Sharabi By Tania Tahir Readelle50244 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
اسنے روم کا دروازہ کھولا ۔۔تو سامنے ہی وارث کو ریلیکس انداز میں چئیر پر جھولتے دیکھ ۔۔اسے حیرت بھی ہوئ اور خوشی بھی اسنے تو دو دن بعد آنا تھا وقت سے پہلے اسے اپنے سامنے دیکھ کرحیا کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔۔
وہ مسکراتی ہوئ ۔۔ روم میں آئ اور ٹیبل کے پاس رک گئ ۔۔
کیسے ہیں آپ ” نرمی سے پوچھتے ہوے اسنے ٹیبل پر دیکھا ۔۔جہاں شراب کی بوتل اور گلاس پڑا تھا جس میں آدھی پی ہوئ شراب گلاس میں موجود تھی جب کے دوسری طرف سیگریٹ کا پیکٹ اور ایش ٹرے پڑی تھی ۔۔اور وہ پر سوچ انداز میں چئیر پر جھولتا ہوا سیگرٹ پی رہا تھا ۔۔اور اسے بھی دیکھ رہا تھا ۔۔نہ جانے اس میں ایسا کیا تھا وہ اسکے سامنے اپنے آپ کو بہت کمزور محسوس کرتی تھی ۔۔۔
کس کی اجازت سے تم یہاں آ رہی ہو ” ایکدم چئیر روک کر وہ گٹھنوں پر زور دیتا اٹھا اور اسکی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔ جبکہ وہ قدم با قدم پیچھے ہٹنے لگی ۔۔۔
وارث اپکی فیملی کمپنی کو تباہ کرنے پر تولی ہوئ ہے ۔۔۔یہ سب آپ کا ہے وہ آپکو لوٹ رہے ہیں برباد کر رہے ہیں ۔۔۔۔ پلیز وارث ایک بار ۔۔۔ ایک بار ۔ چیک کر لیں ۔۔سب ” وہ جلدی جلدی بولتی دیوار کے ساتھ لگ گئ ۔۔۔ جبکہ وہ اسکے مقابل آ گیا ۔۔۔ ایک ہاتھ دیوار پر رکھ کر اسنے اسکے گرد حصار بندھ دیا جبکہ دوسرے ہاتھ میں موجود سیگریٹ سے کش لیتا ۔۔وہ اسکے چہرے پر دھواں چھوڑتا ہوا بولا
تو تمھیں کس نے کہا ہے مجھ بدنام شرابی کو برباد ہونے سے بچاو ” وہ تیوریاں چڑھا کر طنزیہ بولا ۔۔۔
کیوں چاہتے ہیں آپ برباد ہونا ” وہ بھیگتے لہجے میں بے بسی سے اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔۔۔ جبکہ وہ نظریں چراتا ہوا ۔۔۔
پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔
تمھارا مسلئہ نہیں ہے یہ ۔۔۔ تمھیں صرف ایک بات کہی ہے میں نے اور وہ یہ کہ آج کے بعد تم یہاں نہیں آو گی ۔۔۔” وہ حکمانہ لہجے میں بولا
میں آو گئ ۔۔۔ آپ مجھے نہیں روک سکتے ۔۔۔۔ آپ مجھ پر خوامخواہ حق مت جتائیں ” وہ ضدی لہجے میں بولی ۔۔۔
اور میں کیوں نہ حق جتاو ” وہ سگریٹ کو ایش ٹرے میں بھوجا کر بچا ہوا گلاس لبوں کو لگاتا ہوا بولا ۔۔۔
حق حقوق کی بات مت کریں بات بڑھ جائے گی “۔۔۔ وہ دھیرے سے بولی جب کہ وہ اسے غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔ پھر سر جھٹک گیا ۔۔۔
ٹھیک ہے ویسے بھی ۔۔۔ یہ مشکل باتیں میری سمھجھ سے باہر ہیں تمھیں بس اتنا کہا ہے اس کمپنی سے دور رہو” اسنے کہا… اور دوبارہ چئیر پر بیٹھ کر جھولنے لگا.. جبکہ اب لاپرواہی سے اپنا… موبائل نکال کر.. وہ کچھ چیک کر رہا تھا..
