Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes Readelle 50359 Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 20)
No Download Link
Rate this Novel
Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 20)
Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes
اس کو سمجھا بجھا کر ریلیکس کرکے بھیجا تھا لیکن سارے راستے وہ پریشان حال سی ہاتھوں کو آپس میں اُلجھاے بیٹھی رہی جانے اب کیا ہو رہا تھا دل میں ،، بھاری دل میں بڑے اندیشے لیے وہ اپنی گلی کے باہر گاڑی سے اتری تھی آج حارب کا ڈرائیور اس کو چھوڑنے کے لیے ایا تھا وہ جس حال میں تھی اور جس قدر پریشان تھی اس کو اکیلے بھیجنا اس کو مناسب نہ لگا تھا وہ جو اپنی گلی کے اندر داخل ہوئی تھی سامنے سے عورتوں کا ہجوم دیکھ کر اپنے گھر کے دروازے کے قریب کھڑے کچھ مرد اور خواتین جو بلند آواز میں کچھ بول رہی تھی باہر نکلتی فورا بھاگی تھی نہ دوپٹے ،،کا ہوش نہ بیگ کا ہوش دل سوکھے پتے کی طرح لرزنے لگا تھا جو دل میں اندیشے تھے جس کی وجہ سے وہ سب کچھ چھوڑتی اپنے گھر کی جانب بھاگی تھی آگے بڑھتے قدم رکے تھے دروازے پہ اس کی ماں بیٹھی رو رہی تھی عورتیں کھڑی ہوئی ان کی بیٹی کی کردار کشی کر رہی تھی اور عورتوں نے اس کو دیکھتے ہی منہ پر ہاتھ رکھتے چہمگوئیاں کرنا شروع کر دی ۔
ماں کا منہ کالا کرکے ساری دنیا میں اس کو رسوا کرکے بے شرم لڑکی کیسے ہمارے بیچ کھڑی ہے ،،عورتیں اس کی جانب دیکھتی حقارت و نفرت سے بغیر کسی لحاظ کے بولنے لگی وہ جو اپنی ماں کو روتا ہوا دیکھ رہی تھی فورا سب کو جھٹکتی ان کے قریب گئی ماں امی کیا ہوا ہے آپکو ،، میرا یقین کریں ایسا کچھ نہیں ،،میں نے کچھ نہیں کیا یہ ب**** کر رہے ہیں۔۔۔ سب نکلو یہاں سے تم لوگ کبھی کسی کی ویسے خبر نہ لی اور اب سوں لینے آ گئے ہیں اگر بات کی حقیقت کا پتہ نہیں ہوتا تو بغیر حقائق کے فضولیات نہیں بکتے ،،
اور گھر ہمارا ہے تم لوگ کون ہوتے ہو کچھ بھی بولنے والے ،،جاؤ یہاں سے ،، وہ طیش اشتعال سے چلائی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئ بلکہ ہونٹوں پر ہاتھ رکھے ایک عورت بولی کتنی چال باز ہے یہ دیکھو تو صحیح اس مکار لڑکی کو کہ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری ،،گل کھلا کر آئی ہے اور اب ہمیں بول رہی ہے عورت اتنی نحوت سے دوسروں کو بولی کہ دوسری عورتیں عورتیں بھی منہ پر ہاتھ رکھ گئی شرم نہ ائی تمہیں اس عمر میں ماں کا منہ کالا کرتے ہوئے تھوڑا لحاظ ہی کر لیتی اپنی کم عمری کا نہیں تو ماں کا ،،کہ بیماری کی مریضہ ہے تمہاری ماں ” کسی بھی وقت مر