Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

دروازے پر پولیس دیکھ کر وہ حونک کھڑے رہ گئے…
جناب اپکی بیٹی درخشے کے اریسٹ وارنٹ ہیں…. ہمارے پاس.. چوری کے جرم میں انکو باہر بلائیں.. “پولیس والے نے کڑک اواز میں کہا جبکہ وہ جمع ہوتے ماحلے کو دیکھ رہے تھے.. برسو سے بنی عزت.. اچانک ہی چٹکیوں میں راخ میں مل جاتی ہے…
یہ اپ کیا کہہ رہیں ہیں میری بیٹی نے.. چوری کب کی” وہ خود کو سمبھالتے ہوئے بولے…
لڑکی کو برامد کرو… یہ سب باتیں پولیس سٹیشن جا کر کرنا” پولیس والا اب تلخی سے بولا.. درخشے.. پتے کیطرح کانپ رہی تھی…
درخشے درخشے “امی نے اسکے کمرے کا دروازہ بجایا..
شوہر کی برسو کی عزت اور جھکے شانے ان سے دیکھے نہیں جا رہے تھے…
درخشے دروازہ کھولو”امی زور سے بولیں…
امی میں
. میں نے کچھ نہیں کیا” درخشے کانپتی اواز میں اپنی بات سمھجانا چاہتی تھی مگر اسکی اپنی سماعتوں کی حدود سے اسکی اواز نہیں نکل رہی تھی جبکہ اسکی آنکھیں سرخی اور آنسو سے پھول سی گئیں تھیں…
درخشے اللہ کا واسطہ دروازہ کھول مار ڈالنا چاہتی ہے کیا” امی کی سسکتی اواز ائ تو وہ انسو پونچتی اٹھی…
اور کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا تو سامنے.. پولیس کو دیکھ کر وہ.. جیسے مرنے کو تھی..
ابو نے اسکی جانب دیکھا. تو انکی نظروں میں ایک مان تھا جیسے ابھی وہ پوچھیں گے اور وہ چیخ کر کہے گی یہ سب جھوٹ ہے.. اور وہ جیسے پھر سے سرخرو ہو جائیں گے..
وہ اسکے پاس ا رہے تھے.. درخشے کا دل کیا بھاگ جائے یہاں سے…
اور وہ اس سے کوئ سوال نہ کر سکے,, مگر ایسا نہیں تھا۔۔۔
وہ اس کے پاس آئے اور اس کے سر پہ ہاتھ رکھا
درخشے مجھے بتاؤ یہ سب کیا ہے کیا یہ جو کہہ رہے ہیں سچ ہے ” درخشے کے آنسو متواتر بہہ رہے تھے۔۔۔
سمجھ نہیں آئی کیا جواب دوں حقیقت تو یہی تھی کہ اس نے چوری کی تھی ۔۔۔۔
ابو مجھے معاف کر دیں۔۔۔ میں نے سب جان بوجھ کر نہیں کیا “
وہ سسکتے ہوئے بولی۔۔۔۔
جب کہ انہوں نے دل تھام لیا۔۔۔۔۔
کیا ان کی اولاد بھی ایسا کر سکتی ہے انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔۔۔
دوسری طرف امی کا بھی یہی حال تھا۔۔۔۔
درخشے کیا بولے جا رہی ہے۔۔۔
ہوش میں تو ہے” انہوں نے اسے جھنجھوڑا۔۔۔۔ مگر درخشے کے پاس آنسوں کے سوا کچھ نہ تھا۔۔۔۔
بند کرو یہ ڈرامہ” پولیس والا اکتا کربولا۔۔۔۔
ان کے اریسٹوارنٹ ہمارے پاس ہیں ہم انہیں گرفتار کر رہے ہیں”
اس نے سختی سے کہا اور ایک لیڈی آفیسر آگے بڑھی اور درخشےکا ہاتھ سختی سے پکڑ لیا۔۔۔
ابو نہیں پلیز مجھے بچائیں۔۔ میں نے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا” وہ چیخی۔۔۔۔
مگر لیڈی آفیسر اسے گھسیٹتی ہوئ گاڑی تک لے گئی۔۔۔
اسنے تڑپتے ہوئے اپنے باپ کو دیکھا ہارے ہوئے انداز میں وہ مجبور باپ بیٹی کو دیکھ رہا تھا پورا محلہ یہ تماشہ دیکھ رہا تھا جبکہ چیمگویاں الگ ہو رہیں تھیں ۔۔۔
درخشے سیمٹ کر بیٹھ گئ ۔۔
چار کروڑ چرا کر اس کی معصومیت تو دیکھو۔ “لیڈی افیسر نے غصے سے کہا. جبکہ درخشے مزید سہم گئ….
