Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

دو دن سے وارث نے ایک لفظ بھی کسی کو کچھ نہیں کہا… جبکہ تیاریاں شادی کی
پوری ہو چکیں تھیں.. اور ڈیٹ فیکس ہو گئ تھی.. کل مہندی تھی جو وارث ویلا میں ہی رکھی گئ تھی دونوں کی… مگر وارث کو یہ سب نہیں پتا تھا…
وہ آفس میں بیٹھا چئیر جھولاتا حیا کو سوچ رہا تھا….
اسے سب ٹھیک کرنا تھا مگر اپنے جزباتی پن میں وہ سب خراب کر رہا تھا..
مگر حیا مجھے کیوں چیڑا رہی تھی وہ اویس الو میرے مقابلے میں ہے ہی کیا “ٹیبل پر ہاتھ مارتا وہ بولا..
نہیں… وہ میسنا اچھا بن کر حیا کو اپنی جانب کرنا چاہتا ہے خیر یہ تو میں ہونے نہیں دوں گا…” اسنے سوچا… اور ابھی وہ انٹرکوم اٹھا کر کافی کا کہتا کہ علینہ اندر داخل ہوئ..
ہیلو بیبی “اسنے وارث کے گال پر پیار کیا جبکہ وارث نے ماتھے پر بل ڈال کر گال صاف کیا….
میری بیوی دیکھ لے تو تمھیں کچا چبا جاے “اسنے نارملی کہا تو علینہ ہسنی….
تمھاری بیوی نے.. خوب بے عزتی کی تمھاری پھر بھی اسکی فیور کر رہے ہو “علینہ نے پیپر ویٹ کو گھماتے کہا…
تیلی لگانا بند کرو. مجھے بہت جلدی لگتی ہے.. وہ ناراض ہے مجھ سے بس “وہ صاف گوی سے چیڑ کر بولا…
سمارٹ.. اچھا ایک بات بتاو… تم نے مجھے پہلے نہیں بتایا. تم ایک بچے کے باپ ہو “علینہ کی بات سن کر اسنے زین کو سوچا جو کہ ایک دن میں اسکا بینڈ بجا چکا تھا..
مجھے کون سا پتہ تھا.. میرا ایک.. پاگل قسم کا بیٹا بھی ہے “وہ سنجیدگی سے بولا جبکہ علینہ ہنس دی..
مگر وہ تو بلکل تم سے ملتا ہے “علینہ بولی.. تو وارث نے چیڑ کر اسکو دیکھا…
کیا پکا رہی ہو مجھے”اسنے فائلیں ادھر ادھر کرتے ہوے کہا…
علینہ نے کچھ سنجیدگی سے اسکو دیکھا…
اور خاموش ہو گئ.. وہ وارث کو گور سے دیکھ رہی تھی…
سرخ سفید رنگت کھڑی ناک.. نشیلی سی آنکھیں… اور عنابی لب…. وہ وائٹ سوٹ میں غضب لگ رہا تھا.. مگر اسکی طرف ایک بار بھی نہیں دیکھتا تھا….
حالانکہ کے اسکی بیوی عام سی تھی.. ہاں علینہ کے سامنے وہ عام سی لڑکی بھلہ کیا تھی…
وہ انھیں سوچوں میں غلطان تھی
کہ وارث نے اوپر دیکھا….
تم نے پیمینٹ نہیں بھجوای اب تک “اسنے سنجیدگی سے کہا…
تم لے لو مجھ سے…” اسنے چیک اسکی جانب بڑھایا…
وارث کو سب سمھجہ آ رہی تھی کہ وہ اس سے کیا چاہتی ہے مگر.. اسنے چیک لینا چاہا.. تو علینہ نے مسکرا کر اپنے لبوں میں چیک فولڈ کر کے… لگا لیا..
وارث نے ضبط سے آنکھیں بھینچی..
لے لو.. “وہ مسکرای ..
