Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes Readelle 50359 Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 3)
No Download Link
Rate this Novel
Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 3)
Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes
رحمان مینشن ” پہنچتے وہ شدید اشتعال کے عالم میں صددر گیٹ کے قریب کھڑے ہوتے پورا زور لگا کے دروازہ پیٹنے لگی کہ رات کے ایک بجے ” ہراول بھٹی جو اپنے ماسٹر بیڈ روم سے ملحقہ ٹیرس پر کھڑا سگار سلگا رہا تھا “
جب اسکی نگاہ نیچے پری جہاں کھڑے گارڈ آگے بڑھتے گیٹ کھول رہے تھے ۔
پورچ میں گاڑی رکی تھی اور وہ پاؤ پٹختی تیزی سے آگے بڑھتے دروازہ پیٹنے لگی ۔
اسے کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے ہوا تھا
اس نے شاکی نگاہوں سے نیچے دیکھا اور تیزی سے باہر نکلتا
سیڑھیاں عبور کرتے ہال میں داخل ہوا ” ۔۔۔
سامنے سے آتی بنفشہ کی پہلی نگاہ اس سے ٹکرائی تو وہ بھاگتی اس کے سینے سے لگ گئی” بھائی ۔۔
وہ اپنی بڑی بہن کو رات کے اس پہر دیکھ کر حیران و پریشان ہوتا تیزی سے قدم بڑھاتے قریب گیا تھا کہ وہ تیزی سے بھاگتے اس کے سینے سے لگی تھی ،،
اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں بینچتی وہ سسکتے ہوے اس کے سینے سے لگی روتی نم لہجے میں بولنے لگی ،، مجھے وہاں واپس نہیں جانا بھائی ” میں نہیں جاؤنگی واپس ۔۔۔وہ لحظہ بھر کے لیے گربرا سا گیا ۔۔
اچھا میری جان کچھ نہیں ہوا ” آپ خاموش تو ہو ۔۔آؤ یہاں بیٹھو ۔۔
نہیں مم پاس ” اچھا آؤ مم پاس چلتے ہیں ۔
ابھی وہ اسے لیے آگے بڑھا ہی تھا کہ باہر سے آتی آوازوں پر رحمان صاحب اور جنت بیگم کمرے سے باہر نکلے ” اور بنفشہ کو سامنے ہراول کے سینے سے لگا دیکھ کر ناقابل فہم تاثرات سے انہیں دیکھنے لگے ..
جنت بیگم تعجب اور صدمے کی کیفیت میں گھڑی اسے دیکھے جا رہی تھی ،،لفظ جیسے ہونٹوں پر جم سے گئے تھے
ڈیڈ ” وہ انہیں دیکھتی روتی تیزی سے آگے بڑھتے انکے سینے سے لگی ” ۔۔ رحمان صاحب جو شل کھڑے اپنی جان سے پیاری بیٹی کو رات کے اس پہر دیکھ کر حیران و پریشان ہوے تھے ۔۔اسے روتے دیکھ اس کے گرد اپنے توانا بازو پھیلا گئے ۔
ڈیڈ کی جان ” میری چریا ۔۔۔
اسے لیتے وہ کمرے میں داخل ہوے اور اپنے ساتھ بٹھایا” اب بتاؤ میرا بچہ کیا ہوا ہے ۔۔آپ اس وقت …
وہ ٹھرے ہوے لہجے میں محبت اور نرمی سے اس کی جانب دیکھتے مستفسر ہوئے ۔۔
میں واپس نہیں جاؤ گی ڈیڈ ،، عجیب لوور مینٹیلٹی ہے ان لوگوں کی جینے ہی نہیں دیتے چین سے ۔
کوئی نہ کوئی ایشو بنا کے رکھتے ہیں
اور آج تو حد کر دی انہوں نے ،، جان بوجھ کر حارب کو میرے خلاف ورغلایا اور میرے آنے سے پہلے اس کے اچھے حاصے کان بھرے کہ میں نہ محب کو وقت دیتی ہوں اور نہ اسکا خیال رکھتی ،،
وہ سو سو کرتی مصنوی آنسو بہاتے اپنے سے دو باتیں لگاتے خود کو معصوم ظاہر کرنے لگی ،، اور اور میرے آنے پر حارب مجھ پر اتنا ہایپر ہو گئے اینڈ ” ہی واز اباؤٹ ٹو سلپ می ” ۔۔۔
وہاٹ “….ربش ۔
آر یو سیریس آپی “…