بلیو پینٹ کوٹ میں بازوں چڑھائے… وہ سرخ آنکھوں والا شرابی… اسکے لیے بہت قیمتی تھا مگر وہ اپنا مول خود کبھی نہیں سمھجا….
میں یہاں سے کہیں نہیں جا رہی “حیا نے کہا.. اور ٹیبل پر موجود ایک فائل اٹھا کر وہ صوفے پر جاتی کے وارث نے.. زرا سی چئیر گھومائ اور اپنی جگہ سے اٹھتے ساتھ… اسنے حیا.. کا بازو پکڑ کر…. موڑا.. اور اسے ٹیبل پر دھکیل دیا..
حیا کے لیے یہ عمل اچانک اور کچھ تکلیف دہ تھا….
کیا چاہتی ہو حیا” وہ اسپر جھکا اسکا ایک ایک نقش غور سے دیکھتا بولا…
صرف وارث شاہ.. اسکا سکون…. اسکی محبت” وہ بولی… تو مقابل کے لب مسکراہٹ میں ڈھل گئے…
مرتی مر جاو گی مگر.. تمھیں وارث نہیں ملے گا “وہ طنزیہ کہتا… اسپر سے ہٹا.. تو حیا جو اسکے پرفیوم کی خوشبو سے ہی خود کو بے بس محسوس کر رہی تھی… اٹھ کراپنا حولیہ درست کرنے لگی…
اسکے دل کی دھڑکنیں شور مچا رہیں تھیں.. بس زرا سی قربت سے…
چلو گھر جا رہا ہوں میں” وہ اسکی کیفیت سے انجان پھر سے بولا… تو حیا نے اسکی جانب دیکھا..
وارث میں یہاں سے نہیں جا رہی….” اب کے وہ مظبوط لہجے میں بولی.. وہ حد سے زیادہ ضدی تھا…..
وارث نے ائ برو اچکا کر اسکی جانب دیکھا….
یہ کمپنی میری ہے…. سمھجی اور یہاں سے ابھی تمھیں دھکے دے کر نکلوا سکتا ہوں” اسنے سرد لہجے میں کہا تو حیا مسکرا دی…
نہیں وارث اپ مجھے دھکے نہیں دے سکتے البتہ میں اپ سمیت اپکے پورے خاندان کو دھکے دے کر نکلوا سکتی ہوں….
کیونکہ اپکا اپنا شئیر اس کمپنی میں سے کب کا ختم ہو چکا ہے…
اب صرف میرا ہے… جس کو میں نے اپنے انڈر کنٹرول کر لیا ہے… اپ سمیت اپکی پوری فیملی کے بھی اکونٹس کا اب کمپنی کے اکونٹس سے کوئ تعلق نہیں… اپ دیکھ سکتے ہیں یہ فائل.. اور میں وکیل کو بلا لیتی ہوں وہ زیادہ بہتر اپکو بتا دے گا.. “اسنے تفصیلی جواب دیتے ہوئے…. اسکی جانب فائل بڑھائ جسے وارث نے.. حیران کن نظروں سے تھام لیا…
اور اندر دیکھا تو.. بلکل ویسا ہی تھا جیسا وہ کہہ رہی تھی… مگر اسنے لاپرواہی سے فائل ایک طرف پھینک دی….
اور پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے حیا کو دیکھنے لگا….
جبکہ اسکی اس شان بے نیازی پر… حیا.. نے ایک نظر دیکھا اور پھر جھک کر اسکے قدموں سے فائل اٹھائ….
اج اسنے دل میں شکر ادا کیا.. اس دن کا جس دن… علمگیر شاہ.. (وارث کے والد) نے.. شادی کے بعد بیٹے کے حالات دیکھتے ہوئے.. اسکے نام فیفٹی پرسنٹ کر دیا تھا…
وہ جتنا شکر کرتی کم تھا…
اسنے فائل ٹیبل پر رکھی اور وارث کی جانب دیکھا…
تم میرے ساتھ گھر چل رہی ہو “وہ پھر سے بولا.. بلا کی سختی تھی لہجے میں….
