Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

دو دن بعد اسکو ہوش آیا تھا مگر وہ خاموش تھا حیا بھی خاموش تھی…. وہ بنا کچھ کہے اسکی تماداری میں لگی ہوئ تھی
. جبکہ وارث کا اندر سے دم گھٹ رہا تھا .. وہ لڑتی اس سے… سب کچھ کہتی وہ سنتا….
مگر اس طرح خاموش کیوں تھی…..
زین اسکے پاس ہی بیٹھا کھیل رہا تھا… اسنے زین کو دیکھا… وہ بلکل اسکے جیسا تھا…. ویسی ہی رنگت ویسے ہی نین نقش اور وہ اسے پہچان نہ سکا… اور اپنی ہی بیوی پر الزام لگا دیا…
اسنے زین کے سر پر ہاتھ پھیرہ…. جبکہ زین نے اسکی جانب دیکھ کر اسکا ہاتھ غصے سے جھٹک دیا…
گویا اسے پسند نہیں آیا اسکا اسکے سر پر ہاتھ پھیرنا….
یار تمھاری ناک پر بھی تمھاری ماں کیطرح نکھرا بیٹھا ہے “وارث اسکی جانب دیکھ کر بولا… مگر زین نے لفٹ نہیں کرایا… تو وہ ہٹ گیا.. تبھی اسکا سیل بجا… منیجر کا فون تھا..
یس وارث سپیکنگ” اسنے کہا تو منیجر نےا سے سلام کیا جس کا اسنے منہ کھول کر جواب نہیں دیا…
سر اپکا آفس انا بہت ضروری ہے بہت سارے کام پینڈنگ ہیں “وہ بولا تو.. وارث نے سر ہلایا..
اوکے میں آ رہا ہوں یہ پہلی بار تھا وہ اتنی عزت کا مظاہرہ کر رہا تھا منیجر کو حیرت ہوئ…
وارث نے کال کٹ کر کے… زین کو زبردستی پیار کیا.. جبکہ وہ رونے لگا..
ایا مزاہ..” وہ ہنسا… اور ڈریسنگ روم میں چلا گیا…
حیا زین کے رونے کی آواز سن کر دوڑتی ہوئ اندر ائ..
اپ رو کیوں رہے ہیں” اسنے زین کو اچک لیا… اور چپ کرانے لگی…
گندہ “وہ منہ بنا کر بولا…
کون” حیا نے اسکی جانب دیکھا اور پھر اسکے گال پر دانتوں کے نشان دیکھے… یہ وارث ہی ہو سکتا تھا…
وارث کے علاوہ کون گندہ ہے” شرٹ کے بٹن بند کرتا وہ باہر نکلا.. حیا نے کوئ جواب نہیں دیا…
مجھے تمھارے اٹیٹیوڈ کی وجہ سمھجہ نہیں. ارہی” وارث. غصے سے اس تک پہنچا….
آپ اپنے کام سے کام رکھیں “حیا نے بھی غصے سے اس سے اپنا ہاتھ چھڑوایا..
اچھا.. چلو پھر میرا کام تمھارے سوا کچھ نہیں… چھوڑو اسے اور مجھے وقت دو “وہ جھلا کر بولا.. حیا نے زین کو سختی سے پکڑ لیا..
کیوں کر رہی ہو حیا اسطرح.. تم جانتی ہو مجھے… میں تو تم.. اچھا ٹھیک ہے میں ایسا ہی ہوں مگر تم تو ایسی نہیں ہو نہ” وہ عاجزی سے اسکے سامنے ہتھیار ڈالنے لگا….
جو شخص مجھ پر الزام لگاے مجھے کسی اور کے ساتھ جوڑے وارث میں اسکے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی” حیا نے بھی جواب دیا
تم کہاں جاو گی”اسنے سینے پر ہاتھ باندھ کر پوچھا…
جھنم میں جاو… اپکو کیا” حیا چیڑی
.. مگر میں جنت سے تمھیں دیکھو گا دکھ سے” وہ مزے سے کہتا ڈریسنگ ٹیبل کی جانب چلا گیا..
