Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ازقلم تانیہ طاہر
Episode 3
مسٹر فائز کس لیے اس آفس میں داخل ہوئے ہیں “اسکی کڑک اواز سن کر وہ پلٹا… اور سب کیطرف دیکھا… سب ایملوئیر ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہے تھے..
کیا ہم اندر جا کر بات کر سکتے ہیں” فائز نے اہستگی سے کہا…
تو حیا نے سب کی جانب دیکھا اور سر ہلایا..
شیور”وہ اپنے کیبن کیطرف پلٹی.. کمپنی کا حال اتنا برا تھا کہ.. وہ کسی طرح… کمپنی میں شیرز ڈل جائیں اس جدوجہد میں تھی…
وہ اندر داخل ہوئ اور اپنی کرسی پر بیٹھ گئ…
مجھے اچھا نہیں لگا اپ نے سب کے سسامنے مجھ سے ایسے بات کی” فائز نے سنجیدگی سے کہا…
تو حیا طنزیہ مسکرائ..
مجھے بھی اچھا نہیں لگا جب تمھارے سگوں نے اس کمپنی کو نوچ نوچ کر کھا لیا..
فائز نے اسکی جانب دیکھا..
یہ جو اپکے پیچھے بلیک اینوائٹ تصویر میں موجود انسان اکتایا ہوا سا کھڑا ہے…
اس کمپنی کو سب سے زیادہ نوچنے والا صرف وہ ہی ہے…
اور اگر اپ کو لگتا ہے کہ میں بھی انھیں میں شامل تھا تو میرا اکاونٹ سیل کیوں نہیں ہوا”اسنے ائبرو اچکا کر پوچھا تو حیا خاموش سی ہو گئ….
میں یہاں پر نوکری کر رہا ہوں… اس سے زیادہ کچھ نہیں… ” اسنے دو ٹوک انداز میں کہا… اور جانے لگا کہ حیا کے پکارنے پررک گیا….
مجھے ایک سہارے کی ضرورت ہے… “وہ مدھم اواز میں بولی کیونکہ وہ ناجائز اسپر غصہ اتار چکی تھی.. یہ تو وہ بھی جانتی تھی کہ وہ ان سب جیسا لالچی نہیں تھا…. اسکی فطرت اپنے کام سے کام تک کی تھی….
مگر میں اپکا سہرا نہیں بن سکتا… اپ سمندر میں کھڑیں ہیں اور یہ بھی خواہش کر رہیں ہیں کہ طوفان بھی نہ ائے تو یہ حماقت ہے… بات صرف اتنی ہے.. کہ یہ جنگ اپکو اکیلے ہی لڑنی ہو گی… کیونکہ اپکے لیے مصیبت وارث کے سوا کوئ نہیں… ہاں اسکو چھوڑ کر کوئ بھی اپ تک نہیں پہنچے گا اس کے لیے میں اپکے ساتھ ہوں “اسنے بغیر مڑے کہا.. حیا خاموش رہی …..
فائز بھی اگے بڑھا کے ایک پل کو رکا….
وارث نے بڑے پاپا کی دونوں گاڑیاں بیچ دی ہیں… ” اسنے بتایا تو حیا ایک دم اٹھ کھڑی ہوئ..
یہ کیا کہہ رہے ہو “وہ حیران ہوئ…
مجھے لگا اپکو پتہ ہو گا” اسنے پوچھا تو… حیا نے سر تھام لیا….
اسکی آنکھیں بھیگ گئیں اس انسان کو کیسے سمبھالنا ہے یہ بات نہ سمھجہ انے والی تھی……
فائز اسکو سر تھامے دیکھتا رہا….. اسے اس لڑکی پر ترس ایا… کیسے وہ سب سمبھال رہی تھی اور اسی کا شوہر سب اجاڑنے پر تلا تھا…
اب وہ گھر بیچنا چاہتا ہے “فائز نے ایک اور دھماکا کیا تو حیا اسکیطرف دیکھ کر رہ گئ…..
دونوں کے پاس کوئ جواب نہیں تھا….
……………..
