Sharabi By Tania Tahir Readelle50244 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
اگلا دن بہت خو صورت اور صبح کا آغاز بہت حسین تھا…
حیا اسکے پاس سے اٹھی اور فریش ہونے چلی گئ..
جبکہ وارث بستر پر اس طرح پھیلا کے…. زین بھی اسکے نیچے دبنے لگا…
حیا نے جلدی سے زین کو اس سے جدا کیا…
اللہ میرا بچہ.. ظالم ادمی”رات کا اسکا ہر عمل یاد کر کے جہا ں اسکے چہرے پر غلال کھلا وہیں اپنے بچے پر پیار بھی آیا جو بلکل اسکے جیسا تھا….
اسنے زین کو صوفے پر لیٹا کر تکیے لگا دیے اور خود باہر آ گئ…
اج کمرے سے نکلتے ہوئے الگ ہی شرم محسوس ہو رہی تھی…
اور کچن میں آتے ہی انٹی سے سامنا ہو گیا…
وہ انھیں دیکھ کر نئ نویلی دولہن کی طرح جھجکی.. تو وہ مسکرا کرا سکی پیشانی چوم گئیں…
سدا سہاگن رہو. “انھوں نے کہا…. اور ہلکی پھلکی اس سے باتیں کرنے لگیں…..
ھیا بھی کچھ دیر میں ان سے نارمل بات کر رہی تھی…..
تائ اور چچی بھی وہاں ا گئیں…..
اج سب اکھٹا ناشتہ کریں گے” تائ نے کہا تو سب نے… اثبات میں سر ہلایا…
جاو حیا وارث کو اٹھاو… فائز کی بارات ہے آج “انھوں نے گویا یاد دلایا.. اور وہ اپنے بھلانے پر حیران ہوئ.. آج اسکی بہن کی شادی تھی اور وہ کیسے سب بھلی بیٹھی تھی….
وہ جلدی سے کمرے میں ائ.. ابو کیطرف بھی تو جانا تھا.. اسنے وارث کا بازو جھنجھوڑا…
وارث نے انکھ کھول کر دیکھا..
سونے دو یار ساری رات تم نے جگاے رکھا ہے.. “وہ مدھم اواز میں بولتا.. اسکو حیران کر گیا..
کس قدر جھوٹے ہیں آپ” اسنے.. تکیہ اسپر پھینکا… جبکہ وارث نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیا.. اور اسکی گردن میں چہرہ چھپانے لگا…
براونی ہم دو تین دن کمرے سے باہر نہیں نکلتے کیا خیال ہے “وہ اسکے ٹھنڈے گالوں کو مزید سرخ کرتا بولا…
وارث میری جان آج اپکی سالی اور چچا زاد بھائ کی شادی مطلب بارات ہے….” اسنے یاد دلایا…
وارث کی جان سانو کی”وہ ہنسا… اور اسکی مسکراہٹ کو اپنی مسکراہٹ میں قید کر لیا…
حیا نے مکے مار کر اسے الگ کیا..
آٹھ جائیں کام وام کر لیں “حیا اپنے بال ٹھیک کرتی بولی..
یار حیا کمپنی تو تم ہی جاو گی نہ” وہ تکیوں کو بانہوں میں بھرتا… بولا..
حیا منہ کھولے اسے دیکھنے لگی جبکہ اسکی شکل دیکھ کر.. وارث کا قہقہ.. بے ساختہ تھا…
……………….
وہ نیچے اے تو مکمل فیملی لگ رہے تھے.. وارث نے زین کو گود میں اٹھایا ہوا تھا جبکہ… حیا پنک سوٹ میں گلاب کیطرح کھلی کھلی لگ رہی تھی…
گڈ مورنیگ.. ایوری ون.. اینڈ ہالف گروم اینڈ.. کنوارے مرنے والے افراد سپیشلی”اسنے فائز اور منیب کیطرف دیکھا.. جبکہ وہ دونوں سمیت حیا نے بھی اسکو گھورا باقی سب ہنس دیے..
وارث چپ ہو کر بیٹھیں” حیا نے اسے کھانا سرو کیا جبکہ اسنے اسکو ٹیبل کے نیچے سے تنگ کرنا شروع کر دیا….
حیا کا چہرہ سرخ پڑ گیا….
باقی سب فنکشن کی بات کر رہے تھے جبکہ حیا… اسکا ہاتھ غصے سے پکڑ کر بیٹھ گئ.. اور وہ سیدھے ہاتھ سے لاپرواہی سے زین کو ناشتہ کرا رہا تھا جبکہ… خود بھی کر رہا تھا….