سکتی ہے ان کی اس قدر سے سفاک الفاظ پر نہ چاہتے ہوئے بھی آیت کی انکھوں میں آنسو جھلملانے لگے نرگس بیگم کو سہارا دیتی اٹھا رہی تھی اس کے اپنے ہاتھ کانپنے لگے ماں میں نے کچھ نہیں کیا یہ سب ب**** کر رہے ہیں اپ ان کی باتوں کا یقین مت کریں دکھ سے بھاری اواز میں وہ ان کی جانب اشک بار نگاہوں سے دیکھتی اپنی ماں کو سہارا دیتی اٹھاتے بولی نرگس بیگم نے روتے ہوئے چہرے کو دوپٹے سے صاف کیا جانتی ہوں میری بیٹی کا کردار شفاف صاف ہے مجھے یقین ہے اپنی بیٹی پر ،،میں تو ان لوگوں کی کم عقلی پر رو رہی ہوں جو ایک ذرا سی تصویروں کو دیکھ کر میری بیٹی کے کردار کی گواہی دینے لگے ہیں وہ روتی کب سے ان لوگوں کی جانب دیکھتی بولی ان کی بات سنتے مجمعے میں ایک عورت بولی ہاں ہاں بول دو تصاویر جو اس کے باس کے ساتھ تھی وہ سب جھوٹ ہے اور خراب ہے ،،
ایک ڈرامہ ہے کسی نے تم لوگوں کو پھنسانے کی کوشش کی ہے ۔ کسی کو کیا ضرورت تمہاری ،، تم غریب سے لوگوں کو پسند کرنے کی اسی لیے تو یہ گھل کھلائیں وہ باہر نکلے ہیں یا پھر ان سب میں تم بھی شامل تھی نرگس بیگم تم نے ہی جان بوجھ کر اپنی بیٹی کو بھیجا ہوگا کہ جاؤ جا کے کسی امیر کے ہاں نوکری کرو اور پھر اس کو پھنساؤ تاکہ حالات بہتر ہو اور تم لوگ بھی گھر میں بیٹھے مال و مال ہو ،نفرت بڑی حقارت بڑی نگاہوں سے دیکھتی وہ ب**** کر رہی تھی ۔ کچھ بھی نہیں ہے ایسا ،، کسی نے مجھے پھنسانے کی کوشش کی ہے یہ صرف ایک غلط فہمی کے طور پر ہوا تھا کچھ نہیں ہے وہ لوگوں کی باتوں پر جن تنکا تنکا بکھرتی اذیت سے چلائی ٫ اتنی ذلت اتنی ذلت اتنی توہین اس کے شفاف کردار پر اس کے شفاف کردار پر الزام لگایا گیا تھا کہ نرگس بیگم سے یہ سب برداشت نہ ہوا تھا وہ جو اس کا ہاتھ تھامے کھڑی تھی ایک دم ان کا ہاتھ دل پر گیا تھا اور وہیں وہ فرش پر بھکرتی چلی گئی تھی ایک دم ماحول میں آیت کی وحشت ناک آواز بلند ہوئ تھی،،۔
ماں امی امی کیا ہوا ہے آپ کو وہ جو پورے قد سے زمین بوس ہوی تھی ،، ماحول میں آیت کی وحشتناک چیخیں گونج اٹھی تھی ۔
ڈرائیور جو اسکے ساتھ ہی وہاں اُترا تھا اور رش کو دیکھتے وہی کھڑا ہو گیا ،،اسے بلک بلک کے روتا دیکھ مجمعے کو چھیڑتا وہاں گیا تھا اور بے حس لوگو کو کھڑے دیکھ کر آگے بڑھتے اسے پکارا تھا ۔
میم چلیں ” یہاں سے ۔۔۔ انکو ہاسپٹل لے کر جانا ہے ،، وہ اسکی زرد نچری رنگت دیکھ کر بولتا نرگس بیگم کو اٹھاتا آگے بڑھا تھا اور انکے پیچھے وہ بھاگی بھاگی وحشت ناک ماحول کو چیرتی نکلی تھی ۔
پیچھے سناٹا چھا گیا تھا لوگ خاموشی سے اپنے گھروں کی جانب چل دیے،،پیچھے وہ معصوم جان لرزتی کانپتی ماں کے چہرے پر جھکی تھی ۔
