Sharabi By Tania Tahir Readelle50244 Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
بختاور کی مزید ڈیمانڈ پر دونوں کے پسینے چھوٹ گئے..
بس تھوڑا سا تو وقت دینا ہے دونوں لڑکوں کو.. پھر وعدہ تم دونوں کو کبھی نہیں بلاو گی اور یہ ثبوت بھی سارے میٹا دوں گی” اسنے ایک وڈیو دیکھائ جس میں وہ کسی کے فلیٹ میں گھسی چوری کر رہیں تھیں..
یو باسٹرڈ” ماہرخ چلائ جبکہ بختاور کے پیچھے کھڑے لڑکے نے اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا
بختاور ہنس دی..
ماہرخ.. اپنی جگہ پر جا گیری..
پلیز ہمارے ساتھ یسامت کرو تمھیں اللہ کا واسطہ”درخشے نے اسکے اگے ہاتھ جوڑے…
جبکہ کسی نے چئیر پر پڑی… اس لڑکی کی آنکھوں کو غور سے دیکھا.. اور وہ سپیڈ سے چلتا ان تک پہنچا…
ماہرخ کی کلائ اچانک ہی کسی کی فولادی گرفت میں. اگئ…
تم تم نے چوراے ہیں میرے 4 کروڑ” وہ شدت غصے سے بولا..
جبکہ درخشے اور ماہرخ کا نئے سرے سے رنگ اڑ گیا…
وہ بنا شک کے وہی ادمی تھا جس کے ہاں انھوں نے چوری کی تھی..
ن.. نہیں.. ک.. کون.. کون ہیں ا.. اپ” ماہرخ خوف زدہ سی بولی..
اچھا.. ابھی پولیس ائے گی تو سب سچ اگلو گی شرافت سے میرے پیسے نکالو” ارہم نے اسے جھنجھوڑ دیا..
ب… بھائ.. ایسا کچھ نہیں اپ چھوڑیں میری دوست کو “
درخشے نے اسکا ہاتھ ارہم کے ہاتھ سے نکالنا چاہا..
اچھا.. تو پولیس کو کال کرنی ہی پڑے گی دو چار چھتر کھاو گی تو کبھی ڈاکہ نہیں ڈالو گی “
ارہم نے موبائیل نکالا بختاور اور اسکے دوست تو وہاں سے چپکے سے نکل گئے..
ب
.. بھائ.. اپکے پیسے ان کے پاس تھے انھوں نے ہمیں.. یہ سب کرنے کو کہا تھاہم ایسی لڑکیاں نہیں ہیں” درخشے اسکے قدموں میں بیٹھتی بولی…
بس… جانتا ہوں میں کیسی لڑکیاں ہو تم… مجھے میرے 4 کروڑ روپے چاہیے.. ورنہ مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا.. اور وہ بھی کل مجھے اسی ریسٹورنٹ میں پیسے دے دینا… سمھجیں تم دونوں” وہ دونوں کو گھورتا چلا گیا.. جبکہ وہ دونوں.. لوگوں کی خطرناک نظروں سے بچتیں اٹھ کر باہر نکل گئ…
جبکہ رکشے میں بیٹھتے ہی دونوں کی سسکیاں بندھ گئیں…
اب کیا ہو گا ماہرخ” درخشے نے پوچھا… تو اسنے نفی میں سر ہلایا میں نہیں جانتی.. میں سچ میں نہیں جانتی… “وہ آنسو صاف کرتی بولی..
4..4 کروڑ کہاں سے لائیں گے”درخشے… کا دل جیسے بند ہونےکے قریب تھا…
تم تم حیا اپی سے بات کرو پلیز… وہ ہماری کچھ مدد کر دیں” ماہرخ نے کہا… تو درخشے.. نے حیران ہو کر اسکو دیکھا..
یہ کیا بات کر رہی ہو تم.. ہم کیسے انکی ہیلپ لیں گے “وہ بولی.. تو ماہرخ نے اسکاہاتھ پکڑ لیا..
صرف وہی ہیں جو ہمیں بچا سکتیں ہیں.. ورنہ بہت کچھ غلط ہو جائے گا”وہ اسے فورس کرنے لگی.. تبھی درخشے کو بھی احساس ہوا وہ خود کچھ نہیں کر سکتیں..
اور دونوں نے رکشے والے کو… ڈیفنس کے راستے پر چلنے کو کہا… وہ دونوں ڈری ہوئ بھی خوب تھیں…
……………..
حیا کافی دیر سے اس اواز کے بارے میں سوچ رہی تھی…
اسے لگا وہ مر چکیں ہوں گئ مگر وہ زندہ تھیں وارث کو فون بھی کیا.