وہ گھر ائ تو کافی تھکی ہوئ… تھی مگر اسے جلد پتہ چلا کے وارث کے دوست ائے ہوئے ہیں…
فلحال اسکا بلکل دل نہیں کیا کہ اس ادمی کیطرف دیکھے بھی…
تبھی وہ فریش کو ہو کر بستر پر لیٹ گئ….
کہ تبھی دروازہ نوک ہوا….
اسنے اکتا کر دیکھا….
یس کم ان “اسنے بامجبوری کہا تو عماد اندر داخل ہوا….
بات کرنی ہے مجھے تم سے” وہ پہلی بار ایک دوسرے سے مخاطب ہوے تھے…
وہ بھی ابھی کچھ دنوں سے ماہم اپنے میکے گئ ہوئ تھی.. تو عماد یہاں نظر ایا تھا.. ورنہ عماد کی گھٹیا فطرت کو سب ہی جانتے تھے…
میرے اور اپ کے درمیان ایسا کچھ نہیں کے بات چیت کی جائے اپ جا سکتے ہیں” اسنے سمبھلتے ہوئے مناسب جواب دیا مگر عماد مسکرا دیا…
اور دروازہ بند کر دیا…..
یہ کیا بدتمیزی ہے دروازہ کھولیں” وہ غصے سے اٹھی….
مگر عماد اسکیطرف بڑھنے لگا…
یہ جو تم پوری کمپنی پر… قبضہ کر کے بیٹھ چکی ہو.. ہمارے اکاونٹس سیل کر دیے تمہیں کیا لگتا ہے… یہ سب تمھارے حق میں گیا ہے… نہ میری بلبل…. یہ تمھیں نقصان پہنچا سکتا ہے… ” عماد نے اچانک ہی اسکی کلائ پکڑی.. اور اسکے ہاتھ کو عجیب انداز میں چھوا
.. حیا کا دل لرز اٹھا.. اسکا محافظ تو… شاید ہی اسکی حفاظت کے لیے اتا… اسے خود ہی اپنی حفاظت کرنی تھی….
اسنے بنا کچھ سوچے سمھجے عماد کے منہ پر تھپڑ دے مارا…
ہمت کیسے ہوئ مجھے ہاتھ لگانے کی “وہ حلق کے بل چلائ…
عماد پہلے حیران کن اور اب عقابی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا…
اسنے بھپری ہوئ حیا کے دونوں ہاتھ سختی سے جکڑ لیے… حیا خود کو چھڑانے کی تگ و دو کرنے لگی….
یہ تھپڑ تمھارے لیے عزاب بن جائے گا” وہ پھنکارہ..
مجھے پرواہ نہیں اگر میں وارث کو یہ سب بتا دو…. تو وہ تمھارا حشر بگاڑ دے گا” حیا بنا گھبراے بولی مگر اس سے ہاتھ چھڑانے کی کوشش جاری تھی..
ہاہاہا وارث.. وہ شرابی.. جو اپنے قدموں پر نہیں چل سکتا… وہ میرا حشر بگاڑے گا….
وہ ہنستے ہنستے… بیڈ پر بیٹھ گیا… جبکہ حیا.. اسکی شکل دیکھنے لگی.. اور جھٹکے سے اس سے ہاتھ بھی آزاد کرا لیے…
تمھیں کیا لگتا ہے گھر میں کسی کو پتہ نہیں کی بی بی حیا کو وارث صاحب منہ نہیں لگاتے “اسنے انکھ ماری تو حیا کا چہرہ سرخ پڑ گیا…
یہاں سے اٹھو اور دفع ہو جاو” وہ غرائ.. تو عماد ہنس دیا..
اچھا تمھیں راز کی بات بتاتا ہوں……
یہ تمھارا… شرابی…. میرا مطلب وارث”وہ ہنس کر تصیحی کرنے لگا…..
یہ بارہ سال کا تھا…. تب میں نے پلائ تھی اسے…..میں چاہتا تھا مر جائے سالہ.مگر ڈھیٹ اج تک زندہ ہے… خیر مر جائے گا جلد ہی.. “وہ ہنستا ہوا چمکتی آنکھوں سے حیا کو دیکھنے لگایا..
یہ اسکے لیے نیا انکشاف تھا…..
