Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

کمپنی کا کانٹریکٹ تو اسے مل گیا تھا… مگر اسکی توجہ اسپر بلکل نہیں تھی…
یہ سوچ سوچ کر ہی اسکادماغ کھول رہا تھا کہ وہ تقریبا انتہائی درجے کا بیوقوف انسان ہے… اسے پہلے یہ خیال نہیں ایا اور… تین سال اسنے حیا کے بغیر گزار لیے….
اسنے سر ہاتھوں میں تھام لیا….
تبھی منیجر اندر داخل ہوا…
سر یہ پروڈکٹس کی کولیٹی چیک کر لیں “اسنے اسکے سامنے ابھی رکھا ہی تھا کہ وارث نے زور سے ٹیبل پر لات ماری…
مسلہ کیا ہے تیرے ساتھ ہر دو منٹ بعد میرے سامنے کھڑا ہوتا ہے.. نہیں دیکھنی مجھے تیری شکل نکل جا یہاں سے اور جو کرنا ہے کر لے.. ورنہ تالا ڈلوا کر چابی مجھے دے دے” وہ غرا کر بولا…
منیجر حیرت سے اس سر پھیرے انسان کی باتیں سن کر باہر نکل گیا….
جبکہ وارث نے اپنی چئیر کو بھی لات مار دی…
اف اف اف” اسنے ٹیبل پر مکہ مارا….
میری بیوی اور اویس کے پاس “تصور ہی اسے غصہ دلا رہا تھا…
مگر وہ حیا تک کیسے جائے….
اسنے سیل فون اٹھایا…
ویسے یہ کام وہ ایک منٹ میں نکلوا لیتا تھا جب ارہم ہوتا تھا…
اور اب اسے کمپنیوں سے بات کرنی پڑتی تھی…
ہاں یاسر نام دے رہا ہوں اس بندے کا اتا پتہ نکلواو” اسنے کہا…
ہفتہ دو” مقابل کا جواب سن کر وارث نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی….
اتنے دنوں میں تو خود ڈھونڈ لوں گا میں “اسنے چینک کر کہا اور فون بند کر دیا…
حیا.. ” اسکا تصور دماغ میں لا کر… اسنے خیال میں ہی اپنے جنگلی پن کا اسے ثبوت دیا تھا..
وہ کہیں بھی ہوتی.. مگر اویس کے پاس نہ ہوتی….
فلحال بھی وہ خودغرض ہو رہا تھا….
گاڑی کی چابی اٹھا کر وہ… افس سے نکل گیا جبکہ منیجر نے اسکی پشت دیکھی..
کچھ پیپرز پر اسکے سائن لینے تھے مگر وہ انسان… بلکل بھی اس کمپنی کی پرواہ نہیں کر رہا تھا
تیز گاڑی دوڑاتے ہوئے وہ گھر ایا.. اور اپنے کمرے میں گھس گیا….
ماں پر ایک نظر ڈالنے کی زحمت بھی نہیں کی…
جبکہ یہ بھی نہیں دیکھا لاونج میں انکے ساتھ کوئ بیٹھا ہے..
وہ کریڈیٹ کارڈ اٹھا کر باہر نکلتا کہ فائز اسکے سامنے ا گیا…
اسنے نخوت سے اسکی جانب دیکھا…
راستہ کاٹنے سے پہلے سوچ لیتے کس کا کٹا ہے “اسنے سختی سے کہا..
معلوم ہے…. ایک بے بس دیوانے کا… جو خود کو نہ بدلنے پر مجبور ہے…. جو خود کے ساتھ خود ہی بھلائ نہیں کر سکتا…
جو اج بھی اتنا ہی لاپرواہ ہے..” فائز نے کہا.. تو وارث نے سرد سانس کھینچ کر تالی بجائ..
نائس ڈیبیٹ مجھے اچھی نہیں لگی.. راستے سے ہٹو” اسنے اسکو جھٹکنا چاہا….
عماد بھائ کو فالج ہو گیا ہے “فائز نے کہا.. تو وہ جو بے حد عجلت میں تھا… ایکدم رک گیا…
فائز اسی کی جانب دیکھ رہا تھا.. جبکہ وہ پلٹا تو شاید سالوں بعد اسنے اپنے پیچھے کھڑی اپنی ہی ماں کی آنکھوں میں دیکھا…
مدھم سا مسکرایا…
دکھ تو ہو رہا ہو گا” طنز سے بھرا نشتر مسکراتا وہ انکے کلیجے میں اتار گیا…
جبکہ وہ آنکھوں میں انسو بھرے حیرانگی سے بیٹے کو دیکھے گئیں….