ہاں اتنے آپ نیک.. “حیا نے طنز کیا. تو وہ ہنس دیا….
برائ چھوڑنے کی کوشش کرنا بھی تو نیکی ہے.. “اسنے گویا سوالیہ نظروں سے اسکو دیکھا.. حیا خاموش ہو گئ اسے اچھا نہیں لگا کہ اسنے اسے ایسا کہا.. یہ تو وہ خود بھی دیکھ رہی تھی وہ شراب چھوڑ رہا تھا….
وارث نے ٹائ باندھی اور خود پر سپرے کیا..
سارا آج ہی لگا لیجیے گا ” حیا چڑ کر بولی.. تو وارث کو وہ دن یاد ا گیا جب.. حیا کی لیپسٹک سے اسے چیڑ تھی..
اسنے حیا کو دیکھ کر انگلی کے اشارے سے اسے پاس آنے کو کہا…
حیا ایکدم گھبرا گئ.. وہ اس سے غصہ تھی ناراض تھی…
اسنے رخ ہی پھیر لیا… جبکہ وارث کے قدموں کی دھمک اپنے پیچھے وہ سن سکتی تھی….
اسکی سانسیں بھاری ہو رہیں تھیں….
وارث بلکل اسکے پیچھے آ کھڑا ہو گیا…
میں کوشش کر رہا ہوں خود کو بدلنے کی… “اسنے حیا کے شانے پر ہاتھ رکھا…
میں تمھارے بغیر کچھ نہیں ہوں حیا…” اسکے کان کے پیچھے سے بال نکال کر اسنے اسی جگہ پیار کیا.. جبکہ حیا کے ہاتھ سے زین چھوٹ گیا.. زین بستر پر کھڑا ہو کر غور سے ماں باپ کو دیکھنے لگا….
میرے پاس تو کوئ بھی نہیں…. سب مفاد سے جڑے مجھ سے… مجھے کسی نے سیکھایا ہی نہیں کہ محبت اپنائیت رشتہ کیا ہے…. “اسنے حیا کی گردن پر سے بال ہٹا کر آگے کیے…
مجھے لگتا تھا بس یہ ہی زندگی ہے… جیسی میں گزار رہا ہوں.. مگر میرے اندر کی تکلیف مجھے آج بھی سکون نہیں لینے دیتی” اسنے پیشانی حیا کے شانے پر ٹکا دی..
حیا کا دل کیا.. اسکو بانہوں میں بھر لے مگر وہ ایسے ہی کھڑی رہی….
یہ اسکے والدین کی بےتوجگی تھی جو اسکی شخصیت میں اتنی کمی تھی اسکے اخلاق میں اتنی کمی تھی….
تم مجھے معاف نہ کرو.. مگر مجھے چھوڑ کر مت جانا….” اسنے حیا کی کمر میں ہاتھ ڈال کر… اسکو خود سے جوڑ لیا…
دونوں لمہوں کو محسوس کرتے رہے… ایک دوسرے کی قربت میں….
یہیں سکون ہے سارا” وارث نے ایک بار پھر اسکی گردن پر پیار کیا.. جبکہ حیا کسمسا کر اس سے الگ ہوئ…
اور زین کو گود میں بھر لیا.. دوبارہ دل کی بے ہنگم دھڑکنوں کا کیا کرتی…
وارث نے ناگواری سے دیکھا.. اتنا سب بولنے کے بعد بھی.. وہ اکڑ رہی تھی…
وہ ڈریسر کی جانب گیا.. اور رج کے پرفیوم لگا کر اسنے شاندار بالوں کا سٹائل بنایا.. اور کوٹ پہن کر.. اسنے نیچے شرٹ کے بٹن کھول دیے..
