Sharabi By Tania Tahir Readelle50244 Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
اگلے دن وہ افس نہیں گئ تھی جبکہ اسے معلوم ہوا تھا اسکے پیچھے.. وجدان شاہ افس گئے تھے.. اور اکاونٹنٹ کے ساتھ کافی ضد کی کہ وہ کمپنی کے اکاونٹ میں سے رقم دے.. مگر حیا سختی سے منع کر چکی تھی… اور اسنے بلاخر اویس کو فون کیا…
حالانکہ وہ چاہتی نہیں تھی وہ ایک بڑی ملٹی نیشنل کمپنی چلا رہا تھا اور اسکے لیے وقت کیوں دیتا مگر اخری ملاقات میں حیا کو اسنے کسی بھی قسم کی مدد کی بات کی تو… اج وہ مجبور ہو کر.. اسے کال کر رہی تھی کیونکہ وارث….
کے سر کی چوٹ کافی گھیری تھی.. اور وہ اب تک سو رہا تھا.. فائز بھی وہیں تھا مگر اپنے باپ سے وہ کم ہی بات کرتا تھا…
تبھی کسی قسم کی مدد اس سے نہیں لی.. اور ویسے بھی وہ.. انپر کوئ روب ڈلوانا چاہ رہی تھی.. اویس کو فون کر کے اسنے اسکے سامنے اپنی مجبوری رکھی تو… وہ ایک گھنٹے بعد.. کمپنی میں پھنچ گیا ویسے اسے خود بھی کچھ کام تھا… مگر حیا کے شوہر کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی یہ سن کر پہلے تو… وہ ایک لمہے خاموش رہ گیا.. حیا شادی شدہ تھی اس بات کا اسے علم نہیں تھا اور پھر اسنے… تمام سوچوں کو پرے دھکیل کر اخلاقیات نبھاتے ہوئے..
وارث کی طبعیت پوچھنے کا سوچا.. اور انکے گھر چلا ایا…
جبکہ وجدان شاہ… اویس کو اتے دیکھ ہی نکل گئے تھے تبھی دونوں کا امنا سامنا نہیں ہو ا….
حیا اسے اپنے سامنے دیکھ کر حیران کھڑی تھی..
جبکہ وہ مسکرا دیا..
اپکے ہاں مہمانوں کی مہمان نوازی حیران ہو کر کی جاتی ہے “اسنے کہا تو حیا چونک گئ..
نہیں… اپ بیٹھیں” اسنے زرا سا مسکرا کر کہا… تو اویس سر ہلاتا بیٹھ گیا..
اب کیسی طبعیت ہے اپکے ہیسبینڈ کی “اویس نے پوچھا تو حیا… نے سر ہلایا..
جی اب تو بہتر ہے کافی” اسنے میڈ کو چائے کا کہا اویس کے منع کرنے کے باوجود….
ہوا کیا تھا انھیں” وہ پوچھنے لگا… تو حیا ایک پل کو خاموش ہوئ…
کیا بتاتی… شراب کے نشے میں وہ اس سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے گیرہ اور سر پھٹ گیا “
اسنے چیڑ کر سوچا…
بس پاوں پھیسل گیا تو سر پر چوٹ ا ئ”اسنے مدھم اواز میں ٹوٹی پھوٹی زبان میں کہا تو… اویس نے” اوو” کر کے سر ہلایا…
خیر اپ پریشان نہ ہوں.. “اویس اسکی طرف دیکھ کر مسکرایا… جس کی شکل ہی بتا رہی تھی وہ کافی پریشان ہے…
حیا مسکرا دی جبکہ یہ منظر چچی نے بڑے گور سے دیکھا….
اور وارث کے کمرے کی طرف چل دیں….
دروازہ بجایے بغیر وہ اندر آئیں تو دیکھا وارث سر تھامے بیٹھا ہے…
ویسے تمھارے سے زیادہ بے غیرت شخص اج تک نہیں دیکھا میں نے “انھوں نے کہا تو وارث نے سرخ نظروں سے انھیں دیکھا.. انکی اپنے کمرے میں موجدگی اسے زہر سے بھی زیادہ بری لگی….
