Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes Readelle 50359 Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 18)
No Download Link
Rate this Novel
Sitamgar Sanam Mera (Epiosde 18)
Sitamgar Sanam Mera By Yumna Writes
وہ دل پر پتھر رکھتے وہ اسے طلاق دے چکا تھا ،،غصے میں اسے اچھا خاصا بول تو چکا تھا سب کو پرسکون بھی کر چکا تھا لیکن وہ خود ہی جانتا تھا اسکا دل اس وقت کس قدر گھٹ رہا تھا ۔اس نے ہر ممکن کوشش کی تھی اس رشتے کو بچانے کے لیے وہ اپنے بچے کو کبھی ماں کی کمی نہیں محسوس کروانا چاہتا تھا لیکن ہوا وہی جسکا اسے شروع دن سے خوف تھا ۔ ایک نگاہ بستر پر سوئے اپنے بیٹے پر ڈالی تھی وہ چھوٹی سی جان کب جانتا تھا کہ آج اسکی مان جو پہلے ہی بس جنم دینے کے فرائض کے علاوہ آج تک کبھی اسے دیکھنے کے لیے بھی وہاں نہ آئ تھی آج مکمل اسے چھوڑ گئ ہے ۔
وہ جانتا تھا آجکل وہ حارث نقوی کے ساتھ ہر جگہ پائی جاتی تھی پھر بھی خاموش رہا اسکی جگہ اگر کوئی دوسرا مرد ہوتا تو اسے کب کا چھوڑ چکا ہوتا ۔
وہ عورت اسے جگہ جگہ ذلیل کرکے گئی تھی اسکی ذات کے پرچخے ارا گئی تھی وہ پھر بھی لب بستہ رہا ۔
ایک باغی آنسو آنکھ سے گرا تھا ” جسے وہ اپنے مضبوط ہاتھ کی پشت سے رگڑ گیا تھا ،، میرے لیے شاید محبت بنی ہی نہیں ” مخلص انسان کبھی زندگی میں آئے ہی نہیں دل میں درد سر اٹھانے لگا تھا اور منفی خیالات جنم لینے لگے تھے
اس نے توڑا وہ رشتہ جو میری ذات سے تھا ،،۔۔۔۔
اسے کو رنج نجانے میری کس بات سے تھا ۔۔۔!!!!
وہ بھی بدل گیا باقی دنیا کی طرح
جو واقف میرے حالات سے تھا ۔
ٹیرس پر کھڑا وہ تاریک پرے آسمان کی وسعتوں پر نگاہیں ٹکائے ہوئے تھا ،،دل میں درد اور بندش تھی جو کم ہونے کا نام نہ لے رہی تھی ۔
———————
افشاں بیگم جو اس وقت خود بھی گہرے صدمے میں تھی سب سی پہلے کمرے میں قدم رکھتے فون تھاما تھا اور رحمان صاحب کا نمبر ملاتے انہیں ساری بات بتائی تھی اور بنفشہ کی بد اخلاقی اور بد تہذیبی ان پر الزام ایک ایک حرف بتایا تھا وہ جو انکی بات سنتے پشیمان ہوے تھے حارب کا اسے طلاق دینے کا سن کر فون ہاتھوں سے چھوٹا تھا ۔
آخر کو وہ کب تک بچاتے اس رشتے کو ” حارب نے اپنے طور اس نام نہاد رشتے کو بچانے کی بھت کوشش کی تھی وہ جانتے تھے ۔ انکے اعصاب شل ہوے تھے دل میں درد بڑھنے لگا تھا ۔
لاؤنج میں جنت بیگم بیٹھی کسی سے فون پر مہو تھی ” جب وہ چہرے پر شادابی لیے پرسکون سی داخل ہوئی تھی ۔۔۔موم ” فائنلی میری اس جاھل سے جان چھوٹ گئی ،، وہ خوشی سے چیختی ان کے قریب آتے گلے میں بانہیں پھیلائے بولی تو جنت بیگم حیران سی اسے دیکھنے لگی ۔۔کیا فضول بکواس ہے یہ بنی “…
تم جانتی ہو نہ اپنے ڈیڈ کو” کیا کرکے آئی ہو تم ۔۔وہ شدید شاکڈ تھی اسکی اس حرکت پر ۔۔