حیا سانس روکے اسے دیکھنے لگی…
جبکہ وارث کا سینہ نظر ا رہا تھا..
اسنے لاپرواہی سے.. بازوں.. فولڈ کیے…
حیا نے نگاہیں پھیرنا چاہیں مگر.. نہیں ہو سکا…
اپنی اولاد کو اچھے سے سمھجا دو کہ اسکا باپ کون ہے. “اسنے شوز پہن کر حیا کے کھلے منہ کو دیکھا..
دل ہی دل میں مزاہ بھی خوب آیا… حیا اپنی بے اختیاری پر جھینپ ہی گئ..
باپ کا لمس ڈنڈے کے زور پر فراہم نہیں ہوتا…. اگر آپکی مصروفیت اور بچپنا ختم ہو تو بیٹے کو وقت دے کر دیکھ لیں… وہ خود ہی سمھجہ جاے گا.” وہ کہتی اس سے پیٹھ پھیر گئ….
تمھارے تو طنز سے بھی محبت ہونے لگی ہے” اسکی پشت پر چٹکی کاٹتے وہ بولا.. جبکہ… حیا نے گھور کر دیکھا
وارث نے زین کی جانب دیکھا….
کیا ضرورت ہے مجھے اسکو اپنا لمس دینی کی اسکی ماں کو نہ دے دوں “وہ انکھ مارتا.. زین کے گال چوم کر بولا.. ھیا نے جواب نہیں دیا… چھیچھورا پن کوٹ کوٹ کر بھرا تھا…
وہ نہیں جانتی تھی وہ کس طرح سدھرے گا یہ وہ سدھارنا کس کو سمھجتا ہے…
………………..
آفس میں آج اسنے ایک نئے عزم سے قدم رکھا تھا….
وہ تیز قدم اٹھاتا اندر داخل ہوا مگر یہ دیکھ کر اسکا حلق کڑوا ہو گیا کہ.. علینہ سامنے.. پاوں پر پاوں رکھے شاید اسکا انتظار کر رہی تھی… وہ گھیرہ سانس کھینچتا اندرا گیا….
اور اسکے آتے ہی. منیجر بھی اندر ایا..
تمھیں تمیز نہیں ہے.. کہ کچھ توقف کے بعد ہی اجاو فورا منہ اٹھا کر اندر ا گے ہو “وہ تنک کر بولی…
بولو تم” وارث نے دھیان دیے بغیر منیجر کو کہا..
سر ایک دو کلائنٹس ہمارے پاس اور آ رہے ہیں بٹ میم چاہتی ہیں کہ آپ بس انھیں کے ساتھ کام کریں اور وہ دھمکی دے رہی ہیں اگر ہم نے اور آرڈرز دوسرے کلائنٹس سے لیے تو وہ ہماری ساخ خراب کریں گی”منیجر سر جھکاے بولا.. جبکہ وارث نے حیرت سے.. علینہ کی جانب دیکھا….
کیا بکواس ہے یہ” وہ سنجیدگی سے اسکو گھورنے لگا..
تو بے بی اس میں بھڑکنے والی کیا بات ہے…
تم صرف مجھ سے رکھو کانٹرکٹ تمھیں جتنا پیسہ چاہیے میں دوں گی نہ”اسنے وارث.. کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا…
منیجر حیرت سے علینہ کو دیکھنے لگا….
سر ہماری پیمینٹ بھی روک لی ہے میم نے “وہ پھر بولا…
جاو تم”وارث نے کہا تو وہ باہر نکل گیا جبکہ علینہ کمینگی سے ہنسنے لگی..
کیا چاہتی ہو تم بیزنس کو تم نے مزاق سمھجا ہوا ہے” وارث غصے سے بولا..
