Sharabi By Tania Tahir Readelle50244 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
درخشے نے گھر سے باہر جانا کچھ دنوں سے ترک کر دیا تھا جبکہ ماہرخ بھی گھر سے نہیں نکل رہی تھی… ماہ رخ اچھی خاصی کنفیڈینٹ لڑکی ہونے کے باوجود…
بہت ڈر محسوس کر رہی تھی جس کی وجہ اسکا باپ تھا.. جو نہایت سخت انسان تھا.. وہ تو اسکے پڑھنے کے بھی حق میں نہیں تھا مگر اسکی ضد پر پھر بھی اسے اجازت مل گئ تھی جبکہ دوسری طرف درخشے تو باپ کا شفیق لمس محسوس کر کے ہی اپنی غلطی پر بری طرح خوفزدہ تھی یہ تو اچھا تھا کہ ان دونوں نے نقاب لے لیا تھا ورنہ اج وہ دونوں سلاخوں کے پیچھے ہوتیں….
فون کی بیل پر اسنے موبائل کیطرف دیکھا ماہرخ کی کال تھی.. اسنے اٹینڈ کی تو ماہرخ کی گھبرائ ہوئ اواز سن کر وہ خود بھی اٹھ بیٹھی…
کیا ہوا ماہرخ”اسنے کہا
درخشے مجھے بہت خوف ا رہا ہے….
بختاور کے میسیجیز ایے تھے وہ ہم دونوں کو بلا رہی ہے اور اگر ہم دونوں نہیں گئے تو اسنے دھمکی دی ہے کہ میں تمھارے گھر میں یہ بات بتا دوں گی یقین مانو ابو مجھے قتل کر دیں گے” وہ پریشان سی ماتھے کا پسینہ صفا کرنے لگی…
ن نہیں اب میں نہیں جاو گی اسکے سامنے… ماہرخ تم نمبر بلاک کر دو” درخشے نے مشورہ دیا…
اسنے چار مختلف نمبروں سے مجھے میسج کیا ہے جبکہ میں اسکا نمبر کب کا ڈل کر چکی ہوں “اسنے بتایا تو درخشے نے سر تھام لیا…
اب اب کیا کریں گے ہم”درخشے کو تو روناہی ایا….
ہمیں ج.. جانا ہو گا… ” ماہرخ نے کہا جبکہ درخشے خاموش رہ گئ..
یہ زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی اور غلطی بھی اتنی بڑی کہ سمیٹنے سے بھی سیمٹ نہیں رہی تھی
ماہرخ نے فون بند کر دیا….
جبکہ دونوں اپنی اپنی جگہ حد سے زیادہ پریشان تھیں…
………………….
اویس یہ فائل ہے…. اور اس میں ان سب پرڈکٹس کی ریٹل پرائز اور تعداد موجود ہے جو ہماری فیکڑی سے اپکا ارڈر بنا ہے…
امید ہے اپکو پسند ائے گا “اسنے فائل بڑھاتے ہوے کہا تو اویس نے مسکرا کر سر ہلایا..
مجھے امید ہے ہماری مارکٹ خوش ہو گی…. اور ویسے بھی تم کافی محنتی ہو… تو چیز بھی شاندار ہو گی…
باقی پیمینٹ کی بات رہی تو نیکسٹ ہاف.. میں اکاونٹ میں ڈلوا دوں گا” اسنے تفصیلی جواب دیا… وہ دونوں افس کے خاموش ماحول میں اس وقت بیٹھے تھے..
اپ کافی لیں گے.. اف دیکھیں میں تو بھول گئ تھی” اسنے کہا تو اویس ہنس دیا..
ہاں کافی بھی اور ایک لنچ بھی کیونکہ یہ پہلا ٹاسک تھا جو کمپلیٹ ہو چکا ہے… اور کافی مارکیٹر اب یہاں آ رہے ہیں”
حیا ہنس دی..
ہاں کیوں نہیں… چلیں پھر… اج اپ کو لنچ دے ہی دیں”حیا نے کہا تو اس سے پہلے دونوں اٹھتے وارث دروازہ کھلتا اندر داخل ہوا…
اور سامنے اویس کو دیکھ کر اسنے زیچ ہو کر آنکھیں بند کیں…
کیوں لڑکے تمھارے پاس کوی کام نہیں.. جب دیکھو منہ اٹھا کر پہنچ جاتے ہو” وہ سکون سے کہتے حیا کے نزدیک ایا.. اور اویس کے سامنے اسکے نازک شانے پر ہاتھ پھیلا کر اپنے نزدیک کر لیا..
