Sharabi By Tania Tahir Readelle50244 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
Epi 19
اسنے تکیوں میں سے منہ نکالا….
یہ لڑکی مجھے مناتی بھی نہیں ہے پہلے تو کیسے آگے پیچھے پھرتی تھی اور اب….” وہ بڑبڑاتا اٹھا…. جبکہ نیچے سے آتے تیز میوزک کی اواز یہ بتا رہی تھی کہ فنکشن زوروشور سے جاری ہے…
اسنے بلیک کرتا نکالا اور بیس منٹ کے اندر وہ خوشبو بکھیرتا نیچے اتر آیا….
کچھ لوگوں کو دیکھ کر.. اسے ناگواری ضرور ہوئ مگر اگلے لمہے سکون بھی ہوا کہ… وہ ان لوگوں کے پاس نہیں تھی.. اپنی فیملی کے ساتھ تھی جبکہ ہنستی مسکراتی… وہ ساڑھی میں اسکو بے حد اچھی لگ رہی تھی…
اگر میں تمھیں احمق کہو تو تمھیں برا لگے گا مجھے معلوم ہے “پیچھے سے آتی آواز پر وہ پلٹا..
اویس ہاتھ سینے پر باندھے مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا..
وارث نے ناگواری سے اسکو دیکھا….
تم اپنی حد میں رہو تو ہی اچھا ہے” اسنےا نگلی اٹھا کر وارن کیا..
تمھارا مسلہ یہ ہی ہے.. تم بات کو سمھجے بغیر دماغ استعمال کیے بغیر ایکشن لیتے ہو…..” اویس کے سکون میں کوئ کمی نہیں ائ.. جبکہ وارث طنزیہ ہنسا….
اگر تم چاہتے ہو زندہ سلامت یہاں سے جاو تو.. نو دو گیارہ ہو جاو ورنہ.. اچھا نہیں ہو گا” وہ ضبط سے بولا…
جزباتی انسانوں کے بارے میں میری راے تمھیں دیکھ کر بدل گی ہے پہلے لگتا تھا وہ.. اپنے ہر عمل میں شدت رکھتے ہیں مگر آج لگ رہا ہے وہ صرف احمق ہوتے ہیں.. اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی… ہلکان کر کے رکھتے ہیں…” اویس کی بات پر اسنے اسے گھورا.. اور جانے لگا.
. رک جاو وارث ایک بات یاد رکھو جو دوسروں کو تکلیف دیتا ہے وہ کبھی خوش نہیں رہتا… اور میں ھیا کو پسند کرتا ہوں یہ حقیقت ہے… مگر حیا مجھ سے محبت تو دور کی بات پسند بھی نہیں کرتی وہ صرف مجھے اپنا محسن سمھجتی ہے.. کہ مصیبت میں میں میری فیملی اسکے کام ائے…..
تین سال میں جتنی بار میں نے اسے تم سے خلا لینے پر اکسایا.. اتنی بار وہ میرے سامنے تم سے محبت کا اقرار کرتی رہی ہے…
محبت نصیب والوں کو ملتی ہے.. تمھارے پاس سب ہے پھر بھی تم خود کو خود ساختہ خول میں بند ہو کراپنی بھی اور ھیا کی بھی زندگی برباد کرو گے…..
اور جہاں تک میری بات رہی تو وہ.. اپنے ہاتھ سے مجھے کسی کے ساتھ باندھ گئ ہے.. اور محبت نہیں صرف پسند ہی مجھے اجازت نہیں دیتی کے میں اپنی پسند کے خلاف جاو البتہ تم اس سے محبت کے دعوے دار ہو”سنجیدگی سے کہہ کر وہ اسکے پاس سے ہٹ گیا جبکہ.. وارث وہیں ٹھر گیا…
اویس کے الفاظ کانوں میں گردش کر رہے تھے…
گزرے دن…. تین سالوں کی اپنی بے تابی… ملنے کے بعد اپنا رویہ… وہ سب اس وقت وہاں فنکشن میں کھڑے وارث کو جیسے سب سے غافل کر گیا…
وہ اگے جانے کے بجاے پیچھے چل دیا….
اور اپنے کمرے میں آگیا….
اسنے دراز کھولا اور سیگریٹ نکال کر لبوں میں دبا لی جبکہ اترتی شام نے چارو جانب اندھیرہ کر دیا تھا…..
………………..