اسنے سر جھٹک کر… فائز کی جانب دیکھا…
اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھا….
مجھے بلکل دکھ نہیں ہوا….” تمیز سے کہہ کر.. وہ اگے بڑھا….
وارث بات سنو” فائز دوبارہ اسکے سامنےا. گیا…
جبکہ اسنے گھورا…
کیا چاہتا ہے…. “وہ اصلیت پر اترا….
درخشے سے شادی کر رہا ہوں میں….
تمھیں اور انٹی کو انوائیٹ کرنے ایا ہوں… تم میری شادی تک ہمارے گھر شفٹ ہو جاو” فائز نے نرمی سے کہا جبکہ وہ آنکھیں اچکا کر ہنسا….
پہلی بات یہ میری کچھ نہیں لگتی تو ان کے ساتھ مجھے ملانے کی ضرورت نہی.. دوسری بات…
میری سالی سے شادی….” وہ رکا….
ایک جھپاکا سا ہوا… اسنے فائز کی جانب دیکھا…
حیا بھی اے گی “اسکو دونوں شانوں سے تھام کر. وہ بے تابی سے پوچھنے لگا جبکہ فائز حیران ہی ہو سکتا تھا..
بے حس بے مروت ترین انسان کسی کے پیچھے اتنا دیوانہ ہو.. حیرانگی کی ہی بات تھی…
ہ… ہاں… میں انھیں ڈھونڈ رہا ہوں… اور مجھے ایسا لگتا ہے.. انکے پیرنٹس جانتے ہیں وہ کہاں ہیں…. تبھی وہ سکون میں ہیں “فائز کی بات سن کر اسکے دماغ کی مزید گراہیں کھلیں.. اور اج اسے اندازا ہو گیا.. کہ وہ بیوقوفی کے تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے….
اسنے سر پر ہاتھ مارا…..
وہ اویس کے پاس ہے مگر میں اویس کا ٹھکانہ نہیں جانتا” اسنے دانت بھینچ کر اویس کا نام لیا اور فائز کی جانب دیکھا…
مجھے معلوم ہے اویس کے گھر کا..” فائز جلدی سے بولا.. جبکہ وارث کا اس وقت بس نہیں چلا کہ.. فائز کا ماتھا ہی چوم لے…..
اسنے مسکراتے لبوں پر ہاتھ پھیرا…
وہ اپنی ماں کی جانب متوجہ نہیں تھا مگر… وہ اسے خوش دیکھ کر خوش تھیں….
اسکا مطلب وہ میرے سامنے تھی.. میں ہی آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا” وارث.. بڑبڑایا…
ہمیشہ سے تم جزباتی رہے ہو.. اور دوسروں کی باتوں میں ا جانے والے” فائز نے لگے ہاتھ کہا تو اسنے فائز کیطرف دیکھا….
زیادہ زبان نہیں چل پڑی… شادی کوئ بہت توپ چیز نہیں ہے.. تو بھی یوں ہی زلیل ہو گا… “اسنے آنکھیں نکال کر کہا فائز لاپرواہی سے شانے اچکا گیا…
اب تم شادی میں ا رہے ہو… “اسنے پوچھا کیونکہ اب تو پکا یقین تھا وہ ہر حال میں ائے گا….
نہیں… “اسکا دماغ اس وقت بے حد تیزی سے حرکت کر رہا تھا…
جبکہ فائز نے حیرت سے اسکو دیکھا….
میں نہیں آ رہا… ” دوٹوک کہہ کر.. وہ سکون سے باہر نکل گیا.. جبکہ فائز نے انٹی کیطرف دیکھا…
جو نفی میں سر ہلانے لگیں…
وہ کیا کرنے والا ہے.. کسی کو نہیں پتہ مگر جب کر لے گا.. تو بچوں کی طرح پشتانا اسکی عادت ہے… ” وہ بولیں تو.. فائز.. کچھ دیر ان سے بات کر کے.. خود بھی چلا گیا…
….. …….
زین رک جاو” حیا چیخی.. جبکہ وہ چھت پر بھاگ گیا..
زین اپکے پاوں جل جائیں گے “وہ مسلسل بول رہی تھی.. جبکہ زین کے پاوں کو پہییں لگ گئے تھے. وہ بھاگتا جا رہا تھا…
مم… نو مم” وہ کھلکھلا رہا تھا جبکہ حیا نے گھورا….