حیا تو چند لمہے حیران رہ گئ…
جبکہ اس سے الگ ہونا بھی چاہا اویس کے سامنے یہ سب بہت برا لگ رہا تھا..
اویس نے اسکے ہاتھوں کی جانب دیکھا اسنے سختی سے حیا کو پکرا ہوا تھا..
وہ اس سر پھیرے ادمی کے منہ نہیں لگنا چاہتا تھا…
چلتا ہوں حیا پھر ملاقات ہو گی “
اسنے کہا اور اپنا موبائل اٹھایا..
ہیلو ویٹ ویٹ…
یہ حیا کیا ہوتا ہے.. مانا کے تمھاری بہن ہے اور تم دل سے بہن مانتے ہو مگر اچھا نہیں لگتا.. تم مسز وارث کہہ سکتے ہو.. ٹھیک ہے گڈ بوائے… ” اسکا پہلے سے درست کوٹ درست کرتا وہ اسکا گال تھپتھپاتا.. حیا کی جانب مڑ گیا..
حیا بہت اکورڈ فیل کر رہی تھی جبکہ اویس کا بھی یہ ہی ہال تھا…
اوہ مائے ڈارلنگ..” وارث نے بانہیں وا کیں اور حیا کو ان میں بھرتا کہ اویس نے پشت پھیر لی.. اور وہاں سے نکل گیا..
حیا ڈیزرو نہیں کرتی اس شخص کو” “اسنے سوچا… اور چلا گیا جبکہ وارث حیا کو.. سختی سے بازوں میں بھرے دیکھ رہا تھا..
حیا منہ اٹھائے اسکی جانب دیکھ رہی تھی آنکھوں میں غصہ شرمندگی نمی سب تھا….
اپنے کمرے میں کیا کریں یہ اوچھی حرکتیں “حیا نے خود کو اس سے چھڑاتے ہوئے.. غصے سے کہا تو.. وارث.. چئیر گھما کر چئیر پر بیٹھ گیا جبکہ اسکو.. اپنے چہرے کی جانب کھینچا…
کیوں بنا پروں کی کبوتری کی طرح پھڑ پھڑا رہی ہو… کیا تمھارے نرم نرم رومینس میں خلل کیا میں نے” وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتا بولا.. جبکہ حیا اب بھی اسپر جھکی تھی..
اپکو شرم نہیں اتی اپنی بیوی کے ساتھ اس قسم کی بات کرتے ہوئے” وہ اسے مزید خود پر جھکا رہا تھا حیا نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فاصلہ بنایا اور کہا…
امم میری بیوی کو شرم اتی ہے.. میری مرضی کے خلاف جاتے ہوے” اسنے حیا کی کان کی بالی پر انگلی چلائ… حیا بدسکون سی ہوتی اس سے دور ہونے لگی…
مگر وارث نے اسے ایساکرنے نہیں دیا…
اچھا کیا مرضی ہے اپکی.. سلگتی رہو سسکتی رہو… اپ اپنی زندگی میں مگن رہیں بس یہ مرضی ہے اپکی..” وہ اسکو اپنی گردن پر جھکتا دیکھ دور کرتی بولی..
وارث نے غصے سے گھورا…
تو اور بیویاں کیا کرتیں ہیں.. نہیں بیویوں کے کام کیا ہوتے ہیں…” اسنے اسکو جھٹکتے ہوئے کہا..
چار دیواری میں تڑپنے پر اگر بیوی بننا ہوتا ہے تو.. پھر کوئ بھی کسی بھی انسان کی بیوی نہ بنے.. ہمارا مزہب ہمارا دین یہ نہیں کہتا.. کہ بیوی کو پاوں کی جوتی بنا کر خود جیسی مرضی عیاشی کرتے پھیرو..
بیوی عزت کا نام ہے….. محبت کا نام ہے.. مگر اپکو کہاں سمھجہ ائے گی.. “
اسکے غصے سے بولنے پر وہ محظوظ ہونے کی اداکاری کرتا اسے چیڑا رہا تھا..
اچھا تم محبت چاہتی ہو. ہممم” وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور حیا کو اپنی طرف ایک بازوں سے کھینچا..