میں گھر او گی. اور اپکے لیے کھانا بھی خود بناو گی.. مگر تب جب افس ٹائم ختم ہو گا…
فلحال.. اپ ادھر ہی اپنے پرائیویٹ روم میں…ریسٹ کریں اور” اسکی بات پوری بھی نہیں ہوئ تھی کہ
اچانک ہی اسکی اواز گھٹ گئ…..
کیونکہ مقابل نے غصے سے اسکی گردن پکڑ لی تھی….
حیا کی آنکھیں پھیل گئیں.. اور اسنے پیچھے کی جانب قدم لیے… تو وارث نے دباو بڑھا دیا.. اور وہ پیچھے دیوار سے جالگی…
حیا اسکا ہاتھ ہٹانا چاہتی تھی کہ وارث نے خود ہی گرفت ڈھیلی کر دی…
تم ابھی جانتی نہیں وارث کیا ہے “حیا.. اسکے ہاتھوں کی حرکت تیزی سے اپنے مفلر پر دیکھ رہی تھی جو.. وہ.. اسکی گردن سے ازاد کر کر ایک طرف اچھال چکا تھا…
حیا کا دل دھک سے رہ گیا…
وہ اس سے پہلے… اسکو روکتی کے وارث نے جھک کر اسکی شفاف گردن پر دانت گاڑ دیے…”
حیا کے لیے یہ عمل بے حد تکلیف دے تھا… وہ مچھلی کیطرح تڑپی…
اہ… و
. وارث” اسکی سسکی نکلی….
وارث کو اپنے دانتوں میں خون کی سی بوندیں محسوس ہوئیں تو اسنے اپنے دانت ہٹائے… اور روتی ہوئ حیا کو مسکرا کر دیکھنے لگا….
یہ سب کس کا ہے ” اسنے طنزیہ لہجے میں پوچھا.. حیا کو یہ سب بہت مشکل لگا.. وہ شخص کتنا سخت تھا… زرا جو اسپر اسکی محبت کی بوند بھی برسی ہو…
آپ
. اپ کا” اسنے سر جھکا کر کہا..
گڈ اس زخم کو بھولنا مت “اسنے خون کی بوند پر انگلی رکھ کر اٹھائ.. اور اسکے نیچلے ہونٹ پر رکھ کر…. وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا..
جبکہ حیا… نے اپنی سسکیاں روکیں….
اور آئینے میں اسکا دیا زخم اپنی گردن پر دیکھا… تو اسکی انکھ سے انسو گیرہ…
پہلی قربت کا زخم” اسنے سوچا… اور… انسو صاف کرتی… وہ.. اپنے کام کیطرف متوجہ ہوئ.. خیر وہ اب چھوڑ نے والی تو بلکل نہیں تھی اس کمپنی کو…
……………..
ڈیڈ میرے اکونٹس سیل ہو گئے ہیں” عماد چیڑ کر بولا.. تو رمضان شاہ نے اسکی جانب دیکھا… اکاونٹ تو انکا بھی بند ہو چکا تھا….
تو میں کیا کروں… بتاو مجھے” وہ سختی سے بولے تو عماد چپ سا ہو گیا….
اس کل کی ائ چھکری نے پوری کمپنی میں تگنی کا ناچ نچا دیا سب کو.. اور وہ. منحوس شرابی… وہ اسکو لے کر نہیں جا سکا….” وہ غصے سے دانت بھینچ کر بولے تو… عماد خاموش ہو گیا جبکہ وجدان شاہ سمیت منیب بھی اپنے اپنے اکاونٹس چیک کرنے لگے جو کے انکے بھی سیل ہو چکے تھے وہ سب پریشان بیٹھے تھے کہ وارث کو اندر اتے دیکھ… مگر فائز نے توجہ نہ دی کیونکہ اسے ان باتوں سے فرق نہی پڑتا تھا.
