Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

رمضان شاہ کو اپنے سامنے دیکھ کر اسے انسے نفرت کا احساس سا ہوا….
اور وہ اپنی جگہ سے بنا اٹھے.. انکو دیکھتی رہی….
جبکہ انکے پیچھے وجدان شاہ بھی تھے….
تم نے کمپنی کو سمبھال لیا…” رمضان شاہ نے مسکرا کر بات بنائ تو.. وہ فائل کھول کر اسکو پڑھنے لگی…
دونوں بھائیوں نے بیقوقت ایک دوسرے کو دیکھا….
حیا ہم اس کمپنی میں کام کرتے ہیں… ہم نے خون پسینہ لگایا ہے اس کمپنی کو جو اج تک یہ چلتی رہی ورنہ بڑے بھائ جان کی وفات کے بعد تو وارث اسکو نوچنے لگا تھا….
وجدان شاہ کی ابھی بات بھی مکمل نہیں ہوئ تھی کہ اسنے چیڑ کر فائل بند کر دی…
اپ لوگ چاہتے کیا ہیں مجھ سے…. یہ سب مجھے کیوں بتا رہے ہیں.. جتنے اپ لوگوں نے خون پسینے بھائے ہیں… اسکا سوگناہ تو اپ لے چکیں ہیں.. باقی کچھ بچا تھا جس کو بچانا چاہتی ہوں “اسکی بدلحاظی پر رمضان شاہ نے دانت بھینچے…
اچھا تو تمھیں لگتا ہے اس کمپنی کو ہم نے برباد کیا ہے تب ہی تم نے ہمیں اس کمپنی سے بے دخل کر دیا” رمضان شاہ غصے سے دھاڑے
اپ لوگوں کا جتنا حصہ تھا… وہ سب بہت پہلے ختم ہو چکا ہے.. یہاں پر صرف میرا حصہ ہے…. اپ لوگوں کا کچھ نہیں” حیا انکے چلانے کا اثر لیے بغیر بولی…
تم پچھتاو گی لڑکی…..
بڑے بڑے مگرمچھو کے اگے یہ کل کی ائ مچھلیاں کچھ نہیں کر سکتیں “وجدان شاہ نے اسکے اگے سے فائل گھسیٹ کر کہا.. انھیں یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی کہ حیا نے انھیں کمپنی سے نکال دیا ہے…..
میرا وکیل اپ لوگوں کے پاس تمام کاغزات بھیجوا چکا ہے جس میں یہ صاف صاف درج ہے کہ یہ کمپنی اور اس کمپنی کے شیرز حیا وارث شاہ کے ہیں.. اپکا یہ اپکے مفاد پرست بچوں کا اس میں کوئ حصہ نہیں.. “وہ غصے سے بولی.. جبکہ وجدان شاہ ابھی کچھ بولتے کے رمضان شاہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا..
چلو یہاں سے” انھوں نے کہا تو وہ کچھ پل حیران ہوئے اور پھر حیا پر غصیلی نظر ڈال کر وہ وہاں سے نکل گئے….
حیا کو شدید سٹریس سا محسوس ہوا.. یہ ایک بھاری ذمہ داری تھی گھر پر وہ جینے نہیں دیتا جبکہ افس او تو سب نوچنے کو تیار بیٹھیں ہیں
اسنے وارث کی تصویر کو حسرت سے دیکھا…..
اور سر تھام لیا….
………………..
کل رات سے وہ گھر نہیں گیا تھا.. ارہم کے ساتھ اسکے فلیٹ پر ہی تھا.. اور مسلسل صرف اپنا شوق پورا کر رہا تھا….
ارہم کو دیکھتے ہوے اسنے مزید ایک اور گلاس حلق میں اتار لیا…
یار م.. مجھے.. زہر لگتی ہے وہ “وارث نے چیڑ کر گلاس دور اچھالا تو ارہم ہنس دیا..
تو پہلا ہو گا جسے اپنی ہی بیوی سے چیڑ ہے” وہ سیگریٹ کے کش لیتا بولا.
ہمممم غریب گھرانے کی بیچاری مظلوم میری کمپنی پر راج کر رہی ہے “وہ کلس کر بولا تو ارہم نے اسکی جانب دیکھا….