اور ….. اسکو… ایسا بنانے والوں میں مجھ سمیت بہت سے لوگ شامل ہیں…… اور اب مجھے خاص طور پر اسکی موت کا انتظار ہے پھر اس چڑیا کو.. میں کچل دو گا” وہ اسکے گال کو چھونے لگا کہ حیا دور ہو گئ… عماد ہنسا….
اوو ہاں جو کام کی بات تھی وہ تو میں بھول ہی گیا..” وہ سر پر ہاتھ مارتا پلٹا….
مجھے دو کروڑ روپے چاہیے……
وارث حویلی بیچنے پر لگا.. ہے…… اگر تم مجھے نہیں دو گی تو دیکھنا.. پھر تو یہ بکے ہی بکے…. کل شام تک میرے اکاونٹس میں پیسے ا جائیں ورنہ….. ہو سکتا ہے کوئ شراب.. کی بوتل اسکی زندگی کی اخری بوتل ہو” وہ ائ برو اچکاتا اسے خوف زدہ کرکے وہاں سے چلا گیا جبکہ حیا… اسکے مسکرا کر نکالنے اور دروازہ کھلنے پر سامنے کھڑے وارث کو دیکھ کر ساکت رہ گئ…
اسنے پہلے عماد کی جانب دیکھا… اور پھر حیا کیطرف….
عماد تو مسکرا کر.. نکل گیا جبکہ حیا وہیں کھڑی رہ گئ..
وارث کمرے میں داخل ہوا تو اسکے قدم لڑکھڑا نہیں رہے تھے.. تو کیا اسنے پی نہیں تھی….
وہ اچانک خوش ہو گئ.. ہاں ایک لمہے میں عماد کی ساری بکواس بھول کر.. وہ وارث کو دیوانہ وار تکتی رہی…
جبکہ وارث نے اسپر نگاہ بھی نہیں اٹھائ… اور اپنی پرائیویٹ الماری سے.. وہ بوتل اٹھا کر صوفے پر بیٹھ گیا…
سیگریٹ.. اور بوتل ایک دوسرے کے مقابل رکھے.. وہ گلا س بھرنے لگا….
اور ابھی یہ گلاس لبوں کو چھوتا… حیا نے گلاس تھام لیا….
جبکہ وارث نے بناکچھ دیکھے.. اسکے منہ پر کھینچ کر تھپڑ مار دیا….
حیا سن رہ گئ… وارث کی انگلیوں کے نشان اسکے منہ پر ایکدم لال ہو کر ابھرے تھے….
اسنے سرخ آنکھوں سمیت انگلی اٹھائ..
دوبارہ ایسا کبھی مت کرنا “کہہ کر وہ ایک سانس میں گلاس چڑھا گیا..
جبکہ اپنا موبائل کھول کر وہ.. اب اس میں مصروف ہو گیا تھا..
کم مائیگی کا احساس حیا.. کی سسکی باندھ گیا.. خاموش فضا میں اسکی سسکی سے بھی وارث کو فرق نہیں پڑا.. وہ انسو صاف کرتی.. واشروم میں گئ.. اور چہرے پر پانی ڈالتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی….
کچھ ہی دیر بعد اسے احساس ہوا.. وہ مسلسل روے جا رہی ہے اور اسی اثنا میں اسکی آنکھیں بے حد سرخ ہو چکی ہیں… وہ واشروم سے باہر نکلی اور بیڈ پر لیٹ گئ..
حالانکہ اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا مگر اسنے لائٹس اف نہیں کیں.. کمبل سر تک لے کر.. وہ.. منہ چھپائے رونے لگی… اور نہ جانے یوں ہی روتے روتے اسکی کب انکھ لگ گئ…
…………..
… ایک گلاس سے زیادہ وہ چاہ کر بھی ڈرنک نہیں کر سکا نہ ہی دوستوں کے انسیسٹ کرنے پر وہ انکے ساتھ نکلا اپنے کمرے سے عماد کو نکلتا دیکھ اسے پیچھے گزرے ماضی کے پل یاد انے لگے… تو اسکے اندر جیسے لاوا ابل پڑا…
اور اس لاوے کا اثر اسنے حیا پر نکال دیا…
ہمممم عورتوں میں غیرت ہی نہیں ہوتی… “اسنے تلخی سے سوچا… اور اٹھ کر بستر پر ایا…
اور ابھی وہ اپنا کمفٹر کھولتا کہ.. حیا کا چمکتا چہرہ سامنے دیکھ کر.. وہ اسکیطرف متوجہ ہوا…..
