Sharabi By Tania Tahir Readelle50244 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
شرابی
ازقلم تانیہ طاہر
Epi 21
ارہم فائز اور منیب تینوں اسکے پاس تھے جبکہ وہ غصے سے تپا ادھر ادھر چکر کاٹ رہا تھا… اسے سلاخوں کے پیچھے قید کر دیا گیا تھا..
اور وارث کی عزت نفس پر یہ بات کوڑے کی مانند پڑ رہی تھی… اسنے شاید اپنی زندگی میں ہر کام غلط کیا تھا غلط طریقے سے کیا.. مگر آج وہ بے قصور تھا تب دنیا نے اسے سزا دی… جبکہ جب اسکا قصور تھا تو کسی نے نہیں دیکھا کہ وہ کیا کرتا ہے…..
اس سب کے علاوہ حیا کی آنکھوں میں ناچتی بے یقینی وہ زور سے دیوار پر مکہ مار کر رہ گیا…
اور سامنے دیکھا جہاں انکا وکیل پولیس والے سے بحث کر رہا تھا…
دیکھیں زمانت ایف ای آر کٹنے سے پہلے آتی اب ایف ائ آر کٹ چکی ہے… “وہ بدمزاہ سا ہو کر بولا…..
وکیل نے بھی اسکی بات کی تعید کی….
دوسری طرف پارٹی بے حد سٹرونگ ہے اور گواہان بھی موجود ہیں یہ کیس آسانی سے نمٹنے والا نہیں ہے” اسنے کہا اور ان تینوں کے پریشان چہرے دیکھے…..
مگر ایک حل ہے کہ ان خاتون سے کوئ معاہدہ کر لیا جائے “وکیل کے کہنے پر ارہم نے سر ہلایا….
اور پلٹ کر وارث کی جانب آیا…
ارہم میں نے کچھ نہیں کیا “وہ ایک بار پھر دانت پیس کر اپنی صفائ دینے لگا…
میں نہیں جانتا تو نے کچھ کیا یے یہ نہیں… تیرا پہلے ریکارڈ کوئ خاص اچھا نہیں.. اور اتنے سارے گواہ موجود تھے وہاں….. یہ کیس پھنس چکا ہے.. تجھے باہر نکلنا ہے تو علینہ… کو رام کرنا ہی پڑے گا اس کے علاوہ کوئ حل نہیں… نہ ہی مالی طور پر ہم سٹرونگ ہیں اسکے جتنے کے… اس کیس کو گھسیٹتے رہیں وہ بھی تب جبکہ تیرے باہر نکلنے کے چانسیز نہیں ہیں.. “
ارہم کی تفصیل پر اسنے کوئ جواب نہیں دیا یہ اسکا دوست تھا.. خیر یقین بھی کیسے کرتا.. اسنے پہلے کون سی کوئ نیکی کی ہوئ تھی… فائز اور منیب کا بھی بے یقین چہرہ…. اسکے دل میں کوئ حوصلہ افزا بات نہ ڈال سکا…
تو کمشنر کو کال کر وارث نے کہا.. اسکے اعصاب اسوقت شدید تناو کا شکار تھے…
اگر وہ یہاں ہوتے تو.. یہ کیس نہ بڑھتا… وہ ملک سے باہر ہیں… اور انکا پی اے.. انکا وہاں کا نمبر دینے کو تیار نہیں “اسنے.. جواب دیا… وارث…. خاموش ہو گیا….. اور ان لوگوں کے پاس سے ہٹ کر دور زمین پر جا بیٹھا… اسکے انداز آج جیسے بے بس تھے….
وہ جو ہر معاملے میں بے فکر… لاپرواہی تھا…. ہر چیز پر گویا اپنا اختیار مسلط کر لیتا تھا.. آج ہارا ہوا.. وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا وہ بھی اس صورت میں جب اسکا کوئ قصور بھی نہیں تھا….
