Sharabi By Tania Tahir Readelle50244 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
گھر کی گویا رونق لوٹ ائ تھی…. سب دوبارہ اپنے گھر ا کر بہت خوش تھے جبکہ…. وارث کا وہی حال تھا وہ کسی سے بھی نہیں ملا تھا.. فلحال تو علینہ نے اسکا خون پیا ہوا تھا.. وہ لڑکی صرف پیسوں پر اسکو کیش کر رہی تھی….
اس وقت بھی وہ عاجز سا… اسکے سامنے بیٹھا تھا….
تم لنچ کرو… نہ کس چیز کا ویٹ ہے.. “علینہ نے ہنستے ہوے اسکی جانب دیکھا…
تم اپنی بکواس بند کرو گی تبھی کچھ زہن کھانے کیطرف لگے گا” صاف گوئ سے وہ ادھر ادھر دیکھتا بولا…
قسم سے وارث صاحب پہلے انسان ہیں اپ…. جس کی یہ باتیں میں سن لیتی ہوں… اور مجھے مزاہ اتا ہے اپکی حالت دیکھ کر….
لیکن ایک بات ہے… اپنی صاف گوئ کی عادت کو کچھ کم کریں.. ہر کوئ اپ پر فدا نہیں ہو سکتا” مسکراتے ہوے کہہ کر اسنے اپنی چمچ وارث کے منہ کی جانب بڑھائ..
وہ جو چئیر پر پھیل کر بیٹھا تھا.. کچھ لمہے اسکیطرف دیکھتا رہا.. اور پھر چمچ منہ میں لے لی….
خیر اج تک ایسا تو کوی نہیں ملا مجھے جو فدا نہ ہوا ہو” اسنے ای برو اچکا کر کہا.. تو علینہ ہنس دی….
اپکے پاس پیسے کی کمی اور کمال وجاہت ہے اور میرے پاس.. پیسہ ہی پسیہ اور خوبصورتی ہی خوبصورتی ہے پھر بھی مجھ سے دور رہتے ہیں..” وہ بولی تو. وارث کو ہنسی ا گئ..
پہلی بات مجھے ا پ مت کہنا اب… اور دوسری بات کس اندھے نے تمھیں خو بصورت کہا ہے” وہ دانت نکالتا علینہ کو چیڑانے لگا…
یہ سب نقصان دہ ہو سکتا ہے تمھارے لیے.. “وہ چمچ چھوڑ کر بولی
ڈارلنگ.. کس ڈکشنری میں لکھا ہے کہ میرا تمھاری تعریف کرنا فرض ہے “آنکھوں کو گھماتے اسنے چمچ اسکے منہ کیطرف بڑھائ….
جبکہ علینہ اسکی آنکھوں کے جادو میں ہی پھنس گئ… تھی…. اور اسکی بڑھائ ہوئ چمچ منہ میں رکھ لی…
وارث خود کو خود ہی لعنت ملامت کرتا…. گلاس ڈور سے باہر دیکھنے لگا…
تم نے مجھے اپ کہنے سے منع کیوں کیا” اسنے اسکی جانب دیکھا…
جبکہ وارث کی نگاہ سامنے شاپینگ مال سے نکلتے اویس کے پیچھے ایک بچے کا ہاتھ تھامے حیا پر گئ..
وہ اس بچے سے بات کر رہی تھی
یہ منظر دیکھ کر وارث ایکدم اٹھ کھڑا ہوا….
کیا ہوا” علینہ نے پوچھا….
وارث اپنا موبائل اٹھا کر… باہر کی جانب نکلا….
وہ گاڑی میں بیٹھ رہے تھے…
وارث اس بچے کو نہ پہنچاتے ہوئے کچھ اور ہی مطلب اخز کر چکا تھا…..
وہ دندناتا ہوا…. روڈ کراس کرتا…. ان تک پہنچا… اویس گاڑی میں بیٹھ چکا تھا حیا پیچھے کا دروازہ کھول کر بچے کو اندر بیٹھا رہی تھی کہ اچانک وارث نے اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں جکڑا…
اور اپنی جانب گھمایا….