کیا تکلیف ہے کیوں ائ ہیں” وہ غصے سے بولا… تو چچی مسکرا دیں طنزیہ..
تمھاری بیوی کھلے عام غیر مرد کے سامنے رنگ رلیاں کرتی پھیرے اور یہاں تم ہمیشہ کیطرح بیوقوف بنو” انھوں نے پیچھلا تانا بھی دے ڈالا..
ویسے بلکل باپ جیسے ہو وہ بھی ایسے ہی اس اوارہ کو چھوٹ دیتا تھا “چچی نے کانوں کو ہاتھ لگایا تو…. وارث نے ساتھ پڑے گلاس کو ہاتھ سے دھکیل کر نیچے گیرہ دیا.. کارپیٹ پر پانی گیر گیا جبکہ گلاس ٹوٹا نہیں…
یہ گلاس میں اپکے سر پر پھوڑ سکتا تھا.. اپنی اس کمزور اور بڈھے حسن کی حفاظت چاہتیں ہیں تو ابھی نکل جائیں” وہ چیخا.. تو چچی تو اسکی بدزبانی پر اسے کوسنے لگی..
ایسا بدزبان ہے… منحوس.. تو یوں ہی سڑ سڑ کر مرے گا..” وہ کہتی باہر نکل گئیں جبکہ وارث… چیخا…
حیا آ اآ آ آ آ”اویس اور حیا ایکدم چوکنا ہوئے…
حیا کو اویس کے سامنے شدید شرمندگی ہوئ.. وہ اسی لیے چاہ رہی تھی کہ وارث کے جاگنے سے پہلے وہ چلا جایے مگر وہ بیزنیس کی باتیں لے کر بیٹھ گیا..
اویس نے حیا کیطرف دیکھا..
جو ایکسکیوز می کہتی وہاں سے اٹھی
کیا میں انکی طبعیت پوچھ سکتا ہوں “اویس بولا.. حیا کا خوفزدہ ہونا اسے بلکل اچھا نہیں لگا.. جبکہ وہ اسکے شوہر کو بھی دیکھنا چاہتا تھا….
ج… جی وہ… جی.. ا جائیں” اس سے کوئ بات نہ بن پڑی تو دل میں رب سے فریاد کرتی وہ اپنے کمرے کی جانب چلی گئ….
……………..
وہ اندر داخل ہوئ تو… وارث نے اسے گھورا… جبکہ اسکے پیچھے اویس کو دیکھ کر… اسنے سختی سے مٹھیاں بھینچ لیں…
و… وارث.. یہ اپکی طبعیت پوچھنے آئیں ہیں…” حیا اس وقت شدید گھبرا چکی تھی..
وارث کی بدمزاجی سے بھلے پورا شہر واقف ہو مگر.. اویس واقف نہیں ہو گا وہ جانتی تھی….
آئیں ہیں..؟؟؟ َاسنے سوالیہ نظریں حیا پر اٹھائیں…
میرا مطلب” حیا انگلیاں چٹخاتی.. اویس کی جانب دیکھنے لگی جو اندر داخل ہوا اور وارث کیطرف ہاتھ بڑھایا…
کیسے ہیں اپ مسٹر وارث”
میں تھیک ہوں تم جاو “کہتے ساتھ ہی اسنے منہ موڑ لیا… جبکہ حیا کا رنگ پھیکا پڑ گیا.. اویس مدھم سا مسکرا دیا…
اوکے مس حیا… پھر ملاقات ہو گی اپ سے “اسنے کہا تو حیا مسکرا بھی نہیں سکی… اویس باہر نکلا تو.. حیا اسکے پیچھے ہو لی..
بات سنو میری” وارث چیڑ کر حیا کو پکارنے لگا مگر اسنے کان نہیں دھرے کیوں کہ اسے غصہ ا چکا تھا…
ایم سوری وہ بلکل ایسے نہیں ہیں…. شاید طبعیت کی وجہ سے ایسا کر رہیں ہیں “وہ بولی تو شرمندہ تھی..