تم چاہ کیا رہی وہ. “وہ چیڑ کر بولا…
میں تو کہہ رہی ہوں مسلسل ایک تم ہی نہیں سمھجہ رہے “وہ بولی تو وارث تپ کر اپنی جگہ سے اٹھا…
اور اسکے بال ایکدم کھینچے….
اور اسکا چہرہ اوپر کر دیا….
علینہ مسکرا کرا سکی جانب دیکھ رہی تھی….
وارث اسکے چہرے پر جھکا…. علینہ نے کسی احساس کے ٹحت آنکھیں بند کر لیں….
وارث اسکے سرخ لیپسٹک سے سجے لبو کو گور سے دیکھ رہا تاھ
.
وہ اتنی ظالم ضرور تھی کہ کسی کو بھی بہکا دے.. دماغ نے پہلے کیطرح ایک چھوٹی سی جسارت پر اکسایا… مگر دل میں جھپاک سے آنکھوں کے سامنے حیا آ کھڑی ہوئ.. اسکے ساتھ گزرے وہ حسین وقت جو اسکو.. وارث کے دل سے باندھ گے تھے… سب یاد ا گے..
اسنے چیک ہاتھ سے کھینچا.. علینہ نے آنکھیں کھول لیں.. بلاشبہ تم… گولی کیطرح کسی کو بھی لگ سکتی ہو…
مگر میرے دل میں تو وہ پھنس گئ ہے … اب کسی اور کی کیا جگہ بناو….. “اسکا گال تھپتھپا کر وہ اتھا تو سامنے فائز کو کھرا پایا…
فائز اسکو سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا.. وارث ٹیبل پر بیٹھ گیا…
کس لیے آئے ہو” اسنے…. کہا جبکہ اسکے پیچھے منیب بھی تھا… فائز کو ہٹاتا وہ اگے آیا…
وہ پہلی بار انکے آفس آیا تھا.. ورنہ سکی جاب الگ تھی…
ہاں البتہ لوگ مار اسنے عماد کے ساتھ خوب کی تھی…
تمھیں بتانے آیا تھا.. حیا بھابھی… اپنے ابو کے پاس رہ رہی ہیں” فائز نے سنجیدگی سے کہا.. جبکہ منیب کی نظریں. اس لڑکی پر تھیں جو وارث کی ٹانگوں میں… چئیر پر بیٹھی تھی…
وارث نے جواب نہیں دیا….
تو فایز پلٹ گیا.. جبکہ منیب بھی لڑکی کو گور سے دیکھتا مڑ گیا….
لڑکی کا وارث سے کیا تعل ہو گا.. یہ تو وارث کا بیٹھنے کا انداز ہی بتا رہا تھا.. مگر کچھ تو تھا جو وہ پلت پلٹ کر دیکھ رہا تھا…
………………….
حیا بیٹا… کپڑے لے لو تم اپنے اور زین کے.. “ابو نےا سکے ہاتھ پر پیسے رکھے..
ابو میرے پاس پیسے ہیں.. اپ درخشے کے لیے شاپینگ کریں” اسنے مسکرا کر کہا…
تو ابو نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا…
میری بیٹی ہو کر مجھ سے ہی تکلف “وہ مسکراے تو ھیا ہنس دی جبکہ درخشے نے نم آنکھوں سے یہ منظر دیکھا. اور ھیا نے پیسے تھام لیے..
جاو شاپینگ کر لو.. “انھوں نے پھر سے کہا..
نہیں ابو ابھی تو میں آفس جاو گی.. اویس سے چھٹیاں لی تو تھیں مگر.. ارجینٹ کام کی بنا پر اسنے جلدی بلا لیا ہے… تو میں گھنٹے دو تک اا جاو گی… ” اسنے اٹھتے ہوے کہا..
زین کو اپنی ماں کے پاس چھوڑ جاو “ابو نے دیکھا زین بلکل اسکے پلو سے چپکا ہوا بچہ تھا اسنے دوسرا کوئ رشتہ دیکھا بھی کب تھا….
حیا مسکرائ..
