Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

Epi 9
وہ امی ابو کے پاس ہی رک گئ تھی.. تینوں ہی خاموش تھے کوئ کسی سے بھی نہیں بول رہا تھا.. حیا نے انھیں بتا دیا تھا کہ درخشے کو وہ لے ائ ہے اور وہ اسکے گھر ہے…. اور وارث نے اسکی مدد کی تھی..
امی تو اس بارے میں کچھ نہیں بولیں جبکہ ابو نے بس اتنا کہا کہ اسے یہاں لے او…
اسکے بعد کوئ بات نہیں ہو سکی جبکہ اج دوسرا دن ہو گیا تھا وہ سب سے غافل اپنے ماں باپ کی خدمت میں لگی ہوئ تھی…
خاندان والوں نے فون کر کر کے.. الگ ادھم اٹھایا ہوا تھا بے عزتی چاروطرف سے منہ کھولے انکو جکڑ چکی تھی…
حیا نے شروع شروع میں تو فون اٹھائے بھی جبکہ اب اسنے فون اٹھانا چھوڑ دیا..
کسی کو اسکے باپ کی فکر نہیں تھی سب کو بس عزت کی پڑی تھی….
وہ کھانا بنا کر ابھی کچن سے نکلی ہی تھی کہ بیل بجی…
امی چھوٹے سے ڈرائینگ روم میں بیٹھیں قرآن مجید پڑھ رہیں تھیں…
اپ رکیں میں کھولتی ہوں “حیا نے کہا اور وہ دروازے کی جانب بڑھی..
دروازہ کھول کر اپنے سامنے کھڑے شخص…. کو دیکھ کر اسپر جیسے حیرت کا جھٹکا لگا…
وہ اپنے مخصوص حولیے میں گاگلز لگائے باکمال سا.. اس چھوٹے سے محلے میں کھڑا تھا جبکہ ایک ہاتھ دروازے پر تھا…
حیا کون ہے..” امی کی اواز ائ تھی اسنے مڑ کر ایک نظر پیچھے دیکھا….
لبوں کی ترش میں عجب مسکراہٹ تھی….
و.. وارث ائے ہیں” اسنے کہا وہ پہلی بار انکے گھر ایا تھا جبکہ رخصتی بھی اسکے بابا نے کی تھی وہ خود شامل نہیں ہوا تھا.. اور نکاح بھی اسنے امنے سامنے نہیں کیا تھا…
حیا کی خوشی کا اس وقت کوئ اندازا نہیں لگا سکتا تھا…
بروانی تم ایکسٹرا چیٹ کر گئ ہو میرے ساتھ” وارث نے.. موبائل اور کیز اسکی جانب بڑھائیں جسے حیا نے تھام لیا.. اور اسنے گھر کے اندر قدم رکھا….
حیا کے دل کو پنکھ ہی لگ گئے تھے….
اسنے دروازہ بند کیا.. تو دیکھ کر اسے خوشی ہوئ لوگ رک کر اسکی جانب دیکھ رہے تھے….
یہ گھر ہے صابن دانی” اسنے اونچی اواز میں کہا.. جبکہ حیا کو اب مسکراہٹ سمیٹنی پڑی..
وہ وارث تھا….
اسنے نفی میں سر ہلایا..
اپ ارام سے تو بول سکتے ہیں.. ابو امی نے سن لیا انھیں برا لگے گا” اسنے اسکا ہاتھ پکڑا..
تو وارث رک گیا…
تو ابو امی کو شرم نہیں ا رہی… تمھیں یہاں روک کر بیٹھیں ہیں” اسنے ائ برو اچکا کر کہا اور گاگلز بھی اسکے ہاتھ میں تھما دیے..
تو اپکو تو میرے ہونے نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا “وہ کسی اس کے تحت ایسے بولی جیسے وہ ابھی کہہ دے گا… کیوں نہیں پڑتا..
تمھارے ہونے سے تو وارث کی مسکراہٹ ہے.. مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اسنے ٹھڑی نظروں سے اسکی جانب دیکھا..
بھول رہی ہو.. براونی معاہدہ ہوا تھا ہمارا… جس میں یہ صاف لکھا ہے کہ میں وصولی اپنی مرضء کی کروں گا. اب قرض چکانے کی باری ائ تو قرض دار ہی بھاگ گیا..