یار مجھے… نہ.. یہ شادی وادی کرنی ہی نہیں تھی “وہ اٹکتے ہوئے بولا….
ہاں تیرا تو گزارا ہو ہی رہا تھا” ارہم ہنسا تو اسنے.. اسکو گھورا…..
یہ تیری لگائ ہوئ عادت ہے…” وہ سر جھٹک کر بولا….
جس رات تیری ماں بھاگی تھی… اپنے عاشق کے ساتھ.. اگر تجھے یہ لت نہ لگاتا تو تو.. میسنا کہیں کھائ وائ میں چھلانگ لگا دیتا.. “ارہم نے کوفت سے کہا تو….
اسکو لگا اسکی سانسیں حلق میں پھنس رہیں ہوں.. وہ لمبا سا سانس لے کر دوبارہ گلاس بھرنے لگا….
اب کیا سوچا تو نے” ارہم نے بھی گلاس بھرا….
کیا سوچنا ہے…. دل تو کرتا ہے اسکی گردن اتار دوں اسکے بدن سے… “وہ دانت کچکا کر بولتا…. ارہم کو ہنسنے پر مجبور کر گیا…
جس دن تیری بیوی… تیرے سارے مال پر ناگین بن کر بیٹھے گی اس دن پتہ چلے گا تجھے “وارث نے اسکے ہنسنے پر گھور کر کہا تو.. اسنے نفی کی..
ہمارا سین نہیں ایسا… یہ شادی وادی.. بیوی بچے….
کون یہ سیاپے پالے…. زندگی سکون میں ہے.. ماں باپ امریکہ میں… سیلف لائف ہے میری جان…..
بچپن سے ہی کبھی رشتوں کو نہیں دیکھا تو.. کیا رشتوں کو سمجھیں ہمارے جیسے اپنی دنیا سجاتے ہیں میرے یار… اپنی دنیا “وہ.. گلاس اوپر کرتا بولا جبکہ وارث نے اسکے گلاس سے گلاس ٹکرایا اور دونوں ایک سانس میں پی گئے….
اور پھر دونوں ہی سر جھٹک کر ایک دوسرے کو دیکھتے ہنس دیے….
پھر بھی حیا کا کچھ کرنا پڑے گا..” وارث کا دماغ اب بھی وہیں تھا
ہاں یہ بھی ہے…. کیونکہ پیسے کے بغیر زندگی…
ہممممم کیا فائدہ پھر” ارہم نے نخوت سے کہا تو..
وارث نے اسکی جانب دیکھا…
حویلی بیچنے کا سوچا ہے میں نے “وہ اٹکتے لہجے میں بولا تو.. ارہم ہنس دیا….
کیوں… سالے دربادر ہو کر مرنا ہے “اسنے دوبارہ گلاس بھرا….
تو حیا کو تکیہ رکھ کر مار دیتا ہوں” کوئ کہہ نہیں سکتا تھا وہ انسان اپنی بیوی کے بارے میں یہ نادر خیالات رکھتا ہے جو اسپر اپنی جان نچھاور کر دے.. تب بھی اف تک نہ کرے…
ایک حل ہے “ارہم نے اسکی جانب دیکھا…
وارث نے سیگریٹ کا دھواں فضا کے سپرد کیا…
وہ اسکی جانب معنی خیز نظروں سے دیکھ رہا تھا..
وارث جبکہ نا سمھجی سے….
ایسی جگہ مصروف کر کے.. انکھ اٹھانے کی فرست نہ ملے..” وہ بولا.. تو وارث کچھ کچھ سمھجنے لگا..
دماغ تو نہیں خراب…
بچے پال لوں.. تاکہ وہ مزید میرے سر پر چڑھے.”
ابے بھائ ڈرا دھمکا کر رکھ.. تیرا بھی بس “ارہم اب بے زاریت سے بولا…
جبکہ وارث نے گلاس ٹیبل پر پٹخ دیا….
اور کھڑا ہو گیا…
اب تو دیکھ تیرا بھائ کیا کرتا ہے “وہ کچھ سوچتے ہوئے…. بولا.. جبکہ ارہم نے اسکی جانب. دیکھ کر گھونٹ بھرا..
جیو لالا” اسنے ہاتھ اٹھا کر.. اسکو چیراپ کیا… تو وارث نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور گاڑی کی چابی لے کر.. نکل گیا.. جبکہ پیچھے ارہم… اپنے کام میں مصروف رہا…..