اگر رک سکتا ہے تو روک لیں “وہ ہنسی.. تو ابو نے بھی ہنس کر اسکے سر پر ہاتھ رکھا.. تبھی درخشے انکے قریب ای…
ابو میرے سر پر بھی ہاتھ رکھ دیں “اسنے سسکتے ہوے کہا کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا وہ دولہن ہے…
ابو خاموش ہوے جبکہ ھیا نےا نکی جانب دیکھا…
اور انکا ہاتھ اٹھا کر اچانک ہی درخشے کے سر پر رکھ دیا…
ماں باپ کا دل بہت وسیع ہوتا ہے” ھیا نے کہا.. اور ابو کے سینے سے دونوں بہنیں لگ گئیں….
ابو نے بھی دونوں کو اپنے باوز میں بھر کر پیار کیا….
ماہرخ نے کچن سے یہ منظر دیکھا.. تو اسکے حلق میں انسو اٹک سے گیے اور وہ جلدی سے رخ پھیر گئ..
حیا یہ منظر دیکھ چکی تھی وہ.. درخشے کو ابو کے پاس چھور کر.. خود ماہرخ کے پاس ا گئ….
اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا….
تم بھی میری بہن ہو….. ضروری نہیں خون کے رشتے ہی.. اپنے ہوں کچھ غیر بھی اپنے ہو جاتے ہیں “اسنے اسکو گلے سے لگایا…
جبکہ ماہرخ کے بے شمار پھنسے ہوے انسو… ابل ابل کر نکل اے..
حیا اسے چپ کراتی رہی جبکہ وہ مسلسل معافی مانگتی رہی…
اچھا چپ ہو جاو” اسنے کہا… اور زین نے.. ماہرخ کے منہ پر ہاتھ مارا….
تو وہ دونوں ہنس دی..
شاید اسے تمھارا روناپسند نہیں ایا” حیا نے ہنس کر زین کے گال چومے تو.. ماہرخ نے بھی چوم لیے….
………………….
ایسا لگا گویا گاڑی پر ہاتھ رکھ کر کوئ بھول گیا ہو….
محلے کے لوگ… وارث کو گھور گھور کر جا رہے تھے جبکہ وہ.. گاڑی کے ہارن پر ہاتھ رکھے.. ادھر ادھر لاپرواہی سے دیکھ رہا تھا…
وہ اس ہارن کو لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی…
مگر ایک لفظ بھی نہ بولی اسے. افس جانا تھا.. اور اچانک یہ کیوں ا گیا تھا…
بیٹا.. لگتا ہے ہمارے گھر کے باہر ہے کوئ”ابو عاجز ا کر بولے تو.. حیا.. نے اثبات میں سر ہلایا..
اور ابو نے دروازہ کھولا… تو سامنے وارث کو پایا…
وارث بیٹا… ” وہ بولے… تو وارث نے ہاتھ ہٹایا…
انکل حیا… سے ملاقات ہو سکتی ہے.. “پورا محلہ سر پر اٹھا کر اسنے فقت ایک بات کی تھی کہ وہ اپنی بیوی سے ملاقات کرنا چاہتا ہے..
ابو نےا یک لمہے اسکو دیکھا..
نہیں مجھے نہیں ملنا “وہ پیچھے سے سختی سے بولی اور.. اپنا بیگ.. پکڑتی وہ. اگے چلنے لگی…
وارث گاڑی سے باہر نکلا… ابو حیرت س ے یہ سب دیکھ رہے تھے..
حیا یار بات سن لو”
وارث اپ گلی میں تماشہ لگا رہے ہیں. “حیا سختی سے بولی..
لگنے دو مجھے پرواہ نہیں.. مجھے تمھاری پرواہ ہے… ” اسنے کہا جبکہ ھیا نے اٹو روکا..
وارث نے ھیا کا ہاتھ پکڑ لیا..
وارث اگر زرا سی بھی اپکے دل میں میری عزت ہے تو میرے راستے میں مت ایے گا..” اسنے کہا.. جبکہ… وارث نےا سکا ہاتھ چھوڑ دیا….