پورے فنکشن میں اسنے لاشعوری طور پر اسکا انتظار کیا مگر وہ نہیں ایا تھا.. سب نے اسکے بارے میں پوچھا جس کو وہ ٹال گئ.. اب کیا بتاتی ضد اور انا میں وہ دوسروں کا خیال کب کرتا ہے…
درخشے کی جانب دیکھ کر وہ بہت خوش تھی… وہ شرمای شرمائ سی فائز کے پہلو میں بیٹھی تھی.. جبکہ فائز.. اس سے ایک دو بار بات کر لیتا.. جس کی سرخی اسکے چہرے پر چھا جاتی…
ارہم نہیں ایا تھا…
ماہرخ بھی چہکتی ہوئ درخشے اور فائز کے پاس تھی.. جبکہ سب کچھ ہونے کے باوجود وہ بجھی بجھی سی تھی…
طبعیت ٹھیک ہے حیا تمھاری “امی نے پوچھا… زین اسکے کندھے سے لگ کر ہی سو گیا تھا..
جی امی بلکل ٹھیک ہوں” وہ مسکرائ..
مزید اپنے ماں باپ کو وہ خود سے کوئ تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی…
اچھا بیٹا بہت دیر ہو گی ہے بس جانے کی اجازت لیتے ہیں… فائزکی امی سے “وہ بولیں تو ھیا نے سر ہلایا.. اور اس جانب چل دیں جہاں چچی آج خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر رہیں تھیں… .
فائز بھائ بس اب مزید کوئ بات نہیں اب ہم جا رہے ہیں” ماہرخ نے درخشے کو اٹھایا ھیا مسکرای جب وہاں سب مسکرا دیے…
کیوں محترمہ… ابھی تو رات شروع ہوی ہے. “منیب نے حانک لگائ..
جبکہ وہ منہ بنانے لگی…
ابھی دولہن ہماری ہے آپ لوگ بلاوجہ فری مت ہوں.. “ماہرخ نے پٹاخ سے جواب دیا تو.. سب ہنس دیے….
ابو بھی وہیں ا گیے درخشے تو سب کے سامنے اسکے ساتھ کھڑے ہونے پر کافی شرما گئ تھی…
ہنسی کھلکھلاہٹو میں. مزید وقت گزرا تو ابو نے ان سب کو چلنے کا کہا.
اور وجدان صاھب سے ملے جو. بس رسمی سا مسکرا کر اپنے دوستوں کیطرف چل دیے.
جبکہ فایز نے انھیں اچھی طرح الوداع کیا… اور جب انکا داماد اتنا اچھا تھا تو دوسرے کی کیا فکر تھی بھلہ..
مگر وارث کے بارے میں وہ بار بار پوچھتے رہے تھے…
اس سے پہلے وہ نکلتے… وارث کو آتا دیکھ کر رک گے…
انھوں نے حیا کی جانب دیکھا.. جس نے بتایا تھا وہ گھر نہیں ہے جبکہ وہ سرخ آنکھیں لیے.. ان سے مسکرا کر ملا..
بیٹا اپ کو تو بخار سامحسوس ہو رہا ہے “وہ اچانک بولے تو.. ھیا نےا سکی جانب دیکھا…
4 5 گھنٹے پہلے تک تو بلکل ٹھیک تھا لڑ رہا تھا اس سے اب بخار کیوں چڑھ گیا..
بس معمولی سا ہے.. سر… سوری میں آپ لوگو کو جوائن نہیں کر سکا” جس قدر مہزب طریقے سے وہ بولا تھا.. فائز اور منیب کے تو کھانسی کا پھندا لگا…
وارث نے ان دونوں کو اگنور کر دیا…
نہیں بیٹا.. اپ ڈاکٹرکے پاس جانا لازمی” ابو فکر مند سے بولے تو وہ انکی شکل دیکھ کر رہ گیا…
کچھ دیر وہ سب وارث کے پاس کھڑے رہے جبکہ ان لوگوں کے جانے کے بعد وہ سب ھیرت سے وارث کی شکل دیکھ رہے تھے..
وہ کچھ عجیب سا لگ رہا تھا…
اسنے ھیا کی جانب دیکھا..
زین ھیا کے کندھے پر بے سود سویا ہوا تھا…
وارث نے آرام سے اسے اسکے شانے سے ہٹایا. اور لے کر اندر چلا گیا…
اگر وہاں سب کے منہ کھلے ہوے تھے تو معیوب بات نہیں تھی….
یہ اسکی کایا پلٹ کیسے ہوئ بلاخر منیب بولا..
سب کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا..