اسے دو گھنٹے ہونے کو ائے تھے.. وارث کو نشہ کم چڑھتا تھا.. اور چڑھتا تھا تو وہ اپنے ٹھکانے پر پھر بھی اپنے قدموں سے پھنچ جاتا تھا… جبکہ ارہم نشے میں ایک قدم بھی نہیں لے پاتا.. تھا…
ابھی بھی.. وہ بے حس پڑا… تھا آنکھیں موندے کے…
اسے کھٹکے کی اواز محسوس ہوئ…
مگر جسم میں اتنی سکت کہاں تھی کہ وہ اٹھ سکتا…
نہ جانے وارث جاتے ہوئے بند کر کے بھی گیا تھا دروازہ یہ نہیں….
اسکے دماغ کی تو ساری سہولیتں جواب دے گئیں تھیں…
جبکہ اب ایکدم اسکی آنکھیں کھولیں کیونکہ اسے.. اپنے عقب سے ایک اواز سنائ دی…
وہ نسوانی اواز تھی…
میرے خیال سے سو چکا ہے “کوئ کہہ رہا تھا..
ہمیں فرق نہیں پڑتا…. تم سامان سمیٹو.. جاگ بھی رہا ہوا تو….
کون سا اپنے قدموں پر چل سکتا ہے….” دوسری لڑکی نے کہا جبکہ وہ بیوقوف تھا..
ہاں شاید کیونکہ وہ جاگتے میں بھی کچھ نہیں کر پا رہا تھا…
یار یہ بختاور کی بیٹ کسی دن تمھارا کام تمام کروا دے گی..” دوسری لڑکی غصے سے بولی…
ایڈیٹ ساری باتیں یہیں کرو گی ہمیں نکلنا ہے یہاں سے “وہ کہہ کر
. کمروں کی جانب بڑھیں…
تو ارہم نے خود کو صوفے پر سے زبردستی دھکیل کر اٹھایا…
مگر اسکے دماغ پر بے حد اینٹوں کا جیسے وزن رکھ دیا گیا تھا…
وہ جاگ کر بھی بے حس مردہ لگ رہا تھا…
دونوں لڑکیوں کو کمرے سے اپنے سامنے نکلتا دیکھ… کر اسنے غصے سے جیسے دماغ کو جھٹکا..
کیا دور ترقی تھی… گنڈے موالی چور لڑکے ہوتے تھے ایک الگ بات ہے … اب لڑکیوں نے بھی یہ دہندہ کھول لیا تھا..
یار وہ جاگ گیا “پیچھے کھڑی لڑکی کے ہاتھ سے بیگ گیر گیا..
اسکی کتنی رقم پڑی تھی.. اگر وہ ہوش میں ہوتا تو دونوں کابینڈ بجا دیتا…
جبکہ اگے والی جس نے چہرے کو سیاہ نقاب سے ڈھانپا ہوا تھا.. اسکی ہیزل آنکھیں بری طرح ارہم کو گھور رہیں تھیں.. وہ اسکے نزدیک اتی گئ…
اور اسکی آنکھوں میں جھانکا..
مفلوج “اسنے ایک لفظی جواب دیا….
اور ٹیبل پر اسکے شوق کا احتمام دیکھ کر… اسنے پیچھے والی کو دیکھا…
ارہم.. کے دماغ کی سکرین پر یہ اخری منظر تھا.. کیونکہ اسکے بعد وہ نشے کی زیادتی سے.. خود ہی دوبارہ گیر گیا جبکہ آنکھیں بھی بند ہو گئیں….
خس کم جہاں پاک…
خیر ابھی جہاں پاک تو نہیں ہوا”وہ شانے اچکا کر بولی تو.. دوسری والی لڑکی تیزی سے سامان اٹھا کر بھاگی.. جبکہ پہلی والی نے.. بھی جانے کا سوچا.. مگر.. ارہم کے گلے میں سونے کی چین دیکھ کر وہ جھکی اور وہ چین کھینچ لی..
مردوں پر سونا نہیں جچتا” اسنے جیسے اسکے کان میں کہا.. اور پھر دونوں وہاں سے نکل گئیں وہ کون تھیں..