رکشہ آگے بڑھتا.. اس سے پہلے وہ اسکے پاوں پر سے گزرتا.. وہ پیچھے ہٹا کہ.. کسی سے زور سے ٹکرایا….
پیچھے والا الگ چلایا جبکہ وارث نے گھور کرا سکو دیکھا..
سالے گھورتا ہے.. تجھے پتہ ہے مریم بھائ کے محلے میں کھڑا ہے “اسکا گریبان پکرتا وہ سڑک چھاپ گنڈا.. غصے سے بولا.. جبکہ ابو دورتے ہویے قریب ایے..
ندیم بھائ چھوڑ دو بچہ ہے معاف کر دو” انھوں نے کہا.. جبکہ ندیم اسکے نہ ڈرنے پر.. پستول کی نال اسکے ماتھے ہر رکھ گیا…
حیا بھی یہ سب دیکھ چکی تھی.. رکشہ رکوا کر وہ دورتی ہوی اسکے پاس ائ…
ابو منت سماجت کر رہے تھے جبکہ قرب کا دل کیا تالیاں بجایے.. جو لڑکی.. اسکے کہنے پر رک. نہیں رہی تھی اب اسکا ہاتھ تھامے پریشان کھڑی تھی..
اسکے دماغ نے گویا حرکت کی اور اسنے جان بوجھ کر.. ندیم نامی گنڈے کے منہ پر پنچ دے مارا..
الو کا پٹھا کب سے چیخ رہا ہے “شانے اچکا کر کہتے ہوے وہ لاپرواہی ہی لگا…
حیا کا منہ کھل گیا…
جبکہ ندیم کے پیچھے اور بھی لوگ نکل اے..
ایکشن مووی” وارث نے ارد گرد دیکھتے کہا…
وارث بیٹا اپ اندر جاو… “ابو گھبرا کر بولے… جبکہ وہ تو چاہتا تھا حیا کوئ جزباتی ہیروئینوں والا سین دے اور… اسکے ساتھ چلنے پر آمادہ ہو…
وارث کے ڈٹ کر کھڑے ہونے پر.. وہ سب اچانک وارث کے اوپر تل پڑے…
ھیا کی چیخیں اسنےا پنے کانوں سے سنی تھی..
اسکا وہی ہاتھ.. جس پر اسنے جابجا.. زخم خود دیے تھے خود کو اور اسکے ایکسیڈنٹ میں بھی متاثر ہوا تھا… اسپر کئ ڈنڈے ان لوگوں نے مارے…
تو وارث درد سے کراہیا.
ابو ابو… وارث. “حیا کی چیخوپاکار الگ تھی جبکہ محلے کے لوگ الگ جمع تھے…
وارث نے آنکھیں کھول کر دیکھا…
ایک نے حیا کا ہاتھ جھٹکا… وارث نے لات کھینچ کر اس ادمی کے ماری….
مگر وہ کافی پٹ چکا تھا…..
تبھی وہ اتنے بندوں کو سمبھال نہیں پا رہا تھا…
وہی بات اپنی کی میں وہ خود ہی پھنس گیا تھا….
تبھی فائرنگ کی آواز پر وہ سب پیچھے ہٹے….
وارث کا جوڑ جوڑ بری طرح ہلا تھا…
حیا نے گھبرا کر فائز کو فون کر دیا تھا….
جبکہ انکے سامنے ارہم کھڑا… تھا…
اسنے فائز اور منیب نے اچانک ہی ان سب پر.. حملہ کر دیا..
وہ سب اچانک ہی نمودار ہوے تھے
محلے میں ایک ادھم مچ گیا تھا..
وارث”حیا نے کانپتے ہاتھ سے… وارث کا چہرہ تھام لیا…
جبکہ ان تینوں کی مار سے وہ سب بھاگ چکے تھے…
وارث مسکرا کر حیا کو دیکھنے لگا…
اسنے زخمی ہاتھ سے حیا.. کا سر اپنے چہرے کے قریب کیا….
آی لو یو..” مدھم اواز میں بولا….