……………….
بابا میں نے نہیں جانا بابا پلیز” ماہرخ نے انکے پاوں پکڑ لیے جبکہ… لیڈی افیسر اسے کھینچ رہی تھی..
لے جائیں اسے “وہ غصے سے اسے دھکیلتے بولے.. اسنے ماں کیطرف دیکھا..
باپ سوتیلا تھا تو ماں تو سگی تھی نہ…
مگر وہ بھی اس سے نگاہیں پھیر گئیں تھیں…
ماہرخ کے پاس اب کوئ نہیں رہا تھا….
لیڈی افیسر نے اسکو کھینچا تو وہ انکے ساتھ گھیسٹتی چلی گئ….
جبکہ اسکے اگے پیچھے کوئ نہیں تھا اج اسے اس بات کا اندازا ہو گیا تھا….
………………
وہ سو کر اٹھی…. تو وارث اسکے ساتھ ہی لیٹا ہوا تھا… وہ مدہوش سویا ہوا تھا…
بے فکر شاید…. اسنے بال سمیٹے… اور اسکا دھیان وارث کی ماں پر چلا گیا….
اسکا دل کیا وہ جائے اس عورت کے پاس….
اسکی اواز کی بے بسی اسکے کانوں میں اب بھی گونج رہی تھی…
وہ اٹھی.. اور جلدی سے فریش ہونے چلی گ>.. وہ سوچ چکی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے…
دس منٹ بعد وہ باہر نکلی.. اب بھی وارث سویا ہوا تھا….
وہ بغیر اسکو جگائے کمرے سے باہر نکل ائ.. تو اسے فائز باہر نکلتا دیکھائ دیا..
فائز بات سنو “اسنے پکارا تو فائز کے قدم رک گیے..
جی” اسنے حیا کی جانب دیکھا..
فائز میں ملنا چاہتی ہوں انٹی سے “فائز نے اسکی جانب دیکھا…
اپ جانتی ہیں یہ سب اپکے لیے بے حد نقصان دہ ہو گا” اسنے اسے روکنا چاہا.. مگر اسنے نفی میں سر ہلا دیا…
کیا تم میرے ساتھ چلو گے یہ” وہ اگے بڑھتے ہویے بولی تو فائز لو چار ناچار اسکے پیچھے جانا پڑا…
………………..
کچھ ہی دیر میں وہ اس محلے میں تھے…. درخشے کے فون سے کالز ا رہیں تھیں مگر اسنے پک نہیں کی.. کیونکہ فلحال وہ اسکی کسی بھی بات سے زیادہ اہم کام کر رہی تھی اسنے فون کو سائلنٹ پر کیا.. اور فائز کا ویٹ کرنے لگی… جبکہ اب اسے کچھ دیر ہو گئ تھی تبھی وہ خود گاڑی سے نکل ائ…
اور دیکھنے لگی…. کہ اسے ایک تنگ بے حد تنگ گلی میں فائز نظر ایا…
وہ اسکے پیچھے گئ… تو فائز کسی پر جھکا ہوا تھا…
جبکہ مقابل شاید کوئ مانگنے والی تھی کیونکہ اسکا حولیہ اسکے بال اسکا چہرہ….