رمضان شاہ نے ان سب کو انکھ کے اشارے سے اپنے منہ ٹھیک کرنے کو کہا…
ا گئے وارث”وہ اٹھے اور اسکیطرف بڑھے کے وہ انکھ اچکا کر انکی اتنی محبت ملاحظہ کرنے لگا… اور ان سے فاصلے پر ہی رک گیا…
رمضان شاہ خود بھی ٹھٹھک کر وہیں رک گئے…
بیٹا حیا بیٹی نہیں ائ” انھوں نے اسکے پیچھے دیکھا…
تو وارث نے بھی انکے تعقب میں اپنے پیچھے دیکھا…
کیوں اپکو کیسے یاد ا گئ اسکی” وہ کہتا انپر طنز بھری مسکان اچھالتا وہاں سے جانے لگا کہ…
وجدان شاہ بھی اٹھے..
اچھا نہیں لگتا.. ہمارے گھر کی عورتیں یوں کاروبار سمبھالتیں پھیریں نام ہے ہمارا کوئ.. ساخ ہے ہماری عزت ہے مرتبہ ہے.. اپنی عزت کو بزاروں میں اچھالنے کے بارے میں ہم نے کبھی نہیں سوچا…. اور تم بہتر جانتے ہو بازار اور بازار میں بکتی عزت کو. “وہ اسپر کارا وار کر چکے تھے مگر اسنے بڑے ٹھنڈے انداز میں انکیطرف دیکھا…
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اسکے اندر انکی گفتگو نے لاوا جلا دیا تھا….
میری بیوی.. پوری قوم کا نہیں میرا مسلہ ہے….
عزت بازار اور ساخ.. خوب جانتا ہوں ان مسلوں کو… دیکھ لوں گا اسکو میں خود” وہ کہتا.. اندر چلا گیا جبکہ ان سب نے ایک دوسرے کو دیکھا..
اب کیا لگتا ہے” منیب نے سب کیطرف دیکھ کر پوچھا…
مجھے لگتا ہے یہ آوارہ اسے قابو میں کر لے گا.. وہ چڑیا زیادہ دن نہیں ااڑ پائے گی.. کیونکہ وہ عقاب کے گھونسلے میں رہ رہی ہے “رمضان شاہ نے کہا تو وجدان شاہ سمیت وہ تینوں بھی مسکرا دیے..
مگر ہمارے اکاونٹس”عماد کو انکی زیادہ فکر تھی..
کچھ دن صبر کر لو… ہمارے ساتھ وارث کا بھی سیل ہوا ہے.. پہلے اسے. ہی بھپرنے دو ہمارا کام خود با خود ہو جاے گا
اور تم جانتے ہو… وارث سب چیزوں کے بغیر رہ سکتا ہے سواے پیسہ اور شراب کے” انھوں نے کہا تو عماد نے سر ہلایا….
…………………
یار کہاں گم ہو چلنا نہیں ہے… خوشبو تمھارے انتظار میں آہیں بھرتی رہے” فون پر ارہم کی بات سن کر وہ… سیگریٹ کو ایش ٹرے میں بھجا کر… گلاس ہاتھ میں لیتا بولا…
فضول ہے کوئ کشش نہیں “اسنے مارکس پاس کیے تو ارہم ہنس دیا…
کہاں ٹھرے گا تیرا مزاج بھائ.. “وہ پوچھ ہی بیٹھا..
پتہ نہیں یہ اندر کا طوفانی سمندر کس کے کنارے سے لگتا ہے “حیا کو روم میں داخل ہوتے دیکھ وہ بولا…
اچھ ٹھیک ہے خوشبو کو دفع کر کوئ اور جیسے…
کنول واہ کیا بات ہے” اسنے کہا تو وارث کی آنکھیں چمک سی گئیں…
حیا نے اسکے لبوں پر پراسرار مسکراہٹ دیکھی مگر وہ.. اپنے بالوں کو سنوارنے میں لگی رہی..
دس منٹ میں ملتا ہوں” وارث نے کہا تو… مقابل کا قہقہ سننے لائق تھا..