حیا ایک لمہے کو شاکڈ ہوئ…
طلاق نہیں دی تھی تمھیں جو تم نے…. یہ ناجائز حرکت کی
چٹاخ… “حیا کا وجود گویا کانپ اٹھا تھا… کیا وہ بس تکلیف دینے کے لیے ملتا تھا….. کیا اسکی اولاد کو تین سال تک سینے سے لگا کر رکھنے کا یہ صلہ تھا…..
کہ وہ یوں اچانک سرے راہ ملے گا… اور اسکی عزت اسکے کردار کو پل میں دااغ دار کر دے گا….
ٹپ ٹپ حیا کے آنسوؤں بھنے لگے… اور … بنا ایک لمہہ ضائع کیے بغیر… اسنے زین کو باہر نکالا… اور وارث کی جانب دیکھا… جو اس زور دار طماچے کے جھٹکے میں کھڑا تھا…
زین شاہ ہے اسکا نام….
وارث شاہ کی اولاد ہے یہ….. بیچ بازار میں رسوا کرنا رہ گیا تھا مجھے.. تو اج وہ بھی کر لیا اپ نے… کہ اپنی اولاد کو گالی بنا کر میرے منہ پر مار رہے ہیں…. “وہ چیخی…
وارث کی آنکھیں پھیل گئیں…..
حیا….” اویس نے حیا کو روکنا چاہا…
خاموش ہو جائیں اپ…. سمھجتے کیا ہیں یہ خود کو….
بس یہ ہی بے عزت کر سکتے ہیں دوسروں کو… یہ ہی کچھ بھی بول سکتے ہیں جو انکے دل میں ائے گا…. “وہ سسکی….
یہ مجھ پر… کیچڑ اچھال رہے ہیں.. اویس میں نےا نکی عزت انکی اولاد کو سمبھال کر رکھا اور اج یہ مجھ سے سوال…” اسکا دل پھٹنے کو تھا….
اسنے غصے سے انسو صاف کیے…..
اور زین کو وارث کے ہاتھ میں پٹخ دیا…
سنبھالیں اسے….. اپ کو خود پتہ چل جاے گا.. یہ کس کی اولاد ہے” وہ بولی اور دل کڑا کر کے وہ زین سے نظریں پھیرتی گاڑی میں بیٹھ گئ..
زین رونے لگا تھا.
کیا کر رہی ہو حیا یہ” اویس نے گاڑی کے شیشے میں جھک کر بے چینی سے پوچھا.. ضبط سے اسکا چہرہ لال سرخ ہو رہا تھا…
مم”زین کی اواز پر حیا نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا..
اپ چلیں گے یہاں سے یہ پھر میں جاو خود”وہ سرخ آنکھوں سے غرائ…
جبکہ وارث کو ہوش ایا.. زین اسکے ہاتھ میں مچل رہا تھا.. اویس بے بس سا گاڑی میں بیٹا.. دنیا یہ تماشہ دیکھ رہی تھی..
حیا “وہ اس سے پہلے گاڑی تک پہنچتا.. گاڑی اگے جا چکی تھی..
زین چیخے مار کر رو رہا تھا…
وارث کا دل کیا خود بھی کسی گاڑی کے نیچے ا جاے..
یہ کیا کر دیا تھا اسنے سب ٹھیک کرنے کے بجائے سب کچھ.. برباد ہو گیا….
یہ کس کا بچہ ہے وارث اور یہ لڑکی” علینہ جو کافی دیر سے یہ تماشہ دیکھ رہی تھی…
پوچھ بیٹھی.. زین وارث کی گود سے.. نکلنے کو بے تاب تھا…. ماں کے لمس کو نہ پا کر… وہ چیخے مار رہا تھا….
میرا بیٹا ہے” وہ بولا… تو علینہ حیران رہ گی..
جبکہ وارث زین کو سمبھلنے کی ناکام کوشش کرتا…. اپنی گاڑی کی جانب چل دیا….