اوہ فو ۔۔موم جسٹ چل !!! اس انسان سے جان چھوٹی ہے میری جو میرے گلے کا طوق بنا ہوا تھا جسے لیے میں ماری ماری پھر رہی تھی وہ جوش سے کہتی ان کے چہرے پر پھیلتے اضطراب کو دیکھنے لگی ۔
کیا بات ہے موم ” آپکو کیا ہوا ہے ،، جنت بیگم کی سپید پرتی رنگت کو دیکھتے اچھنبے سے استفسار کیا ۔
تم جانتی ہو پہلے بھی تمہارے بھائی کو کیسے ان کے خلاف بھڑکا کر حارب کے خلاف کیا تھا اب مزید یہ سب ،، تمہارے ڈیڈ کا جانے کیا ریکشن ہوگا وہ پریشان سی بولی جب عقب سے آتے رحمان صاحب پر نگاہ پڑی تو وہ ساکت سی انہیں قریب آتا دیکھنے لگی کہیں انہوں نے سب سن نہ لیا ہو دل کو دھڑکا سا لگا تھا ۔
بنفشہ نے بھی پلٹ کر مان کی نگاہوں کو اٹھتے دیکھ انکی جانب دیکھا تھا جو قریب آتے اس کے عین سامنے کھڑے ہوے تھے
اور پھر اس خاموش ماحول میں تھپڑ کی گونج سنائی دی تھی جو سیدھا بنفشہ کے چہرے پر اپنی چھاپ چھوڑ گیا تھا وہ ایک جانب لرکتی رحمان صاحب کو ششدر نگاہوں سے تکتی حیران پریشان سی تھی ۔
رحمان صاحب ” جنت بیگم بے یقین پھٹی پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھتی اس کے قریب گئی تھی جو اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے ابھی بھی بدخواس سی تھی ۔
ڈونٹ “….. یہ سب آپکی شہہ کا نتیجہ ہے جو آج ہمیں اپنی اس طرح کی نافرمان نہ ہنجار اولاد کی صورت بھگتنا پر رہا ہے ۔۔ اپنی من مرضی اور اختیار میں آپ نے اپنی اولاد “لبرر “بنانے کے چکر میں بدتمیز اور اخلاق سے گرا ہوا بنا دیا ۔
دل چاہتا ہے آپ دونوں ماں بیٹی کا ہاتھ تھام کر نکال باہر کروں اس منشن سے پھر دیکھتا ہوں کس چیز کا رعب و دبدبہ رہتا ہے آپ کا باقی ،،جب کھانے کے لیے ایک پیسہ اور اوڑھنے کے لیے اچھا لباس نہ ہوا تو عقل ٹھکانے آئے گی آپ لوگو کی وہ آج سخت نالاں تھے ان دونوں سے یان شاید دکھی ۔
وہ دونوں ششدد سی سامنے کھڑے شفیق سے انسان کا یہ روپ دیکھ رہی تھی جو آج جلال میں آتے انکی سانسیں کھینچنے کے در پر تھے ۔
جو آج آپکی بیٹی وہاں تماشہ لگا کر آئ ہے نہ ایک دن اسکا احتساب دینا ہوگا آپ دونوں کو اس وقت بیٹھ کر روئیے گا دونوں جب کوئی آپکے پاس موجود نہ ہوگا کروفر سے کہتے وہ وہاں سے جا چکے تھے پیچھے وہ لب بینچتے اپنے کمرے میں جا چکی تھی جہاں کی ہر چیز اس وقت اس کے اعتاب کا نشانہ بنتی اپنی قسمت پر ماتم کناں تھی ۔
ہراول کو انہوں نے کچھ نہیں بتایا تھا جنت بیگم نے بس اسے طلاق کا بتایا تھا کہ بنفشہ خود اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی ۔
کچھ دن گزرے تھے بنفشہ پھر پہلے جیسے ہو گئی ” حارث کے ساتھ پارٹیز میں جانا ،ٹور پلین کرنا ۔۔
ایک دن وہ اس کے ساتھ لنچ پر آئی تھی جب اسکی نگاہ سامنے ٹیبل پر پری تھی جہاں حارب بھٹی بیٹھا کسی کلائنٹ سے محو گفتگو تھا اور قریب بیٹھی معصوم سی لڑکی ایک فائل پر جھکی کچھ نوٹ کر رہی تھی ۔
اسکے اندر جلن کے بھانپھر جل اٹھے تھے ” اسے اپنی انسلٹ کا بدلہ لینا تھا جسکی وہ کب سے طاق لگائے بیٹھی تھی کہ ترپ کا کوئی تو پتہ اس کے ہاتھ لگے کے وہ اسکو ذلیل کرکے سکے اور وہ وقت آ گیا تھا ۔