نہیں میری جان.. تم سنجیدہ مت ہونا… یہ ہی تو بات مجھے تمھاری پسند ہے لاپرواہی….. بے حس ہو جانا ہر چیز سے… “وہ اٹھ کر اسکے نزدیک ائ..
علینہ سامنے بیٹھواسکو اپنے اوپر جھکتے دیکھ.. اسنے.. سنجیدگی سے کہا…
کیا ہو گیا وارث اٹس کومن.. بیزنیس ڈیلنگ میں یہ سب بڑا اہمیت رکھتا ہے وہ بھی تب جب تمھاری کشتی ڈوب رہی ہو.. اور اسکا واحد سہارا صرف میں ہوں… تب تو تمھیں میری ہر بات ماننی چاہیے “وہ اسکے بال بکھرتی بولی…
میں اپاہج نہیں ہوں جو چلنے کے لیے تمھارے سہارے کی ضرورت پڑے گی” وہ اسکا ہاتھ جھٹکتا بولا..
مگر تمھاری کمپنی اپاہج ہے “وہ مسکرائ…
وارث رات ایک پرائیویٹ ڈنر پر میں تمھیں اینوائٹ کرتی ہوں جس میں تمھیں تمھاری پیمینٹ مل. جاے گی… مگر تمھیں میری پسند کے مطابق انا ہو گا..
اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو.. میں ایک ڈوبی ہوی کمپنی پر یا اسکے شرابی مالک پر کوئ بھی الزام لگا دوں کیا فرق پڑے گا “وہ مزے سے کہہ رہی تھی..
وارث اسکی حرکات پر پیچ و تاب کھا کر رہ گیا…
تم ضرور او گے” اسنے اپنا موبائیل اٹھا کر اسکیطرف دیکھ کر آنکھ دبائ..
وارث نے چہرہ موڑ لیا..
میں انتظار کروں گی”وہ باے کہہ کر باہر چلی گئ جبکہ وہ ٹیبل پر ہاتھ مار کر رہ گیا..
جتنا وہ سب صیحی کرنا چاہ رہا تھا سب بگڑ رہا تھا ہر چیز ہاتھ سے نکل رہی تھی
.. اور اب یہ نیا تماشہ تھا…
………………….
کافی دنوں بعد وہ فلیٹ پر اکھٹے ہوئے شراب سامنے تھی مگر دونوں میں سے کسی نے بھی ہاتھ نہیں لگایا…
بھائ کیا سوچ رہا ہے جام تیار ہے “ارہم بولا.. جبکہ وارث وقت دیکھ رہا تھا… گھڑی تیزی سے حرکت کر رہی تھی.. مگر وہ عجیب شش وپنج کا شکار تھا.. ہاں اگر وہ لڑکی آج سے کچھ عرصے پہلے اسے ملتی تو.. اب تک وہ اسکی توبہ کرا چکا ہوتا مگرا فسوس کہ.. حیا کا اسکے دل پر راج تھا.. اور وہ.. حیا سے بےوفائ نہیں چاہتا تھا…
وارث صاحب کیا سوچ ہے”ارہم نے ہاتھ لہرایا…
تو شادی کیوں نہیں کر رہا” اسنے اسکی شکل دیکھ کر پوچھا…
اخری بار ہم ملے تھے تب بھی تجھ پر یہ دورہ سوار تھا… آج ہم ملے ہیں کتنے وقت بعد پھر تجھے میری آزادی کاٹنے لگی ہے “ارہم بھرم ہوا… وارث… نے سیگریٹ اٹھا کر لبوں میں دبا لی.
ارہم کو حیرت ہوئ.. وارث.. جس کا مقصد پیسہ اور شراب تھا… جو دنیا میں ہر چیز کے بغیر رہ سکتا تھا سواے پیسے اور شراب کے آج اسنے شراب کو نظرانداز کر کے.. سیگریٹ اٹھا لی…
شادی.. کر لےفائز کے ساتھ ہی گھوڑی چڑھ جا “لائٹر بند کرتا وہ بولا…
تو ارہم نے.. اسکی جانب دیکھا..
