Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes Readelle 50359

Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes Readelle 50359 Last updated: 12 November 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Sanam Mera By Yumna

رہا میری جان کچھ بتاؤ وہ کون تھا " کوں لوگ تھے ؟؟
کچھ تو دیکھا ہوگا تم نے ،، نہیں امی میں نہیں جانتی " میں نے کسی کو نہیں دیکھا ،، انھوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی ،، امی میرا یقین کریں میں نہیں جانتی ،، میں بہت روئ بھت گرگرائ ان کے سامنے لیکن میری کسی نے نہ سنی " امی انہیں میرے پے ترس نہ آیا ۔۔
آنسو سے تر گلاب سا چہرہ سوجی آنکھیں کپکپاتے لب ،، وہ لڑکی رو رو کر سب کو اپنے ساتھ ہوئے اس ظلم کی داستان سنا رہی تھی ،جسے عین اسکے نکاح کے دن اٹھوایا گیا تھا ۔
بکواس جھوٹ " بول رہی ہے یہ ۔۔اس کے عاشق نے انکار کر دیا ہوگا نکاح کرنے سے تو یہ واپس آ گئی" ورنہ ایسے کوئی چھوڑتا ہے کسی کو " وہ بھی لڑکی ذات کو ۔۔جو کھلی تجوری کی طرح اس کے سامنے موجود ہو اور وہ اسے دیکھ کر بھی جانے دیں ۔۔
سالار میں کہتی تھی نہ اسکا چکر ہے یونیورسٹی میں ،،اس وقت آپ سب نے مجھے غلط ٹھرایا تھا " آج دیکھ لیں آپ سب کی عزت کو کیسے روند کے آئی ہے دنیا کے سامنے ،،
ذکیہ ماتھے پر بلوں کا جال ڈالے " سفاکیت سے بولتی اسے زہریلی نگاہوں سے غور رہی تھی ۔
ذکیہ خاموش رہو " نہیں نہیں بھابھی ایسا مت کہیں " بھائی میرا اللہ گواہ ہے میں نے آج تک کبھی کسی لڑکے سے بات تک نہیں کی ،،
وہ جو پہلے ہی غم سے نڈھال بیٹھی تھی " ذکیہ کی بات سنتے روتے ہوئے بھائی کے ہاتھ تھام گئی ۔
میں نے کچھ نہیں کیا بھائی خدا کے واسطے میرا یقین کریں ،، اس کی آنکھیں ایک پل کے لیے خشک نہ ہوئ تھی " اپنے ساتھ ہوئے اس حادثے پر وہ پہلے ہی مرنے والی ہوئ ہوئی تھی اس پر مستزاد بھابھی کے الزامات "
اس کا روم روم کانپ رہا تھا