جبکہ دل دل تو جیسے زخموں سے چور تھا وہ آج تسلیم کر چکے تھے کہ وہ ہار چکے تھے اپنی بیوی بچوں سے جنہوں نے انہیں زندگی کے ہر مقام پر ذلیل کروایا تھا ۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
وہ آفس میں داخل ہوئی تو سب اسے عجیب نگاہ سے دیکھتے باتیں کرنے لگے ،، وہ آفس میں اس قدر سناٹا چھایا دیکھ کر گھبرا گئی غی ،، سب کیوں اسے ایسی نظروں سے دیکھ رہے تھے وہ سمجھ نہ سکی تھی اور وہ سست قدم اٹھاتے اپنے کیبن کی جانب بڑھنے لگی تھی جب قریب سے گزرتے اسے ایک لڑکی نے حقارت بھری نگاہوں سے دیکھتے دوسری کو بولا تھا ،، اسی لیے تو لوگ غریب لڑکیوں کو کام پر رکھنے سے ڈرتے ہیں کہ یہ بھی نہیں دیکھتی باس میریڈ ہے بس اس پر ڈورے ڈالنا شروع ہو جاتی ہیں ۔۔اسے اپنی محبت کے جھال میں پھنسانے کے لیے اوچے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں اور دیکھو ہمارے سیدھے سادہ باس کو ہاتھوں میں لے لیا اس چھٹانک بھر کی لڑکی نے ،، وہ ساتھ والی لڑکی کو دیکھتے بول رہی تھی اور آیت ہارون کے پیرو تلے سے جیسے زمین کھسکی تھی ،، اس نے تو ایسا کچھ نہ کیا تھا وہ تیزی سے اپنے کیبن کی جانب بڑھی تھی اور اپنے ساتھ بیٹھی آرزو کو دیکھا تھا جو آنکھوں میں افسوس بھرے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
میں نے روکا تھا تمہیں آیت ” تم نے ایسا کیوں کیا اس نے افسردگی سے اسے دیکھا تھا ۔۔
میں ،،میں نے کیا کیا ہے ؟؟…
وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی تھی اور پھر جیسے ہی اس نے وہ مناظر دیکھے جو ایسے کیپچر کیے گئے تھے جیسے وہ دونوں اس جگہ پر اکیلے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ ” وہ کسی کو بھی شک و شبہہ میں ڈال سکتے تھے ۔
آیت کا دل کیا زمین پٹھے اور وہ اس میں سما جائے ۔۔
آ۔۔ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔یہ سب غلط ہے جھوٹ” وہ لڑکھڑاتے لہجے میں کہتی اسکی جانب دیکھنے لگی ،،ہم ہم میٹنگ پر گئے تھے وہ حواس باختگی میں لبوں سے بے ربط الفاظ ادا کرنے لگی ۔۔میں س،،سر سے بات کرتی ہوں اپنی سست ہوتی دھڑکنوں اور لرزتے قدموں سے وہ آگے بڑھنے لگی ۔۔
آیت سنو رکو ” باس ابھی نہیں آئے آرزو اسے باس کے آفس کی جانب ڈگمگاتے قدم بڑھاتے دیکھ بول اٹھی مگر وہ پیچھے پلٹے بغیر قدم اٹھانے لگی اس گہرے صدمے سے وجود اس قدر بے جان ہو چکا تھا کہ اسکے قدم ڈگمگائے اور اس سے پہلے کے وہ زمین بوس ہوتی کسی مہربان لمس نے اسے اپنے حصار میں قید کیا تھا اور اسے سیدھا کھڑا کیا تھا بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کے چٹانی سینے سے لگی تھی اور ایک سسکی نازک ہونٹوں سے نکلی تھی ۔
آر یو اوک مس آیت ….؟؟…
اس کے سسکنے پر وہ اسے دیکھنے لگا جو ہوش میں آتی اسے سامنے دیکھتی چہرہ ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
ہوا کیا ہے مجھے کچھ بتائیں گی ،،مس آیت ۔۔۔ وہ بے حد متفکر سا اسے دیکھتا مستفسر تھا جو ایسے رو ” کے اسے مزید پریشان کر رہی تھی ۔
اچھا آئیں آپ میرے آفس میں آیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں وہ اسے زبردستی اپنے آفس میں لاتے بیٹھنے کا اشارہ کرتا کرسی گھسیٹ کر اسکے قریب کر گیا ٫،، اب بتائیں کیا بات ہے کیوں رو رہی ہیں ۔کسی نے کچھ کہا ہے ؟.