توبہ کر لی کیا” شراب کا گلاس لبوں سے لگاتا.. وہ اسپر طنز کرنے لگا.. وارث کو غصہ تو ایا…مگر خاموش رہا
یہ دنیا تھی… کوئ برا ہے.. تو وہ برا ہے…
کوئ برائ چھوڑ کر اچھائ اختیار کرے تو. دنیا اسے اکسانے.. اسے زیچ کرنے میں کثر نہیں چھوڑتی اور یہ ہی حال اسکے ساتھ ہو رہا تھا علینہ اور اب ارہم…
یہ ہی سمھجہ لو “وارث نے ایک لفظی جواب دیا.. اور… اسکی جانب دیکھا..
ماہرخ اچھی لرڑکی ہے” اسنے پھر کہا..
اب وہ کون ہے “ارہم نے شانے اچکائے….
وارث ایکدم ہنس پڑا….. ارہم کو وہ پاگل ہی لگا….
بات میں نے کہہ دی ہے. سوچ لے” وہ اٹھتا ہوا بولا.. علینہ کے پاس جاے بغیر چارہ نہیں تھا وہ بیزنس کو ٹھیک کرنا چاہتا تھا جس کے لیے پیسہ درکار تھا….
تو کہاں چلا “ارہم نے ناگواری سے کہا..
جہاں قسمت لے جائے “اسنے شانے اچکائے ارہم اسے گھورنے لگا….
کل میں تجھے اس سے ملواوں گا.. شی از بیوٹیفل “وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا.. پیچھے پرواہ کسے تھی.. وہ اپنے شغل میں مگن ہو گیا…
……………….
حیا نے وقت دیکھا… رات کے تین بج رہے تھے… یعنی وہ پہلے کیطرح ہی اسکے ساتھ کرنے والا
… راتوں کو دیر دیر سے آنا…. اسنے زین کے بالوں میں ہاتھ پھیرہ دل مان ہی نہیں رہا تھا کہ اس ظالم کو اگنور کر کے سو جاے…
تبھی جاگ کر انتظار کرنے لگی.. جبکہ دوسری طرف وارث.. ضبط کے گھوٹ بھررہا تھا.. اور اسکے دماغ و دل میں فقت ایک لڑکی تھی اور وہ حیا تھی.. اسکے ساتھ کی خواہش زور پکڑرہی تھی..
وائن پیو. چیک بھی دے دوں گی “مسکرا کر کہتے علینہ خود پینے لگی.. گلاس حلق میں اتار کر.. وہ اٹھی اور اسکے نزدیک ا گئ
وارث نے اسکی طرف سے منہ پھیر لیا….
وارث ڈارلنگ تمھیں بیزنیس کے بلکل طریقے نہیں آتے” اسنے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرہ وارث نے اسکا ہاتھ ہٹایا…
دیکھو بزنیس نا… ڈیلر کی پسند کا کرنا چاہیے.. بس تھوڑا سا وقت ہی تو مانگ رہی… ہوں” وہ کہتے ساتھ اسکی شرٹ کے بٹن کھولنے لگی کے وارث نے اسے دور جھٹکا..
اور اسکی کلائیاں موڑ دی…..
کیا بکواس ہے “وہ دھاڑا.اور اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا . علینہ اسے آنکھیں کھولے دیکھنے لگی…
تمھارے ساتھ مسلہ کیا ہے…. چیپکے جا رہی ہو… عجیب گھٹیا لڑکی ہو.. تمھاری جیسی لڑکیوں نے دوسروں کو بھی بدنام کر دیا ہے” وہ اسے دھکا دیتا بولا…
وارث یہ تم نے بہت برا کیا یے… علینہ گال پر ہاتھ رکھے اسے شعلہ بار نگاہوں سے دیکھنے لگی…
اچھا کیا ہے یہ برا”
اس سے پہلے وہ بات مکمل کرتا… علینہ اسکے گریبان میں الجھ گئ..