وہ جلدی سے اٹھا اور ڈریس اپ ہوتا… حیا کے پیچھے جا کھڑا ہوا.. جبکہ حیا سٹول پر بیٹھی تھی اب اسے کیا پرواہ کے کوی اسے دیکھ رہا ہے یہ نہیں اسنے البتہ حیا کو نہیں دیکھا.. اور وہ اسپر سے ہی جھک جھک کر چیزیں اٹھاتا خود پر لگا کر جلد ہی تیار ہو گیا جبکہ حیا وہیں تھم چکی تھی… وارث نے حیا پر نگاہ ڈالنے کے بجائے… اپنا سیل نکالا اور. فون ملاتا باہر نکل گیا..
ہاں ارہم. ا رہا ہوں میں “اسنے کہا اور فون بند کرتا اپنی پراڈو میں بیٹھتا کوٹھے کی جانب چلتا گیا جبکہ بیچ میں اسنے بینک سے پیسے نکلوانے تھے اور ارہم کو بھی لینا تھا…ارہم کو لے کر وہ بینک گیا.. اور وہاں جیسے ہی اسنے 30 لاکھ کی امونٹ لکھی…
تو اسکا کارڈ سوئچ نہ ہوا. جبکہ اسکے اکاؤنٹ میں بس 2 لاکھ تھے.
سر اپکے اکاونٹ میں دو لاکھ ہیں ” اسکی بات سن کر وارث کو دھچکا لگا…
مگر سر ہلا کر حمدان کو فون کیا.
میرے اکاونٹ میں ایک کروڑ کی رقم ڈال دو” اسنے کہا تو..
حمدان نے بے حد معزرت کے ساتھ اسے جو بات کہی وہ اسکے خون میں اگ لگا گئ..
سر میڈیم نے منع کیا ہے انکی اجازت کے بغیر اکاونٹس کو کوئ نہیں یوز کر سکتا”
حمدان اوقات میں رہو “وہ غصے سے دھاڑا… جبکہ…
فون بند کر دیا..
کیا ہو ا..” ارہم نے پوچھا تو وہ ایک خون بھری نظر اسپر ڈال کر گاڑی میں بیٹھا اور دوبارہ گھر کیطرف ا گیا…
گھر میں داخل ہوا… تو وہ سب بیٹھے تھے.. جبکہ وہ دھم دھم کرتا.. اپنے کمرے میں جاتے جاتے.. واس توڑ چکا تھا….
حیا” وہ دھاڑا.. حیا جو بستر میں لیٹ چکی تھی…. ایکدم اٹھی…
خمار زدہ آنکھوں سے اسکی جانب دیکھنے لگی.. جبکہ بکھرے بال… اور رف نائٹ ڈریس میں وہ ایک لمہے کے لیے اسے ٹھٹکا گئ…
اور اگلے ہی پل اسکے اندر وہی زلزلے اتر ائے تھے…
وہ اسکی جانب بڑھا.. اور اسے بستر سے نیچے کھینچ دیا…
کس .. کی اجازت سے میرے اکاونٹس سیل کیے تم نے “وہ غرایا…
جبکہ حیا اب ہوش میں ائ تھی…
میں پوچھ رہا ہوں… میرے اکاونٹس کیوں سیل کیے…
کمپنی کے اکاونٹ سے.. الگ کیوں کیا.. کیا بن گئ ہو تم… ” وہ اسے دھکہ دیتا بولا…
جبکہ حیا پیچھے بستر پر جا گیری مگر اگلے ہی لمہے وہ اٹھ بیٹھی اسکا حولیہ کافی بے ترتیبی کا شکار ہو گیا تھا…
اپکا حصہ… نہیں ہے… کمپنی میں” وہ آنکھیں گھما کر بولی جب اسے پیار کی زبان نہیں سمھجہ ا رہی تھی تو یہ ہی زریعہ تھا…
وارث نے غصے سے اسکی جانب دیکھا…
ٹھیک ہے… چاہیے بھی نہیں مجھےا یک بھی روپیہ اس کمپنی میں سے…. رکھو اپنے پاس… مگر یہ گھر… وہ گاڑیاں… اور… سب کچھ بیچ دوں گا.. میں” وہ غصے سے پھنکارا.. اور کمرے سے نکل گیا جبکہ حیا.. نے سر تھام لیا.. اسکی آنکھیں بھر آئیں تھیں ایک پل کو دل کیا.. سب چھوڑ دے.. مگر… اگر وہ چھوڑ دیتی تو.. یقیناً سب تباہی.. ہی تباہی تھی….