ہراول جو اس کے سر پر کھڑا مٹھیاں بینچے غصے اور طیش کے عالم میں کھڑا اسے باغور سن رہا تھا اس کی اس بات پر ہتھے سے اکھڑتا شدید اشتعال انگیز لہجے میں گرایا کہ جنت بیگم جو بیٹی کو باپ کے سینے سے لگے دیکھ اسکی بات خاموشی سے سن رہی تھی سرعت سے اسکی جانب بڑھی ۔
جس کی آواز اس وقت ماحول میں عجیب وحشت بھرپا کر رہی تھی اور اُسکا تیز تپتا لہجہ ۔۔۔
رحمان صاحب نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا کہ ان کے دیکھنے کے انداز پر وہ آنکھیں میچتا ،، دانت پر دانت جمائے قریب کھڑی جنت بیگم کی جانب دیکھنے لگا جنہوں نے اسے آنکھوں میں التجا لیے دیکھا تو وہ لب بینچ گیا ۔
رحمان صاحب اچھے خاصے سمجھدار اور پر وقار شخصیت کے مالک تھے ” وہ حارب کی نیچر سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ انکی بیٹی کتنی ضدی اور خود سر ہے ،، اس کے باوجود تین سال سے اس نے کبھی انہیں شکایت کا موقع نہ دیا ۔۔
وہ اکثر اوقات اس کے آفس چکر لگاتے تھے اور سب کے شعور میں لائے بغیر وہ انہیں کافی بار اس پر سختی کا بھی کہہ چکے تھے کیونکہ وہ واقف تھے حارب کی نیچر سے وہ کس قدر سوفٹ اور پولایٹ طبیعت کا بچہ ہے ۔۔
ان کی بہن نے ان تینوں کی بہت اچھی تربیت کی ہے ” وہ سختی کے قائل نہ تھے ۔۔ لیکن ان کے بچوں کی بے جا ضدیں اور خواہشات کو پورا کرنے کے باعث وہ کافی ضدی اور خود سر ہو چکے تھے ۔
اسی لیے جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے بچے بگڑ رہے ہیں تو وہ آسٹریلیا سے واپس پاکستان شفٹ ہو گئے ۔
جنت بیگم اور بچوں نے ان کے فیصلے کی خالف ورزی کرنی چاہی مگر وہ اپنے فیصلے پر اٹل رہے اور پاکستان شفٹ ہو گئے ۔
بنفشہ نے یہان کراچی یونی ورسٹی میں داخلہ لے لیا لیکن ہروال آسٹریلیا سے واپس نہیں آنا چاہتا تھا اور وہ نہ آیا تو انہیں تینوں کو اکیلے ہی آنا پڑا ۔
بنفشہ ستائیس سال کی اور ہراول اس سے ڈیڑھ سال چھوٹا تھا ۔
بنفشہ کو حارب بہت پسند آیا اور دونوں میں نزدیکیاں بڑھنے لگی حارب بھٹی تیس سال کا تھا ۔۔
رحمان صاحب بہت خوش تھے کہ انکی بیٹی کو اتنا اچھا لائف پارٹنر ملا تھا ۔
آپ نے کیا کیا تھا بیٹے “… رحمان صاحب نے ٹھرے ہوے لہجے میں استہفامیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تو وہ گربراء کے رہ گئی ۔
میں نے کچھ نہیں کیا ڈیڈ ” اپنے برهکتے جذبات پر قابو پاتے وہ دھیمے لہجے میں گویا ہوئی ۔
اوک میں صبح بات کرونگا حارب سے” بہت وقت ہو گیا ہے آپ جاؤ جا کر ریسٹ کرو ۔۔۔
انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں اسے کہا تو وہ ششدر سی انہیں دیکھنے لگی
رحمآن صاحب آپ ایسے کیسے بات کو اتنا لائٹ لے رہے ہیں کال کریں حارب سے پوچھے اس سے اس نے کیسے ہماری بچی پر ہاتھ اٹھانے کی جراءت کی ،، وہ متنفر سی ماتھے پر بلوں کا جال لیے ان کی جانب دیکھتے تپے انداز میں دبے دبے لہجے میں کہتے مٹھیاں بينچی ” ۔۔
بیگم صاحبہ میں بہتر جانتا ہوں کہ مجھے کس وقت کیا بات کرنی ہے اور آپ ہی کی طرح آپکی بیٹی بھی جذباتی طبیعت کی مالکہ ہیں جس سے آپ اور میں خوب واقف ہیں ۔
اسلئے آپ لوگ اس وقت اپنے رومز میں جائیں کہتے وہ اٹھ کھڑے ہوئے تو وہ تینوں اسپاٹ انداز میں انہیں دیکھنے لگے