اس کا کیا مطلب ہے وارث ان سے رابطے میں ہے..
نہیں.. صبح ہی انھوں نے نمبر کو نہیں پہچانا تھا مطلب انھوں نے اسکا نمبر لیا تھا..
اور جب وہ جا چکیں تھیں تو اب اسے یاد کیوں کر رہیں تھیں..
حیا الجھ سے گئ تھی..
اسنے فائز کو روم میں بلایا..
جی”وہ اندر ایا..
فائز تم سے ایک بات پوچھوں” حیا نے کہا.. تو فائز نے سوالیہ نظروں سے اسکیطرف دیکھا..
تم وارث کی ماں کے بارے میں کیا جانتے ہو “اسنے پوچھا تو فائز نے چونک کر حیا کو دیکھا…
کچھ بھی نہیں.. بس اتنا کہ وہ اپنے کسی عاشق کے ساتھ بھاگ گئیں تھیں ایک رات.. “اسنے کہا تو.. حیا نے سانس کھینچی..
یہ وہ ہی کہانی ہے جو.. تمھیں تمھارے بڑوں نے بتائ تھی جبکہ مجھےا صل کہانی جاننی ہے مجھے لگتا ہے… کہ وہ بے قصور ہیں وارث ان سے غلط نفرت کرتا ہے..
اور انکی وجہ سے شاید ہر عورت سے..
وہ بربڑائ تو فائز نے اسکی جانب گور سے دیکھا..
حیا نے اسکی یہ چوری پکڑ لی. وہ اپنی جگہ سے اٹھی.. پلیز فائز کچھ جانتے ہو تو بتاو مجھے”اسنے کہا. تو فائز نے..
اسکی جانب دیکھا….
میں ایک دوست سے ملنے گیا تھا.. وہ. متوسط تبقے کا ہے.. وہاں ایک گلی میں انکو بھوک سے روتے دیکھا تھا..
اسنے جواب دیا تو حیا شاکڈ رہ گئ…
میں انکے پاس سے گزر گیا مگر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا.. اور مجھ سے مانگنے لگیں انکی حالت دیکھ کر مجھے.. انپر بہت ترس ایا.. اور میں نے پیسوں کے بجائے انکے ہاتھ میں ایک نمبر تھما دیا…
وہ حیران آنکھوں سے مجھے دیکھنے لگیں.. یہ وارث کا نمبر ہے “میں نے کہا تو وہ شاکڈ ہو گئیں. اور میں اگے نکل گیا.. بس اس سے زیادہ میں نہیں جانتا نہ ہی دلچسپی رکھتا.
اسنے صاف کہا.. تو حجا بے چین ہو گئ…
مجھے لگتا ہے مجھے ان سے ملنا چاہیے” اسنے کہا جبکہ فائز نے نفی کی..
گھر میں طوفان ا جائے گا.. اگر اپ نے کوئ بھی انکے متعلق سٹیپ لیا..” اسنےا نے والے وقت کی سختی سے اسے بچانا چاہا… مگر میں جاننا چاہتی ہوں ساری حقیقت. “وہ بولی.. اور بیگ اٹھا کر باہر نکل گئ…
…….
لو جی پہلے وہ غریبنی کم ہمارا دماغ کھا رہی ہے جو اب اسکے ملنے ملانے والے بھی یہیں آئیں گے”
چچی نے نخوت سے دنوں کو دیکھا.. جبکہ دونوں حیرت سے سلام کے جواب میں یہ بات سن کر کافی پریشان دکھ رہیں تھیں… مجھے لگتا ہے.. اسنے ہی بلایا ہو گا.” تائ بولی تو.. مقابل دونوں خفت زدہ سی رہ گئیں…
لو. اگیا.. انکا شرابی “چچی اسے دیکھ کر اپنے اندر کی بھڑاس نکالتی بولیں جبکہ وارث نے انکی جابب دیکھا…
اپکی بڈھی ہڈیاں سکون میں نہیں آئیں گی “اسنے کہا تو.. ماہرخ اور درخشے تو ہونق رہ گئیں..
بڑے چھوٹو سے اور چھوٹے بڑوں سے کیسے مخاطب تھے… حیا نے تو کبھی ایسا ماحول نہیں بتایا…
اسلام علیکم! بھائ” درخشے کے ساتھ ماہرخ نے بھی سلام کیا.. جبکہ وارث نے چونک کر دونوں کو دیکھا
… میری کوئ بہن نہیں ہے”وہ انکو گھورتا بولا…
ہاں ہو بھی کیسے سکتی ہے… گھٹیا حرکتوں سے فرست ملے تو اس پرکٹی بیوی کی ناک میں نکیل ڈالے باپ بھی ایساہی تھا.. یہ بھی ایساہی ہے… وہ بھی ایک دن بھاگ جائے گی لکھ کر رکھ لینا…”
چچی نے نفرت سے کہا..