ہمم. بعض لوگوں پر دوائیاں حد سے زیادہ اثر کرتیں ہیں تو انکا مزاج چیڑ چیڑہ ہو جاتا ہے.. اپ ٹنشن نہ لیں… کل افس میں ملاقات وہ گی” اسنے کہا تو حیا مسکرا دی جبکہ اویس باہر کی جانب چلا گیا….
وہ جب لون میں نکل گیا تو حیا کمرے میں ائ..
بہت تمھارا اس سےدل لگ رہا ہے” وارث نے جل کر پوچھا تو.. حیا نے غصے سے اسکو گھورا…
اپ نہایت بدتمیز اور بداخلاق ہیں.. “
ہاں میں ہی تو بدتمیز ہوں.. سارا اخلاق تو.. اس فرنگی پر ٹوٹ گیا “وہ چیڑتا بولا تو حیا.. نے اسکی جانب دیکھا..
وارث اپ کمرے کا حال دیکھیں اٹھتے ساتھ اپ نے چیزیں پھینکنا شروع کر دیں “وہ بستر پر سے سامان اٹھاتی بولی….
کیوں کوئ نیا پسند ا گیا ہے جو میرے کام کرتے ہوئے ہاتھ ٹوٹ رہے ہیں “وہ بولا تو حیا نے پلٹ کر دیکھا….
وارث ہنس دی..
تم غریب میڈل کلا س لڑکیوں کا یہ ہی مسلہ ہے جو امیر دیکھا بس اسکی طرف ہو گئیں کوئ سٹنڈرڈ نہیں ہوتا تم لوگوں کا..” اسکی آنکھوں میں حیرت کے ساتھ ساتھ سرخی دیکھ کر وہ مزید بولا.. وہ چاہتا تھا وہ روئے….
اسے تکلیف ہو….. کیوں اس بات کا اسکے پاس جواب نہیں تھا….
مجھے بھی یہ بات نہیں سمھجہ اتی.. کہ ہر امیر ماں باپ اپنے بگڑے ہویے امیر زادے کے لیے…
ایک ایک غریب لڑکی کیوں ڈھنڈتے ہیں.. ہر کہانی میں خراب ہیرو کے ساتھ غریب لڑکی ہی کیوں ہوتی ہے.. کیونکہ جتنا اس غریب لڑکی کا سٹنڈرڈ ہوتا ہے.. اتنی ہی اس امیر زادے کی اوقات ہوتی ہے…. “وہ مظبوط لہجے میں بولتی کمرے سے نکل گئ جبکہ وارث نے دانٹ بھینچ کر.. خود پر سے کمبل اتارا.. اور سائیڈ لیمپ پر پڑا سارا سامان دیوار پر دے دے کر مارنے لگا… جبکہ حیا یہ شور سنتی اس سے پہلے دوسرے کمرے میں جاتی وارث نے اسکی گردن پکڑ کر اسے دوبارہ کمرے میں کھینچ لیا…
کس اوقات کی بات کر رہی ہو کیا ہے تمھاری اوقات
. وہ سڑک چھاپ…. کپڑے کی چھوٹی سی کرایے کی دوکان پر پڑا تمھارا.. بوڑھا باپ…. یہ وہ استانی تمھاری ماں.. اور تم…. تم.. کیا تھی امیروں کے خرچے پر پلنے والی.. غریب اور بدکردار عورت جو میرے باپ کے سمانے مجھے مانگنے گئ تھی “وہ چیختا ہوا اسے بیڈ پر پھینک چکا تھا…
حیا کی انکھ سے انسو نکل ائے…
اور اپنی اوقات کے ساتھ میری اوقات ملاو گی تم تم…..” وہ حقارت سے اسکو دیکھ کر بولا……
برینڈ ہے وارث شاہ برینڈ.. سمھجی ہو تم میرے پیسوں پر ناچنے والی میرے سامنے منہ نہ کھولنا اگلی بار….” گھٹیا الفاظوں سے نوازتا.. وہ اسکو گھورتا… واشروم میں چلا گیا.. جبکہ حیا.. اپنی سسکیاں دباتی کمرے سے باہر بھاگ گئ..
اسکا دل کیا بھاگ جائے.. اتنا بھاگے کے وہ دور چلی جائے…
یہ اپنے دل کو چیر کر اس میں سے وارث کو نکال پھینکے…
وہ بھاگتی ہوئ لون میں ا گئ….