اسکے گالوں پر سرخ داپھڑ سے ابھر ائے تھے..
جن پر وارث غیر ارادی طور پر اپنی انگلی پھیر رہا تھا….
اسنے اپنا کمفرٹر چھوڑا اور حیا کا کمفرٹر.. خود پر پھیلا لیا…
حیا کسمسا کر اسکے اور نزدیک ہو گئ…
وارث اس سے منہ موڑنا چاہتا تھا.. مگر اسے اپنے تھپڑ کی شدت کا اندازا ہوا تو اندر عجیب احساس ہونے لگا.. وہ پہلی تھی جس پر اسنے غصہ نکالا… ورنہ غصہ پی لینا شراب میں میلا کر یہ تو اسنے سیکھ لیا تھا…
حیا کو اپنے بازوں میں بھرتے ہوئے. اسنے اسکے شانے پر سر رکھ دیا…
مگر اسنے تنہائی میں بھی اپنی غلطی پر اس سے معافی مانگنا ضروری نہ سمھجتے ہوئے آنکھیں موند لیں… اور جلد ہی وہ بھی پرسکون نیند میں اتر گیا….
……………..
صبح حیا کی انکھ کھلی تو اپنے. شانے پر اسکا سر دیکھ کر وہ یوں ہی لیٹی رہی کیونکہ وہ کسی بچے کیطرح اسکے ساتھ لیٹا ہوا تھا…
وہ اس سے نفرت نہیں کر سکتی تھی…
ماہم کی شادی پر پہلی بار اسے دیکھا تو وہ سرخ آنکھوں والا شخص اسے بہت اچھا لگا تھا… اور جب لاکھ کوششوں کے باوجود بھی اسکے خیالوں سے خود کو ازاد نہ کر سکی تو اسنے ہار مان کر ماہم سے کہہ ڈالا… جبکہ ماہم نے سب دوستوں کے ساتھ مل کر اسکا کافی مزاق اڑایا تھا.. حیا کو ان باتوں سے کوئ فرق نہیں پڑتا تھا…
وہ اپنی ضد پر ڈٹی رہی اور جب علمگیر شاہ نے وارث کو شادی کے لیے مجبور کیا تو ماہم نے اسکے سامنے سرسری سا زکر کیا…
تو وہ خود ہاں شاید پہلی لڑکی تھی جو علمگیر شاہ کے سامنے انکے بیٹے کے لیے ائ تھی ورنہ.. سب ہی وارث سے دور بھاگتے تھے….
اور علگیر شاہ نے تب ہی… اپنے بیٹے کے لیے اسے پسند کر لیا کیونکہ اسکی آنکھوں میں وارث کے لیے محبت چیختی تھی.. اور یہ بات اسکے سوا کسی کو دیکھائ نہیں دیتی تھی….
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی کہ… وارث نے اسکا چہرہ پکڑا.. وہ نیند میں بڑبڑا رہا تھا…
روزی “حیا نے جیسے ہی یہ لفظ سنے اور اسکو اپنے چہرے پر جھکتے دیکھا… اسنے غصے سے اسکے چہرے پر تھپڑ رکھ دیا…
وارث ایک دم ہڑبڑا کر دور ہوا…
شرم اتی ہے اپکو” وہ غصے سے چیخی…
وارث نے اسے ترچھی نظروں سے دیکھا پھر اسکے زخم کو دیکھا جو اسنے اسے دیا.. تھا… گردن پر.. اسکا نشان اسکی گردن پر کافی جچ رہا تھا..