حیا کیا ہوا ناشتہ نہیں کرنا “وہ بولیں… تو حیا نے گھبرا کر اسکے ہاتھ چھوڑے اور وارث پھیر شروع ہو گیا…
حیا نے پھر ہاتھ پکڑ لیے….
اور تب تک اسکا ہاتھ پکڑے بیٹھی رہی جب تک اسکا ناشتہ نہیں ہو گیا اور فائز اور منیب اسے زبردستی اپنے ساتھ کھینچ کر نہیں لے گئے.. حیا نے سکھ کا سانس لیا…….. ماہم سمیت سب اسکی حالت سمھجہ چکے تھے.. سب کی دبی دبی ہنسی پر وہ مزید شرما گئ
……………….
بارات کا فنکشن…. شاندار ہال میں تھا…
جبکہ دو دولہا اپنی اپنی دولہنوں کے ساتھ بیٹھے تھے ایک کپل تو بہت خوش دیکھائ دے رہا تھا جبکہ دوسرا حیران وپریشان بیٹھا تھا… اور اسکی وجہ فقت وارث تھا.. صبح ہی اسنے حیا کی خواہش پر.. ارہم کو مار پیٹ کر اس شادی پر اکسایا تھا…
اور اب وہ.. . وارث… کو زہریلی نظروں سے گھور رہا تھا مسلہ اسکو کسی لڑکی سے نہیں تھا وہ شادی کر کے اپنی آزادی کو قید نہیں کرنا چاہتا تھا اور نہ جانے کون تھی…. گھوگھنٹ لمبا چوڑے ڈالے بیٹھی تھی وہ غصے سے… موبائیل نکال کر… سرچینگ کرنے لگا…
جبکہ پیچھے ٹیک لگانے پر ماہرخ اس سے فاصلہ بنا گئ جسے ارہم نے شدت سے محسوس کیا.. موبائل سائیڈ پر رکھ کر.. وہ گھوگھنٹ کے پیچھے سے دیکھتے جھکے سر کو دیکھنے لگا…
میں جب کسی کا محرم نہ بھی ہوں تب بھی لڑکیاں مجھ سے دور نہیں جاتی اور تمھارا محرم ہوں اور بدک رہی ہو مجھ سے “وہ غصے سے بولا..
ماہرخ نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا….
مجھے نہیں پتا تھا میری قسمت میں چورنی آئے گی” وہ پہچان گیا تھا….
مجھے بھی نہیں پتہ تھا میری قسمت میں مفلوج اے گا “اسنے بھی ٹکا سا جواب دیا….
تو ارہم نے داد دی……
گڈ یعنی تمھارے ساتھ مزاہ اے گا” وہ اب جیسے ریلکس دیکھ رہا تھا.. سیدھے طریقے سے کوی کام کبھی کیا ہو تو پسند آئے….
کیا مطلب ہے اپکا” ماہ رخ… نے پھیر سے اسکو دیکھا…
یہ تو کمرے میں جانے کے بعد پتہ چلے گا چاہو تو ابھی… تمھیں زیر کر کے دیکھا دوں ائ ڈونٹ مائنڈ”اسنے سکون سے اسکی کمر کی پشت میں ہاتھ ڈالا… اسکی حرکت پر ماہرخ.. کا سر مزید جھکا جبکہ ارہم اسکے گھبرانے پر دل جلانے والی مسکراہٹ اچھال گیا…
دور ہوییں مجھ سے” وہ تنک کر بولی…
کیسی دوری… نکاح ہوا ہے آج تو ساری دوریاں مٹا دوں گا “وہ مزے سے بولا پل میں اسکے ارادے بدلے تھے…
آپکی خوشی سے کون سا ہوا ہے “ماہ رخ بولی.. تو وہ ہنسا…
ہاں تمھاری بھی تو خوشی سے نہیں ہوا….” اسنے کہا اور اب پھیل کر اسطرح بیٹھا.. کہ ماہرخ.. اسکے ساتھ بلکل چیپک گئ….
وارث نے اسکی اس حرکت پر داد دی…
میرا شکریہ ادا کرنے کے لیے میں ہر وقت دستیاب ہوں “وہ حیا کے ساتھ اسکے پاس ایا…
جناب شکریہ ہی شکریہ…. “ارہم نے کہا.. تو وہ دونوں ایک دوسرے کو معنی خیزی سے دیکھ کر قہقہ لگا اٹھے.. جبکہ حیا نے وارث کو کھینچا…
رخصتی ہو رہی ہے بس کریں پہلے فائز کا جینا حرام کیا ہے ب یہاں بھی شروع مت ہونا “وہ اسکو کھینچ کر لے گئ..