حیا کچھ نہیں بولی… جبکہ وارث.. اسکی اٹھتی گرتی پلکیں دیکھتا اسکے نزدیک ہوتا گیا…
اتنا کہ دونوں کے مابین بس انچ بھر کا فاصلہ تھا جسے عبور کرتے ہی وارث.. اسکی نزاکت سے لگی لیپسٹک پھر خراب کر دیتا اسنے اپنی لیپسٹک کا دشمن ہی تو پایا تو اسے….
تمھیں چھو کر مجھے اگ نہیں بننا جو بس جلتی رہے کبھی ٹھنڈی نہ پڑے…
عورت کی عادت مرد کی کمزوری ہے…..
اور میں جانتا ہوں تمھاری ایک بار مجھے عادت پڑ گئ تو….
وارث شاہ کمزور پڑ جائے گا…
وارث شاہ کہیں عورت سے محبت نہ کر بیٹھے… “اسکے لبوں پر انگوٹھے کو مدھم حرکت دیتا وہ اخر میں وہ سختی سے لیپسٹک رگڑ کر اس سے دور ہوا…
پیسے دو مجھے” اسنے سنجیدگی سے کہا..
حیا اسکی قربت کے اثر سے خود کو نکلالتی وارث کی جانب نہ سمھجی سے دیکھنے لگی…
اور پھر جیسے اسکی یاداشت ا گئ…
اپکے اکاونٹ میں ہفتہ پہلے وارث دو کروڑ روپے ڈلواے تھے..” حیا حیرت سے کہنے لگی…
یعنی اب تمھیں حساب دوں گا میں… “
وہ بھڑکا…
وارث میرے پاس پیسے نہیں ہیں.. “حیا نے کہا تو وارث نے گھور کر اسکی جانب دیکھا…
کوٹھے پر جاو گا میں… اور جس جس دن.. وارث شاہ نے اپنی بولی لگوا لی نہ… اس دن پشتاو گی” وہ چیخا…
تو حیا نے اسکی جانب دیکھا…
وارث روکیں اسکی بات کا اثر لیتی وہ بولی…
تو وارث نے خونخوار نظروں سےا سکی جانب دیکھا….
اپ لے لیں جتنے اپکو چاہیے” وہ مدھم اواز میں بولی…
تو وارث کے لب مدھم مسکراہٹ میں ڈھلے
گڈ.. براونی”وہ اسکے ہاتھ سے چیک کھینچتا.. ہنستا ہوا نکل گیا جبکہ حیا نے بس اسکی پشت دیکھی تھی….
………………..
رات اتری تو عماد نے محسوس کیا کے حیا گھر پر اکیلی ہے جبکہ وارث وہ ہنسا….
ہو گا.. کسی میخانے میں….
وہ سب سے چھپتا ھیا کے کمرے کیطرف بڑھا….
کل ماہم نے ا جاناتھا..
وہ کمرے میں داخل ہوا دروازہ بجائے بغیر…
حیا… اپنے کمرے میں… بکھرے سے حولیے میں تھی…
نائٹ ڈریس پہنے وہ سونے کی تیاری کر رہی تھی کہ.. عماد کو دیکھ کر وہ حونک ہوئ…
تم “اسکے نازک لب خوف سے بڑبڑاے جبکہ اسنے خود کو ڈھانپنے کے لیے… بیڈ کی چادر ہی کھینچ لی..
رہنے دو ڈارلنگ.. کیا فرق پڑتا ہے” عماد نے مسکرا کر دروازہ بند کیا..
عماد میں شور مچا دوں گی چلے جاو یہاں سے “وہ کانپتے لہجے میں بولی وقت دیکھا.. جو گزری رات کا پتہ دے رہا تھا.
. ممچاو شور کون ائے گا “وہ اسکی طرف بڑھتا.. بولا آنکھوں میں لالچ بھرے وہ اس وقت شیطان ہی لگ رہا تھا…..
حیا کا دل ڈوب کر ابھرا اسکی عزت داو پر لگی تھی جبکہ اسکا محافظ کہاں تھا وہ نہیں جانتی تھی….
اس سے پہلے عماد اسکو گرفت میں کرتا… حیا نے سائیڈ لیمپ اٹھا لیا….
میں تمھارا سر پھاڑ دوں گی “وہ حلق کے بل چلائ..
کیوں تھکا رہی ہو…. تھوڑا سا تمھارا وقت لوں گا اور یقین مانو اس بات کی کسی کو بھی کانوں کان خبر نہیں ہو گی” عماد اہستگی سے اسکی جانب بڑھ رہا تھا….