تبھی خودی قرض دار کی دہلیز پر ا گئے.. لیے بغیر تو بلکل نہیں جائیں گے “ادھر ادھر دیکھتا….
وہ اخر میں انکھ مارتا بولا…
اف حیا بیٹا بتاو بھی کون ایا ہے” امی ائ تو سامنے وارث کو دیکھ کر حیران رہ گئیں…
جبکہ وارث انھیں بےوقوفوں کیطرح دیکھ رہا تھا….
ارے.. اپ… ماشاءاللہ ماشاءاللہ…. “امی کی خوشی انکے چہرے سے چھلکنے لگی..
وارث انکے خوش ہونے پر حیران ہو کر حیا کو دیکھنے لگا..
اسنے کبھی یہ سب نہیں دیکھا تھا…
وارث سلام کریں” حیا مدھم اواز میں مسکرا کر بولی
میں حیا کے ابو کو بلاتی ہوں اپ اندر آئیں بیٹا… حیا اندر لے کر او “امی مارے خوشی کے بھکلا اٹھیں تھیں. جبکہ حیا نے سر پر ہاتھ مار کر وارث کو دیکھا..
کیا میں نے کیا کیا ہے “وہ شانے اچکا گیا..
اپ کیسی سے ملے ہیں سلام بھی نہیں کر سکتے “اسنے منہ بنا کر کہا…
وارث نے اسکے گال پر چٹکی کاٹ لی.. مگر وہ سنجیدہ تھا.. شاید کچھ پریشان بھی حیا…
کا دل اسکے ہونے سے ہی کھل سا گیا تھا..
مجھے شرم اتی ہے یار “وہ کچھ جھجھک کر بولا..
حیا پہلے حیران ہوئ اور پھر… اسکی ہنسی چھوٹ گئ..
وارث نے گھور کر اسکو دیکھا..
اوکے سوری” اسنے کہا.. تو وارث نے سر ہلایا…
قرض دار کے اب دانت نکلے تو توڑ دوں گا “وہ جھنجھلا کر بولا…
سارے روب مجھ پر ہی جماتے ہیں سلام کر کے دیکھیں پورا پورا قرض دوں گی”اسنے اترا کر کہا.. جبکہ وارث اسکی شوخی کو ایک لمہے دیکھتا رہا..
اور دونوں اندر ا گئے..
واقعی صابن دانی ہے “وہ پھر شروع ہو گیا.. حیا نے گھورا
ابو ادھر ہیں انکی طبعیت ٹھیک نہیں “وہ جانتی تھی اسکے مزاج اور امیر کسی سے ملنے خود جائے… اسنے اب تک یہ ہی دیکھا تھا کہ یہ ناممکن تھا…
وارث نے اس کمرے کی جانب قدم بڑھا دیے…
اسلام علیکم “اسنے مظبوط اواز میں باآواز بلند سلام کیا.. جبکہ اسکے ابو کے سامنے سر جھکا دیا…
حیا.. کی بڑی بڑی آنکھیں پھیل گئیں..
وہ کتنا بڑا ڈرامے باز تھا….
کیسی طبعیت ہے اپکی” وہ سلیقے سے انکے مقابل بیٹھتا پوچھنے لگا..
الحمدللہ بیٹا اپکو دیکھ کر اور ٹھیک ہو گئ” ابو نے مسکرا کر کہا..
حیا نے انکے چہرے پر پھر سے تازگی دیکھی.. جو دو دن سے ختم تھی…
یہاں تو سب ہی رومانٹک ہیں… “اسنے دل میں سوچا اور مدھم سا مسکرا اٹھا…
بیٹا اپ نے ہماری بہت مدد کی میں مشکور ہوں اپکا “ابو نے درخشے والی بات پر کہا تو..
اسنے حیا کی طرف دیکھا..
مشکور”وہ نا سمھجی سے دیکھ رہا تھا..
حیا نے لب بھینچ کر ہنسی دبائ..
درخشے والے کیس پر اپکا تھنکس کر کر رہیں ہیں “اسنے کہا تو وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا خفت زدہ سا مسکرا دیا..