میں تیرا لحاظ کر رہا ہوں اور تو سر پر چڑھ رہی ہے” وہ چیخا.. جبکہ پیچھے سے اتے عماد نے اسے چچی سے دور کر دیا… وارث نے عماد کو جھٹکا…..
انکی زبان کو نکیل ڈالو پہلے سمھجے “وہ عماد پر چیخا.. تو عماد نے بنا کچھ کہے چچی اور ماں کواندر جانے کا کہا
… چائے لاو میرے لیے.. “وہ عماد کو گھورتا بولا..
جبکہ عماد ان دونوں لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا جو گھر کا تماشہ دیکھ کر اڑے رنگوں سے انھیں دیکھ رہیں تھیں…
اپ کون “عماد نے دانت نکالتے ہوئے غلیظ نظروں سے دونوں کو دیکھا تو دونوں نے اپنی چادریں درست کیں..
وہ.. اپی.. اپی حیا اپی سے ملنا ہے” اسنے کہا.. تو.. ابھی عماد جواب دیتا.. کہ حیا اور فائز اندر داخل ہوئے.. جہاں حیا پریشان ہوئ وہیں فائز اسکو دیکھ کر بے انتہا خوشی محسوس کرنے لگا… ارے ا گئیں.. حیا بھابھی” عماد نے حیا کیطرف دیکھ کر لفظوں کو زور دیا تو.. وارث جو.. ایل ای ڈی دیکھ رہا تھا.. بولا..
مائے لو.. آ جاو اکھٹے چائے پیئے گے” اسکی اواز پر حیا.. کا چہرہ سرخ ہوا..
تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہو “سب پر لعنت بھیج کر وہ.. ان دونوں کیطرف بڑھی..
ا.اپی اپ سے ملنے ائے تھے “درخشے نے سہمتے ہوے کہا سامنے کھرا لرکا اسے مسلسل گھورے جا رہا تھا… میرے روم میں چلو” اسنے دونوں کو اپنے روم کیطرف اشارہ کر کے کہا.. اور پھر عماد کیطرف دیکھا.. جس نے فائز کے جاتے ہی حیا کو ڈھٹائ سے انکھ ماری…
حیا نے وارث کی جانب دیکھا..
تبھی وہاں ملازمہ چائے لے ائ…
اور وارث اس سے کپ تھام کر.. صوفے پر سے اٹھا….
اور حیا کے پاس ایا.. ایک بار پھر وہ اسکی حفاظت کر گیا تھا بنا کچھ جانے..
وارث نے پہلے عماد پھر حیا کو دیکھا..
کیوں تیتر تیری بیوی چھوڑ کر بھاگ گئ کیا “وہ چائے کا گھونٹ بھرتے حیا کے شانے پر ہاتھ پھیلا کر اسے نزدیک کرتا بولا..
تم سے مطلب…” عماد چنکا..
لو بھلہ ہم سے مطلب نہیں… تو کس سے مطلب” سرد اہ بھر کر گرم گرم چائے..
کا کپ.. عماد کے ہاتھوں پر سکون سے انڈیلتے ہویے جیسے اسکے دل کو کچھ نہیں ہوا تھا …
جبکہ عماد چلا اٹھا…
آ آ آ آ “وہ چیخیں مارتا.. پانی کی تلاش میں دوڑتا کے وارث نے اسے پکڑا…
اپنے ہاتھوں کو قابو میں رکھ چھچھوند.در..” وہ اسکو مسکرا کر کہتا.. بولا جبکہ عماد نے دونوں کی جانب خونخوار نظروں سے دیکھا.. حیا کی آنکھوں کا سکون نوچ لینے کا عزم
کر چکا تھا… وہ
چلیں براونی”اسنے کہا تو حیا نے اثبات میں سر ہلایا اور ایک دل جلا دینے والی مسکراہٹ عماد پر اچھال کر وہ وارث کے ساتھ اپنے روم میں جانے لگی..
کہ حیا نے اسے روک لیا…
اندر وہ دونوں ہیں اپ.. اپ ٹیریس پر چلے جائیں تھوڑی دیر…” حیا نے کہا تو وارث نے ای برو اچکا کر دیکھا..