میں نکلوا لوں گا تجھے.. فکر نہ کر مجھے علینہ سے ملنا ہو گا.. “ارہم پریشان تھا.. مگر اسی کا دوست تھا منہ پھٹ.. سا…. تبھی وہ وہاں سے ہٹا.. فائز نے بھی تسلی کے دو بول بولے جبکہ منیب نے اسکو گھورا..
تم سب کی زندگی حرام کر کے رکھ دیتے ہو… آج پہلی بار مجھے خوشی ہوئ… ہے کہ تمھارے اند کا گھمنڈ ٹوٹ رہا ہے…” اسنے کہا.. اور وہ بھی وہاں سے چلا گیا..
پیچھے وارث… جیل کی تنہائی.. سخت زمین اور سب کی بے یقینی تھی……
……………………….
منیب تم گھر جاو.. بھابھی کو تسلی دو… ہم. دونوں علینہ کے پاس جاتے ہیں… ” فائز نے کہا… تو… منیب نے نفی کی..
تم لوگوں سے کام تو ہو نہیں رہا.. اگر وہ شرابی ہے تو… تم تو ہوش میں ہو.. وکیل بھی ہزار دو ہزار والا کیا. ہے تم لوگوں نے” منیب.. سختیس ے انکی جانب دیکھ کر اپنے سیل پر اپنے دوست کا نمبر ملانے لگا..
ہاں ضیاء مجھے تم سے ملنا ہے.. ہاں ابھی” اسنے کہا… اور فون بند کر دیا…
گھر چلو سوچ سمھجہ کر قدم اٹھانا.. ہے وہ لڑکی ضد میں بھی کچھ نہ کچھ کر سکتی ہے تبھی ہمارے پاس وکیل کا مظبوط ہونا بہت ضروری ہے” وہ بولا.. تو دونوں نے اسکی بات کی حامی بھری اور اسکے پیچھے وہ ایک ساتھ گاڑی میں سوار ہوئے…
………….
اکیلا چھوڑ آئے ہو میرے بیٹے کو وہاں…
وہ غصے سے ان سب کو دیکھتے ہوئے بولیں… جبکہ وہ سب جواب نہیں دے سکے…
انٹی ہم اسے نکلوانے کی کوشش کر رہے ہیں کیس بلکل مظبوط نہیں ہے ہمارا گواہان بیان دے رہے ہیں پولیس بہت تیزی سے ورک کر رہی ہے… “فائز نے تسلی سے انھیں کہا..
مگر وہ تو اکیلا ہے نہ وہاں… اور اسکی آنکھیں بتا رہیں ہیں وہ سچ بول رہا ہے مگر تم لوگوں کو یقین کہاں اے گا جا رہی ہو میں آپنے بیٹے کے پاس َ” وہ باہر کی جانب بڑھیں کسی نے انھیں نہیں روکا… جبکہ وہ ڈرائیور کے ساتھ پولیس سٹیشن کی جانب چل دیں پہلے بھی اسکی تکلیف پر وہ پریشان ہو اٹھتی تھیں مگر آج.. انکے دل کی کیفیت ہی عجیب تھی جبکہ حیا کی بے اعتباری پر بھی غصہ الگ ا رہا تھا…
اتنے عرصے دور رہنے کے باوجود وہ اسکی انکھ کے تیور سمھجہ رہیں تھیں جبکہ ہ اسکی محبت کی دعویدار کمرہ بند کیے ہوے تھی…
ڈرائیور انکے ساتھ ہی اندرا یا.. جبکہ ایک سائیڈ پر بنے سیلز میں سے ایک میں اپنے بیٹے کو دیکھ کر… انکی آنکھیں بھیگ گئیں وہ سر جھکائے بیٹھا تھا… وہ تڑپ کر اس تک پہنچی.. جبکہ ڈرائیور انکے بارے میں انسپیکڑ کو بتا رہا تھا… اور اسنے بتاتے ساتھ کئ نوٹ انکے کہنے پر ہی اسکے اگے رکھ دیے…
وارث نے سر اٹھا کر دیکھا…. اسکا دل کہہ رہا تھا حیا اے گی مگر آنے والا تو کوئ اور تھا.. جس کی شکل وہ اپنے آخری وقت میں بھی دیکھنا نہیں چاہتا تھا.. مگر انکی انکھ میں اترتے اور اب گالوں پر بہتے آنسوں کو وہ حیرت سے دیکھ رہا تھا..