——————–
حارب جو تھکے ہوے اعصاب سے مینشن پہنچا تھا ریلکس ہوتا ابھی فریش سا سیاہ ٹراوزر شرٹ میں باہر نکلا تھا کہ اسکا فون گنگنا اٹھا ۔۔
اس نے آگے بڑھتے فون اٹھایا اور دوسری جانب سے اسے جو خبر سننے کو ملی اسکے ہاتھ سے فون چھوٹتا نیچے گرا تھا ” اسکی وجہ سے وہ معصوم جان مشکل میں پڑی تھی یہی بات اسکے دل کو کسی بھاری سل کے نیچے دبا گئی وہ تیزی سے باہر نکلتا لاؤنج سے گزرنے لگا کہ افشاں بیگم جو اس سے بنفشہ کی بات کے بعد سے بہت کم گویا ہوتی اسے آج اس قدر عجلت میں نکلتا دیکھ ٹوک گئی ۔۔
حارب کہاں جا رہے ہو بچے ” ابھی تو آئے ہو متفکر سی اسکی جانب دیکھنے لگی جو سرخ چہرے سے پلٹتے انکے قریب آیا تھا ۔۔ماں جان دعا کریں اس عورت کے ذمے ایک اور گناہ نہ لکھا جائے ” پہلے ہی وہ میرا بہت بڑا نقصان کر چکی ہے مزید کچھ بھی ہوا تو میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا سخت لہجے میں کہتا وہ جا چکا تھا پیچھے افشاں بیگم ساکت سی کھڑی رہ گئ تھی ۔۔
جانے اب کیا کیا تھا اس لڑکی نائب،،ان کی آنکھیں نم ہوئ تھی یا اللہ میرے بچے کو اسکی خوشیاں لوٹا دے ” دل سے دعا گو ہوتی وہ نم آنکھیں صاف کرتی اندر کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔۔
ہاسپٹل کے سرد کاریڈور میں پرے بینچ پر بیٹھی ہوئی وہ لڑکی زارو قطار آنسو بہاتے سرد پرتی خوف اور اندیشوں سے کانپ رہی تھی ،،ذہن ہولناک وسوسوں میں گھڑا اس وقت سایں سایں کر رہا تھا ،، ۔۔۔۔ آس و نراش میں ڈوبی وہ بار بار اٹھتی ایمرجنسی روم کی جانب دیکھتی جہاں سے انہیں لے جایا گیا تھا ،،
دل پھٹنے کے قریب تھا ،، بدن پر لرزہ طاری تھا ۔
کسی انہونی کا احساس دل میں بنجر کی طرح کھوبا جا رہا تھا وہ بار بار خود کو جھٹکتے آیت پڑھتی ،،کبھی درود پڑھتی زبان سے لفظ ادا ہونے سے انکاری تھے ۔
سامنے سے وہ مہرباں وجود آتا دکھائی دیا تھا جو اس دھوپ میں سایہ دار درخت کی مانند اسے اپنی چھاو میں لیتا سب ٹھیک ہونے کا احساس دلا رہا تھا ۔
ـــــــــــــــــــــــــــ
میں مر جاؤں گی ،،میں تنہا رہ گئ ہوں واپس آ جاؤ خدا کے لیے میرے پاس کچھ نہیں رہا ،،خالی ہاتھ بیٹھی ہوں ۔
مجھے معاف کردو لوٹ آؤ اس سے پہلے کے احساس جرم میری جان لے لے ۔۔
وہ روتی بلکتی اسے پکار رہی تھی وہ شل وجود کے ساتھ جہاں کا تہان کھڑا تھا وہی رہ گیا۔
اسرار صاحب جو حاشر کے جانے کے بعد کچھ زیادہ ہی خاموش ہو گئے تھے ،، جنت بیگم کو انکی خاموشی چبنے لگی تھی ۔انہیں یہی تھا کہ انکا بیٹا کبھی ان سے دور نہیں جا سکتا ” لیکن اب جب وہ دور چلا گیا تھا تو وہ جو اپنے اوپر سختی کا ہول چڑھائے ہوے تھی وہ ان تین مہینوں میں پاش پاش ہو چکا تھا ۔