اس نے قریب کھڑی ویٹرس کو اشارہ کیا تھا اور جانے اسے کیا کہا تھا ” کچھ نوٹ اس کے ہاتھ میں تھماے تھے جسے وہ بخشی تھامتے سر ہلا گئی تھی ۔
اب وقت ہوا چلتا ہے تمہاری بربادی کا حارب بھٹی ” طنزاً مسکراتی وہ نگاہ پلٹ گئی تھی کہ حارث وہاں آ چکا تھا ۔۔۔
حارب جو ایک خاص میٹنگ کے لیے وہاں آیا تھا کلائنٹ سے بات کرتے فری ہوا تھا اور لنچ آرڈر کیا تھا جب ویٹرس قریب آی تھی اور جوس رکھنے کی بجائے جان بوجھ کر اس انداز میں گرایا تھا کہ حارب کے کورٹ کا کچھ حصہ جبکہ آیت کا سارا سٹالر خراب ہو گیا تھا وہ بے حد ایکسکیوز کرتی آگے بڑھتے حارب کی جانب بڑھی تھی جب وہاں سے اٹھتی آیت کو جان بوجھ کر دھکا دیا تھا جو حارب کے سینے سے جا لگی تھی ” دونوں اس افتاد پر بوکھلا اٹھے تھے ۔
کلائنٹ فون پر بات کرنے باہر گیا ہوا تھا جبکہ آیت اس سٹویشن میں شدید ھجل ہوتی اس سے دور ہوئ تھی جو سیدھی اسکی گود میں جا گری تھی ہاتھ اس کی گردن پر گرے تھے اور سر سینے سے مس ہوا تھا کہ آیت ہارون کو اسکی کلون کی تیز خوشبو سے اپنے حواس معطل ہوتے محسوس ہوے تھے دل کی دھڑکنیں سرپٹ دوڑتی باہر نکلنے کو مچلنے لگی تھی ،،حارب کی بھی حالت کچھ اسی طرح کی تھی وہ اس افتاد پر بوکھلائے اپنے سینے پر ایک نرم گرم احساس محسوس کرتا ساکت ہوا تھا گردن پر محملی نرم ہاتھ گرے تھے جو اس کی اپنی دھڑکنیں منتشر کر گئے تھے ،، آیت کی سر پٹ بھاگتی دھڑکنیں اسے اپنے دل میں بجتی محسوس ہوی تھی جب تک وہ سمبھلے تھے کسی نے بڑے احتیاط سے یہ منظر کیمرے میں قید کیا تھا جو ان دونوں کی زندگیاں بدل کے رکھ دینے والا تھا
سوری میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا وہ اٹکتی بولی تو وہ جو خود اس آکورڈ سی سٹویشن میں لالا ہوا پڑا تھا اسے ریلکس کرتا بولا ۔۔
اٹس اوک “!!!!! آپ جائیں کلین کر لیں سرعت سے کہتا وہ نگاہ موڑ گیا
دل نے اسکی نزدیکی پر بیٹ مس کی تھی لیکن وہ نحوت سے سر جھٹک گیا تھا کہ وہ اب اس دل میں کبھی کسی صنف نازک کو جگہ نہیں دینا چاہتا تھا ۔
یہ جانے بغیر کے اوپر بیٹھے مالک کے فیصلے کچھ اور ہوتے ہیں وہ آپ بہتر لے کر بہترین دیتا ہے اور یہاں تو وہ بدتر سے گزرا تھا آگے خدا جانے کیا ہونے والا تھا ان کی قسمت میں ۔۔
واشروم میں داخل ہوتے اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا ” منتشر ہوتی دھڑکنیں سینے سے باہر آنے کو بے تاب تھی ۔۔یہ جو اس کے لمس کا احساس تھا یہ اس کے لیے لمس شفا تھا اس غیر متوقع صورت حال پر اسکا سرخ چہرہ یاد کرتے وہ لب دانتوں تلے دبا گئی تھی ۔
کتنا عظیم تھا وہ شخص ” جہاں اب کے وقت میں مرد عورت کو آنکھوں سے ہی ایکسرے کر لیتے تھے وہاں وہ اس کے سینے پر بکھری پری تھی لیکن اس صورت حال میں بھی اس نے نگاہ اٹھا کر اسے نہ دیکھا تھا بلکہ خود بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہوتا اس سے فوراً سے بیشتر فاصلہ بناتا اسے ریلکس کرنے لگا ۔