کل رات وارث کو تین سال بعد اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا تھا…
دل کو قرار ایا… تھا… مگر کسی اور کی بانہوں میں قید کیے.. وہ تو پرسکون تھا اسے.. کیا فکر تھی ایک اس تھی.. اس سے ملنے سے قبل کے شاید وہ اسکو ڈھونڈتا ہو… مگر وہ اس بھی دم توڑ گئ…
کتنا دل ٹوٹتا ہے جب آس ٹوٹ جائے….
بس دوسرا دن تھا وہ ایسی ہی ہو رہی تھی.. جبکہ زین نے الگ اسکی ناک میں دم دیا ہوا تھا….
ادھر آئیں اپ حد سے زیادہ تیز ہو چکے ہیں “اسکو اٹھا کر وہ اسکی کمر پر دو ہاتھ رکھ گئ جبکہ وہ ڈھیٹ اب بھی مسکر رہا تھا…
مجھے لگتا ہے زین ڈھٹائ میں اپ اپنے باپ کو بھی پیچھے چھوڑ دیں گے” اسنے صوفے پر پٹختے ہوئے کہا…
جبکہ ابھی وہ مڑی ہی تھی کہ زین نے اسکا بجتا موبائل اپنے اگے کے دو دانتوں میں چبا لیا…
حیا ایکدم اسکے منہ سے کھینچ کر سر تھام گئ…
میرے اللہ” وہ بے بس سی فون کی تڑخی ہوئ سکرین اسکے دو شرارتی نکلے دانت اور موبائل پر ابو کے نمبر کو دیکھ کر رہ گئ…
جی ابو” سلام کے بعد وہ بولی.. اور نون سٹوپ رکے… وہ زین کی کارستانیوں کے بارے میں بتانے لگی جبکہ پیچھے سے اویس بھی آ چکا تھا.. زین جھٹ سے اسکی گود میں چڑھ گیا…
تم نے بگاڑا ہے اسکو.” حیا غصے سے بولی..
میڈیم یہ جس کا سیمپل ہے… وہ کوئ گھٹ چیز نہیں تھا… جو اپ مجھ پر الزام ڈال رہی ہیں….” اویس نے زین کو نیچے اتارتے ہوئے کہا…
ابو اور اویس دونوں ہنس دیے جبکہ.. حیا… زین کے بھاگنے کی سپیڈ پر حیران تھی…
اب یہ پودوں کی مٹی کھائے گا “حیا گویا رو دینے کو تھی….
زین صاحب “اویس اسکو دیکھ کر مسکراتا زین کے پیچھے گیا.. تو حیا نے ابو کی بات پر توجہ دی…
حیا… بیٹا فائز شادی کے لیے کہہ رہا ہے… “ابو نے کہا… تو حیا خاموش ہو گئ.. اس واقعے کے بعد درخشے سے بات نہیں کرتی تھی…
جیسا اپکو بہتر لگے ابو “حیا نے جواب دیا…
بیٹا میری بڑی بیٹی نہیں ہو گی تو.. میں کیسے شادی کروں گا “انھوں نے کہا تو وہ انکی بات کا مطلب سمھج گئ…
ابو اپ سب جانتے ہیں” حیا نے جواب دیا….
وارث نہیں اے گا..” وہ اچانک ہی بولے.. جبکہ حیا نے کوئ جواب نہیں دیا…
حیا… بہن کی شادی ہے…. پہلے ہی برادری میں عزت نہیں رہی اب تم بھی نہیں ہو گی تو.. باتیں کتنی بنیں گی…. “ابو کی بات پر اسنے سرد سانس کھینچی….
میں کوشش کروں گی” اسنے مدھم اواز میں کہا تو ابو خاموش ہو گئے…
خوش رہو “مدھم لہجے میں کہہ کر… انھوں نے فون بند کر دیا…..
کیا ہوا..” اویس نے اسکی جانب دیکھا… جو نم آنکھیں صاف کر کے اسکی گود سے زین کو لے کر کچن کی جانب چل دی… جبکہ اویس بھی اسکے پیچھے پیچھے تھا….
اور ھیا مدھم لہجے میں اسے سب بتا رہی تھی..
تین سالوں میں دونوں کی اتنی اچھی انڈرسٹینڈینگ ہو گئ تھی کہ وہ ایک دوسرے سے سب باتیں شئیر کرتے تھے…
……………..
وہ ابو کے پاس ائ اور انھیں دوائ دی تو.. انھوں نے اسکی ماں کی جانب دیکھا…
میں نےا پکو کہا ہے مجھے دوائ اپ دیا کریں “وہ سختی سے بولے تو انھوں نے دوائ لینی چاہی مگر درخشے نے نہیں دی..