کہاں سے آئیں تھیں….
اور اسکے گھر سے کیا لے گئیں تھیں یہ تو صبح کا سورج بتانے والا تھا….
………………
اسنے کمرے کا دروازہ کھولا تو خالی کمرہ منہ چیڑا رہا تھا…
ڈیم اٹ” وہ غصے سے بولا.. اور پلٹا…
تو سب کے کمروں کے دروازے بری طرح بجا دیے…
ادھی رات کے پھیر دروازے بجنا… عماد منیب فایز سمیت وجدان شاہ اور رمضان شاہ بھی حقابقا باہر نکلے تو اسے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے پایا…
یہ شرابی اج مجھ سے قتل ہو جائے گا”
منیب غصے سے چلایا.. جبکہ وارث نے…. سیگریٹ لبوں میں لگائ… اور صوفے سے اٹھا….
وہ دھیمی چال چلتا…. اسکے نزدیک اتا گیا.. جبکہ منیب اسے خون اشام نظروں سے گھور رہا تھا…
تو مجھے قتل کرے گا” وہ سنجیدگی سے شکل دیکھتا اب ہنسنے لگا تھا…
ابے اوے دیکھ یہ مجھے قتل کرے گا” وہ فائز کے شانے پر ہاتھ رکھتا بولا.. کسی وقت میں وہ دونوں گھیرے دوست تھے….
منیب کو شدت سے اپنی انسلٹ کا احساس ہوا تو اسنے.. مارے غصے کے اسپر ہاتھ اٹھایا.. جسے وارث نے سختی سے جکڑ کر موڑ دیا….
ہائے میرا بچہ…” تائ تو تملا اٹھیں جبکہ عماد اور فائز نے اسکا ہاتھ ازاد کرایا….
کیا ڈرامہ ہے یہ” رمضان شاہ غصے سے چیخے….
چپ “وہ ان سے زیادہ زور سے دھاڑا…
م.. میری بیوی کہاں ہے ” وہ ہاتھ اٹھاتا ہوچھنے لگا…..
ہمیں کیا پتہ.. ہو سکتا ہے تمھاری ماں کیطرح وہ اوارہ بھی ادھی رات کو بھاگ جائے.. غریب گھر کی لالچی عورتیں” وجدان شاہ نے غصے سے اپنا حبس نکالا تو.. وارث نے دانت بھینچے…
بڈھے.. “وہ اب کے مزے سے بولا…
اپنا منہ بند رکھ…..” سنجیدگی سے کہہ کر وہ چلایا….
حیا…. آ. آ. آ. آ.” پوری حویلی میں اسکی اواز گونج اٹھی کہ سب نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا…..
تم سب باہر نکلو “نہ جانے اسکے دماغ کی پھیرکی کیوں گھوم گئ.. تھی ادھی رات کو وہ لاونج میں عدالت لگائے کھڑا تھا..
ڈیڈ یہ سب کیا ہے” عماد نے رمضان شاہ کی جانب دیکھا…
کیا مجھے سمھجہ ا رہا ہے جو مجھ سے پوچھ رہے ہو “وہ اسپر چڑھ دوڑے تو.. وارث جو سب سے بے نیاز ہو چکا تھا صوفے پر جا بیٹھا…
وہ مسلسل حیا کو پکار رہا تھا….
وہ اپنی امی کے گھر ہیں.. “فائز نے مزید تماشہ نہ بڑھے یہ سوچ کر اخر بتا ہی دیا…
وارث نے اسکی جانب دیکھا…
تو چھوڑ کر ایا تھا “وہ بگاڑتے ہوئے اٹھا….
فائز.. “چچی اسکے اگے ا کھڑی ہوئیں.. جو کہ اپنے حواس کہو کر… اسکو مارنے کے لیے دوڑا تھا…
سب نکلو یہاں سے.. سب ابھی” وہ دھاڑا تو….
وجدان شاہ سمیت.. رمضان شاہ نے بھی ایک دوسرے کو دیکھا…
اسکو اسکے کمرے میں بند کر دو” منیب نے کہا.. وہ شاید سمھجہ رہے تھے کہ وارث نشے میں ہے تبھی…. وہ یہ حرکتیں کر رہا ہے.. جبکہ وارث… عجیب تکلیف کا شکار تھا جب سے ارہم نے.. اسے یاد دلایا تھا کہ وہ رات بھی اسکی زندگی کا حصہ ہے جب اسکی ماں بھاگی تھی….