وہ پہچان چکی تھی انھیں جبکہ پہچانتے ہی اسکا دل انکی حالت دیکھ کر تڑپا…
یہ شاید بے ہوش ہیں “فائز بولا…
ف
.. فائز انھیں گاڑی میں ڈالو” اسنے اسے کہا جبکہ فائز رک گیا..
میں اپ کو کہو گا اپ اب بھی غلط کر رہیں ہیں یہ اپکے لیے نقصان کے سوا کچھ نہیں ہے “
فائز انکی حالت دیکھو اور اب بھی تم مجھے نفع نقصان بتا رہے ہو انسانیت بھی کوئ چیز ہے” وہ اسکو جھڑکتی خود ہی انکو اٹھانے کی کوشش کرنے لگی لوگ حیرت سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے جو اس مانگنے والی کو گود میں اٹھا کر گاڑی میں ڈال رہے تھے…
مگر حیا نے کسی کی جانب نہیں دیکھا… اور اس بار گاڑی اسنے خود ڈرائیو کی اور ہسپیٹل کی جانب چل دی….
……………….
ڈاکٹرز نے انھیں اڈمیٹ کر لیا تھا انکی حالت کافی خراب تھی..
دو دن سے خوراک نہ لینے کے باعث وہ بے ہوش ہو چکیں تھیں.. فائز اسکی جانب دیکھ رہا تھا.. جو شکل سے ہی بے حد متفکر نظر ا رہی تھی..
اپ اس بارے میں وارث وک کچھ مت بتائیے گا.. “اسنے کہا جبکہ حیا نے کھا جانے والی نظروں سے اسکی جانب دیکھا..
تم جاو کمپنی…. وہاں کام ہو گا..” اسنے فون اٹھاتے ہوئے کہا.. تو وہ بنا کچھ بولے وہاں سے جاتا.. کہ ڈاکٹر نے بلا لیا…
جبکہ حیا.. کی پشت تھی اسکی جانب اور وہ شاید کسی کو کال ملا رہی تھی…..
درخشے کے بجائے فون امی نے اٹھایا.. جبکہ انکی رونے کی اواز سن کر حیا… کا دل ڈوب سا گیا سب سے پہلا خیال ابو کیطرف ہی گیا..
امی امی کیا ہو اہے اپ کیوں رو رہی ہیں “وہ بولی جبکہ پریشانی سے اسکی ٹانگیں کانپ اٹھیں تھیں…
حیا.. تیرے ابو کو کچھ ہو گیا ہے حیا….” وہ سسکتے ہوئے بولیں جبکہ حیا.. نے سامنے سے اتے فائز کے ہاتھ سے گاڑی کی چابی چھینی.. اور وہ بنا کچھ سنے باہر کی جانب دوڑی..
بھابھی “فائز خود پریشان ہو اٹھا…
مگر حیا سرخ آنکھوں سے تیز ڈرائیو کر رہی تھی….
دل میں اپنے باپ کے لیے دعا گو.. وہ گھر کے راستے پر تھی جبکہ فائز بھی ساتھ تھا اور مسلسل ایک ہی سوال کر رہا تھا…
گھر کے سامنے گاڑی روکتے ہی وہ اندر کی جانب دوڑی تو.. جو خبر ان دونوں کو ملی وہ دونوں ہی اپنی جگہ ہل کر رہ گئے…
حیا.. نے باپ کی جانب دیکھا.. جو آنکھیں موندے لیٹے ہوئے تھے….
ڈاکٹر کہتے ہیں ہارٹ اٹیک کا خطرہ ہے “امی بری طرح رو دی جبکہ حیا نے اپنا سر تھام لیا..
وہ کیسے غافل ہو گئ تھی… ان دونوں سے.. اور اتنی دیر کر دی اسنے کے اسکے باپ کو محلے والے لے کر گئے تھے…
فائز خود حیران رہ گیا تھا.. مگر وہ جلد ہی سمبھلا یہ حیران رہنے کا وقت نہیں تھا.. اسنے حیا کی جانب دیکھا…
بھابھی یہ اس طرح بیٹھنے کا وقت نہیں ہمیں پولیس سٹیشن جانا چاہیے “اسنے کہا.. وہ اس وقت بھی ہوش سے کام لے رہا تھا ورنہ اندرونی حالت تو ایسی تھی کہ اسکے پاس اڑ کر پہنچ جائے…
حیا جیسے تھک کر اسکی جانب دیکھنے لگی..