حیا کے ہاتھ بری طرح کانپے…. اسکو لگا وہ مزید اپنا بچاو نہیں کر سکتی.. لیمپ اسکے ہاتھ سے اس سے پہلے چھٹتا کہ دروازہ بجا… کافی زور سے….
عماد نے گھبرا کر پیچھے دیکھا…
و… وارث” حیا کے لب پھڑ پھڑائے…
جبکہ اسکی چیخ اس سے پہلے اٹھتی عماد نے اسکے نازک لبوں پر سخت ہاتھ رکھ کر دبا دیا..
اگر تو نے کچھ بھی بتایا… تو میں تیرے شرابی کو زندہ نہیں چھوڑو گا…” وہ غرایا.. اور کھڑکی سے لون میں کود گیا…
جبکہ حیا اس وقت شدت سے خوف زدہ ہو چکی تھی وہ فورا دروازے کی جانب بھاگی…..
اور دروازہ کھولا تو وارث کو ہاتھ کی مدد سے کندھے پر کوٹ ڈالے… قدموں پر لڑکھڑاتے دیکھا…
وہ اچانک اسکے سینے سے لگی…. کہ وارث اپنے قدموں پر نہ سمبھلتا تو یقیناً دونوں پیچھے جا گیرتے….
حیا کا بکھرا بکھرا حولیا جبکہ اسکے سینے میں اسکا چہرہ چھپانا.. وارث کو اپنی جگہ ہلا چکا تھا وہ چند سانیے یوں ہی کھڑا… اسکو محسوس کرتا رہا…. اور پھر ہاتھ اسکی کمر پر رکھا.. حیا.. مزید اس میں سیمٹ گئ….
جبکہ وہ رو رہی تھی.. کیونکہ اج وہ بے حد ڈر گئ تھی..
اگر وارث نہ اتا تو وہ کیسے خود کو سمبھلتی.. کیسے اپنی عزت کی حفاظت کرتی…
حیا مجھے اندر انے دو “گھمبیر لڑکھڑاتی ہوئ اواز میں وہ اسکے بالوں کی مدھر خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارتا.. بولا…
تو حیا خفیف سی ہو گئ جبکہ اسنے اپنے انسو بھی صاف کیے….
وارث نے اسکے شانے پر انگلی رکھی… حیا اسی کی جانب دیکھ رہی تھی جبکہ وہ انگلی اسکے شانے سے سفر کرتی اسکے ہاتھ تک ائ.. اور وارث نے حیا کا ہاتھ تھام لیا اور اندر داخل ہوا…
حیا نے خود کو رونے سے بعض.. رکھا
کیوں رو رہی ہو اب کون سا طوفان ا گیا میری وجہ سے…
ویسے تو ان سمندر جتنی بڑی بڑی آنکھوں سے سب کو گھورتی پھیرتی ہو اب تمھیں رونا. ارہا ہے “وہ اٹکتے ہوئے بولا..
جبکہ ھیا کا ہاتھ بھی چھور دیا…
دونوں الگ الگ سمت بیڈ پر بیٹھے تھے…
حیا کے نظروں سے عماد بلکل نہیں جا رہا تھا اسکی گندی نظروں کو یاد کر کے وہ مزید رو دی….
تم کیا چیز ہو…. روتی ہوئ بھی اچھی لگ رہی ہو” وہ نشے میں بھکتا اسکے نزدیک ہو گیا….
کیوں اپنی طرف کھینچ رہی ہو مجھے” حیا کے بکھرے بال ایک شانے پر سمیٹ کر.. وہ اسکی گردن پر جھک گیا.. جبکہ ھیا نے اسکے بالوں میں انگلیاں پھنسا لیں…
اسکی قربت میں وہ خود کو محفوظ محسوس کر رہی تھی…
جبکہ وارث.. اسکی گردن پر اپنا لمس چھوڑتا جا رہا تھا..
اور پھر کچھ دیر کے بعد وہ اس سے دور ہو گیا…
حیا نے خمار بھری نظروں سے اسکی جانب دیکھا…..
جبکہ داود بھی اسکیطرف دیکھ رہا تھا……
حیا کو اج محسوس ہو رہا تھا…
شوہر کا ہونا ہی حفاظت ہے بیوی کے لیے….
بھلے وہ شوہر جیسا بھی ہو…
اپنی ماں کے الفاظ اج اسے خوب سمھجہ ائے تھے کہ دروازے پر پڑی مرد کی جوتی بھی.. عورت کا بھرم ہے….