…………………
بینچ پر بیٹھی… وہ اپنے آنسوں خود ہی پوچھ رہی تھی… کہ عماد اسکے ساتھ بیٹھا تو اسنے سرخ نظریں عماد پر اٹھائیں…
بہت برا ہوا… بہت برا “وہ مسکرا کر ہمدردی کرنے لگا.. حیا اٹھنے لگی تو.. اسنے اسکا ہاتھ پکڑ لیا..
چھوڑو مجھے” وہ غصے سے بولی… توعماد نے اپنے انگوٹھے کی مدد سے اسکی کلائ کو عجیب انداز میں چھوا… حیا کا دل جیسے دھک سے بیٹھ گیا…
ظالم ہے یہ شرابی… تمھارا.. ایک نظر بس مجھ پر ڈال لو… رانی بنا کر رکھو گا پیسے بھی دوں گا فکر نہ کرو ” وہ واضح لفظوں میں اپنے دماع کی گندگی بتانے لگا تو. حیا.. فق رہ گئ….
نہیں نہیں یہ مت سمھجنا شادی کی کوئ ڈیمانڈ ہے….”
چٹاخ “اسکے باقی الفاظ اسکے اپنے منہ میں ہی رہ گئے جبکہ حیا… کی سانسیں پھول چکیں تھیں…..
وہ اگ بگولا ہوتی…. اسکے منہ کو نوچ دینا چاہتی تھی….
تم میری بولی لگاو گے “وہ دھاڑی
میں تمھیں زمین میں گاڑ دوں گی” وہ بھپری شیرنی لگی…
عماد ابھی اسکی جانب بڑھتا کے… اسکے پیچھے کھڑے وارث کو دیکھ کر…
وہ وارث کی جانب بڑھا…
سمھجا لو تم اپنی بیوی کو…. زیادہ مجھ سے چپک رہی ہے….
پھر بعد میں برا میں ہوتا ہوں…
پہلے ماں پیچھے پڑی تھی اب.. صاحب زادے کی بیوی نے پکڑ لیا…
شادی شدہ ہو تم بھی اور میں بھی شرم کرو “وہ اسپر الزام لگاتا.. وہاں سے دندناتا ہوا چلا گیا…
حیا نے وارث کی طرف دیکھا.. اسکی نظروں میں کوئ تاثر نہیں تھا..
مگر جو اج اسنے حیا کے ساتھ کیا تھا اسکے بعد حیا کا اس سے بات کرنے کا بلکل دل نہیں کر رہا تھا اور وہ کیا صفائیاں دیتی
کون سا اسنے مان لینا تھا….
وہ پاس سے گزر گئ جبکہ… وارث.. باہر نکل گیا.. اسنے عماد کی گاڑی کا تالا توڑ دیا تھا جبکہ وہ اپنی دونوں گاڑیاں بیچ چکا تھا…
اور گھر میں اسکے بعد.. صرف عماد کے پاس بڑی گاڑیاں تھیں..
…………………..
وہ ارہم کے گھر پہنچا تو ارہم بستر پر یوں ہی پڑا تھا…
اسنے پانی کا جگ اٹھایا.. اور اسکے منہ پر الٹ دیا جبکہ وہ چیخ مار کر اٹھا..
گڈ مورنیگ “وارث نے کہا. اور وہاں پڑی سیگریٹس میں سے ایک اٹھا کر جلا کر ہونٹوں میں لگا لی جبکہ ارہم کو ہوش ایا.. اور وہ.. تیزی سے اپنے کمرے کیطرف دوڑا.. وارث نے بھی پلٹ کر اسکو دیکھا..
میں برباد ہو گیا” ارہم اپنی الماری سے کپڑے پھینکتا.. چیخا.. جبکہ وارث ہنس دیا..
تیری زندگی میں تو بربادی مچانے کے لیے کوئ حیا نہیں ائ” اسنے کہا.. اور سیگریٹ کے کش لیتا رہا…
ابے سالے.. چورا کر لے گئیں…. وہ میرے 4 کروڑ روپے رکھے تھے کل ہی بینک سے نکلواے تھے “وہ غصے سے چیخا..