نہیں سر اٹس اوکے. گھر والی بات ہے “اسنے کہا جبکہ حیا اسکی لمبی لمبی چھوڑنے پر.. اپنی ہنسی دبا رہی تھی…
حیا بیٹا کھڑی کھڑی ہنستی ہی رہو گی یہ پھر کچھ کھانے کو بھی لاو گی ” امی نے زرا ڈپٹ کر کہا… تو حیا خود بھی ہوش میں ائ..
نو نو میم اٹس اوکے میں بس حیا کو لینے ایا تھا.. “وہ ایکدم اٹھتا بولا…
تو دونوں کے چہرے بجھ سے گئے.. حیا بھی اسکی جانب دیکھنے لگی..
بیٹا اپ ہمارے ہاں رک جاو.. اگر اپکو مسلہ نہ ہو تو “ابو نے بڑے مان سے اسکی جانب دیکھا…
مائے گاڈ”وارث بڑبڑایا…
کیا ہو گیا اگر اپ اپنی لگزری دنیا سے نکل کر ایک رات ہماری دنیا میں رہ لیں گے “حیا نے غصہ کرتے ہوئے طنز کیا..
بروانی تم جانتی ہو مجھے پھر بھی یہ کہہ رہی ہو” اسنے کہا تو.. حیا اسکی بات کا مفہوم سمھجہ گئ..
اور پہلے سے زیادہ مدھم اواز میں بولی…
اسکا انتظام اپکے لیے میں کروں گی “اسنے مسکراہٹ روکتے ہوئے کہا…
گھیر رہی ہے لڑکی اپنے جال میں “وہ بولا… اور ہلکی سی چٹکی اسکی کمر پر لے لی جس سے حیا ہل ہی گئ..
جبکہ وارث دوبارہ اپنی جگہ پر بیٹھ گیا…
اوکے جیسا اپ چاہیں مگر ایک شکایت ہے اپ سے”اسنے معصومیت کے ریکارڈ توڑے جبکہ امی ابو دونوں بے حد متوجہ تھے اسکی جانب
میم سیریسلی بلیو می… حیا میرے لیے کچھ نہیں بناتی.. اٹ لیس…
اگر میں کبھی افس سے تھک کر آ کر فرمائش بھی کرو دوں تو…
اگے سے بے حد بہانے لگاتی ہے” وہ سنجیدگی سے بولا.. حیا کی ٹانگیں کھینچ رہا تھا…
جبکہ امی خفت زدہ رہ گئیں اور حیا کو سمھجہ ایا.. اسے روک کر پشتانا اسے خود ہی تھا..
امی ایسا” وہ رک گئ..
جبکہ وارث نے شانے اچکائے..
حیا بیٹا بہت بری بات ہے “ابو نے نفی میں سر ہلایا.
جبکہ امی نے گھورا..
سوری ابو نیکسٹ ٹائم خیال رکھو گی “وہ منمنائ جبکہ وارث کا دل کیا اج دل کھول کر ہنسے..
ایکچلی سر.. سوری اینڈ ایکسکیوزیز کچھ نہیں ہوتے..
بات تب سدھرتی ہے جب پلنٹی لی جاتی ہے “وہ معنی خیز نظریں اسپر اٹھاتا بولا…
جبکہ حیا کا چہرہ سرخ سا ہو گیا..
اور وہ باہر نکل گئ کیونکہ یہ ادمی اسکے وہاں ہونے سے مزید پھیل جاتا…
اسنے الو مٹر کی پلاو.. ڈش میں نکالی… جبکہ اسکے ساتھ مرغی کا سالن تھا.. بس اتنا ہی تھا انکے گھر..
وارث یہ سب نہیں کھاتا تھا.. وہ جانتی تھی کچھ پریشان بھی ہوئ..
کیا کچھ اور بھی منگا لوں “اسنے سوچا….
مگر کس سے.” وہ اس سے پہلے باہر نکلتی… وارث… کو پیچھے کھڑا پایا…
کیا ہوا “اسنے پوچھا.. تو وہ پھیکا سا مسکرا دی..
کچھ نہیں اپ اندر بیٹھیں..” وہ اسے اندر انے دینا نہیں چاہتی تھی..
وہ میم نے کہا.. کچھ دس… خان
بیچھا لوں تو میں اٹھ کر ادھر ا گیا”
دسترخوان “حیا نے ٹھیک کیا.. تو وہ ہنس دیا…
ہاں شاید ڈائنینگ ٹائپ کچھ “وہ بولا تو حیا نے سر ہلایا…
سیریسلی مجھے یہاں. اکر بے حد بھوک لگ رہی ہے “وہ کچن کے اندر جھانکتا بولا… جبکہ حیا اسے اندر انے سے روکے کھڑی تھی..