وارث میری جان میرا بچہ…. آپ اکیلے نہیں ہو میں ہون اپکے ساتھ مجھے یقین ہے میرے بیتے نے کچھ نہیں کیا میں جانتی ہوں وارث… مجھے پتہ ہے آپ بے قصور ہو “وہ بھیگی اواز میں سلاخوں کے بیچ سے اپنا ہاتھ اسکی جانب بڑھاتی ہوئیں بولیں.. جبکہ انکی اس بات پر وارث نے دیوار سے سر ٹکا لیا.. یہ لفظ وہ اسکے منہ سے سننا چاہتا تھا.. مگر وہ پہلیں تو تھیں جو اسپر اعتبار کر رہیں تھیں..
کیوں ائ ہیں آپ یہاں” وہ مدھم اواز میں ہارے ہویے لہجے میں بولا….
میری اولاد… تنہا ہے اور میں گھر میں سکون سے رہتی…” وہ اپنے آنسوں پوچھتی بولیں..
آپکی اولاد تو ہمیشہ سے تنہا ہے… تنہا تھی اور تنہا ہی رہے گی “اسنے جواب دیا..
نہیں ایسا نہیں ہے” وہ رونے لگیں…
وارث ایسا نہیں ہے…. وارث میرا اللہ تمھارے ساتھ ہے” وہ اسکو چھونا چاہتی تھیں تبھی بار بار ہاتھ بڑھا رہیں تھیں..
میرے ساتھ” وہ حیرت سے انھیں دیکھنے لگا….
انھوں نے اثبات میں سر ہلایا…
مجھ جیسے کے ساتھ اللہ کیسے ہو سکتا ہے.. مجھے تو لگ رہا تھا یہ میری سزا ہے “وہ کافی ٹوٹا ہوا لگ رہا تھا…
آزمائش ہے وارث… جو بہت جلد وہ خود دور کر دے گا.. وہ کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا. تم غلط مت سوچو” انھوں نے جیسے اسے تسلی دی… وہ انکے قریب ا گیا… اور انکا بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر اسپر سر رکھ لیا.. اسکی اس حرکت پر وہ گویا تڑپ اٹھیں تھیں.. انکا ہاتھ بھیگ رہا تھا اسکے آنسوں سے…. جبکہ وہ اسکو سینےسے لگانا چاہتی تھیں…
میں نے کچھ نہیں کیا” اسنے انھیں بھی صفائ دی..
میں جانتی ہوں میرے بیٹے نے کچھ نہیں کیا..” اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر وہ بولیں..
مگر حیا کو مجھ پر یقین نہیں ہے “وہ شکستہ لہجے میں بولا.. تو وہ اسکی سرخ آنکھیں اپنے انگوٹھے سے صاف کرنے لگیں….
تم باہر آ جاو بس… پھر سب ٹھیک ہو جاے گا “وارث نے جواب نہیں دیا ایسے ہی انکا ہاتھ تھامے وہ سلاخوں سے ٹیک لگا گیا ایسے کے وہ بآسانی انکا چہرہ بھی دیکھ سکتا تھا… اور باقی سب کیطرف سے اسکی پشت تھی..
وہ انکو یوں ہی دیکھتا رہا.. جبکہ انکے ہاتھوں کی گرفت اسکے ہاتھ پر سخت ہوئیں…
وارث میں”
اپکی بہو بہت تیز ہے” وارث نے انکی بات کاٹی.. وہ مسکرائیں… دل کیا خوشی سے جھوم اٹھوں. اسکی نفرت اسکا سرد انداز اس وقت بلکل نہیں تھا….