بھابھی پلیز…” فائز کو اسپر ترس تو ایا.. مگر… اسنے.. اسکو اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا..
میں اپکا باہر ویٹ کر رہا ہوں.” وہ کہہ کر نکلا جبکہ حیا.. اپنے انسو پونچتی اٹھی..
امی اپ.. فکر نہ کریں “ماں کا چہرہ چومتے ہوئے.. وہ انکی سسکی پر اپنے دل کو مظبوط کرتی… ابو کے نیم گنودگیی میں ڈوبے وجود کو دیکھ کر باہر جانے لگی کہ امی کی اواز پر اسکے قدم رک گئے…
حیا اس نے برسو کی عزت مٹی میں ملا دی ہے ہماری اب اسے میری دہلیز پر مت چڑھانا” وہ بولیں جبکہ حیا باہر نکل گئ..
……………….
ماہرخ اور درخشے کو وہاں بینچیز پر بیٹھے رعتے دیکھ… اسنے خود پر بمشکل کنٹرول کیا….
جبکہ فائز کا دل کیا اسکے سارے انسو سمیٹ لے….
فائز شاہ” فائز نے انسپیکٹر سے ہاتھ ملایا..
آئیں آئیں شاہ صاحب ہمارے غریب خانے پر کیسے انا ہوا” شاید افیسر اسے جانتا تھا تبھی اٹھ کر اس سے ملتا بولا…
جبکہ فائز کا چہرہ سنجیدہ سپاٹ تھا….
ان دونوں لڑکیوں کو کس جرم میں اریسٹ کیا گیا ہے “فائز نے پوچھا.. جبکہ حیا خاموش کھڑی تھی اسنے ان دونوں کے پاس جانے کی بھی زحمت نہیں کی…
سر چوری کی ہے جی دونوں لڑکیوں نے…
4 کروڑ چرایا ہے جی..
جس کی رقم ہے وہ بھی سیٹ بندہ ہے
…… مگر اسنے ایک بات کہی ہے کہ میری رقم دو…. اور لڑکیوں کو ایک رات قہد میں رکھ کر ازاد کر دو” افیسر نے بتایا تو… اسنے.. اپنا اے ٹی ایم.. افیسر کے سامنے رکھ دیا…
اپ اسکی رقم اسکو دے دیں… مگر اس سب سے پہلے لڑکیوں کو.. ازاد کر دیں اسنے کہا تو.. افیسر مسکرا دیا…
سر جی اپ بھی پیسے والے وہ بھی پیسے والے جی ہم مجبور ہیں اوپر سے ارڈرز ہیں لڑکیاں رات تھانے میں رہیں گی جی “وہ بولا جبکہ فائز نے مٹھیاں بھینچی….
جب رقم دے دی گئ ہے تو لڑکیوں کو ازاد کرو” وہ غصہ ضبط کرتا بولا…
معزرت چاہتا ہوں سر.. ایف ائ ا ر کٹ چکی ہے “اسنے نفی کی جبکہ فائز چییر سے اٹھ گیا…
حیا نے فائز کی جانب دیکھا…
ہمیں ملنا پڑے گا… دوسری پارٹی سے” ایک نظر روتی ہوئ درخشے پر ڈال کر اسنے حیا کو کہا..
اپ انھیں بلا لیں” حیا بولی تو انسپیکٹر پھر مسکرا دیا…
میڈیم جی وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں وہ کل ائے گے “اسنے کہا.. تو فائز سمیت حیا.. بھی پریشان کھرے رہ گئے…
اب گھر جائیں میں یہاں روکتا ہوں”
فائز نے کہا تو حیا نے اسکی جانب دیکھا…
بھابھی اپ جائیں… سب ٹھیک ہو جائے گا” اسنے تسلی دی.. مگر یہ کافی تو نہیں تھا.. اسکی کنواری بہن تھانے میں چوری کے جرم میں قید بیٹھی تھی یہ بات کسی بھی تسلی سے ختم ہونے کی نہیں تھی..