اسکی طبعیت ٹھیک نہیں ہے حیا آپ اسکے پاس چلی جاو “وہ بے چین سی بولیں بس تو نہیں چل رہا تھا خود ہی چلی جائیں..
حیا کو صرف ایک منٹ کی ھیرت ہوئ اور اسکے بعد یہ سب صرف وارث کا ڈرامہ لگا.. ہسپیٹل میں بھی اسنے ایسا ایکشن دے کر اسکے ساتھ کتنا برا کیا تھا..
اب بھی وہ ایسا ہی کرے گا وہ بدل نہیں سکتا…
اسنے سوچا اور وہ بھی انکے پیچھے چل دی…….
……………
کمرے کے دروازہ کھول کر اسنے بیڈ کی جانب دیکھا وہ لیٹا ہوا تھا جبکہ اپنے سینے پر زین کو لیٹایا ہوا تھا اور زین الٹا لیٹا نیند کے مزے لے رہا تھا..
ھیا بنا اسکی جانب دیکھے… اندر ا گی..
وہ جانتی تھی وہ ابھی اٹھ کر اے گا اس سے زبردستی کرے گا اپنی زبان کی تلخی نکالے گا…
مگر دس منٹ کمرے میں ادھر ادھر گھومنے کے بعد بھی نہ وہ ہلا نہ ہی زین صاحب نے جنبش کی…
ھیا جیولری پٹختی… واشروم می چلی گئ…
ڈریس چینج کر کے.. وہ ای تو.. وہ سر پر ہاتھ کا مکہ مارتا… آنکھیں بند کیے ہوے تھا…
ہممم ایک اور ڈرامہ.. صرف مجھے پریشان کرنے کا “اسنے تلخی سے سوچا اور زین کو اس کے سینے سے اپنے ہاتھوں میں بھر لیا….
اسکو اپنے ہاتھوں میں وارث کے جسم کی حرارت محسوس ہوی..
ایک پل کو دل پریشان ہوا مگر.. اسکی بے اعتباری کا سوچ کر.. وہ خاموش رہی اور زین کے بالوں میں ہاتھ پھیرہ…
وارث نے جبکہ کروٹ لے لی. حیا نے اسکی پشت دیکھی…
سیاہ کرتے میں… وہ کمال لگ رہا تھا مگر چہرہ اترا اترا کیوں تھا اور اب بخار…
وہ اہاتھ بڑھا کر اسکاشانا ہلانا چاہتی تھی مگر اسنے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور زین کو ایک طرف لیٹا کر وہ وارث کیطرف لیٹ گئ..
اور اسکے کروٹ پلٹنے کا انتظار کرنے لگی مگر وارث نے کروٹ نہیں بدلی…
ایک ہی بستر پر وہ دونوں اتنے فاصلے سے تھے..
حیا اسی کے بارے میں مسلسل سوچتی اسکی انکھ لگ گئ… جبکہ
وارث کو اسکی بھاری سانسوں کی اواز محسوس ہوئ اور وہ اٹھ بیٹھا..
اپنا ہاتھ دیکھا.. جس پر ابھی بھی پٹی بندھی تھی..
سر اسکا بری طرح تپ رہا تھا ان دونوں کو دیکھ کر وہ بیڈ سے اٹھا.. اور کمرے سے باہر نکل گیا.. کھٹکے کی اواز پر پیچھے ھیا کی حیا انکھ کھل گئ تھی…
……………
وہ اپنے تپتے جسم کی پرواہ کیے بغیر.. انکے دروازے پر جا کھڑا ہوا..
اج اسے اپنے اندر سلگتا وارث ختم کرنا تھا… اور وہ ہر شخص سے جواب چاہتا تھا…. اور جس کے سامنے وہ کھڑا تھا وہ تو… اسکو ایسا بنانے والی تھی…
وہ نماز ادا کر رہیں تھیں..
سلام پھیر کر انھوں نے اسکی جانب نہیں دیکھا..
بچپن کا منظر دوبارہ لہرا گیا تھا گویا دونوں طرف…
انکی انکھ سے پٹ پٹ انسو بہنے لگے جبکہ وہ.. دروازہ کھلا چھوڑے.. انکے پاس ا کر بیٹھ گیا..
سرخ آنکھوں سے انکو روتا دیکھنے لگا..