………………………
زین نے رو رو کر گاڑی ہی سر پر اٹھا لی تھی..
اف کیسے چپ ہونا ہے بھئ تو نے” وارث اپنی سوچوں سے نکلتا چینخ کر بولا.. جبکہ دو سال کے زین نے.. خود بھی مارے غصے کے اسکے ہاتھ میں اپنے اگلے دو شرارتی دانت گاڑ دیے..
اہ” وارث کی چیخ نکلی اور اسنے زین کو سیٹ پر پٹخ دیا…
اللہ “دو دانت اپنے ہاتھ پر دیکھ کر.. اسنے سفید بڑی بڑی آنکھوں والے اپنے بیٹے کو گھور کر دیکھا جو خود بھی اسے گھور رہا تھا…
نہ ہی باپ کو بیٹا پسند ایا تھا.. اور نہ ہی بیٹے کو باپ.. فقت حیا کے نام کی گاڑی پر دونوں سوار تھے جو انھیں چھوڑ کر جا چکی تھی….
زین دوبارہ رونے کی تیاری کرنے لگا.. کہ وارث نے تھمل سے گاڑی روکی..
اچھا.. ایک منٹ… بیٹا.. میں تیرا باپ ہوں.. خدا کی قسم میں نے مان لیا..
میں پاگل الو کا پٹھا… مجھ سے کوئ کام ٹھیک ہو ہی نہیں سکتا..
پھر سے تمھاری ماں کو خود سے بدزن کر لیا..
خیر وہ مانی ہی کب تھی..
اور اوپر سے.. جو بھی تیرا نام ہے…
دیکھ بھائ ابھی میں خود بچہ ہوں…. تو تو چپ کر کے یہاں بیٹھ.. رونا نہیں.. ابھی میں… گھر لے کر ہی جاو گا..اب گاڑی چلا لوں.. “وہ ایسے بول رہا تھا جیسے زین ساری باتیں سمھجہ رہا ہو….
جبکہ زین اسکے منہ پر ہاتھ مارتا رونے لگا…
دندا ہے…. مم…” زین مسلسل رونے لگا.. جبکہ وارث نے اپناسارا ڈش بورڈ ڈھونڈ لیا شاید بچوں کے کھیلنے کی کوئ چیز نظر اجائے…
اور اسے جلد ہی اپنی سیگریٹ کا بکس نظر ایا اور اسنے روتے ہوئے زین کو اس سے بھلانا چاہا..
یہ دیکھو یہ کیا ہےا س میں” اسنے ساری سیگریٹس اسکی گود میں الٹ دی..
زین یہ انوکھی چیز دیکھ کر خاموش ہوا.. اور اسکو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں اٹھا کر دیکھنے لگا..
وارث نے سوکھ کا سانس لیا…
یہ واقعی میری اولاد ہے” وہ بڑبڑایا… اور ایک بار پھر اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا…
اف اف” اسنے سٹیرینگ پر دو ہاتھ مار کر غصہ نکالنا چاہا.. کہ زین کا باجا ایک بار پھر بجنے لگا..
اوپس… سوری سوری… یار میں نے تجھے کچھ نہیں کہا.. میں خود پر غصہ ہوں… اوو بھائ چپ ہو جا… “کانوں میں انگلیاں ڈالتے ہو چیخا.. جبکہ اسکے چیخنے پر زین مزید گلہ پھاڑ رہا تھا..
اللہ کا واسطہ چپ ہو جا… ” اسنے زین کو گود میں بھرا جبکہ.. زین نے اسکے بال نوچ دیے…
وارث نے غصے سے اسے.. سیٹ پر پٹخا…
منہ بند کر اپنا… وہ دھاڑا… اور زین روتے روتے سانس بھول گیا….
یہ اللہ” اسکا سرخ چہرہ دیکھ کر وہ پریشان ہوا..
اچھا بھی.. میں… یار.. اف حیا “اسنے سر ہاتھوں میں گیرہ لیا… اور زین کو… بھلانے کی ناکام کوشش کرنے لگا..