اپ کتنے گندے انسان ہیں… خیالوں میں بھی وہیں ناپاک عورتیں ا رہیں ہیں اپکے” وہ گم اور غصے کی کیفیت میں تھی…
میں یہ تمھارا ہاتھ توڑ بھی سکتا تھا.. اج کے بعد قابو میں رکھنا” اسنے کہا اور بغیر کوئ جواب دیے وہ دوبارہ تکیوں پر لیٹ گیا مگر نہ جانے کیوں اندر سے اسکی خواہش تھی کہ وہ اسکو پھر سے ویسے ہی لیٹا لے… مگر وہ کہتا تو ضرور وہ الٹا چڑھتی تبھی اسنے منہ نہیں لگایا….
اپ نے کل مجھے مارا تھا تو میں بھی اپکا ہاتھ توڑ دیتی” وہ اسکو جھنجھوڑ کر چیخی…
بلاوجہ کیوں چیختی ہو تم” وارث جھنجھلا کر بولا…
حیا کی آنکھیں بھیگ گئیں….
وہ اٹھنے لگی.. اس ادمی سے سر پھوڑنا فضول تھا..
میں تمھارا مرد ہوں مار سکتا ہوں تمھیں “اسنے آنکھیں موندتے ہوئے جواب دیا.. تو حیا کا دل کیا منہ ہی نوچ لے وہ زیچ کر رہا تھا اسے..
میرے علاوہ اپ سب کے مرد ہیں” وہ غصے سے بولتی… واشروم میں چلی گی جبکہ وارث کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے…
اور اسنے تکیوں کو روز سے خود میں بھینچ لیا.. اور کروٹ بدل لی..
……………….
اسکا سیل فون بجنے لگا… تو 5 ماہ بعد اپنی ماں کا نمبر دیکھ کر اس. نے بے تابی سے اٹھایا
امی” وہ بولی…
حیا….” دونوں ہی ابدیدہ ہو گئیں..
حیا پانچ ماہ سے نہ تم نہ وارث کوئ نہیں ایا… جانتی ہو تمھاری ماں کتنا یاد کرتی ہے تمھیں. “وہ بولیں تو… حیا کی آنکھیں بھیگ گئیں…
میں اج ہی اتی ہوں اپکے پاس” اسنے کہا اور پھر تھوڑی بہت بات کے بعد فون بند ہو گیا…
جبکہ وہ مسکرا دی اج وہ اپنی ماں سے ملے گی…
اس سے زیادہ اور کیا اچھا ہو سکتا ہے…
تبھی فائز نوک کر کے اندر داخل ہوا…
دس منت میں میٹینگ ہے سب پریپئیر ہے.. امید ہے وہ ہمارے ساتھ شیرز ملائیں گے” اسنے کچھ پرجوش ہوتے ہوئے کہا..
مجھے بھی یہ ہی لگتا ہے” حیا مسکرای تو وہ دونوں میٹینگ روم کیطرف چل دیے……..
…………….
اوکے مس حیا… تو کل سے ہم مل کر کام کریں گے “اویس کے الفاظ حیا کے لیے تقویت کے باعث تھے. شکر تھا زندگی میں کچھ تو اچھا ہوا.. اسنے سر ہلایا اور اسکا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا یہ جانے بغیر کے کوئ انھیں ہی دیکھ رہا ہے… فائز نے بھی ہاتھ ملایا.. اور فائلز اٹھا کر باہر ا گیا…
جبکہ باہر نکلتے ہی وارث کو دیکھ کر وہ ٹھٹکا تھا جو اندر حیا کی جانب دیکھ رہا تھا…
اسنے اندر دیکھا.. حیا اویس سے بات کر رہی تھی.. اور گزر گیا.. اب حیا کا کیا ہونا تھا. وہ کچھ نہیں کہہ سکتا تھا…
مس حیا.. رات ایک ڈنر ہے.. کیا اپ مجھے جوائن کریں گی باقی ڈیٹیلز تب کلیر کر لیں گے ابھی فلحال میں جلدی میں ہوں ” وہ بولا.. تو حیا مسکرائ
شیور مسٹر اویس….” اسنے حامی بھر لی….
امم ائ تھینک یہ مس اور مسٹر ہٹا کر بات کرتے ہیں اب تو ساتھ ہے ہمارا”اویس مسکرایا تو حیا ہنس دی..