حیا بی بی” اسکا چہرہ پکڑ کر… اسے دیوار کے ساتھ لگاتے وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈال چکا تھا…
We are not sweet happy couple “
دشمن ہو تم میری یاد رکھا کرو… اسکی گردن میں چین.. پر انگلی چلاتے وہ.. گھمبیر لہجے میں بولا جبکہ حیا نے اسکی شرٹ کو پکڑا.
و… وارث.میں میری بہنیں بیٹھی ہیں اندر” وہ بولی.. تو وارث نے اسکی آنکھوں میں دیکھا..
حیا اس کی نگاہوں کی تاب نہ لا سکی..
جبکہ حیا کی انگلیاں کے ناخون.. وارث کے گریبان میں چبھ چکے تھے…
مجھے غرض نہیں… “وہ مدھم اواز میں بولتا.. اسکے لبوں کی لیپسٹک.. پر انگوٹھا.. چلا رہا تھا..
وارث.. اپ خراب کر دیں گے” حیا منمنائ.
. اج انگوٹھے کا استعمال نہیں کروں گا براونی “اسنے کہا.. اور دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ تھام کر وہ اسکی سانسوں کو سختی سے قید کر گیا…. حیا نے اسکی شرٹ کو مزید سختی سے پکڑا جس کے باعث اسکے ناخن وارث کو بری طرح چبھتے اور جتنا ناخون چبھتے اتنی وارث کے عمل میں شدت اتی گئ…
توبہ استغفار” تائ.. کی اواز پر حیا.. گڑبڑا گئ.. جبکہ وارث نے اسکے سر کے پیچھے ہتھیلی رکھ کر مزید.. اسکو خود میں محو کر لیا.. کہ تائ شرمندہ ہوتیں .. وہاں سے چلی گئیں…
اور وارث نے اہستگی
سے اسے ازاد کیا…
اپ بہت برے ہیں” حیا. تیز تیز سانس لیتی غصے سے بولی.. دوسری طرف جس کی اپنی سانسیں بھی اکھڑ چکیں تھیں ناجانے اسکو کیا سوجی وہ پھر سے.. اسکے چہرے پر جھک گیا..
اسی سختی سے….
حیا پھڑپھڑا کر رہ گئ…..
اور زبردستی اسکو خود سے جدا کر کے.. و ہ کھانستی ہوئ.. زمین پر بیٹھ گئ….
جبکہ وارث.. بھی تیز سانسیں بھرتا.. اسپر طنزیہ مسکان پھینکتا وہاں سے چلا گیا….
حیا کی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں..
……………..
درخشے اور ماہرخ کی بات سن کر وہ.. اڑی ہوی رنگت لیے دونوں کو دیکھ رہی تھی…
اور بناتوقف اسنے درخشے کے منہ پر. تھپڑ دے مارا.. زندگی پہلے عزاب کم تھی کو وہ دونوں نئ کہانی لے کر اسکے پاس ا گئیں تھیں…
تم اتنی بہادر کب سے ہو گئ..کہ باپ کی عزت کو دو ٹکے کا کر دو “وہ چلائ.
درخشے اور ماہرخ رو دی تھیں.. انکی سسکیاں کمرے میں گونج رہیں تھیں…
اگر میں تمھیں چار کروڑ دے دوں تب بھی تمھاری جان نہیں چھوٹے گی… سمھجی
دونوں.. وہ جو وڈیو ہے وہ کون ڈل کرائے گا وہ لڑکی تمھیں ویسے ہی زلیل کرے گی” حیا کی بات سے وہ دونوں مزید خوفزدہ ہو گئیں جبکہ حیا نے سر تھام لیا..
اج اسے خوب رونا ا رہا تھا… وارث کی حرکت دل کاٹ رہی تھی.. وہ اس سے صرف نفرت کرتا تھا….
جاو تم دونوں یہاں سے” حیا نے کہا تو وہ دونوں.. اسکے پاوں میں بیٹھ گئیں..
میں نے کہا جاو “وہ چلائ…
تو درخشے اور ماہرخ دونوں انسو پونچتی باہر نکل گئیں جبکہ حیا.. خود کی بانہوں میں سمٹ کر خود ہی رو دی….. …..
……..
فائز نے ان دونوں کو بھاگ کر جاتے دیکھا وہ روکنا چاہتا تھا درخشے کو….
مگر اسکے کچھ کہنے سے پہلے وہ باہر نکل گئیں
جبکہ ٹیریس سے یہ منظر وارث نے بھی دیکھا تھا …. ….
…………
جاری ہے
See translation