جنت بیگم نے انہیں اشارہ کیا تو وہ دونوں کمرے سے نکل گئے ۔
دیکھا بھائی ” کیسے ڈیڈ ان کی طرفداری کرتے ہیں
اور مجھ ،مجھ سے تو کیسے بیر ہے ،، جیسے میں جان بوجھ کر کرتی ہوں سب ۔
میں وہاں اس ٹاکسک ماحول میں رہ کر جو برداشت کرتی ہوں وہ اس سے بے خبر ہیں ۔۔ مجھ پر آج وہ ہاتھ اٹھانے والا تھا کل کو بہن مان کے بہکاوے میں آ کر مار بھی دے گا ڈیڈ اس وقت بھی خاموش رہیں گے وہ غصے و غم کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ چہرے پر لاچاری لیے روتے ھوئے بولی تو اس کے آنسو دیکھتا وہ لب بینچ کے اس کے قریب ہوا ۔
کسی میں اتنی ہمت نہیں میرے ہوتے ہوے تمہیں ہاتھ لگا سکے ،، بے لچک اور کھردرے لہجے میں وہ بولتا اپنی تنی رگوں سے اسے دیکھتا اس کے سر پر ہاتھ رکھ گیا لہو چھلکاتے چہرے سمیت اس نے اپنی سرمئی آنکھوں اور سرخ پڑتے چہرے سے اسے دیکھا ۔
جی تو چاہ رہا تھا کہ اسی وقت حارب بھٹی اور اسکی بہن کا حشر بگاڑ کر رکھ دے ۔
آنکھوں میں مرچے سی چبنے لگی ،،بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ شدید مشتعل ہوتا انہیں مارنے کے در پر تھا ۔
رہ رہ کر اپنی بہن کا خیال آ رہا تھا ۔۔
بھائی مجھے نہیں جانا واپس جب تک وہ لوگ مجھ سے معافی مانگ کر مجھے خود آ کر لے نہ جائیں ،،میں نہیں جاؤنگی ۔
مجھ سے نہیں مزید انکی بلاوجہ کی حدبندیاں برداشت ہوتی وہ ترخ کر بولی ۔
جسٹ ریلکس مائے لو ” ! وہ خود اپنے پاؤں پر آئیں گے آپ سے معافی مانگنے ۔۔
جسٹ واچ” ۔۔۔۔
میں انہیں کسی قابل ہی نہیں چھوڑوں گا زہر ہند لہجے میں کہتا وہ آنکھوں میں عجیب وحشت کے رنگ لیے جانے کس سوچ میں تھا ۔
آپ جاؤ جا کے ریسٹ کرو ۔۔جسٹ کول ڈاؤن ” اس کے ماتھے پر لب رکھتا وہ محبت بھرے لہجے میں گویا ہوا ۔
بنفشہ نے اس کے خوبرو چہرے پر نگاہ ڈالتے سر اثبات میں ہلاتے وہاں سے اٹھ گئی ۔
گندمی رنگت ” گہری سرمئ نگاہیں ،گھنی مونچھوں تلے عنابی لب جو ہمہ وقت بينچے رہتے تھے ہلکی بیئرڈ ،، کندھوں تک آتے سیاہ سلکی بال جو پیچهے بن کی صورت میں بندھے تھے ۔
اسکی لوکس اسکی پرسنالٹی ظاہر کرتی تھی کہ وہ دوسرے کسی ممالک کا ریزیڈنٹ ہے ۔
ٹراوزر شرٹ میں ملبوس ” ڈھیلی شرٹ سے ظاہر ہوتا اسکا کسرتی سینہ اور مضبوط توانا بازو اس کے کثرت کا پتہ دے رہے تھے کہ وہ کتنا وقت جم میں گزارتا تھا ۔
سرخ چہرے اس وقت خطرناک حد تک سنجیدگی لیے ہوے تھا سرمئی آنکھیں گہری دلچسپی لیے ہوے تھے جس میں اس وقت مقابل کے لیے بے حد نفرت اور حقارت تھی ۔
ایک پل کو ذہن میں پلان ترتیب دیتا وہ استہزاء سے مسکرایا اور لمبے ڈگ بڑھتا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
اب دیکھنا یہ تھا کہ ہراول بھٹی جس کو آسٹریلیا میں اس کے دوست ڈیر ڈیول کے نام سے بھی پکارتے تھے وہ یہاں اپنا کونسا روپ دکھانے والا تھا ۔۔اسکا شیطانی دماغ کچھ تو پلان کر چکا تھا لیکن کیا ۔۔اس سے سب انجان تھے اور شاید وہ معصوم جان بھی جو اس کی پاکستان میں آمد سے انجان تھی
جاری ہے ۔۔۔
پچهلی قسط پر آپکا رسپانس بلکل اچھا نہیں تھا نہ آپ نے ٹارگٹ پورا کیا ۔۔لیکن دیکھیں آپکی رائٹر کتنی اچھی ہے پھر بھی ایپی دے دی ۔
اب گیس کریں ہراول بھٹی کیا کرنے والا ہے ۔؟؟؟