دل سے آہ نکلی تھی ” کاش!!! کاش یہ شخص اسکا ہوتا ۔اسکا نصیب ہوتا وہ شکستہ دل کے ساتھ اپنا ڈریس کلین کرتی ڈرائے کرنے لگی ۔یہ جانے بغیر کہ وہ ” کن” فرمانے والا ہے اور فیکون کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
————————
وہ جو ایک ماہ سے گھر میں بند تھی سب کی لاکھ کوششوں کے بعد بھی واپس یونی نہ گئی ،، دل و دماغ اتنے الجھے پرے تھے کے پڑھائی سے سارا دھیان اٹھ گیا تھا اور دوسرا اسکی مینٹل ہیلتھ اسے ابھی کسی دوسری چیز کی اجازت نہیں دے رہی تھی ۔
افشاں بیگم اسکی حالت دیکھ دیکھ کر کرتی تھی جبکہ زیست اس سے مسلسل باتیں کرتی رہتی جسکا وہ ہوں ہاں میں بس جواب دیتی ایسی چپ لگی کہ وہ مکمل خاموش ہو چکی تھی ۔سب نے اسے کافی انسیسٹ کیا لیکن وہ اپنی ضد پر رہی کہ اسے نہیں جانا ۔
آخر کار تھک ہار کر حارب نے حاشر کو فون کیا تھا اور اسے ساری بات بتائی تھی ” حاشر کو سب سنتے مزید شرمندگی کا احساس ہونے لگا تھا وہ لب بینچتا انہیں سن رہا تھا جو اسے اس سے بات کرنے کا بول رہے تھے کہ وہ حارب کے بھی اسرار پر ہتھے سے اُکھری تھی اور پھر اس طرح پھپھک پھپھک کر روئ تھی کہ دوبارہ اسے کسی نے کچھ نہ کہا تھا البتہ اس گزشتہ ایک مہینے میں یہ بدلاؤ آیا تھا کہ وہ بابا جان پاس بیٹھتی ان سے تھوڑی بہت بات کرتی تھی وہ اسے اکثر حدیث کی تعلیم دیتے وہ خاموشی سے قریب بیٹھے ان کے سینے پر سر رکھتی سنتی رہتی ۔
حاشر نے حارب سے بات کرتے اس سے بات کرنے کا ارادہ کیا تھا مگر ہاتھ کپکپانے لگتے تھے اگر وہ رو دی تو ،،، وہ اسکی آنکھوں میں اپنی وجہ سے آنسو نہیں دیکھنا چاہتا تھا کبھی اور قسمت کی ستم ظریفی کہ وہی اور کے آنسو کو وجہ بنا تھا یہ احساس ہی اسے اندر سے مار رہا تھا ۔
اس گزرے مہینے میں وہ اپنے بابا سے بات کرتا تھا لیکن کبھی زینب بیگم کی کال نہ اٹھای انکا نمبر وہ بلاک کر چکا تھا ۔۔اسکی زندگی وہ بلاک کر چکی تھی اس نے تو صرف ایک نمبر بلاک کیا تھا دل نے زد کی تھی وہ اسکی ماں ہیں جب وہ اپنی دادی جان سے بات کر رہا تھا ویڈیو کال پر تو وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھی تھی کہ ایک نظر دیکھ لین اسے دفعتاً اس نے کال کاٹ دی تھی ان کے آنسو دیکھتے اسکا دل پسیجا تھا لیکن جب نگاہوں کے سامنے اسکی بھیگی شکوہ کرتی آنکھیں آتی تو وہ سب کچھ پس پشت ڈال دیتا ۔
دل بضد ہوتا کہ جب انہیں اسکا حیال نہیں تو وہ کیوں انکا حیال کرے ۔۔جب تک وہ اسے اس قسم سے آزاد نہیں کرتی وہ ان سے بات نہیں کرے گا یہ اسکا خود سے عہد تھا ۔
لرزتے ہاتھوں سے اس نے فون تھامتے اسکا نمبر ملایا تھا ” کال جا رہی تھی ۔۔
ہیلو ۔۔۔۔۔۔ !!!!! اسکی آواز وہ مہینے بعد سن رہا تھا جس سے دن میں وہ ہزارو باتیں کرتا تھا دل کرلایا تھا .