وارث نے بنا کچھ کہے.. اپنی پینٹ کی بیک سے ریوالور نکال کر منیب کے دماغ کا نشانہ لیا….
تو چچی تائ چیخ اٹھیں جبکہ باقی سب کے بھی رنگ فق ہوئے..
فائز حیا کو لے کر او.. “رمضان شاہ بولے… چھوٹے بیٹے کی کنپٹی پر بندوق دیکھ کر وہ گھبرا ٹھے تھے…
نکلو میرے گھر سے” وہ بندوق کی نوک سے انھیں نکل جانے کا کہتا. خود بھی ان سب کے پیچھے بڑھنے لگا… جو باہر جا رہے تھے….
سب کو باہر نکال کر اسنے دروازہ بند کر دیا جبکہ باقی سب.. لون میں تھے…
حیا اے گی تو دروازہ کھلے گا..” اسنے باواز بلند کہا تو.. رمضان شاہ غصے سے چلائے..
اس منحوس کو بلاو سمبھالے اس الو کے پٹھے کو…”
فائز خود بھی سنگینی سمھجہ چکا تھا تبھی.. وہ گاڑی نکال کر حیا کو لینے دوڑا….
…………….
اسکے امی کے چھوٹے سے گھر کے سامنے گاڑی روک کر اسنے تیزی سے دروازہ بجایا.. جبکہ وہ مسلسل حیا کو فون کر رہا تھا.. پے ہی تنگ گلیوں میں پراڈو لانا بے حد مشکل ہوا تھا…
اچانک دروازہ کھلا تو.. حیا کے والد سمیت والدہ بھی حونک چہرے سے اسے دیکھ رہے تھے جبکہ وہ شرمندہ ہو گیا…
میں معافی چاہتا ہوں.. مگر بھابھی کو لینے ایا ہوں وارث کی طبعیت زرا ٹھیک نہیں تبھی اتنی جلدی انا پڑا “اسنے بات بنائ تو وہ مزید پریشان ہو اٹھے..
بیٹا سب خیریت تو ہے نہ….” حیا کے والد بولے تو اسنے سر ہلایا..
تبھی حیا.. دوپٹہ سمبھالتی باہر ائ… اور فائز کو دیکھ کر حیران رہ گئ..
جبکہ فائز اسکے پیچھے ڈرپھوک سے چہرے کو دیکھ کر ساکت ہوا تھا…..
کیا ہوا فائز “حیا نے فائز کی جانب دیکھا.. تو وہ جہسے ہوش میں ایا اور اپنی غلطی پر اسے غصہ ایا.. اتنی مشکل حالات میں اسے کیا سوج رہا تھا…
وارث کی طبعیت نہیں ٹھیک اپ میرے ساتھ چل سکتیں ہیں ابھی”
یہ بات سنتے ہی حیا نے ایک بھی منٹ ضائع نہیں کیا. اور وہ ایک نظر ماں باپ کو دیکھ کر.. گاڑی میں سوار ہو گئ جبکہ فائز نے بھی ایک نظر اس معصوم چہرے کو دیکھا تھا….
اور گاڑی میں بیٹھ گیا..
چھوٹے سے محلے میں پراڈو کی اواز سے ہی کئ لوگ جاگ اٹھے تھے…
……………..
سارے راستے فائز نے اسے. سب بتا دیا کہ وارث کو شدید اچانک ہی اپنی بیوی کا دورہ پڑ چکا تھا کہ اسنے سب کو گھر سے نکال دیا…
حیا بے چین ہو اٹھی تھی وہ پل کے پل میں وارث کے پاس پہنچ جانا چاہتی تھی..
گھر کے اگے گاڑی روکی تو وہ.. نگے پاوں اندر کی جانب دوڑی.. سب کو باہر دیکھ کر اسے شدید شرمندگی ہوئ…
سب اسے گھور رہے تھے.
حیا نے دروازہ بجایا… مگر اندر سے جواب نادر تھا..