جبکہ وارث اپنا کارنامہ سوچ سوچ کر… بے حد خوش تھا…
………………
رخصتی ہوئ.. اور دونوں دلہنیں.. شاہ ہاوس میں آئیں.. ارہم تو اپنے فلیٹ پر جانا چاہتا تھا مگر وارث نے نفی کی کہ وہ اسکے لیے روم سیٹ کرا چکا ہے.. کم از اکم ہفتہ وہ یہاں رہے پھر چلا جاے.. ارہم نے بھی اسکی بات مان لی اور ڈھیر ساری وارث کی تجویز کردہ رسموں کو ادا کیا گیا جس میں منیب اور حیا وارث کے ساتھ تھے…
اور فائز اور ارہم بلکل کنگال ہو چکے تھے…
دولہنوں کو انکے کمرے میں پہنچا دیا گیا…
جبکہ وارث نے دونوں کو پکڑ لیا…
ایک کنوارے بھائی کا خیال کرو.. دونوں “اسنے انھیں شرم دلانا چاہی….
ہمیں اپنی رات بہت پیاری ہے” دونوں یک زبان بولے.
جانے دو وارث…. جانے دو بچارے بچے ہیں “منیب نے.. کہا تو وراث نے بھی ترس کھایا…
اور چاروں اپنے اپنے رومز میں پلٹ گئے..
وہ کمرے میں ایا.. زین کو پیار کیا….
حیا کے پاس. اگیا جوڈریسنگ کے سامنے بیٹھی جیولری اتار رہی تھی وارث نے اسکے جھمکے کو نرمی سے اتارا…
مگر اسکی ہنسی نہیں رک رہی تھی..
کیا ہوا “حیا نے اسکے ہاتھ پکڑے
… دو نئے نویلے دولہا صبح تمھارے معصوم شوہر کا سر پھاڑ دیں گے پلیز میری ہیلپ کرنا” وہ بمشکل قہقہ روک رہا تھا..
حیا پلٹی…
وارث کیا کیا ہے آپ نے “اسے سمھجہ آ رہی تھی…
ہر گھنٹے کا ظالم الارم لگا دیا ہے.. وہ بھی انکے روم تھیڑ کے ساتھ اٹیچ کر کے….. “اسکا ہنس ہنس کر برا ہال تھا جبکہ حیا… کا منہ کھل گیا…..
وارث اپ کتنے خراب ہیں” وہ حیرت سے بولی..
بہت شکریہ براونی اب زرا آ کر مزید میری خرابی کے لائیو شو دیکھ لو “وہ ونک دیتا بولا…
حیا نفی میں گردن ہلا کر واشروم میں چلی گئ…
ابھی نہ جاو چھوڑ کر…
یہ دل ابھی…. بھرا نہیں…… “اسکے چیخ چیخ کے گانے کی اواز سن کر…. اسے بھی واشروم میں ہنسی. آ گئ….
…………………..
اسے حیرت ہوئ اگلی صبح وارث اس سے پہلے اٹھا ہوا تھا مگر کہاں تھا… جبکہ زین اسکے ساتھ تھا..
اسنے اپنا نائٹ گاون بند کیا….
اور کسلمندی سے بستر میں بیٹھی رہی کہ باہر سے چیخنے کی اواز سن کر وہ گھبرائ…
اور جلدی سے.. لون میں کھلنے والی کھڑکی کے نزدیک گئ….
اور لون کا منظر دیکھ کر…. اسکو خوب ہنسی ائ…
بہت اچھا ہوا.. “اسنے دل میں سوچا… ارہم اور فائز وارث پر چڑھے بیٹھے تھے جبکہ وہ بری طرح چیخ رہا تھا….
کمینے….” وہ دونوں دھاڑے… اپنے اپنے کمروں سے… وہ تینوں انھیں ہنستے ہوے دیکھ رہیں تھیں…
ارہم کی نیچر ماہرخ کو بلکل وارث جیسی لگی… اسے سمبھالنا مشکل تھا مگر ناممکن نہیں…
جبکہ فائز… اتنا زیادہ اسے چاہتا ہے درخشے کو یقین نہیں آ رہا تھا.. وہ خود کو خوشقسمت سمھجہ رہی تھی…
اور حیا کا بگڑا ہوا شرابی….
اسے بہت عزیز تھا…
اپنی جان سے زیادہ… سب سے زیادہ…. اسکے وجود میں وارث کی چاہت… لہو کی مانند دوڑتی تھی جبکہ وارث کی….
آنکھیں حیا کو حسین بنا دیتیں تھیں…
براونی بچا لو یار”وہ چلایا….
چھوڑنا مت انکو..” اسنے صاف جھنڈی دیکھائ…..
وارث چلاتا رہا جبکہ وہ اس سے بھرپور اپنی رات کی بربادی کا بدلہ لے رہے تھے…….
ختم شد