مطلب.. “وارث کی سمھجہ میں کچھ نہیں ایا جبکہ ارہم اسے رات کا قصہ سنتا چلا گیا.. وارث ایک پل کو ھیران ہوا.. اور پھر.. شاید عرصے بعد اسنے قہقہ لگایا تھا…
ابے لڑکیاں بھی چورنیاں ہو گئیں. بات مزے کی یہ ہے.. سالے تیرا بھائ ہوتا.. تو واپس نہ جاتی… اپنا ہی سب لٹا کر جاتیں..اور ایک تو ہے… چہ چہ چہ “وہ اسپر افسوس کرتا بولا جبکہ ارہم نے صوفے پر سے کوشن اٹھا اکر دور پٹخ دیے..
اچھا بات سن….
عماد کے ہاتھ توڑنے ہیں” وہ عماد کے ہاتھ میں ھیا کا ہاتھ یاد کرتا بولا..
اور مجھے اس ڈائن چورنی کے “ارہم نے مٹھیاں بھینچی
………………..
فائز تم مجھے امی کے گھر چھوڑ دو گے “حیا نے فائز کے کمرے کا دروازہ بجایا.. شام کا وقت تھا وہ افس سے ا چکا تھا..
فائز ایکدم ہی اٹھ گیا..
جی بھابھی ٹھیک ہے.. “اس ڈرے سہمے چہرے کو دیکھنے کی بھی خواہش ہوئ…
جبکہ چچی نے کھا جانے والی نظروں سے اسکو دیکھا..
تیرا شوہر تو تیرے کام کا نہیں میرے بچے کو نوکر بنا رکھا ہے” وہ بولیں تو.. حیا.. جو پہلے ہی دماغ خراب کیے بیٹھی تھی پلٹی…
کم از کم میرا شوہر اپکے اور اپکے شوہر کی طرح چوریاں نہیں کرتا… ” اسنے جواب دیا اور اپنے کمرے میں چلی گئ..
اپکو کیا ضرورت تھی “فائز نے کہا تو.. انھوں نے غصے سے گھورا..
زبان کو نہ لگام دو اپنی… اور کوی ضرورت نہیں اسکو چھوڑنے کی”وہ برہم ہوئ.. تو فائز نفی میں سر ہلاتا چلا گیا…
نکمی اولاد” وہ پیچھے سے بولیں….
جبکہ فائز حیا کو لے کر… انکی امی کے گھر کی جانب چل دیا..
کچھ ہی دیر میں وہ وہاں پھنچ گئے تو دروازہ بھی اسی نے کھولا.. فائز کی آنکھوں پر گلاسز تھے
وہ غور سے اسکو دیکھ رہا تھا جو اپنی اپی کے گلے لگی ہوی تھی…
فائز اندر ا جاو” ھیا نے کہا تو اسنے نے نا چاہتے ہویے بھی انکار کر دیا….
درخشے دروازہ بند کر دو” حیا اندر چلی گی جبکہ اسنے دروازہ بند کیا.. فائز اسے متواتر گھور رہا تھا جبکہ وہ کنفیوز ہو چکی تھی… ابھی وہ دروازہ پورا بند کرتی کے فائز نے پکارہ..
مس درخشے بہت جلدی ہے اہکو دروازہ بند کرنے کی” اسنے کہا تو درخشے سرخ پڑ گئ..
نہیں بھائ اپ اندر ا جائیں… “درخشے بولی تو فائز نے سر پر ہاتھ مارا..
تفصیلی ملاقات کی ضرورت ہے”اسنے کہا.. اور زن سے گاڑی بھگا لی…
……………..
یار تم تو بڑی تیز نکلی… ” بختاور نے ماہرخ کو دیکھا
بس تمھاری بیٹ کی وجہ سے… یہ کیا ہے میں نے اگلی بار مجھے ایسی کسی شرت میں شامل مت کرنا” ماہرخ نے کہا.. تو بختاور ہنس دی..