ہاں پوئم پوئم “ایکدم اسے خیال ایا.. اور اسنے بیبی شارک.. پوئم لگائ… اور اچانک زین کو جیسے سکون سا ایا…. وہ کچھ لمہے کے لیے پھر سے چپ سا ہوا… مگر اپنی باپ کے تو پسینے چھوڑوا چکا تھا…
…………………
کیا ضرورت تھی… اتنی بہادر بننے کی اور اپنا بچہ اسے دینے کی.. وہ ادمی اپنا خیال نہیں رکھ سکتا.. زین کا رکھے گا “حیا کو روتا دیکھ اویس غصے سے بولا..
بچی پہلے ہی پریشان ہے تم چیخ لو امی نے کہا.. جبکہ رمشہ نے ھیا کو پانی دیا..
نہیں رمشہ میرا بچہ… وہ ادمی اچھا نہیں ہے وہ میرے زین کو پتہ نہی کس کے حوالے کر دے گا” حیا بولی تو سب کو اسپر ترس سا ایا…
میں جا رہی ہوں. میں اپنے زین کو لینے جا رہی ہوں..” وہ ایکدم اٹھیب..
بیٹھی رہو چپ چاپ…. صبر کرو اب تھوڑی دیر…”اسنے کہا.. اور بیٹھ گیا…
رمشہ اچانک دور ہوئ.. دونوں کے ہاتھ ایک دوسرے سے ٹکرائے تھے اور یہ پہلی بار ہی تھا..
اویس نے تو کوئ ایکشن نہیں لیا.. جبکہ رمشہ کا دل دھڑک اٹھا…
وہ اندر چلی گئ…
نہیں اویس.. میں زین کے بنا نہیں رہ سکتی” حیا نے نفی کی تو اویس نے سر تھام لیا….
……………………..
کس کا بچہ اٹھا لایا ہے یہ اب” چچی نے تائ کے کان میں گھس کر کہا..
اتنا اوارہ تو ہے ہی یہ گل تو کھلنا ہی تھا “تائ نے کہا.. اب دونوں کی ہمت اسکے منہ پر کہنے کی نہیں تھی..
جبکہ وارث بنا کسی پر توجہ دیے.. زین کو صوفے پر بیٹھنے لگا جو بلکل تیار نہیں تھا صوفے لر بیٹھنے کو اسنے اسکے بال مٹھی میں بھر رکھے تھے..
کیا بکواس ہے” وارث نے غصے سے اس سے بال چھڑواے..
ایک دن میں سالا گنجا کر دے گا” وہ تھک کر بولتا.. اسکے ساتھ ہی صوفے پر لیٹنے والے انداز میں بیٹھا.. جبکہ زین… صوفے سے روتے ہویے اتر گیا…
یہ مجھے بھی رولاے گا “وارث نے غصے سے دانت پیسے..
مم مم.. جانا.. مم” زین رو رہا تھا…
مجھے بھی لیتا جا اپنے ساتھ اگر تیری ماں مل جایے” وہ چیر کر بولا.. تبھی اپنی مان کو کمرے سے نکلتا دیکھ کر اسنے.. منہ پھیر لیا..
یہ
. یہ… ” وہ ایکدم زین کی جانب بڑھیں…
یہ تمھارا.. میرا.. میرا پوتا ہے نہ” وارث کی جانب دیکھتی وہ زین کو اپنی نرم آغوش میں بھرتی… بے پناہ خوش نظرا ئ..
وارث نے انکی جانب نہیں دیکھا مگر ھیرانگی ہوئ..
لو سب کو میری اولاد لگ رہا ہے.. سواے میرے…
پہلی نظر میں آنکھیں پھار کر دیکھ لیتے وارث نواب تو حیا کا دل نہ دکھتا.. اور نہ وہ یہ بجا تمھیں دیتی مگر نہیں.. کوئ کام زندگی میں درست کیا ہی نہیں. “وہ خود پر ہی غصہ ہوتا… ایکدم زین کی جانب دیکھنے لگا… جو انکے بھیلانے سے چپ ہو گیا تھا…
اسے حیرت ہوئ…
وہ خود بھی تو روتا… ہوا ان تک پہنچ کر شانت ہو جاتا تھا…
اسے غصہ سا انے لگا…
اور َزین لا چھوٹا سا ہاتھ پکر کر اپنی طرف کھینچ لیا….