اسنے خود کو خود ہی دھلاسہ دیا…
اج نہیں تو کل اسے اسکے صبر کا پھل ضرور ملے گا… “
اسے علم ہو گیا تھا….
……………………..
فجر کے وقت ازانوں کی اواز کے ساتھ اسے کچھ کچھ.. کھٹکنے کی بھی اواز محسوس ہوئ….
تو وہ ایکدم اٹھ بیٹھی..
وارث” اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا.. دروازہ بج رہا تھا اسے اندازا ہو گیا.. کہ کیوں بج رہا ہے.. وہ بغیر دروازہ بجانے والے کیطرف دیکھے اندھا دھند بھاگی.. تو اسے دہلیز پر اندھے منہ پڑا پایا..
و.. وارث” اسکی اواز بھیگی…
وارث اٹھیں.. “اسنے نم آنکھوں سے کہا.. تو وہ کچھ کچھ ہوش میں اتا اسکا ہاتھ جھٹک گیا…
دور رہو مجھ سے… گھٹیا عورت”اسنے اسکا ہاتھ جھٹکا…
وہ پیچھے ہوتی اسکی جانب دیکھنے لگی جبکہ آنکھوں میں سرخی پھیل گئ..
مگر وارث سے اٹھا نہ گیا…
اور تب حیا کے وجود کا خود ہی سہارا لے کر.. وہ اٹھا.. تو وہ اسے روم میں لے ائ جبکہ چچی کے الفاظ بھی سنے تھے جس کی تکلیف اسے ہوئ. تھی..
شرابی.. “
وہ روم میں ائ.. اور وارث کو بستر پر لیٹا کر روتے ہوئے اسکے جوتے نکال کر ایک طرف رکھ کر.. اسنے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرہ….
صرف ایک عورت کی وجہ سے خود کو.. اسی گندگی میں ڈبونا کہاں کا انصاف ہے” اسنے… اسکی بند پلکوں کو دیکھتے ہوئے سوچا…. اور اپنے انسو صاف کر کے.. وہ اس پر کمفرٹر ڈال کر… اسکے بلکل ساتھ ا کر لیٹ گئ…. ایسے کے اسکے ہاتھ پر وہ سر رکھے… وارث کو ہی دیکھ رہی تھی…
کہ اسنے چند ہی سیکنڈ میں کروٹ حیا کیطرف لے کر بلکل اسے اپنے حصار میں لے لیا..
اسکی خوشبو حیا کے لیے… انوکھا احساس تھا….
اسنے وارث کا ہاتھ مظبوطی سے پکڑا… اور آنکھیں موند لیں”
…………………
صبح بے حد پرسکون تھی وہ ابھی تک نہیں اٹھا تھا جبکہ وہ جاگی تو اسکی بانہوں کی قید میں تھی.. اسکا اٹھنے کا دل ہی نہیں کیا مگر کمپنی کو اسکی توجہ کی ضرورت تھی جبکہ وہ یہ سوچ چکی تھی کہ ان سب کو وہ اس کمپنی سے باہر نکال دے گی…
وارث کسمسا رہا تھا تبھی وہ اچانک آنکھیں بند کرتی بے حس و حرکت ہو گئ..
جبکہ دوسری طرف اسکی انکھ کھلی تو حیا کو خود میں قید دیکھ کر وہ.. ٹھٹکا.. سر میں شدید درد ہوا.. اور وہ دوبارہ سر اسکے سر کے ساتھ جوڑے تکیے پر ڈال گیا…
وہ حیا کو ہی دیکھ رہا تھا….
اسکے کان کی بالی کو انگلی سے چھیڑکر اسے ایک عجب احساس محسوس ہوا.. جبکہ اسکی انگلیوں نے حیا کی نازک شفاف گردن پر موجود تل پر انگوٹھا پھیرہ تھا..
خوبصورت “اسنے کہا. اور مزید حیا سے یہ جان لیوا قربت برداشت نہ ہوئ.. وہ ایکدم آنکھیں کھول گئ.. اور تیزی سے اسکے حصار سے نکلی…
وہ پہلی بار ایک دوسرے کے ساتھ تھے.