اور وہ انجانے میں اسکی حفاظت کر گیا تھا….
وہ اس سے جتنی محبت کرتی اتنا کم تھا….
حیا نے جھک کر وارث کی پیشانی پر لب رکھ دیے.. انسو ٹوٹ کر اسے گالوں پر موتیوں کی طرح بکھر رہے تھے جبکہ وارث پر اسکا لمس شدت سے اثر انداز ہوا….
اسنے حیا کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے ساتھ لیٹا لیا.. جبکہ بنا اسے موقع دیے.. وہ اسکی سانسوں کو الجھا گیا….
حیا.. اس سے اس عمل کی توقع نہیں کر رہی تھی….
وہ پہلے حیران ہوئ.. مگر اسکی قربت گھائل کرنے کے لیے کافی تھی..
جبکہ مقابل پر تو جیسے شراب سے زیادہ نشہ حیا کا چڑھا تھا… اسکو سختی سے تھامے….
وہ جیسے خود کو سیراب کر رہا تھا…
حیا کی سانسیں بری طرح الجھی ہوئ تھیں.
وارث اپنی حدوں سے اگے بڑھتا کہ فون کی تیز بل سے جیسے وہ ہوش میں ایا….
اور حیا پر سے… ایکدم وہ جھٹکا کھا کر دور ہوا….
جبکہ حیا…
اپنا حولیہ سمبھالتی اٹھی…
بیل وارث کے فون. کی بج رہی تھی مگر وہ سر تھامے بیٹھا تھا….
حیا نے خود پر چادر کھینچ لی اس وقت وہ کافی شرمندہ محسوس کر رہی تھی…
وارث نے کھا جانے والی نظروں سے اسکیطرف دیکھا….
اور وہاں سے اٹھ کر وہ واشروم میں چلا گیا…
حیا کی آنکھیں بھیگ گئیں….
کیا تھا ایساجو وہ نزدیک ا کر بھی…. دوریاں بنا جاتا تھا….
اسنےا سے جاتے دیکھا.. اور پھر اسکا سیل دیکھا نمبر ان نون تھا.. اور پھر تنگ ا کر اسنے وہ ننبر اٹھا لیا….
و.. وارث”کپکپاتی نحیف سی اواز حیا.. ایکدم چکنا ہوئ.
میرے بیٹے” کوئ دل ہار کر سسکا تھا..
حیا کے کان سن ہو گئے…
وارث کی ماں زندہ تھی….
اسنے محسوس کیا وہ حونک ہی رہ گئ.. جبکہ مقابل روے جا رہا تھا
ایک بار اپنی ماں کو دیکھ لو کس حال میں ہے “وہ بولیں تب تک وارث باہر ا گیا جبکہ ھیا نے موابئل ڈسکنکٹ کر دیا…
اور وارث کی صورت تکنے لگی… وہ نہ سمھجی سے اسے دیکھ رہی تھی..
یہ بیہودہ لباس کس خوشی میں پہنا ہوا ہے” وہ چیڑ کر بولا.. تو حیا نے… اسکو حیرت سے دیکھا..
بیوی پہنے تو گناہ ہو گیا باہر والیوں سے دل لگتا ہے” حیا نے بھی غصے سے کہا اور سر تک چادر تان لی..
تمم نا زیادہ نہ بولو سمھجی… جو تم چاہ رہی ہو وہ تو میں کروں گا نہیں “وارث نے غصے سے اسپر سے چادر کھینچی…
میں کچھ نہیں چاہتی اپ سے… سمھجے اپ.. سونے دیں مجھے “حیا نے کہا.. اور دوبارہ چادر کھینچی جبکہ وارث کی نظریں ایک بار پھر اس کے بے باک نائٹ ڈریس میں الجھ گئیں….
تم نہ نکلو کمرے سے… تماشے باز جان بوجھ کر.. جال بن رہی ہو میری طرف” وہ جھنجھلاتا.. اسکا ہاتھ پکر کر اٹھانے لگا..
جبکہ ھیا نے اسکو حیرت سے دیکھا…
وارث” وارث کے کھینچنے ہر وہ بید سے اٹھ چکی تھی… جبکہ وارب اسے بلکانی کی جانب لے جا رہا تھا…
وارث یہ کیا کر رہیں ہیں اپ اچھا ٹھیک ہے میں… چینج”
اسکی بات منہ میں ہی رہ گئ جبکہ وارث نے گلاس ڈور بند کر دیا…
حیا.. نے پیچھے مڑ کر دیکھا.. رات کی خاموشی اور ہلکی پھلکی حشرات کی آوازیں اسے ڈر لگنے لگا..