میرے بیٹے کو ہاتھ لگانے کی ضرورت نہیں “اسنے چیر کر کہا..
مگر اگلے ہی پل اسکی چیخ سی نکلی.. کیونکہ زین ایک بار پھر اسکے ہاتھ میں دانت گڑ چکا تھا…
تیری ماں” وہ رکا…
ابھی وہ ابھری محفل میں گالی دے دیتا….
زین اپنی دادی کی گود میں چلا گیا جبکہ انھوں نے اپنی مسکراہٹ چھپائ..
اج پہلی بار.. چچی اور تای بھی زین کے عمل سے.. بے حد خوش ہوئیں تھیں….
جبکہ وارث تینوں عورتوں کو گھور کر.. کمرے میں چلا گیا…
زین پھر رونے لگا..
اہ.. میرا بچہ.. مما کی یاد ا رہی ہے… “وہ اسے لے کر کچن میں چلی گئیں…
جبکہ چچی اور تائ کے پیچھے تجزے شروع ہو چکے تھے..
…………
اپنی بیٹے کو بھول بھال کر وہ خود غصہ نکال کر بیڈ پر اندھا سو چکا تھا جبکہ پیچھے زین نے ایک ایک فرد کے پسینے چھٹوا دیے تھے..
وہ اتنا پیارا تھا کہ رمضان شاہ نے اسے گود میں بھر کر چپ کرانا چاہا.. جبکہ اسنے رمضان شاہ پر سو سو کر کے اپنی نہ پسندیدگی کا اظہار کیا.. جبکہ وجدان شاہ سمیت فائز اور منیب کی ہنسی چھوٹ گئ…
جبکہ عماد نم آنکھوں سے سب کو دیکھ رہا تھا… ماہم اسکے ساتھ ہی کھڑی زین کی شرارت پر مسکرا دی…
زین نے پھر رونا شروع کر دیا….
جس کی اولاد ہے وہ گھوڑے گدھے بیچ کر سو راہ ہے.. “منیب نے کہا.. جبکہ سب نے اسکی تائید کی اور زین ایک بار پھر اپنی دادی کے پاس چلا گیا…
جلد مانوس ہو گیا..” رمضان شاہ انکی جانب دیکھ کر بولے.. وہ کچھ نہیں بولیں.. اور پلٹ گئیں…
مم “زین روتے روتے رال بھی نکال رہا تھا جبکہ انھوں نے رومال سے صاف کی..
بلکل وارث پر گیا ہے یہ چھوٹا بچہ.. وہ بھی بس روتا رہتا تھا.. ضد تھی بس ہر بات کی “وہ ہسنتی ہوئ.. اسکو بھلا رہیں تھی..
اور وارث کر کمرے میں ا گئیں…
وارث نے زین کا رونا دھنا سن کر کانوں پر تکیہ رکھ لیا…
کیا مصیبت ہے یہ” وہ چیخا اور پلٹ کر دیکھا…
تو اپنے کمرے میں حیا کو پایا….
اور اچانک اسکی نیند کے طوطے ار گئے..
حیا.. “اسکے لب بڑبڑاے..
اور وہ سیدھا ہو ا.. جبکہ زین مان کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتا اسکی جانب لپکا..
زین”حیا نےا سے بانہوں میں بھرا.. اور خود بھی رو دی..
میرے بچے نے کچھ کھایا نہیں “اسنے زین سے پوچھا… جبکہ نگاہ غیر ارادی انپر بھی گئ..
میں نے کوشش کی تھی مگر تھوڑا سا کھا کر پھر چھور دیتا تھا..