تم اسے کم تنگ کرتے ہو “انھوں نے ہاتھ بھڑا کر.. اسکا گال چھوا. وارث نے دور نہیں کیا.. ہان وہ انکے مزید نزدیک ہوا…
کاش یہ بیچ میں سلاخیں نہ ہوتیں….
لو میں کب تنگ کرتا ہوں.. اگر وہ مجھے منہ لگاتی.. تو ایک بچہ نہ ہوتا میرا” وہ برا سا منہ بنا کر بولا.. جیسے بدمزاہ ہو…
بے شرم”وہ ہنس دیں….. جبکہ وارث بھی ہنسا….
جاننا نہیں چاہو گے… میرے ہر عمل کے پیچھے کا راز”نگاہیں جھکا کر وہ بولیں..
وارث دیکھتا رہا… بولا کچھ نہیں… انھوں نے کچھ دیر بعد سر اٹھایا… تو وہ انکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا… معمی سی مسکان چہرے پر سجائے….
انکی آنکھوں سے لاتعداد آنسوں بھے گئے….
وارث انکی جانب مڑا.. اور اپنے ہاتھ سے انکے آنسو صاف کیے….
جب جب میں تکلیف میں ہوا. آپ دونوں کو بے حد یاد کیا…
اتنی محبت نہ دیتے پھر چھوڑ جاتے… تب میں یاد نہ کرتا..
مگر آپ دونوں یاد آئے.. پھر میں بھاگنے کی کوشش کرتا….. میرا دل کرتا بھاگ جاو سب سے….. میں ریڈ لائٹ ایرے میں جانے لگ گیا….. “وہ چپ ہوا…
میرا قصور ہے” وہ مدھم اواز میں سسکیں…
اپ مجھے میری تکلیف میں میسر ہی نہیں آئیں.. کہ اپکی گود میں سر رکھ سکوں “
دیکھیں آج بھی آپ مجھے اپنی گود نپی دے سکتیں” وہ ہنسا… تو اسکی نکھ کے کنارے سرخ ہو گئے…
وہ اسکے چہرے کو تھام چکیں تھیں… دونوں سلاخوں پر سر رکھے جیسے برسو بعد ملے تھے آج……
…………………..
علینہ کو وہ پھنسا چکے تھے… کیونکہ اسکے پاس دس کروڑ.. کا ثبوت نہیں تھا…
نہ ہی ایسی کسی فائل پر جو علینہ زبانی بیان دے رہی تھی کہ جبکہ سی سی ٹی وی فوٹج سے.. وہاں ہوا معملہ بقائدہ عدالت میں دیکھا کر.. وارث کو اگلے دن ہی.. وہ تینوں باعزت بری کروا چکے تھے جبکہ علینہ پر اب وارث نے ضد کر کے کیس کروا دیا تھا….
جس پر ان تینوں نے اسے روکا. اور اسنے بس اتنا کہا…
کہ مجھے نکلوا کر کوئ احسان نہیں کیا تم لوگوں نے برسو سے میرے احسان طلے ہو…. اتار دیا… آج تم لوگوں نے اب مجھے کرنے دو جو میں کرنا چاہتا ہوں.. ” اسکے دو ٹوک جواب پر ان تینوں کی ہی زبان پر اسکے لیے گالیوں کی بچھاڑ تھی جبکہ وارث کا ایسا کوئ عمل نہیں تھا… حیا کے بارے میں سوچ سوچ کر.. اسکا دل بیٹھا جا رہا تھا اور وہ علینہ کو اچھے سے… زلیل کرنا چاہتا تھا….
جیل کی قید میں ایک رات… جو اسنے گزاری…. وہ اسکی زندگی کا شاید سب سے بڑا سبق تھا……
اسنے مختلف عہدوں پیماں کیے تھے خود سے….