حاشر انکا اکلوتا بیٹا تھا وہ اسے کتنا دور رہتی آخر کار وہ جو دادو جان سے بات کر رہا تھا جنت بیگم ان سے فون لیتی چہرے پر کرب و اذیت لیے پھپھک پھپک کر رو دی ،،
خدارا واپس آ جاو جو چاہتے ہو جیسا چاہتے ہو ویسا ہوگا مگر مزید مجھے یہ دوری کا عذاب نہ دو تمہاری ماں میں اتنی سکت نہیں کہ اپنے بیٹے کی دوری برداشت کر سکے ،،
موم ….. حاشر جو انہیں روتا دیکھ خود ساکت تھا انکے الفاظ پر جیسے اسکے جسم میں کسی نے روح پھونک دی ہو جیسے ” کیا کہا آپ نے پھر سے کہیں” وہ بے یقین سا انہیں ویڈیو کال پر دیکھتا بولا ۔
میں تمہیں دی اپنی قسم واپس لیتی ہوں ” میرا ہی دماغ خراب تھا کہ بنفشہ اور جنت کی باتوں میں آ کر اس پھول سی بچی کا دل دکھانے کا سبب بنی ،، سنگت کا اثر ہی کچھ ایسا ہوتا ہے لیکن اب مزید دیری نہیں تم بس واپس آؤ جلدی ،،وہ جو انکی لفاظی میں کھویا تھا کیا سچ میں موم ۔۔۔۔ بے یقین سا وہ بولا تو وہ آنسو بھری نگاہوں سے اسے دیکھتی سر اثبات میں ہلا گئی ” تو وہ جو اس وحشت زدہ ماحول میں تین مہینوں سے وقت گزار رہا تھا بیک وقت مزید تنگ ہوتے محسوس ہوے اس ماحول سے تنگی محسوس ہونے لگی تھی ۔
ساری کثافتیں اور غم کے بادل چھٹ چکے تھے” خوشیاں انکی منتظر تھی ،، وہ آنکھوں کے نم ہوتے گوشوں کو رگڑتا فون بند کر گیا تھا کہ اس کا خود پر ضبط جواب دے گیا تھا ” آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا اور ایک منٹ سے پہلے وہ وضو کرتے سجدہ شکر ادا کرنے کے لیے جائے نماز پھیلاتا اس پر کھڑا ہوا تھا ۔۔اپنے نصیب کی تابناکی پر وہ خوش تھا” اور دل میں وہ لڑکی کو ملنے کی چاہ جو وہ دبائے پھر رہا تھا بڑے دھڑلے سے امڈتے اس کے اندر جذبات کا طوفان برپا کر گئی تھی ۔
سب کو سرپرائز دینے کا سوچتے وہ بیگ پیک کرنے لگا تھا ۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــ
“میں واپس ویسا ہی بننا چاہتی ہوں جیسا پہلے تھی،
ایک ایسی لڑکی جو یہ مانتی تھی کہ خوشی حاصل کرنا آسان ہے،
راستے سے گزرنے والے بچوں بوڑھوں کو دیکھ کر مُسکراتی تھی،
اور کسی چیز کے بارے میں سوچے بغیر سو جاتی تھی۔
میں اپنے دل کو ویسا ہی چاہتی ہوں جیسا وہ پہلے تھا،
محفوظ،
جو خود سے نہ بھاگتا ہو،
اور غم کو نہ جانتا ہو۔”
وہ خاموش بیٹھی زیست کو سن رہی تھی جو اسے کب سے بلاتی باتیں سنا رہی تھی لیکن نین کا دھیان کہیں اور اٹکا ہوا تھا” حاشر کی یاد شدت سے ستا رہی تھی ۔
آنکھوں میں نمی امنڈنے لگی تھی وہ اس سے کبھی نہ بات کرنے کا ارادہ کر چکی تھی اور اب زیست کی جانب متوجہ تھی ۔