نہیں نہی میں نے اسکو نوڈلز.. فرائز… اور چکن کھلا دیا تھا…. تم بے فکر رہو اندر ا جاو..” وارث نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے زبردست جھوٹ کا سہارا لیا….
حیا نےا سکی جانب ایک پل کو دیکھا..
زین یہ سب نہیں کھاتا” اسنے مدھم اواز میں جواب دیا…
اور باہر نکلنے لگی…
جبکہ وارث ایکدم شرمندہ سا ہو ا..
حیا پلیز نت جاو.. یار سیریسلی مجھے بلکل اندازا نہیں تھا.. میں نے سب غلط کہا.. تم مت جاو پلیز” وہ اسکے پیچھے لپکا جبکہ حیا.. اگے چلتی گئ. اور وارث کو اسکا ہاتھ تھمنا پڑا..
چھوڑیں میرا ہاتھ” وہ غصے سے بولی..
اوکے سوری.. تم بس تھوڑی دیر میری بات سن لو.. “اسنے ہاتھ پیچھے کر کے کہا…
تو حیا رک گئ…
حیا میں سچ میں… نہیں جانتا تھا.. یار تمھیں پتا تو ہے.. میں ایسا ہی ہوں… تم واپس ا جاو. میں وعدہ کرتا ہوں دوبارہ کچھ بھی نہیں کھو گا.. میں سچ.. اور. یہ دیکھو. تمھارے بیتے نے مجھ سے بدلے کتنے لیے ہیں” اسنے ہتھیلی اگے کی… جبکہ حیا نے سوے ہوے زین کو.. مزید خود میں بھینچا…
مجھے اپکی کسی بات میں کوئ دلچسپی نہیں….
میں اپکے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی….
ازاد کریں مجھے…” وہ کڑا دل کر کے بولی جبکہ وارث نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا..
تم مجھ سے الگ ہونا چاہتی ہو” اسکی اواز مدھم ہو گئ…
ہاں کیونکہ میں اپکو اپنے ساتھ گھسیٹ رہی تھی اپ تو میرے ساتھ کبھی تھے ہی نہیں…. مجھے اپ سے علیحدگی چاہیے”وہ سختی سے بولی…
ہاں تمھیں اس (گالی) اویس سے شادی کرنی ہے.. “وہ چیخا..
ہاں میں کروں گی اپکے ساتھ کیا مسلہ ہے… اپ نے دیا ہی کیا ہے مجھے سواے تکلیف کے “حیا بھی غصے میں بولتی چلی گئ…
وارث کا بس نہیں چلا اویس کا سر پھاڑ دے…
حیا میری بات”
بس وارث…. اپکے ساتھ نہیں رہو گی…. جو مرد عورت کو عزت نہ دے…. وہ عورت اسکے ساتھ صرف زلیل ہو سکتی یےا ور میں مزید نہیں ہونا چاہتی…. “نم بھیگی اواز میں وہ بولتی وارث کا سرخ چہرہ دیکھنے لگی…
اویس شادی کرنی ہے تمھیں.. تو حیا بی بی… قسم ہے مجھے.. اگر.. تمھیں مرتے دم تک بھی طلاق دے دوں تو.. میرے ہی ساتھ رہو گی میری ہی بیوہ بنو گی مگر یاد رکھنا. تم مری.. تو تمھاری اولاد کو بھی ملاظم بنا لوں گا. اور چار چار شادیاں بھی کروں گا. جو بگاڑ سکتی ہو تم میرا بگاڑ لو…. “آنکھیں نکال کر کہتا… وہ اپنی عادت سے مجبور ہی لگا.. جبکہ ھیا نفی میں سر ہالتی وہاں سے بھاگ گئ….
بھا بھی” فائز اسکے پیچھے گیا…
یہ ادمی جس دن سدھر گیا.. اس دن… معجزہ ہو جائے اگ “منیب بآواز بلند طنز کرتا اندر چلا گیا.. جبکہ وارث نے کھا جانے ولای نظروں سے سب کو دیکھا اور دندناتا ہوا اندر چلا گیا..
……………………
جاری ہے