ہٹو بھی”وہ گھور کر اسے دھکیلتا اندر ا گیا…
حیا اسکے پیچھے ائ..
ڈش میں پلاو میں سے ایک مٹر اٹھا کر اسنے منہ میں رکھا اور حیا کیطرف دیکھا..
اور کیاہے کھانے میں “وہ نارملی پوچھ رہا تھا جبکہ حیا بری طرح شرمندہ ہو رہی تھی…
وارث وہ.. ہماری گلی کے دوسری طرف بہت اچھی شاپ ہے.. وہاں سارا فاسٹ فوڈ ملتا ہے اپ اپنے لیے لے آئیں..” اسنے کچھ جھجھکتے ہوئے کہا…
میں دوکانوں پر جا کر چیزیں خریدوں “وہ حیرانگی سے ڈبے الٹ پلٹ کر دیکھتا بولا…
ہاں کھانابھی تو اپ نے ہے “حیا اسکے ہاتھوں کی حرکت دیکھ رہی تھی جو پورا کچن برباد کر رہا تھا… اور بلاخر اسنے بسکٹس کھانا شروع کر دیے..
حیا میڈیم… بندہ نا چیز کبھی زندگی میں ایسی دوکانوں پر نہیں گیا “وہ اسکے منہ میں دیتا بولا…
اچھا وٹ ایور… تم مجھے بتاو مسلہ کیا ہے اس کھانے میں” اسنے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا..
ہمارے ہاں بہت سارے کھانے نہیں بنتے “وہ شرمندہ سی بولی جبکہ مقابل شخص کو ان سب باتوں کی سمھجہ نہیں. ارہی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے..
تو” وہ بولا… تو حیا نے سالن کا ڈھکن ہٹایا…
تو وہ ہنسنے لگا..
اوووو تم نے سمندر گوشت بنایا ہے “وہ بولا جبکہ حیا نے گھور ا..
سوری مطلب اچھا مجھے سمھجہ ا گئ.. تم ایک کام کرنا.. ام.. ایک بوٹی سر کو دینا ایک میم کو ادھی خود لینا باقی میری پلیٹ میں ڈال دینا نو اشو.. میں مینیج کر لوں گا” وہ مزے سے کہتا باہر نکل گیا.. جبکہ حیا اس انصاف پر اسے داد دیتی رہ گئ…
……………………..
اسے زندگی میں کبھی اتنا بولتے نہیں دیکھا تھا جتنا وہ اج بول رہا تھا مسلسل ابو سے بات کرتا وہ حیا کو بے حد اچھا لگ رہا تھا….
جبکہ وہ اسکا پکایا ہوا کھانا بھی کھا رہا تھا…
اور بلکل ویسا ہی ابو امی کی جانب سے انصاف ہوا تھا….
اسنے کانٹا رکھا تو.. حیا کی جانب پانی کا اشارہ کیا..
حیا کو پہلی بار احساس ہو رہا تھا وہ اسکاشوہر ہے. وہ خوشی سے جلدی سے اسے پانی نکال کر دے چکی تھی اسنے ادھا پی کر حیا کے سامنے رکھ دیا…
وہ یہ سب لاشعوری طور پر کر رہا تھا..
جبکہ حیا ایک ایک بات محسوس کر رہی تھی.. اسنے وہ بچا ہوا پانی پی لیا…
بیٹا اپکی امی کا انتقال کب ہوا. “ابو کچھ افسوس بھرے لہجے میں اسکے چپ ہونے کے بعد بولے کیونکہ انھیں یہ ہی بتایا گیا تھا…
انتقال” وارث ہنسا حیا نے پہلو بدلہ..
انتقال شنتقال کچھ نہیں ہوا تھا..
وہ بھاگیں تھیں… ایک رات بھاگ گئیں تھیں بنا کچھ بتاے بس… “
وارث” حیا اچانک بولی تو اسنے اسکی جانب دیکھا..
امی ابو خاموش ہو گئے..
اوپس چھپانا تھا مجھے پہلے بتاتی براونی” وہ ہنستا ہوا مزے لے رہا تھا جبکہ حیا کا دل کیا منہ ہی چھپا لے..