بچاو بچاو “وہ چلائ… وارث اسکا ڈرامے پر ایک پل کو ھیران ہوتا اسے. اپنے گریبان سے الگ کرنے کی کوشش کرنے لگا..
مگر علینہ نے اسکا گریبان مزید مظبوطی سے پکڑ لیا..
وہ چلا رہی تھی چیخ رہی تھی.. اسکی شیخو پکار سن کر… باہر لوگ اندر ا گے جبکہ میڈیا کہاں سے آیا اسے معلوم نہیں تھا..
علینہ اس سے دور ہوتی سسک رہی تھی..
لوگ وارث کو گھور رہے تھے میڈیا اس سے سوال کر رہا تھا…
یہ سب اتنا اچانک ہوا.. کہ اسکی سمھجہ سے سب باہر ہوتا چلا گیا….
اسنے علینہ کا چہرہ دیکھا جو اس سے دور ہوتی جا رہی تھی کیونکہ لوگوں کا رش اسکے نزدیک کافی بندھ گیا تھا اسکے منہ پر پر اسرار مسکراہٹ تھی..
وارث نے ماتھے پر ایا پسینہ صاف کیا.. اور وہ میڈیا کے صحافیوں کو دھکا دیتا وہاں سے اپنی گاڑی کیطرف بڑھا….
ایک ناکام کمپنی کے اونر وارث شاہ مل اونر علینہ نیازی کے ساتھ زیادتی کرتے ہوے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے..
میڈیا یہ سوال کرنا چاہتا ہے. کہ کیا. عورت کی عزت محفوظ نہیں “
چلا چلا کر صحافیوں نے ایک ادھم اٹھایا ہوا تھا… وہ گاڑی کی سپیڈ بڑھا چکا تھا…
…………………..
یہ دیکھ لو کارنامہ… اس نواب کا… اور اس بار یہ بری طرح پھنساہے” منیب جو ٹی وی ہی دیکھ رہا تھا فائز کو جھنجھوڑتا بولا…
فایز بھی ھیرت سے سامنے سکرین پر وارث کے اڑے رنگوں کو دیکھنے لگا…
بھابھی کو پتہ ہے..” اسنے منیب سے پوچھا..
نہیں پتہ تو لگ جاے گا.. تبھی
گاڑی شادی برباد کر دی اس دو ٹکے کے انسان نے.. عزت تو اس نے نیلام کر ہی دی تھی….” منیب غصے سے بولتا.. وہاں سے چلا گیا.. جبکہ فائز اٹھا….
اس سے پہلے وہ باہر نکلتا…. اسے وارث کی گاڑی کا ہارن سنائ دیا….
اور پھر کسی کے بھاگنے کی اواز پر.. وہ باہر آیا.. تو وارث کو اپنے کمرے کی جانب بھاگتے ہوے دیکھا… وہ پریشان ہوتا اسکے پیچھے دوڑا جبکہ منیب بھی اس عجیب خوف ناک سے ماحول میں نہ چاہتے ہوے بھی اسکے پیچھے لپکا تھا…
………………
دروازہ دھاڑ سے کھولنے پر وہ اٹھ بیٹھی.. وارث کی سرخ آنکھیں بکھرے بال…. اور اڑے رنگ دیکھ کر… وہ.. پریشان تھی جبکہ.. فایز اور منیب بھی اسکے دروازے پر کھڑے تھے..
وارث “وہ تینوں بیقوقت بولے.. مگر وارث درازوں میں کچھ تلاش رہا تھا…
وارث یہ سب کیا تماشہ ہے” فائز نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ جھٹکا…
میں نے کچھ نہیں کیا. “وہ بھوکے شیر کی مانند غرایا.. اور اپنی ریوالور نکال لی..