حیا نے کوئ ریسپونس نہیں دیا….
اف لیٹ ہو گئ” وہ تیزی سے اٹھی… وارث اسکی حرکات دیکھ رہا تھا..
میرا اکاونٹ کمپنی کے ساتھ اٹیچ کرو” اسنے ضدی لہجے میں کہا تو حیا مسکرا دی…
وارث… اس صورت میں جب اپ افس ا کر کام کریں گے”
اسکیبات سن کر وہ.. اکھڑا..
ناممکن” اسنے نفی کی…
اوکے سیم ہیر “حیا نے کہا اور اٹھ گئ…
میں اپنی پراڈو بیچ چکا ہوں “اسنے حیا پر بم پھوڑا اور مسکرایا…
وارث وہ بابا کی اخری نشانی تھی”حیا کو غم ہوا.. اپنے ماں باپ سے تو وہ اسکی وجہ سے نہیں مل رہی تھی کہ اسنے اپنے باپ کی بھی اخری نشانی بیچ دی…
تو.. تم جو عزاب کیطرح مسلط ہو… تم ہی کافی ہو… اور ویسے بھی.. تم نہ دو مجھے میری مرضی کی رقم سب بیچ دوں گا.” وہ کہہ کر کمفرٹر ہٹاتا… وہاں سے واشروم میں چلا گیا…
حیا جبکہ اسکا انتظار کرنے لگی کہ وہ گھنٹے میں بھی نہ نکلا وہ جان بوجھ کر یہ سب کررہا تھا…
اسے لیٹ ہو رہا تھا مگر پرواہ کس کو تھی..
بلاخر وہ باہر ایا.. تو حیا جلدی سے چلی گئ..
دس منٹ میں وہ فریش سی باہر ائ…
اور اسی کے ساتھ بغیر اس پر توجہ دیے تیار ہونے لگی..
اور جیسے ہی اسنے ڈارک براون کلر کی لپسٹک لگائ.. اسکے حسن کو چار چاند لگ گئے تھے..
اب اسکی کیا ضرورت تھی “وارث نے.. گھورا…
حیا نے جان کر بھی انجان بننے کی اداکاری کرتے ہوئے اسکی جانب دیکھا…
اسکو ہلکا کرو.. ورنہ ایک قدم بھی باہر نہیں نکال سکتی تم
م” وہ بھڑکا.. عجیب انسان تھا غصہ ہی دے رہا تھا.. 5 6 مہینوں سے… اور غیر لڑکیوں کی سو سو تعریفیں سن لو بیوی کو چار دیواری میں ہی رکھو.. عجیب اصول تھے..
کیوں اپ کے ساتھ کیا مسلہ ہے “حیا نے جان بوجھ کر چھیڑہ..
وارث نے اسکی کلائ سختی سے پکڑی…
اف اتنا غصہ “وہ مسکرائ.. جبکہ وارث نے… انگوٹھے کی مدد سے اسکی ساری لیپسٹک پھیلا دی….
کہ حیا چپ سی رہ گئ…
اور پھیر وہ دھیرے سے جھکا….
حیا کی سانسیں بڑھائیں….
جو تم چاہ رہی ہو… وہ کبھی نہیں ہو گا
تمھارا عشق مسلسل تمھارے لیے سزا ہے… ” اسنے طنزیہ مسکرا کر کہا.. اور اسکی ڈارک لیپسٹکس کو توڑ کر وہ زمین پر اچھال کر وہاں سے چلتا بستر پر جا کر لیٹ گیا پھر سے..حیا نے بمشکل خود کو رونے سے باز رکھا… اور ٹشو سے اسکی پھیلائ لیپسٹک صاف کرتی… وہ پنک لیپسٹک.. لگا کر.. بالوں کو کھولا چھوڑے.. بیگ اٹھا کر اسکے پاس سے گزر گئ…
جبکہ وارث نے ہتھیلی پر مکہ مارا.. مطلب وہ کمپنی جانا ترق نہیں کرے گی…
جاری ہے