ابو مجھے اب تو معاف کر دیں” وہ سسکی…
ابو مجھے سزا دیں ماریں مگر تین سالوں کی اس بے رخی کو ختم کر دیں پلیز ابو “اسنے انکے پاوں پکڑے جبکہ ماہرخ کمرے کے باہر کھڑی یہ منظر دیکھ رہی تھی وہ کتنی خوش نصیب تھی اسکے پاس رشتے تھے جنھیں وہ منا سکتی تھی جن سے اپنی منوا سکتی تھی اسکے رشتے تو اس سے ایسے انکھ بند کر چکے تھے گویا.. وہ کبھی تھی ہی نہیں.. زمیر پر پڑا بوجھ وہ کتنے عرصے سے کندھوں پر اٹھاے پھیر رہی تھی…
ابو نہیں اج ایسے مت جائیں… “وہ اٹھنے لگے تو.. وہ انکاہاتھ تھام گئ.. امی کی آنکھوں سے اشک رواں ہو گئے…
اپ.. اپ معاف کر دیں تین سال سے سزا دے رہیں ہیں… معاف کر دیں اب تو جو رسوائ مقدر میں لکھی تھی وہ تو مل گئ” وہ بولیں تو… انھوں نے انکی جانب دیکھا….
مگر یہ تکلیف میری اولاد سے ملی ہے….
اولاد کا سوکھ تو نصیب نہیں ہوامجھے.. ایک ہم سب سے دور ہے جسے تین سالوں سے نہیں دیکھا.. اور میرے پاس ہو کر بھی میری دوسری اولاد…. نے میرے سر پر خاک ڈالی ہے”
اپکی بات بلکل ٹھیک ہے مگر بچے ہیں ہمارے اللہ بہتری کرے گا.. بس کر دیں اب تو پرائ ہو گئ ہے”
وہ بولیں تو بنا جواب دیے وہ باہر نکل گئے…
……………..
شادی کی تیاریاں اچانک ہی شروع ہو گئیں تھیں…
فائز نے سارے انتظامات خود کیے تھے جبکہ… چچی تائ سمیت رمضان شاہ اور وجدان شاہ بھی چھوٹے گھر کے اسے تانے دے رہے تھے….
وہ سب سمھجہ رہا تھا… کہ وہ سب دوبارہ… حویلی جانے کے خواہش مند تھے….
اس گھر میں بھی شادی ہو سکتی ہے اپ بلاوجہ ضد لگا رہیں ہیں سب “اسنے سب کیطرف دیکھا…
میرے پہلے بیٹے کی شادی ہے اور سٹنڈرڈ دیکھا ہے تم نے اس گھر کا…
وجدان شاہ ہے میرا نام…. لوگ کیا کہیں گے کہ بیٹے کی شادی کرنے چلا ہے وہ بھی اتنے مڈل کلاس طریقے سے” فائز نے افسوس سے باپ کو دیکھا..
دکھوا کتنا تھا ان میں….
بابا وارث کو اپ اچھے سے جانتے ہیں….
وہ راتوں رات ہمیں اس گھر سے نکلوا سکتا ہے… تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے اور وہ بدلہ نہیں ہے…. وہ اب بھی اسی درجے کا بدتمیز ہے” اسنے گویا سب کو اطلاع دی… جبکہ سب نے گھور کر دیکھا…
تم بات کرو اس سے” رمضان شاہ بولے….
جبکہ اسنے سرد سانس کھینچی…..
اور انکے بیچ سے اٹھ گیا…..
……………
وارث سے سرسری سا زکر اسنے کیا ہی تھا… کہ وارث نے اسکی جانب دیکھا……
تم لوگوں کے ساتھ اگر حیا نہ ائ اس گھر میں تو دوبارہ اسی منہ سے نکل جانا” افس کی چئیر پر جھولتے اب وہ ان سب باتوں سے لطف لے رہا تھا..
فائز نے اسکیطرف دیکھا..
میں نہیں جانتا بھابھی کہاں ہیں”
تو ڈھونڈو میرے بھائ ڈھونڈو….. “مزے سے بولتا.. وہ پیپر ویٹ سے کھیلتا رہا….
فائز نفی میں سر ہلاتا اٹھتا کہ وارث نے بیٹھنے کا اشارہ کیا..
میں اپنے ساتھ انھیں اس گھر میں نہیں لا سکتا مگر میں کوشش کروں گا کہ وہ واپس تمھاری زندگی میں. آجائیں تاکہ ہم سب کو کچھ سکون ملے” وارث کے قہقہے پر فائز نے دانت پیسے….
گڈ…” اسنےا یک لفظی جواب دیا….
اور فائز وہاں سے اٹھ گیا…
…………………..
جاری ہے