آپکی مما کی طبیعت ٹھیک ہے ؟
یونی میں کوئی مسلہ ہوا ہے۔۔
آپ بتائیں گی نہیں تو مجھے کیسے علم ہوگا وہ جنجھلا سا گیا تھا ۔ایک تو پہلے ہی وہ اتنے اسٹریس میں تھا دوسرا اب نئی مصیبت اس کے گلے پر گئی تھی ۔
اچھا اوپر تو دیکھیں ” اسکے لرزتے وجود کو دیکھتے وہ پانی کا گلاس بھرتے اسکے آگے کر گیا ۔پانی پیے اور آرام سے مجھے ساری بات بتائیں” گلاس زبرستی اسے تھماتے سنجیدگی سے کہتا اسکی جانب دیکھنے لگا جو اب سوں سوں کرتی نم پلکیں جھکائے ہوئے تھی ۔
کل ہم میٹنگ پر گئے تھے نہ ” ۔۔
ہمم گئے تھے اس نے جواب دیا ۔
وہاں جب جوس گرا تھا تو وہ وہ والی پکچرز کسی نے بنا کے سب کو سینڈ کردی ہیں اور اب اب سب مجھے غلط بول رہے ۔
آفس میں بھی سب مجھے بول رہے میں نے جان بوجھ کر سب کیا ۔۔میری وجہ سے آپکی وائف وہ بولتے ضبط کے بوجود پھر سے رونے لگی ۔
حارب ساکت بیٹھا سایں سایں کرتے دماغ کے ساتھ اس کے لفظوں کو سمجھنے کی کوشش میں تھا سامنے بیٹھی لرزتی لڑکی کو دیکھ کر اس کے دماغ میں دھماکے ہوے تھے اس نے تیزی سے اپنا فون ٹیبل سے اٹھایا تھا جس پر بے حد نوٹیفکیشن تھے ۔
میسجز اوپن کرتے سرفہرست بنفشہ کا نمبر تھا جس پر کلک کرتے ہی اسکا دماغ سنسنا اٹھا تھا ۔
وہ ایسا کیسے کر سکتی تھی ” کیا وہ اس قدر گر سکتی ہے ذہن میں پہلا سوال یہی اُترا تھا ۔۔سکرین پر نگاہیں گارے جیسے جیسے وہ میسجز پڑھتا جا رہا تھا اس کے دماغ کی محصوص رگ بڑی تیزی سے پھرپھرانے لگی تھی جس میں صاف لکھا تھا یہ اس تھپر کا بدلہ تھا جو حارب نے اسے مارا تھا ۔
اسکی اور آیت کی تصاویر کو اس انداز میں ایڈٹ کیا گیا تھا کہ وہ حقیقت کا روپ اختیار کیے ہوے تھی اسکی گرفت فون پر مضبوط ہوی تھی یہاں تک کے ہاتھوں کی سبز نسیں نمایاں ہونے لگی ۔
قریب بیٹھے نازک وجود کو ہچکیاں بھرتے دیکھ وہ اپنے تمام تر غصے کو پس پشت ڈالتے سرعت سے اسکی جانب بڑھتے اسکے قریب بیٹھتے اسکا ہاتھ تھام گیا تھا ۔
اور اس کے ہاتھوں کے نرم گرم لمس پر ہی وہ بے جان سی ہوتی نگاہیں اٹھائے اسے دیکھنے لگی تھی ،،یہ لمس یہ تو شفا تھا اِسکے لیے جو جسے چھوتا اسے امر کر دیتا ۔
اسکی سرمئی پانیوں سے بھری آنکھوں میں دیکھتے حارب کا وجود جیسے بکھرنے لگا ۔
دیکھیں آپ جانتی ہیں آپ غلط نہیں ہیں ” یہ سب بس کسی کی جانب سے ایک ٹریپ تھا جس میں آپ پھنس گئی میں سب کچھ کلئیر کردونگا آپ نے بس رونا نہیں وہ گھبراہٹ زدہ سا اس کے رونے پر وحشت کا شکار ہوتا بولا ۔
کیسے اس کے معصومیت بھرے سوال پر اس ٹینشن زدہ ماحول میں بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی ۔
میں دیکھ لونگا سب ” بس کچھ وقت دیں مجھے اب جائیں جا کے فریش ہوں کیا حالت بنا لی ہے آپ نے اپنی ” اسکی ابتر حالت اور وہ افسوس سے سر نفی میں ہلاتے اسے قدرے پرسکون کر گیا ۔
اسکے جاتے ہی وہ کرسی پر ڈھ سا گیا اس عورت کو ذرا ترس نہ آیا تھا اس پر کوئی کیسے اتنا سنگ دل ہو سکتا ہے اسکے دل سے آہ نکلی تھی جو سیدھا بنفشہ کو لگی تھی ۔
کاش وہ لمحے لوٹ آئیں جب میں آپ سے ملا تھا ،،میں اس وقت ان لمحات کو اپنے ذہن اور زندگی سے مٹا سکون سینے پر پڑتے بوجھ سے وہ آنکھیں میچ گیا ۔۔
آیت کو وہ جیسے تیسے سمجھا تو چکا تھا لیکن جانتا نہ تھا آگے کیا قیامت برپا ہونے والی تھی اُس معصوم کی زندگی میں ،، وہ تھکا ہارا گھر کے لیے نکلا تھا ۔