وارث” حیا ایکدم چیخ کر اسکے نزدیک ہوئ….
کہاں جا رہے ہو تم” منیب نے اسے قابو کیا…
جان سے مار دوں گا میں اسے “وارث کی دھاڑ سے جیسے پورا گھر گونج اٹھا.. سب حول کر اٹھے تھے…
وارث وارث میری بات سنیں ہواکیا ہے ادھر دیکھیں” حیا.. سب کچھ پس پشت ڈالے اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھر کر بولی…
جبکہ وارث نے سرخ نظروں سے اسے دیکھا…
مجھے اچھائ مہنگی پڑ گی “وہ اسکا ہاتھ جھٹکتا بولا..
حیا کے پلے کچھ بھی نہیں پڑا…
………. ……..
وارث… “حیا… اسکے بے قابو وجود کو بمشکل روکے کھڑی تھی…
چھوڑو مجھے”وہ چلایا.. جبکہ باہر پولیس ہارن کی اواز سن کر منیب نے وارث کے ہاتھ سے ریوالور جھپٹ لیا….
پہلی بار ایسی سچویشن کا سامنا ہواتھا…. اور یہ بات وارث خوب جانتا تھا یہ چھوٹا موٹا کیس نہیں ہے.. جو علینہ نے واضح کیا ہے کہ جو وارث ایک لمہے میں سلجھا لے…..
پولیس…. کے ساتھ علینہ کو دیکھ کر اسنے جبڑے بھینچے…
اپکے اریسٹ وارنٹ ہیں مسٹر وارث”انسپیکڑ نے کہا.. حیا اسکے اگے کھڑی تھی..
کس لیے اریسٹ کر رہے ہیں آپ میرے شوہر کو” وہ مظبوط لہجے میں بولی..
مس علینہ کو زیادتی کو نشانہ بنانے کے جرم میں اور کاروبار میں دس کروڑ کا گھپلا کرنے کے جرم میں.. ایف ای آر کٹ چکی ہے جو بات کرنی ہے تھانے میں کرنا “پولیس والا سختی سے بولا..
حیا جو چٹان کی مانند اسکے سامنے کھڑی تھی اسکے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے…
بکواس کر رہے ہیں..یہ ھیا میں نے کچھ نہیں کیا… میرا یقین کرو” اسکی آنکھوں میں بے یقینی وارث کا دل چیرنے لگی…
اپنے بچے کی رونے کی آواز اسکے کان میں پڑ رہی تھی.. حیا… گویا.. سن رہ گئ…
حیا” انسپیکڑ کو دھکا دے کر وہ اسکے نزدیک ایا…
مگر ھیا کے تو گلے میں انسو اٹک گئے.. وہ جانتی تھی وہ کیسا ہے.. مگر آج بھی…
ھیا میرا یقین کرو” وہ پھر سے بولا…
جبکہ فائز منیب نے اسکو.. اس سے پہلے انسپکٹر کھینچتا…اپنی طرف کھینچا..
ہوش سے کام لو “فایز نے کہا…
(گالی) یہ سب اسکاکیا دھرا ہے “وہ ضبط کی انتہاوں پر تھا….
میں تمھارے ساتھ چل رہا ہوں… ہم تمھاری بیل کرا لیں گے” فایز منیب دونوں نے کہا..
ارہم کو بلاو” وہ.. سب کو خود سے دور کرتا ایک نظر حیا اور دوسری دور کھڑی زہریلی نظر علینہ پر ڈال کر.. فائز کو کہتا.. باہر نکلا…
اج پولیس وین میں بیٹھتے ہوئے.. اسے لگا.. اسکے دماغ کی نسیں پھٹ جائیں گی.. کچھ نہ کرنے سے بہتر تھا وہ کچھ کر کے عزت سے… جیل جاتا….
… ……
جاری ہے