خاندان محلے.. کے لوگ.. سب میں یہ خبر پھیل گئ تھی…
کیا رہ گیا تھا اسک امستقبل کون کرتا اس سے شادی..
اسنے درخشے پر بس ایک نظر ڈالی جو بری طرح رو رہی تھی.. اور اسکے پاس انا چاہتی تھی مگر دو پولیس افیسرز انکے گرد کھرے تھے..
فائز میں کچھ کرتی ہوں.. تم پلیز یہیں رہنا “اسنے کہا… تو فائز نے سر ہلایا.. حیا کا اویس سے بات کرنے کا رادہ تھا..
اپنی بہن کو اب وہ رات تو تھانے میں کاٹنے نہیں دیتی کے رہی سہی عزت بھی بدنام ہو جاتی…
فائز نے سر ہلایا اور وہ باہر نکل گئ..
اسوقت ضبط سے اسکا چہرہ سرخ ہو چکا تھا…
اسکی امکھ سے نا چاہتے ہوئے بھی انسو نکل رہے تھے…
اسے سمھجہ کہیں ایا کہاں جائے..
کیا وارث کے پاس.. یہ ماں باپ کے پاس…. یہ پھر وہ عورت.. جو حالت دیکھ کر کیس کا بھی دل کٹ جائے..
یہ پھر بہن کے پاس جو عزت نیلام کر چکی تھی…
سٹیریگ پر سر رکھے.. وہ سسکیاں لے کر رو دی…
غبت میں بھی کبھی اسکے باپ نے ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے انکی عزت.. بدنام ہو
مگر اج… لوگ انپر تھو تھو کر رہے تھے…
اسنے انسو صاف کیے.. اور گھر کی جانب چل دی….
اسکے پاس اے ٹی ایم نہیں تھا…
اویس کو بھی وہ متواتر کال کر رہی تھی مگر وہ اٹھا نہیں رہا تھا…
گھر پہنچتے ہی وہ کمرے کی جانب چل دی….
مگر اتنا بھی اسان نہیں تھا…
چوری کی ہے تیری بہن نے… “چچی نے حیرانگی سے پوچھا..
حیا کے قدم رک گئے..
لو بھلا کیا ضرورت تھی.. تیری طرح ہی کسی امیر زادے کو پھانس لیتی” وہ دونوں ہنسی جبکہ انکی ہنسی حیا پر تزاب کیطرح گیری…
مگر وہ بنا جواب دیے…
اگے جانے لگی.. کہ عماد سامنے ا گیا…
وہ حیا کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا…
اب پوچھو ہمیں کیسے پتہ چلا… ” اسنے اسکا ہاتھ پکڑنا چاہا مگر حیا نے ہاتھ جھٹکے سے چھڑوا لیا…
تمھاری امی کا فون ایا تھا… آ آ انھوں نے نہیں بتایا…
محلے کے کسی ادمی نے کیا تھا… اسنے بتایا…
بڑا دکھ ہوا.. ویسے.. تم نہ سہی تمھاری بہن سہی. میں دیتا اسے چار کیا پانچ کروڑ…
مگر چوک سی ہو گئ… “
انف انف انف.. تم گھٹیا نیچ انسان… ” وہ اسپر جھپٹنے
کو تھی کہ عماد اس سے دور ہو ا..
بلبل میرے ہر پلین سے پہلے تم خود ہی پھنس جاتی ہو…. اب میں کیا کروں. “وہ قہقہ لگا کر زبردستی اسکے گال کھینچتا وہاں سے چلا گیا جبکہ حیا.. کمرے میں داخل ہوئ.. اور بری طرح دروازہ تھام کر رونے لگی…
کہ اسکی اواز سے بیڈ پر پڑا وجود حرکت میں ایا..