منہ پھٹ ہونے کی بھی کوئ تو لیمٹ ہوتی ہو گی مگر وارث ایسی لیمٹس کہاں رکھتا تھا..
خیر سر اپ افسوس نہ کریں… مجھے عادت ہے.. ہاں میں اپکو بتا رہا تھا.. بارہ سال کی عمر میں بنکاک جانے کا بھوت سوار ہو گیا تھا مجھ پر…
اور اسکے بعد وہ وہاں. کے قصے سنانے لگا جبکہ کھانا وہ کھا چکا تھا….
امی ابو سمیت وہ بھی بچوں کیطرح خوش تھی…
تبھی عصر کی ازانیں شروع ہو گئیں…
اور ابو اٹھ کھڑے ہوئے
چلو بیٹا نماز ادا کر لیتے ہیں “انھوں نے کہا جبکہ وارث اور حیا ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے…
شرابی بھی مسجد جاتے ہیں” وہ ہنستے ہوئے حیا کے کان میں بولا..
حیا اسکی جانب دیکھتی رہی… وہ خود ساختہ کھول میں بند تھا…
اپکو نماز اتی ہے “حیا نےا سے اٹھتے دیکھ کر پوچھا…
تو وہ ہنستا ہوا نکل گیا..
…………….
وہ دونوں سر گھٹنوں میں دیے بیٹھیں تھیں….
میں ابو کے پاس جا رہیں ہوں” درخشے نے انسو صاف کرتے ہوئے کہا..
ماہرخ تو کچھ بھی بولنے لائق نہیں تھی…
وہ کچھ نہیں بولی جبکہ درخشے اٹھ گئ… اور کمرے سے باہر نکل گئ..
ماہرخ خود کو اندھیروں میں ڈوبتا دیکھ رہی تھی..
اسکی قسمت اچھی تھی کہ اس وقت لاونج میں کوئ نہیں تھا…
وہ گیٹ کیطرف بھاگتی کہ لون میں فائز نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا..
کہاں جا رہی ہیں اپ”وہ سنجیدگی سے بولا…
اپ سے مطلب چھوڑیں میرا ہاتھ مجھے اپنے ابو کے پاس جانا ہے.. ان سے معافی مانگنی ہے” وہ سسکتے ہوئے بولی
جب تک بھابھی نہیں. اجاتی اپ کہیں نہیں جائیں گی”فائز نے اسکے ہاتھ کو مزید مظبوطی سے جکڑا…
درخشے کے آنسوؤں متوتر گیرتے رہے…
اپکا یہ عمل سب کو حیران کر گیا ہے “وہ اسکے انسو دیکھتا مدھم اواز میں بولا..
جب اپکو دیکھا تو آنکھوں میں جھجھک ایک عجیب سی معصومیت دیکھی تھی…
مگر اپکو پولیس سٹیشن میں دیکھ کر… مجھے احساس ہوا آنکھوں دیکھا صرف دھوکہ ہوتا ہے… یہ ہی سز اہے اپکی کہ اپ اپنے سے دور رہیں.. گارڈ اپکو باہر نہیں جانے دے گا تو بہتر ہے اپ دوبارہ چلی جائیں “وہ سنجیدگی اور اب سختی سے بول رہا تھا..
درخشے اسکے تجزیے .. پر شرمندگی کی گھرائیوں میں اتر گئ..
اسکے قدم لڑکھڑا گئے..
ایک غیر انسان کو اس کے عمل سے یہ محسوس ہوا تو اسکے اپنے کیا… محسوس کر رہے ہوں گے..
وہ شرمندہ سی پلٹتی اندر کی جنب چل دی.. فائز اسے کھڑا دیکھ رہا تھا مگر امی کو دیکھ کر ایکدم وہ ہوش میں ایا..
بدزات میرے بیٹے پر ڈورے ڈال رہی ہے ” وہ چلائیں…
درخشے نے سہم کر انکی طرف دیکھا..
اللہ اللہ نوٹنکی دیکھو ان دونوں منحوس بہنوں کی” وہ کانوں کو ہاتھ لگاتیں بولیں. جبکہ درخشے اندر بھاگ گئ اور اسی کمرے میں بند ہو گئ جہاں سے وہ نکلی تھی..