اوو بی بی کچن کے راستے سے چلی جا… ڈرامے نہ کر اب اتنے”اسکے انسو دیکھ کر چچی بھڑکیں تو وہ کچن کی جانب دوڑی.. اور اس کولکی نما چھوٹے سے دروازے سے سکڑ سیمٹ کر حیا تو اندر ا گئ کیونکہ وہ دھان پان سی تھی.. مگر باقی سب کا وہاں سے گزرنا مشکل تھا..
وہ دوڑتی ہوئ.. لاونج میں صوفے پر لیٹے وارث تک پہنچی…
بلیک شرٹ کے سارے بٹن کھولے وہ صوفے پر پڑا تھا…
وارث”اسنے نرمی سے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرہ جبکہ… آنکھیں بھی اشک بار ہوییں…
وارث نے آنکھیں وا کر لیں….
حیا کا چہرہ اسکے سامنے تھا…
وہ اسے یوں ہی دیکھ رہا تھا جبکہ… حیا.. نے اپنے انسو روکے..
اپ اٹھیں کمرے میں چلتے ہیں” اسنے کہا تو.. وارث نے… اسکے سر کے پیچھے کی جانب سے… اچانک سختی سے اسکے بالوں کو مٹھی میں بھر لیا…..
نفرت ہے مجھے تم سے” وہ اسکا چہرہ.. اپنے چہرے کے قریب تر کرتا بولا…
معلوم ہے “حیا.. کی سسکی سی نکلی…
آوارہ.. غریب… ” اسکے گالوں پر دانت سے کاٹتے ہوئے…
اسے مقابل کی تکلیف کا احساس بلکل نہیں ہوا…
اور اچانک ہی وہ اٹھا…
حیا کا سرخ گال دیکھا…. اسکی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوں دیکھے….
اور اسے اپنے قدموں میں کھینچ لیا…..
جبکہ اسکے سر کو جھٹکا دیتے اسنے دوسرے ہاتھ سے اسکا منہ جکڑا… ایسے کے حیا پوری طرح اسکے سامنے بے بس رہ گئ..
وہ وارث کے گٹھنے تھامے بیٹھی تھی…
تمھاری زندگی جھنم بنا دوں گا… “وہ اسکے کان کے قریب سرگوشی کرتا… اسکے چہرے پر جھکتا… اسکی سسکی کو قید کر گیا….
انداز نہایت جارہانہ تھا…..
حیا بری طرح مچلی مگر وارث.. نے اسپر رحم خانے کی بلکل نہیں سوچی تھی………
نفرت ہو تم” وہ مدھم اواز میں اسی قربت میں بولا.. جبکہ حیا.. کے انسو وارث کے گال بھی بھگو رہے تھے…
اپنی مرضی سے.. وہ اس سے جدا ہوا.. اور اسکو پرے دھکیل کر وہ اٹھا….
تو حیا نے اسکے قدموں میں سے اپنا ڈوپٹہ کھینچا….
جبکہ وارث اسپر قدم رکھ چکاتھا….
حیا کو بلکل ندازا نہیں تھا..
وارث.. منہ کے بل زمین پر گیرہ..
حیا کی چیخ نکل گئ…
وارث نے مسکرا کر اسکی جانب دیکھا…
نہیں…. میں میں نے بدلہ نہیں لیا “میز کا کونا.. اسکے سر پر لگا تھا تبھی سر پھٹ گیا تھا…
نفرت.. نفرت ہے مجھے حیا سے” اسکے لبوں کی سرگوشی سنتے ہوئے.. حیا کا دل کٹ سا گیا
وہ .. بری طرح روتی اسے صفائیاں دینے لگی مگر وارث بے ہوش ہو گیاتھا..
اسنے بھاگ کر دروازہ کھولا….
سب اسکے چہرے کی حالت.. اور اسکے اڑے اڑے رنگ.. اور اسکا رونا دیکھ چکے تھے.. فائز جلدی سے وارث کی جانب ایا.. اور بمشکل اسنے اسے.. اٹھایا.. کیونکہ منیب تو سب پر لعنت بھیجتا جا چکا تھا..
جبکہ عماد کی نظر صرف حیا پر تھی…
اور رمضان شاہ اور وجدان شاہ بھی اپنے کمرے میں چلے گئے..
فائز اور حیا.. نے وارث کو بمشکل کمرے تک پہنچایا..
اور ڈاکٹر کو کال کی…
………………
جاری ہے