جان من اب تو تم ہمارے گینگ میں شامل ہو گئ ہو “وہ بولی… تو ماہرخ سمیت درخشے نے بھی حیرت سے دیکھا…
کیا مطلب “ماہرخ نے گھور کر دیکھا..
تم دونوں کی یہ بات بہت اچھی ہے ایک جزباتی ہے تو دوسری بیوقوف….” بختاور نے قہقہ لگایا وہ اس وقت کالج کے پاس والے ریسٹرنٹ میں موجود تھے..
کیا بکواس کر رہی ہو اور کس طرح بات کر رہی ہو تم “ماہ رخ سمھجہ نہ سکی 4 پانچ ماہ پہلے ہی تو دوستی ہوئ تو.. انکی اور بختاور نے ماہرخ کو ایک ٹاسک دیا تھا جس پر اسنے انکار کر دیا.. تو وہ اسے بزدل کہہ کہہ کرچیڑانے لگی اور جب اسنے پورے کالج کے سامنے کہا تو جسٹ فور فن اسنے حامی بھر لی اور ارادہ یہ تھا کہ وہ یہ رقم معزرت کے ساتھ واپس لوٹا دے گی..
جبکہ یہاں تو ماجرہ ہی الگ تھا…
میں تو سچ کہہ رہی ہوں.. “اسنے مسکرا کر کہا اور مڑی جہاں اسکے پیچھے دو لڑکے کھڑے تھے درخشے نے… ماہرخ کا ہاتھ پکڑا دونوں کو غلطی کی سنگینی کا اندازا ہو گیا تھا…
یہ روکی ہے اور یہ سنی… اور ہم…. چوری کرتے ہیں… اور پھر مال ادھا ادھا” بختاور نے کہا تو… درخشے کانپتی ہوی اٹھ گئ…
ماہرخ کا رنگ فق ہو چکا تھا…
اگر اسکے باپ کو یہ بات پتہ چل جاتی تو.. ضرور وہ اسکا قتل کر دیتا…
تمھیں تو میں دیکھ لوں گی بختاور” ماہرخ چیخی جبکہ بختاور ہنس دی..
منہ کھولنے کا مطلب یاد رکھنا دو عزت دار لڑکیاں پولیس تھانے کاٹیں گی” بختاور بولی تو… ماہرخ درخشے کے پیچھے بھاگی…
یار روکو “وہ بولی.
کیا روکو.. اتنا روکا تھا میں نے تمھیں مگر تمھیں اپنی زبان پوری کرنی تھی میں سچ کہہ رہی ہوں ابو کو پتہ چل گیا تو.. وہ بے موت مارے جائیں گے”وہ روتی ہوئ بولی تو ماہرخ نے اسکیطرف دیکھا..
اور مجھے مار دیا جایے گا “دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھتیں رونے والی ہو رہیں تھیں.. مگر غلطی تو وہ کر چکیں تھیں..
کس نے اور کہاں کہاں انھوں نے یہ غلطی بھگتنی تھی معلوم نہیں…
………………
وہ میری گاڑی لے گیا “عماد چلایا… تو رمضان شاہ نے سر تھام لیا جبکہ تای اسکو بدعائیں دے رہیں تھیں…
جینا حرام کر دیا اس نے اور اسکی بیوی نے” وہ وارث کو سوچتے ہوئے بولے.
اسکی بیوی کو تو میں دیکھ لوں گا… بلکل ویسے ہی جیسے اس شرابی کی ماں کو دیکھا تھا.. ویسے ہی تڑپا تڑپا کر…
اسکو یہاں سے دفع ہونے ہر مجبور کر دوں گا” وہ کچھ یاد کرتے ہوئے بولا…
تو رمضان شاہ کی بھی آنکھوں میں وہ بے سب آنکھیں ا گئیں…
مگر انھوں نے تادیر نہیں سوچا….
ہممم کچھ کرو اور جلدی کرنا باقی وارث کو زرا برداشت کر لو” وہ بولے تو عماد نے غصے سے انکی جانب دیکھا…
سب سے پہلے تو اسے کتے کی موت مارنا چاہیے تھا..” وہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا جبکہ رمضان شاہ گھیری سوچ میں ڈوب گئے..
……..
جاری ہے