تمھیں بتا رہی ہوں فائز میں دور رہو ان دونوں سے ورنہ اچھا نہیں ہو گا..” وہ بولتی ہوئ اندر چلی گئیں جبکہ ماہم جو اج صبح ہی ائ تھی اور حالات کی کروٹ حیرت سے دیکھ رہی تھی..
اسنے درخشے سے بات کرنا چاہی مگر دروازہ بند تھا..
تبھی وہ پلٹ گئ..
جبکہ فائز وہاں اکیلا رہ گیا…
……… …………
رات ڈھل ائ تھی وارث وہاں سے بھاگنے کے لیے پر تول رہا تھا…
حیا نے رات کے کھانے میں اچھا احتمام کر کے وہ باہر ائ تو امی نے اسے گھورا..
صبح سے کتنے گندے حولیے میں پھیر رہی ہو… “
حیا ہنس دی.. اسے تو اس بات کا فرق بھی نہیں پڑا تھا..
اپنی عادت کے تحت اب وہ وہاں سے جانے کے لیے مچل رہا تھا…
جاو جا کر تیار ہو کچھ” امی نے ڈپٹ کر کہا تو حیا…
اٹھ کر اندر چلی گئ..
اسکے کپڑے یہاں نہیں تھے یہ سب درخشے کے کپڑے تھے…
اور تقریبا سب ہی سٹائلش تھے..
اسنے ایک بلیک شارٹ فراق نکال لیا.. اور واشروم میں چلی گئ..
وہ باہر ائ تو 9 بج رہے تھے اب اسے وارث کی فکر سی ہونے لگی..
ایک انسان جو ہر رات… اپنے دماغ اور وجود کو مفلوج کرنے کا سیال پیتا تھا.. اس وقت اسکی حالت کیا ہو گی.. کہیں وہ ابو کے ساتھ ہی کوئ اونچ نیچ کی بات نہ کر دے…
وہ جلدی سے ایک برون کلر کی لیپسٹک اٹھا کر لبوں پر لگاتی.. بالوں کو سمیٹ. کر اس سے پہلے کمرے سے نکلتی کہ وارث کمرے میں داخل ہوا…
حیا “وہ رک گیا….
وارث.. اپ مت جائیں… ” حیا اسکی آنکھوں کی طرف دھیان دیے بغیر اسکے قریب ائ…
کہ اچانک ہی وارث نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے.. دیوار کے ساتھ لگا لیا…
حیا کی آنکھیں پھیلیں….
تم تو واقعی قرض چکانے کو سیریس ہو “وہ اسکے لیپسٹک سے سجے لبوں کو دیکھتا مدھم گھمبیر اواز میں بولا… حیا کا دل اسکی ہلکی سی توجہ پر ہی بری طرح دھڑک اٹھا….
وار…. وارث… ہم اپنے روم میں نہیں ہیں” وہ اپنی کمر پر اسکی ہاتھوں کی حرکت محسوس کر کے منمنائ….
تو تمھارے ابو کے گھر مجھے کون روک سکتا ہے “اسکے کان پر جھکتا… وہ اسکی چھوٹی سی بالی کو چھیڑتا… دھیرے دھیرے اپنا لمس چھوڑنے لگا..
حیا سرخ سی.. اسکے لمس پر گھبرائ گھبرائ کھڑی تھی…
جبکہ وارث… اب اسکی گردن پر اپنی شدتیں لٹانے لگا…
وہ جیسے مدہوش ہو رہا تھا جبکہ حیا… اسکے واروں سے اس سے پہلے مکمل طور پر گھائل ہوتی… کچھ یاد انے پر.. وہ ایک جھٹکے سے اسے دور کر گئ…
وارث نے ایک پل کو اسکو حیران ہو کر دیکھا…
اور اگلے پل اسکے دانت سختی سے بھینچ گئے…
تم مجھے روکو گی “اسکا منہ سختی سے جکڑتا وہ غرایا..
ہاں تمھاری اوقات ہی کیا ہے…. وارث شاہ کے قدم تم واپس لوٹاو گی تم” وہ اس حرکت کو شاید اپنی انا پر لے گیا تھا..