کیوں نہیں جیسا اپ چاہیں…
واو گریٹ.. اپ یقیناً ایک اچھی بیوی بن سکتی ہیں فرمابردار” اسنے ہنس کر کومپلیمینٹ کیا… تو حیا مسکرا دی بس…
اوکے جلد اپ سے ملنا ہو گا… “اسنے کہا اور الودعی سلام کر کے وہ باہر نکلا.. حیا بھی اسکے ساتھ نکلی تو وارث کو دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اپنی جانب متوجہ پایا..
اویس نے بھی ایک نگاہ اسکو دیکھا جبکہ حیا ٹھر گئ…
چلتا ہوں” وہ مسکرا کر کہتا باہر نکل گیا جبکہ حیا نے وارث کو دیکھا اور سر جھکا لیا…
وہ گاڑی کی چابی کو دیوار پر سنجیدگی سے مار رہا تھا…
حیا اگے چلنے لگی تو وہ اسکے پیچھے چل دیا…
میم یہ فائل سائین کرانی ہے” اچانک ایک ایمپلائیر اگے ایا…
اوکے دس منٹ بعد اپ ا جائیے گا” حیا نے کہا..
گھنٹے تک عالیا ہمیں کوی تنگ نہ کرے “وارث نے باواز بلند کہا اور کمرے میں حیا سے پہلے گھس گیا جبکہ حیا شرمندہ سی پیچھے داخل ہوئ..
اسکے داخل ہوتے ہی وارث نے اسکا ہاتھ موڑا اور اسے اسی بند دروازے کے ساتھ لگا کر وہ بلکل اسکے نزدیک تر ہو گیا.. کہ حیا کی سانسیں الجھ گئیں….
بہت شوق ہے تمھیں ہاتھ ملانے کا “وہ اسکے کان میں پھنکاراہ.. جبکہ اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر.. وہ اسے کھینچتا ہوا واشروم میں لے گیا…
وارث میری بات سنیں” حیا اسے سب بتانا چاہتی تھی مگر وہ سن کب رہا تھا ٹیب کے نیچے اسکے ہاتھ کر کے وہ ان ہاتھوں کو سختی سے صاف کرتا.. ایسے واضح کر رہا تھا جیسے اویس کے ہاتھ کا لمس مٹا رہا ہو….
اج کے بعد تم افس نہیں او گی” اسکا منہ سختی سے جکڑ کر وہ چنگھاڑا…
وارث… اویس.. صرف…
حیا” اسکے چہرے پر گرفت سخت کر کے وہ دھاڑتا.. اسے دیوار کے ساتھ لگا گیا. حیا کو گالوں میں تکلیف ہونے لگی..
صرف وارث…. صرف اور صرف وارث”اسنے اسکے سرخ لب دیکھتے ہویے.. کہا..
حیا نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا..
تمھیں منا کیا تھا کہ تم… یہ لیپسٹک نہیں لگاو گی “وہ انگوٹھے کی مدد سے اسکے ہونٹوں پر لیپسٹک رگڑ چکا تھا کے حیا کا ضبط جواب دے گیا..
انف “وہ اسے دھکا دیتی چیخی…
جب اپکو مجھ سے کوئ فرق نہی پڑتا تو کس بات کا حکم جمع رہے ہیں مجھ پر”وہ چلائ…
تو وراث پوکٹس میں ہاتھ ڈالتا.. ایکدم سنجیدہ ہو گیا..
ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو.. وٹ ایور میں کیوں اتنا اورر ایکٹ کر رہا ہوں..
میری بلا سے جھنم میں جاو “اسنے شانےاچکا کر کہا توحیا کو مزید تکلیف ہوئ مگر وہ آنسوں صاف کرتی باہر نکل ائ..
دو کروڑ دو مجھے” اسنے کہا تو حیا نے اسکی جانب دیکھا..
بنٹیاں نہیں ہیں.. وارث.. حیا کی جان “وہ مسکرائ.. تو وارث نے اسکی جانب ائ برو اچکا کر دیکھا…
اپ افس آئیں میں اپکو دو کروڑ روپے سیلری دوں گی “
اہ دس کروڑ دے دو یہاں نہیں او گا” اسنے حتمی لہجے میں کہا… تو حیا دکھ سے اسکی جانب دیکھنے لگی
جاری ہے…