اسکی آنکھیں بخار کی شدت سے نڈھال ہو رہیں تھیں…
دعا کا درانیا طویل ہوتا اسنے انکا ہاتھ.. پکڑ.. کر کھینچ دیا.. دعا میں اٹھے ہاتھ کھل گے…
وارث میں دعا مانگ رہی تھی “انھوں نے ضبط سے اسکی جانب دیکھا.. یہ دن انا تھا… وہ جانتی تھیں کیا جواب دیں گی وہ آپنے کیے کا….
اچھا.. ٹھیک… ہے مانگیں پھر وارث کو موت ائے”
وارث “انھوں نے گھبرا کر دل پر ہاتھ رکھا…
کیوں کیا ہو گیا دعا ہی تو مانگنی ہے تو مانگیں وارث کو موت ایے اور وہ مر جائے.. وہ بھگتے اپنے کیے
ہر عمل کو…. مانگیں “وہ ضدی انداز میں چیخا…
نہیں میری جان.. نہیں ایسامت کہو…” وہ اسکا چہرہ پکڑنے لگی…
کیوں نہ کہو… ہے ہی کیا میرے پاس.. کیا چھوڑا آپ نے مجھ میں… کیا… ہاں.. جواب دیں مجھے کیوں..
اپنی آنکھوں سے اپکو اس کے ساتھ دیکھا… میں نے.. اپ نے کوئ صفائ نہیں دی… اس عمر میں میرے زہن میں عورت کی عزت ختم ہو گئ.. اور لفظ صرف مکاری رہ گیا… کہ عورت مکار ہوتی ہے دھوکہ دیتی ہے…. عورت صرف مرد کا دل بھلانے کو ہے.. 7 سال کی عمر میں یہ سب سوچتا تھا میں کس وجہ سے.. اپکی وجہ سے اور اپکے شوہر کی وجہ سے…
پیدا ہی کیوں کیا مجھے.. “وہ چلایا اسکی انکھ کی سرخی انکا دل کاٹ گئ….
وارث مجھے معاف”
نہیں “وہ دھاڑا….
مجھے جواب دیں… محبت کرتیں تھیں آپ مجھ سے.. تو پھر گھر سے کیوں بھاگیں…..” وہ انھیں جھنجھوڑا آنکھیں نکال کر پوچھنے لگا….
مجھے ادھورا کر دیا آپ نے “بے بس.. سا انکو دیکھنے لگا…
کیا یے میرے اندر کیا آتا ہے مجھے… میں بدل نہیں سکتا خود کو…. میں بدل پاتا ہی نہیں میرے اندر کی تلخی نہیں جاتی….
مجھے کاروبار نہیں کرنا آتا… جب کچھ اچھا سوچتا ہوں….
تب وہ لمہے یاد اجاتے ہیں.. اور ایک ابر پھر خود کو کسی کھای میں جھونکنے کا سوچ لیتا ہوں……
یہ مجھ پر ظلم کیا ہے آپ نےا ور اپکے شوہر نے… “وہ بولا… جبکہ وہ سسکتی رہیں…
وارث میں اسکے گلے نہیں لگی تھی….” وہ منہ پر ہاتھ رکھ تین بیتے کو صفائ دینے لگی…
تو کیا چوری تھی ایسی.. کہ اب گھر سے بھاگیں اور اسکو ہٹا نہیں سکیں.. میرے باپ کو نہیں بتا سکیں “وہ بخار سے پسینم پسین ہو چکا تھا جبکہ غصے کی کیفیت پورا وجود ہلا گی تھی…
وہ چپ ہو گئیں….
تھیں نہ پھر آپ مکار… تو مکار کی اولاد مکار ہی تو ہو سکتا ہے.. جب تک آپ زندہ ہے… میں ٹھیک نہیں ہو سکتا….
کیونکہ اپکی شکل میری لیے عزیت ہے.. اور رہے گی” وہ بمشکل خود کو سمیٹتا.. اٹنھے لگا مگر اتنا بہت مشکل ہی لگا..
وارث مجھے معاف کر دو.. ہان میں چور تھی مکار تھی میرے اندر چوری تھی عماد نے تو فائدہ اٹھایا.. مگر میں میں اپنے بیتےس ے بہت محبت…
کیا کروں میں اس محبت کا” اپنے چہرے سے انکے ہاتھ جھٹکتا بولا…
کیا کروں کچھ بھی نہیں کر سکتا میں” کہتا.. وہ دوبارہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگا.. مگر ایکدم گیرہ…
وارث. وارث”اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں… اور بند ہوتی آنکھوں سے اسنے حیا کو بھاگ کرا ہنی جانب آتے دیکھا تھا…….
……….
جاری ہے
