Sharabi By Tania Tahir Readelle50244 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
Episode18
اسلام علیکم کیسے ہیں آپ مسٹر وارث”اویس نے شائستگی سے پوچھا پیچھلی ملاقات اسے ازبر تھی تبھی سمبھل کر بولا…
ٹھیک ہوں” خلاف توقع وہ سنجیدگی سے بولا…
جبکہ اویس نے جھک کر زین کو پیار کیا اور مسکرا کر حیا کیطرف دیکھا…
اپ بیٹھیں.. “حیا نے صوفے کی جانب اشارہ کیا تو اویس بیٹھ گیا.. وارث یہ سب دیکھ رہا تھا مگر اب تک کچھ نہیں بولا….
زین ٹھیک ہے “اویس نے حیا سے پوچھا..
جی الحمدللہ “اسنے کہا.. وہ چور نظروں سے وارث کو بھی دیکھ رہی تھی جو سنجیدہ سا… بیٹھا تھا…
امی تمھیں بہت مس کرتی ہیں.. شادی کا لارا دے کر تم تو نکل گئ” اویس نے ہنس کر کہا.. حالانکہ اسنے کسی اور سینس میں کہا تھا مگر سننے والا کچھ اور ہی سمھجا….
حیا نے وارث کیطرف دیکھا… جو اب بھی خاموش بیٹھا کھڑکی کے باہر دیکھ رہا تھا حیرت لازمی تھی اسکے اس عمل پر….
میں او گی…. انٹی سے ملنے.. اپ رمشہ کا خیال رکھیے گا” اسنے کہا تو اویس نے شانے اچکائے مگر جواب نہیں دیا…
اپ کو زیادہ تو نہیں لگی مسٹر وارث..” اویس نے وارث سے سوال کیا
نہیں “ایک لفظی جواب دے کر اسنے موضوع ہی ختم کر دیا…
اویس بھی حیران ہوا جبکہ حیا کو تشویش شروع ہو گئ…
کچھ دیر اویس بیٹھا رہا… حیا کا سارا دھیان وارث کی جانب تھا….
اوکے پھر تم سے کل ملاقات ہو گی آفس میں بس دو تین کام ہیں جو تمھارے ذمہ ہیں اسکے بعد تم چاہو تو چھٹیاں کر سکتی ہو”وہ بولا تو ھیا نے سر ہلایا..
ٹیک کئیر مسٹر وارث” اویس نے کہا تو.. اسنے کوئ ریسپونس نہیں دیا اور اویس باہر نکل گیا…
حیا نےا سکی جانب دیکھا جو اسکیطرف نہیں دیکھ رہا تھا…
وہ زین کے پاس صوفے پر بیٹھ گئ..
اب بھی ایک نظر اسپر ڈال لیتی کہ اسنے کچھ نہیں کہا اب تک کوئ ایکشن نہیں لیا…
جبکہ وارث نے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر پڑی گھنٹی بجائ…
حیا ایکدم اٹھی اسے کسی چیز کی ضرورت تھی .. مگر وارث کا اسپر بلکل جیسے دھیان نہیں تھا….
نرس انگھتی ہوئ اندر ائ
یس سر”اسنے وارث کی جانب دیکھا…
یہ آپکے ہسپیٹل کے رولز ہیں” وہ اچانک ہی چیخا… جبکہ نرس کی ساری نیند ہوا ہو گئ..
پر سر ہوا کیا ہے “وہ منمنائ..
وقت دیکھا ہے آپ نے رات کے دو بج رہے ہیں اور کوی بھی منہ اٹھا کر ا جائے گا…” وہ بولا… تو نرس نے ھیا کیطرف دیکھا..
سر اپکی فیملی ہے” نرس نے کہا.. مگر مقابل جیسے ہتھے سے اکھڑ گیا…
اسنے سائیڈ ٹیبل پر پڑا سامان ایک ہاتھ مار کر پھینک دیا…
میڈیسن پانی کا جگ… اور دوسری ضرورت کی چیزیں… زمین پر چھناکے سے پڑی…
وارث”حیا اسکے نزدیک ائ.. مگر اسکی توجہ نرس پر تھی…
تمھیں بتا کر میری فیملی بنا ہے…. وہ( گالی)” وہ بھڑکا…
سوری سر… “نرس نے جان بچانا چاہی….
درد ہو رہا ہے میرے ہاتھ میں” وہ ہاتھ کو غصے سے بیڈ پر مارتا…. اپنا جیسے اندر کا زلزلہ نکال رہا تھا….
سر میں پین کلر لگا دیتی ہوں… زخم گھیرہ ہے… اور ہڈی بھی متاثر ہے اپنے اسطرح کرنے سے ٹوٹ سکتی ہے.. سر پلیز رک جائیں “نرس اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے پین کلر لگانے لگی جبکہ حیا.. کو آج اس سے خوف سا ا رہا تھا… اسنے وارث کا ہاتھ پکڑنا چاہا…
اس عورت سے کہو دور رہے مجھ سے” اسنے نرس کو گھور کر دیکھا…
میم پلیز “نرس بے بسی سے بولی حیا انسو پیتی دور ہٹ گئ….
پین کلر لگا کر… وہ ہٹی جبکہ وارث.. نے اسکا سامان ہاتھ مار کر نیچے گیرہ دیا…
نرس نے ضبط سے اس شخص کیطرف دیکھا اور سامان اٹھا کر وہ تیر کی سی تیزی سے باہر نکلی..
کیا مسلہ ہے آپکے ساتھ… کیوں سب کو تنگ کرتے ہیں….