اسنے ایک انکھ کھول کر..
بند دروازے کے پاس بیٹھی حیا کو دیکھا…
تمھارا میوزک مجھے ڈسٹرب کر رہا ہے “وہ بولا.. اور کروٹ لی..
حیا نے اسکی جانب دیکھا…
اور وہ اٹھی…
مجھ پر رحم نہیں اتا.. ترس نہیں اتا مجھ پر اپ کو..
اپکونجھ سے ہمدردی بھی نہیں ہوتی وارث.. کیوں کیوں.. نہیں ہوتی.. مجھ پر ترس کھائیں.. دیکھیں میں مر رہیں ہوں میں. مر جاو گی. وارث” وہ اسکو بری طرح جھنجھوڑتی چیخی.. وارث اسکی جانب دیکھنے لگی.. جس کے انسو ٹپ ٹپ بہہ رہے تھے.. جبکہ سفید چہرے میں سرخی کے ساتھ آنکھوں میں غم اور تکلیف الگ تھی…
کیا ہوا ہے” وہ پہلی بار اس سے یہ سوال کر رہا تھا….
جبکہ حیا… بکھرتی چلی گئ..
سنو میری طرف ادھر دیکھو…
اپنے پاوں میں بیٹھی.. حیا کا چہرہ اوپر اٹھایا…
حیا سسکتی رہی وارث نے اسکے بال پیچھے کیے…
وارث” حیا نے اسکا ہاتھ پکڑا… وارث کو اسوقت وہ بہت پیاری سے لگی.. وہ اسکے ساتھ نیچے ہی بیٹھ گیا..
ہان بولو” اسکے گال پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ بولا..
م… مج.. مجھے.. عماد سے ڈر لگتا ہے “وہ سسکی جبکہ وارث کے ماتھے پر بل ڈلے….
وہ کچھ نہیں بولا جبکہ حیا کا سسکتا وجود.. اپنے سینےسے لگا لیا…
دماغ کی سکرین پر ایک منظر سا لہرایا..
مجھے در لگتا ہے اپکے گھر والوں سے… اپکے بھتیجے سے..” کوئ بے بسی سے بولا تھا…
اپ مہینہ مہینہ باہر رہتے ہیں…. پلیز مت جایا کریں” وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا مگر اواز نے اسکے کانوں میں گردش شروع کر دی تھی جبکہ اس اواز کے ساتھ ایک اور اواز بھی ابھری..
مما اپ کہاں جا رہی ہیں… “
مما بات سنیں.. مما… مما”
اسنے دانت پیستے ہوئے حیا کو مزید سینے میں پیوست کیا…
میں دیکھ لوں گا.. تم گھبرانا مت”وہ بولا.. اور اسکے بالوں پر لب رکھ دیے.. جبکہ حیا.. کا سسکتا وجود تھم گیا…
اسکا بخشا ہوا مان کہیں تو سکون پہنچا گیا تھا…
اسنے وارث کے سینے پر اپنا نرم لمس چھوڑا.. اور اس سے دور ہوئ..
جبکہ وارث نے ایک نظر اسکی جانب جبکہ دوسری اپنے سینے پر ڈالی جہاں اسنے لمس چھوڑا تھا..
اسکے دل کے مقام پر….
وارث”حیا پھر سے بولی تو وہ وارث نے اسکی جانب دیکھا…
جبکہ حیا مدھم اواز میں اسے سب بتاتی چلی گئ..
شاید اسے اویس سے پہلے اس سے مدد لینی چاہیے تھی…
وارث نے.. ایک ہاتھ بیڈ پر پھیلایا.. جبکہ دوسرا گٹھنے پر رکھ کر وہ مسکرادیا..
غض تمھیں میری مدد درکار ہے” وہ بھول گئ تھی.. کہ وارث خون پیے بغیر کچھ نہیں کرتا..
حیا اسکی جانب دیکھتی رہی….
اوکے… میں کروں گا تمھاری مدد… مگر مجھے کیا ملے گا” وہ اسکی لٹوں سے کھیلتا بولا..