حیا کی سسکی سی نکلی…
بٹ ائ ڈونٹ”اسنےا ب بھی غصے سے کہا..
اور ان تینوں نے اسکو گاڑی میں ڈالا.. اور ھیا ابو سمیت وہ سب ہسپیٹل کی راہ پر چل دیے…
ارہم کی شکل ماہرخ کو اچھے سے یاد تھی
. آج کی یہ لڑائ.. سب کے دل دھڑکا گئ.. تھی…
………………..
کیوں تو بے غیرتوں کیطرح پڑا تھا” ارہم اسپر چیخا جو ہاتھ پر پلستر کرا کر.. مزے سے پڑا تھا.. گویا کچھ ہوا ہی نہ ہو…
بس اس کو ہمارے سامنے ہی شیر بننا آتا ہے” منیب نے طنز کیا…
تمھیں بلاوجہ پنگا لینا ہی نہیں چاہیے تھا “فایز نے بھی کہا….
بیٹا وہ اچھے لوگ نہیں ہیں” ابو بولے…
جان وارث آپ بھی کچھ بولو” وارث نے ھیا کی جانب دیکھا جبکہ اسکا چہرہ سرخ پڑ گیا سب کے سامنے اسکی اس بے حیائ پر…
حیا باہر نکل گئ جبکہ وہ ہنسا….
میرے بھائ… کون سا تجھے گلاب جل لگے ہیں جو تیرے دانت اندر نہیں جا رہے.. “ارہم اسکے نزدیک ا یا اسنے دوسرے ہاتھ کا استعمال کرتے ارہم کے منہ پر مکہ مارا…
سالے (گالی) تو کیوں ایا ہے پہلے یہ بتا” وہ غصے سے بولا…
اگر میں نہ آتا تو بچتا نہ “ارہم نے منہ پر ہاتھ پھیرتے کہا..
ہاں چوڑیاں پہن رکھیں تھیں میں نے..” وہ چیڑ کر بولا…
میرا کوئ واسطہ نہیں تم لوگوں سے نکلو یہاں سے” اسنے انگلی اٹھاکر سب کو دفع ہونے کو کہا..
جس کے لیے ہاتھ ٹوٹوایا.. وہ تو چلی گئ” وہ بولا تو اب سب کو اسکی منتق سمھجہ ائ….
اور سب سر تھام گئے اسکے علاوہ کیا بھی کیا جا سکتا تھا…
………………….
حیا نے ابو کو بھیج دیا تھا جبکہ زین کسی صورت کسی کے پاس نہیں روک سکتا تھا.. وہ حیا کے آپس ا گیا.. اور حیا ہسپیٹل میں ہی تھی وارث میڈیسن کی غنودگی میں سویا ہوا تھا.. جبکہ ارہم فایز منیب بھی کچھ دیر کا کہہ کر چلے گیے تھے…
وہ تینوں پہلی بار اکھٹے تھے حیا وارث کو توجہ سے دیکھ رہی تھی…
وہ دوسروں سے اتنا مختلف کیوں تھا غیر سنجیدہ… لاپرواہی….
اسکا دو سال کا بیٹا تھا اسے اس کی بھی پرواہ نہیں تھی….
مگر وہ کیوں ایسا تھا کہ جہاں موجود ہوتا… جیسے وہیں بھراو لگتا…
جیسے وہ جس کیطرف ہوتا سارا وزن اسی جانب لگتا….
وہ بہت برا تھا..
اسکی زبان بہت بری تھی..
وہ کسی کے دل کا خیال نہیں رکھتا تھا…
پھر بھی… حیا کا دل اسی کے لیے دھڑکتا تھا.. کیوں…
وہ خود سے سوال کر رہی تھی….
کہ اچانک دروازہ بجا اور اویس اندر داخل ہوا…
تبھی وارث نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں
اویس اسکے سامنے تھا اسکا سب سے بڑا دشمن… حیا گھبرا گئ وہ کیا بولے گا.. اب……
………..
جاری ہے