السلام علیکم!!!!….. بھاری گھمبیر خوبصوت لہجہ ” وہ شخص دور رہ کر بھی تسخیر کرنے کی خاصیت رکھتا تھا نین جو اپنے کمرے میں بیٹھی تھی کسی ان ناون نمبر سے مسلسل کال آتی دیکھ اٹھا گئی ۔
جب دوسری جانب سے مانوس سی آواز سنائی دی وہ آواز جسے وہ ہزارو آوازوں میں بھی پہچان سکتی تھی ۔
نین “… سن رہی ہیں !!!! سوالیہ پرکشش لہجہ ” نین کا دل کیا وہ بولتا جائے اور وہ سنتی رہے ۔
ایک تیری آواز سن کر ہی تو زندہ رہتا ہوں ۔۔۔۔
تو ہی جب خاموش ہو جائے تو کیا کرونگا میں !!!!!…..
بھاری گھمبیر خوبصوت لہجے میں بولا تو نین کے چہرے پر آنسو زارو قطار بہنے لگے ۔
اس آواز کے بغیر آپ پیچھلے ڈیڑھ ماہ سے رہ رہے ہیں نم شکوہ کنا لہجہ ،،
وللہہ ۔۔۔۔۔ زندہ نہیں ہوں مر رہا ہوں آپکے بغیر ” اور آپکی یہ خود سے لاپرواہی مجھے مزید تکلیف میں مبتلا کر رہی ہے ۔
نین خدا کے لیے مجھے مزید پچتاؤ میں مت ڈالیں ” اپنی پڑھائی پر توجہ دیں ” ۔۔۔ خدا کی قسم “…. آپ پر ایک لمحے کے لیے بھی شک نہیں کیا ۔۔ میرا دل میرا روم روم آپکی پاکیزی کا گواہ ہے ۔ بھار میں جائے یہ دنیا یہاں کے لوگ ” جب میں آپ کو کہہ رہا ہون میں آپکے ساتھ ہوں اپکی فیملی آپکے ساتھ ہے تو پھر ایسی کونسی بات ہے جو آپکو تنگ کر رہی ہے ۔۔
وہ برافروحتہ گرکا تھا ۔
مجھے خوف آتا ہے لوگو سے سب باتیں بنائیں گے ” میرے بارے میں ۔۔سب جانتے تھے میرے نکاح کا ۔۔سب جان چکے ہونگے میری گمشدگی کا وہ روتی بولی تو وہ اسکی الجھن سمجھتا گہرا سانس لے گیا ۔
کوئی کچھ نہیں کہے گا اور اگر بولا بھی تو آپ بتا دینا کہ آپ گھر آ چکی تھی بس کسی کو علم نہیں ہوا ،، فار گاڈ سیک نین !!! کوئی بھی بہانہ گھڑ دینا ۔۔
وہ جھلا سا گیا تھا لیکن کل آپ یونی جائیں گی سن لیں آپ ۔۔اور اگر نہیں گئی تو میں جانو لونگا کہ میری بات کی کیا حیثیت ہے آپکی نظر میں سختی سے کہتا وہ کھٹک سے فون بند کر گیا جبکہ وہ لب دانتوں تلے دبا گئی کتنا مشکل تھا اِسکے لیے سب کا سامنا کرنا ۔
حارب اسے پہلے ہی بتا چکا تھا کہ وہ پیار سے تو بلکل بھی ڈیل نہیں ہو رہی اسی لیے حاشر نے تھوڑی سختی سے کام لیا تھا اور وہ جانتا تھا کہ وہ کل ضرور جائے گی وہ پرسکون ہوتا گہرا سانس لے گیا ۔