اور جب وہ گھر داخل ہوا.. تو… سب سے پہلے… اپنی ماں کے گلے سے لگتے.. آج اسے لگا.. وہ برسو سے پیاسا تھا… اور اج اسکی پیاس پوری ہو گئ ہو.. آج اسے چھاوں نصیب ہوئ ہو..
حیران و پریشان سب ان دونوں کو دیکھ رہے تھے… وہ وارث کو چہرہ چوم رہیں تھیں.. آنسوں سے.. انکا چہرہ سرخ ہو گیا.. تھا.. جبکہ اسنے انکو مسکرا کر سینے سے لگایا.. اور سب کیطرف پلٹا…
وجدان شاہ رمضان شاہ منیب فائز ارہم… تائ چچی… ماہم.. سمیت شاید ویل چئیر پر بیٹھے عماد کی بھی آنکھوں میں حیرت تھی…
میں اپ لوگوں سے معافی مانگنا چاہتا ہوں “وہ بلاجھجھک بولا..
میرا رویہ میرا انداز…. یہ پھر ہر عمل کے لیے….” اسنے بآواز بلند کہا.. چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی….
حیا یہ زین ان سب میں نہیں تھے….
وہ خاموشی سے ان سب کے جواب کا منتظر تھا کہ رمضان شاہ آگے بڑھے اور دوسری طرف سے وجدان شاہ…
معافی ہمیں مانگنی چاہیے.. وارث.. ہم سب کا زمیر سو گیا.. تھا.. تمھارے اندر تو زبان کی تلخی تھی مگر جھوٹ نہیں بولا تم نے کبھی…. اور ہم سب نے بھائ جان کو بس جھوٹ بول کر لوٹا… اپنے بیٹے کی میں نے تربیت نہیں کی…. اور اج وہ کس حال “وہ رنجیدہ سے ہویے جبکہ عماد کی آنکھوں سے بے اواز آنسوں بہنے لگے.. جسے ماہم نے بھیگی آنکھوں سے صاف کیا..
عماد کے لیے وارث کے پاس الفاظ نہیں تھے… مگر.. دونوں کو دیکھ کر وہ مسکرا دیا…
فائز صاحب… اب تمھاری شادی میں میری شمولیت پکی ہے…. تو بچ کر رہنا” وہ.. آنکھیں گھماتا بولا جبکہ… سب ہنس دیے.. اور وہ تینوں اسپر جھپٹنے کے وہ دور بھاگا….
تو نے جتنا ہمیں زلیل کیا ہے.. اک دو کھا کر ہی سکون ملے گا” یہ منیب تھا…
لو تنکا بھی بولا “وارث کو کہاں سکون تھا….
منیب اس سے پہلے اس تک پہنچتا… وہ اپنی ماں کو آگے کر گیا…
ہمیں ضروری کام ہے ہم جا رہیں ہیں. “وہ انھیں لیے.. انکے کمرے میں چلا گیا.. جبکہ وہ سب.. پیچ و تاب کھا رہے.. تھے.. جبکہ… وارث کے ساتھ چلتی ہوئی آج وہ دل ہی دل میں اپنے شوہر سے بھی معافی مانگ رہیں تھیں….
…………………..
وہ رات گیے انکے زبردستی نکالنے پر کمرے سے نکلا..
میں بننے ہی نہیں دون گا ساس بہو کی دیکھ لینا “وارث گھور کر بولا…. جبکہ انھیں نے سر ہلایا…
پہلے تم اسکو منا لو پھر بات کرنا” وہ بولیں… تو وارث کو ایک بار پھر حیا کی فکر ستانے لگی…
گڈ لک”وہ مسکرائیں..