اسنے تادیر دروازہ بجایا مگر وارث نے نہ کھولا.. موسم بھی سرد تھا.. وہ بازوں کو بازوں سے جوڑے زمین پر بیٹھ گئ…
اور اسی سخت زمین پر اس ظالم کے ظلم پر کڑھتی وہ سو گئ…
_—–_
سکون تو وہ لے گئ تھی جس کو بلکنی میں بند کر دیا تھا…
اب وہ کیسے سو سکتا تھا… وہ چیڑ کر اتھا اور دروازہ کھول دیا..
حیا زمین میں لیٹی تھی.. سکڑی سیمٹی..
وارث چند لمہے اسے دیکھتا رہا.. اور پھر بازوں میں بھر لیا…
وہ اسے روم میں لایا اور بید پر لیٹا کر.. وہ اسی کے بلنکٹ میں اسکو بانہوں میں بھر کر لیٹ گیا…
اسکے شانے سے سر ٹکائے اس وقت اسے دنیا جہاں کا سکون میسر ا گیا تھا….
اور سکون ملتے ہی وہ جلد نید کی وادیوں میں اتر گیا.
………………….
اگلی صبح اسکی انکھ کھلی تو ہمیشہ کیطرح اسکی بانہوں میں پایا.. وہ غصے سے بھڑکی اور اسے جود سے پرے دھکیلا…
بدتمیز انسان “وہ گھورتی اسے کھڑی ہوئ.. تو وارث نے اسکا تکیا خود میں بھینچ لیا..
زہر لگتے ہیں اپ مجھے” حیا بولی تو وہ تکیوں میں منہ دیے ہی بولا..
یہ میرا ڈائلوگ ہے “
حیا نے مٹھیاں بھینچی..
مرنے دیتے یہاں کیوں لے ائے پھر سٹیکر کیطرح چیپکے ہویے ہیں..”
ہاں مرنے تمھیں دوں کماے گا کون” وہ اسے چیڑاتا بولا تو حیا کا منہ کھل گیا..
بس اتنی ہی دلچسپی ہے مجھ میں” وہ گھورتی ہوئ بولی..
اس سے بھی کم “وارث نے تکیا اسپر اچھال دیا…
وارث کسی دن تکیا رکھ کر مار دوں گی میں “وہ غصے سے چیخی…
پھر میرے بغیر کیسے رہو گیَ”وہ دانت نکالتا بولا جبکہ ھیا پاوں پٹخ کر واشروم میں بند ہو گئ..
وارث کو ہنسی ائ..
رات کی شرمندگی کا اثر زائل ہو گیا تھا..
اسنےا ہنا سیل چیک کیا.. اور نمبر دیکھا..
یہ کس کا ہے اور کس نے بات کی یے “وہ کال ہسٹی چیک کرنے لگا..
تب تک ھیا بھی ا گئ..
کل تم نے میرا سیل یوز کیا تھا” وارب نے تیوری چڑھا کر پوچھا…
حیا کو جیسے یاد ا گیا..
ہاں وہ میری بیٹری ختم ہو گی تھی. تو درخشے نے اپکو کال کر لی.. “حیا نے بتایا.. جبکہ وارث نا سمھجی سے دیکھنے لگا..
اب یہ درخشے کون ہے “اسنے جیسے ہوچھا… حیا کا بس نہیں چلا اپنے بال نوچ دے….
اف… کیا تھا وارث…
کوی نہیں اس معصومیت پر میں اپکی کچھ نہیں کہہ سکتی.. “اسنے.. بالوں میں برش چلایا.. جبکہ وارث نے اسکے بال مٹھی میں بھر لیے اور اسکا رخ اپنی جانب کیا..
حیا نے اسکیطرف دیکھا.. جو ہھر اسکی گردن کو دیکھ رہا تھا.. اور پھر اہستگی سے وہ جھکا. اور اسکی گردن کے تل پر پیار کیا جبکہ ھیا کا وجود سنسنا اٹھا…
وارث. اسکے اڑے اڑے رنگ دیکھ جر مسکرایا..
برداشت کی ہمت نہیں اور خواہشیں دیکھو میڈیم کی ” وہ اسپر طنز کرتا چلا گیا جبکہ حیا کا بس نہیں چلا برش مار دے اسکے سر پر
…………….
جاری ہے