وارث یہ وقت تو نہیں ہے یہ باتیں کرنے کا… “اسنے وارث کا ہاتھ… ہٹایا..
براونی تم میرے لیے کچھ سوچو.. یقین مانو. سب پہلے جیسا ہو جایے گا “وہ اسکو پانے نزدیک کھینچتا.. اپنی بلکل پاس کر گیا.. حیا اسکی قربت سے گھبرائ..
.. ک.. کیا چاہیے اپکو.. “وہ بولی…
جبکہ وارث اسکے کانپتے لبوں کو دیکھتا رہا..
اگ” اسنے ایک لفظی جواب دیا… حیا کو سمھجہ نہیں ائ..
وصولی میں اپنی مرضی کی لوں گا..” اسکے کان پر لمس چھوڑتا وہ مدھم اواز میں بولا.. جبکہ حیا کسمسا کر دور ہوتی سر ہلا گئ…
……………………..
افیسر کے سامنے چییر کھینچ کر اسنے سیگریٹ سلگائ… اور اسکی جانب دیکھا….
جبکہ ابھی افیسر یہ سمھجتا کہ اسکا.. فون بجا..
کمیشنر کی کال تھی…
جی.. سر بہتر” افیسر نے کہا.. جبکہ وارث مزے سے سیگریٹ سلگاتا رہا…
حیا فائز سمیت.. ماہرخ اور درخشے بھی اسے دیکھ رہیں تھیں
افیسر نے دوسری کال ارہم کو ملائ…
میں نے تمھیں کہا تھا میں کل او گا..”
سر میں مجبور ہوں.. اپکو انا پڑے گا.. سامنے والی پارٹی ہلکی نہیں ہے”وہ اہستگی سے بولا..
کہو وارث شاہ سے ملے ا کر “وارث سکون سے بولا جبکہ ارہم اسکی اواز سن کر چونکا..
وارث” اسکے دہرانے پر افیسر بھی وارث کے برہم میں ا گیا..
اسنے فون بند کیا..
سر اپکے لیے چائے پانی” اسنے خوشامد والے انداز میں کہا..
ہان میرے لیے برینڈی.. باقی سب کے لیے چائے” اسنے کہا جبکہ حیا نے نفی میں سر ہلایا..
پتہ نہیں وہ کب سنجیدہ ہوتا تھا…
افیسر.. بس کچا سا مسکرا دیا…
جبکہ دس منٹ میں ارہم انکے سامنے تھا.. وارث کھا جانے والی نظروں سے ارہم کو دیکھ رہا تھا…
یار میں تو نہیں جانتا تھا یہ تیری سالیاں ہیں” ارہم پہلے ہی صفائیاں دینے لگا کہ وارث اسے تھانے میں اسکی عزت نہ کر دے..
مگر وارث کچھ بھی نہیں بولا…
اور ارہم نے اپنی رپورٹ عزت سے واپس لے لی…..
………………
آپی” درخشے سمیت ماہرخ نے بھی پکارہ.. تو حیا نے انکی بات کا جواب نہیں دیا…
بابا کی طبعیت نہیں ٹھیک.. تم انکے سمانے نہیں جاو گی میرے ساتھ گھر چلو” اسنے سجتی سے کہا تو… درخشے خاموش ہو گئ جبکہ ماہرخ نے سرخ نظروں سے ارد گرد دیکھا.. اسکا تو کوئ بھی نہیں تھا..
تم بھی” حیا نے اسکی جانب دیکھا…
اپی.. میں.. میں گھر “وہ ہچکچا گئ..
حیا نے گھور کر دیکھا.. مگر فائز کے ساتھ… وہ تینوں گھر کی جانب چل دیں جبکہ..
ارہم وہیں کھڑا وارث کو صفائیاں دے رہا تھا…
حیا نے اسے دور سے دیکھا.. پہلی بار قمیض شلوار پہنی تھی اسنے..
اور بلیک گاگلز لگائے وہ کتنا پیارا لگ رہا تھا…
…………………..
جاری ہے