کہاں گڈ لک بیڈ ہی بیڈ لک ہے” وہ افسردہ ہوا… اور اپنے کمرے کی جانب چل دیا.. وہ جانتا تھا.. وہ تینوں.. ارہم کی گھر ہوں گے… مگر حیا کو منانا اپنی بے گناہی کا ثبوت دینا سب سے پہلے ضروری تھا……
………………
کمرے کا دروازہ کھلا تو وہ حیرانگی سے پہچاننے کی کوشش کرنے لگا.. کیا یہ اسکا کمرہ ہے..
سرخ پھولوں سے سجا کمرہ… مومبتیوں کی قمقموں کی مانند روشنی اور سرخ اناری ساڑھی میں چھپا نا چھپا سا وجود جھک کر شاید کینڈل جلا رہا تھا…
وارث غلط کمرے میں آ گیا بھائ” وہ نفی کرتا باہر نکلا… کہ تین مونڈیوں کو پلر کے پیچھے دیکھا..
اسنےا ی برو اچکائ… جبکہ وہ تینوں قہقہ لگا اٹھے..
کیا بکواس ہے…” وہ دھاڑا..
تیرا ہی کمرہ ہے جا جا “ارہم نے انکھ ماری تو وہ انپر لعنت بھیجتا ایک بار پھر اندر دیکھنے لگا.. نگاہ زین پر.. گئ…
جو پھولوں کو دیکھ کر ایکسائٹیڈ لگ رہا تھا…
بچہ تو اسی کا تھا وہ سانس کھینچتا اندر ایا…. اور پیچھے ان تینوں کے جھانکنے سے پہلے ہی دروازہ بند کیا.. مگر ساڑھی میں لیپٹا وجود گویا.. ان آوازوں پر بھی نہیں موڑا….
وہ زین کے پاس ایا اور اسکو گود میں اٹھا لیا….
بابا”زین نے اسکا چہرہ پکڑا.. وارث کو جھٹکا لگا
اچھا گندا
اب تمھارا باپ بن گیا” اسنے داد دی.. اور مسکرا کر… اسکے گال چومے.. زین نے خوشی کا اظہار کیا جبکہ وارث نے حیا کی جانب روخ کیا….
بدلے بدلے سے میرے یار کے آثار نظر آتے ہیں ہیں…. زین صاحب لگتا ہے اس لڑکی کو کہیں دیکھا ہے” وہ زین.. سے بولتا حیا کے نزدیک ایا… جبکہ حیا.. نے انکھ اٹھائ… وارث آگ کے شعلے کے پیچھے اسکا بکھرتا وجود.. دل تھامے دیکھنے لگا..
حیا اب بھی کچھ نہیں بولی…. اور وہاں سے ہٹ کر.. وہ بلکنی میں آ گئ…
وارث بھی زین کو لے کر اسکے پیچھے آیا…
ٹھنڈی نومبر کے اولین دنوں کی ہوا…. اسکے ساڑھی میں نیم چھپے وجود کو کپکپا گئ…
وارث.. کو یہ سب سمھجہ نہیں. ا رہا تھا.. آخری بار تو وہ بہت بے اعتبار لگ رہی تھی اور آج جیسے رنگ تو اسنے اسکے پہلے کبھی نہیں دیکھے….
وہ اس میں اتنا مگن ہوا… کہ زین کو بھی زمین میں اتار دیا.. جبکہ حیا اسکے نزدیک ا رہی تھی.. وارث کو لگا زندگی اسکے بے حد قریب ا گئ ہو…
ہاں اسنے ایسے کوئ اچھے کام نہیں کیے تھے پھر بھی.. اللہ کیطرف سے یہ اسکے لیے انعام تھا…..
وہ شکر گزار ہوا تھا اس لمہے….
حیا… کچھ کر رہی تھی.. مگر وہ اسکی اڑتی لٹوں کو اسکی گردن اور شانوں پر آوارہ گردی کرتے دیکھ رہا تھا.. اور اس سے پہلے وہ… ہاتھ اٹھا کر ان لٹوں کی نرمی کو چھوتا… اسے محسوس ہوا اسکے ہاتھ بندھ چکے ہیں.. اسنے حیرت سے خود کے پلر سے بندھے ہاتھ دیکھے.. اور پھر حیا کو دیکھا….