وارث مجھے چھوڑیں مجھے درد ہو رہا ہے “حیا کی آنکھیں بھیگیں…
جبکہ وارث نے اسکے لفظوں کو ہی سختی سے جکڑ لیا…
اسکے عمل میں تکلیف غصے اور شدت کے سوا کچھ نہیں تھا…
خون کا زائقہ محسوس کر کے.. وہ پیچھے ہٹا.. جبکہ حیا دیوار کے ساتھ لگتی بیٹھتی چلی گئ…
یو نو یو ڈیزرو” وہ اسکا چہرہ جھٹکتا بولا اور بیڈ پر بیٹھ گیا…
حیا زخمی.. نظروں سے اسے دیکھ کر رہ گئ…
اپ مجھ تک کبھی نہیں پھنچ سکتے” وہ مدھم اواز میں اسکو آنسوں صاف کرتی باور کرا گئ
او رئیلی… کون رکے گا مجھے… تمھارا باپ یہ تمھاری ماں یہ تم خود” وہ چلایا.. حیا خوف زدہ سی.. اسکے لبوں پر ہاتھ رکھ گئ..
اپکو بلکل احساس نہیں ہے.. یہ میرے باپ کا گھر ہے اپکا کمرہ نہیں” وہ ہلکی اواز میں بولی…
تمھاری جرت کیسے ہوئ مجھے جھٹکنے کی” اسکی بات وہیں قائم تھی وہ اسکا بازو موڑتا بولا…
میں میں… وارث حیا صرف اپکی ہے… مگر.. مگر وارث میرا نہیں ہے… تکلیف دے رہی ہے یہ بات مجھے “وہ سسکتی بولی جبکہ وارث… اسکی خوشبو میں ایک بار پھر جکڑا گیا.. تھا.. وہ اسکے بالوں سے اٹھتی خوشبو سے بھکتا…
دوبارہ سے… اسپر اپنے لمس کی مدھر بارش کرنے لگا..
کیا فرق پڑتا ہے….
کمپرومائز کر لو” اسکو بستر پر پھینک کر… وہ اپنی بات سے ہٹے بغیر اسپر جھکتا کے حیا دور ہو گئ..
نہیں وارث…. اس بات پر میں کمپرومائز نہیں کر سکتی…
اپ کسی اور پر بھی اپنی چاہتیں لوٹائیں یہ مجھے منظور نہیں ہے میں اپکا ہر ستم سہہ لوں گی مگر باٹ نہیں سکتی میں کسی کے ساتھ اپکو “وہ روتے ہوئے بولی.. وارث.. اسکو گھور کر رہ گیا…
حیا میرا اس وقت کسی بھی بکواس کا موڈ نہیں ہے یہ تو تم شرافت سے.. ادھر ا جاو ورنہ خود ہی نقصان اٹھاو گی” وہ سختی سے بولا…
. ن نہیں او گی میں “حیا نے جیسے اخری فیصلہ دیا.. اسے اندازا سا ہو گیا…. کہ اسے اتنی سی بھی اس سے محبت نہیں کہ وہ خود کو ناخائز عمل سے روک سکے…
جبکہ وارث کے جزبات کا اندازا حیا نہیں لگا پا رہی تھی وہ اکتا کر اسکی جانب دیکھنے لگا…
ٹھیک ہے میں سوچوں گا اس بارے میں” وہ بول گیا..
حیا نے اسکی جانب دیکھا…
اور اس سے پہلے وہ جواب دیتی وارث نے اسے پھر سے کھینچ لیا…
اپنے سامنے زبان چلانے والی تو مجھے غیر لڑکی بھی براداشت نہیں جس کے نکھرے میں نے دل پر اٹھائے ہیں.. تم تو پھر میری ہو…” وہ اسکو سخت عمل سے باور کراتا… مسکرا دیا جبکہ حیا آنسوں پیتی. آنکھیں بند کر گئ…
کبھی تو محبت ہو گی اپکو مجھ سے” اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے وہ بولی…
جبکہ وارث ہنس دیا….
عورت سے محبت.. پشتاوے کے سوا کچھ نہیں “اسنے اسکے دونوں ہاتھ… اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیے…
اور جس کا قصور نہ ہو.. “حیا.. بولی جبکہ وارث نے گھورا..
شیٹ اپ.. ڈونٹ ڈسٹرب می” غصے سے کہتا وہ من مانیوں پر اتر گیا…
اور حیا…. بے بس سی رہ گئ…
……………………..
جاری ہے