جو… لاپرواہی سے… اپنے بیٹے کے گال چوم کر…. چئیر کھینچ کر بیٹھ چکی تھی…
وٹ از دس “وارث نگم لمہوں کی زد میں تھا اور یہ سب ہو کیا رہا تھا.. وہ اب طبعیت کے مطابق.. چیڑ کر بولا…
اردو بولیں ہمیں انگلش سمھجہ نہیں آتی اور میرا بیٹا تو بہت چھوٹا ہے” شاندار مہکتے کھانے پر سے ڈھکن ہٹا کر وہ پلیٹ میں ڈالتی مزید لاپرواہی لگی…
حیا یار کھولو مجھے” وارث کی بھوک مچلی…..
اچھا…. “وہ نرمی سے مسکرائ… اور زین کو اپنے موبایل میں گیم لگا کر.. وہ اندر بیڈ پر اسکو لیٹا ے لگی.. جبکہ زین کو کھانا کھلا چکی تھی پہلے….
وہ باہر ائ.. وارث… نے اسکو گھورا…..
اگر مجھے معاف کر ہی چکی ہو.. تو ہاتھ کھولو پلیز کل سے بھوکا ہوں” اسنے عاجز ا کر کہا..
میں نے کب کیا” حیا اسکے بے حد نزدیک آتی… اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی…
تو کون سی دشمنی نکال کر غاہل کر رہی ہو “وہ اسکیطرف سر جھکانے لگا کہ وہ پیچھے ہٹی…
جیل کی ہوا کھا کر بھی نہیں سدھرے” وہ غصے سے گھورنے لگی
نہیں سدھر گیا ہوں…..
حیا میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے کچھ….
ششش”حیا نے اسکے لبوں پر انگلی رکھ دی….
مجھے آپ پر یقین ہے..” وہ بھیگی نظروں سے اسکیطرف دیکھنے لگی.. اور وارث کو لگا آج اسے سب مل گیا ہو اب کوئ تشنگی باقی نہ ہو…
گھبرا گئ تھی میں ڈر لگ گیا تھا….. اپ کو اس وقت اس لیے اعتبار نہیں دے سکی “اسکی آنکھیں گیلی ہوئ….
وارث نے ہاتھ کھولنے چاہے.. مگر… اسکی رسی نہیں کھلی….
کوشش مت کریں یہ کھل جایے گی” حیا نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر روکا….
ٹھیک ہے پھر رونا بند کرو “وارث نے کہا تو حیا نے آنسو صاف کیے….
میرے پاس کیوں نہیں ائ تم” وارث نے شکواہ کیا….
میں چاہتی تھی… قسمت اپکو سدھار دے… یہ اکڑو ہیرو زرا اپنے مزاج درست کرے… اور کون سا پیچھلے ریکارڈ درست ہیں جناب کے “وہ کھلکھلا ئ….
تیری” وارث نے ایک جھٹکے سے ہاتھ کھول کر اسے بانہوں میں بھر لیا..
حیا… نے ہونٹ. لٹکاے… وارث نے وہیں پکڑ کی….
لہمے بیتتے گئے…..
اور زندگی مسکرا اٹھی…
وہ جب دور نہ ہوا… تو حیا نے دھکا دیا…..
اور گھورنے لگی…
براونی آج تو خود جال میں پھنسی ہو” وہ اسکے گال کھینچتا.. بولا… اور چیر کھینچ کر بیٹھا…
ھیا شرما سی گئ اور اسکے سامنے کھانا رکھنے لگی..
امیزنگ یار کہاں سے آرڈر کیا” وہ مزے سے کھاتا بولا…
وارث”حیا صدمے سے چیخی…
……….