وارث آپ یہ سمھجتے ہیں کہ آپ ہی سب کچھ ہیں اور سب اپکی غلامی کریں.. اپکا کہنا مانیں…. آپ
خدا کی قسم اب اگر تم نے مجھ سے بات کی میں اپنا ہاتھ توڑ لوں گا “وہ دھاڑا جبکہ حیا کو گویا سانپ سونگھ گیا..
اسکے چلانے سے زین بھی جاگ کر رونے لگا..
جبکہ ھیا اسکوچپ کرانے لگی.. وارث اپنے اندر کی آگ کو دباتا… کروٹ لے کر لیٹ گیا جبکہ حقیقت یہ تھی.. کہ اس وقت اسکا ہاتھ اسکی آنکھوں میں آنسو لے ایا تھا..
ہاں اتنا ہی درد تھا اسے.. مگر اس سے زیادہ درد اسکو اپنے دل میں محسوس ہو رہا تھا…
بمشکل زین کو دوبارہ سلا کر اسنے وارث کیطرف دیکھا.. جس کی اسکیطرف سے کروٹ تھی….
اسنے غصے سے… نگاہ ہی پھیر لی اور صوفے پر زین کو سینے میں بھینچے.. لیٹ گئ..
کچھ ہی دیر میں اسکی انکھ لگ گئ.. جبکہ وارث.. سو نہیں پا رہا تھا.. وہ اٹھ کر بیٹھ گیا…
یہ تو یہ درد ختم ہو ورنہ ہاتھ ہی نہ رہے.. اس وقت اسکے یہ حالات تھے.. پین کلر بھی اسپر اثر نہیں کر رہا تھا… اسنے جھٹکے سے ڈریپ کھینچ کر اتاری.. اور کھڑا ہو گیا…
ہاتھ سے بہتے خون پر… اسنے روئ رکھی….
اور ھیا اور زین کو دیکھا…
کس قدر سکون سے سو رہے تھے وہ دونوں… وہ چلتا ہوا حیا کے نزدیک ایا…
رف سے حولیے سرخ آنکھوں میں تکلیف برداشت کرتا.. وہ بہت مختلف لگ رہا تھا…
اے اٹھو “اسنے حیا کے بازو کو ہلایا وہ چونک کر اٹھی..
وارث” بے ساختہ نکلا جبکہ وارث کے ماتھے پر بل ڈل گئے..
میرے ساتھ سو.. مجھے نیند نہیں. ارہی “اسنے کہا… انا تو ایسی تھی.. کیا کہتا کہ تکلیف سے بے چین ہوں..
حیا نے آنکھیں گھمائ..
کیوں میں کیوں او.. اپکو سلانے کے لیے ہزار کھڑی ہو جائیں گی کسی کو بھی بلا لیں “وہ تنک کر بولی…
وارث نے گویا خون کا گھونٹ بھرا..
وہ مڑ گیا…. اور اپنا سیل فون ڈھونڈنے لگا… حیا کے دل میں ایکدم بے چینی سی بھر دی.. وہ کیا تھا اس سے بہتر اسے کوی نہیں جان سکتا تھا… اگر اسنے واقعی کسی کو بلا لیا تو…
اسنےا یک پل کو خوف سے سوچا… وارث سامان اٹھا اٹھا کر پھینکنے لگا…
اف زین اٹھ جاے گا “وہ بولی مگر مقابل کو کیا فرق پڑتا تھا.. موبائل ملنے پر اسنے علینہ کا نمبر ڈائل کیا…
جو کہ اگلی بل پر اٹھا لیا گیا..
وارث نے سپیکر اون کر کے.. سائیڈ پر رکھا. اور دوسرے ہاتھ سے نکلتا خون صاف کرنے لگا
کہاں ہو تم” دو ٹوک بات کی.. حیا کی آنکھیں پھیل گئیں..
جان تم بتاو.. کیا کام ہے ایک پل میں حاظر ہو جاو گی…” علینہ جوش سے.. بولی…
وائین کی دو بوتلیں لے کر میرے پاس… اجاو.. ہسپیٹل کا اڈریس میں سینڈ کر دوں گا “اسنے کہا.. جبکہ مقابل کا نازک سا قہقہ نکلا…
لگتا ہے شیر بھکا ہے.. اسے شکار چاہیے. “وہ بولی جبکہ وارث نے.. حیا کی جانب دیکھا…
شکار ہی چاہیے… کچا چبانا ہے “مدھم اواز میں کہہ کر اسنے خون سے بھری روی حیا پر اچھال دی…
حیا نے غصے سے اسکی جانب دیکھا..
میں حاضر میری جان.. صدقے جاو.. تمھاری اداروں پر “مسکراتی…. اس سے پہلے وہ فون بند کرتی حیا نے فون اچک لیا..
لعنت ہے آپ پر…. اور اپکے اس گھٹیا فیل پر کہ رات کے اس پھیر ایک غیر مرد اپنی حوس پوری کرنے کے لیے اپکو بلا رہا ہے اور آپ کس قدر خوشی سے آنے کے لیے تیار ہیں.. تو جو کوی بھی ہیں آپ.. خدا کا خوف کریں.. انکی بیوی یہاں موجود.. ہے. سمھجی آپ.. اگر آنے کی مشقت اٹھائ تو ٹانگیں بھی توڑ دوں گی “کہہ کر اسنے فون پاور آف کر کے.. ایک سائیڈ پر پٹخ.. دیا..
اپ نہیں بدل سکتے” وہ افسوس سے.. بجھے دل سے بولی..
ہاں نہیں بدل سکتا.. “وارث نے بھی آنکھیں نکالیں..
کیوں کہ مجھے بدلنا ہی نہیں ہے….” اسنے کہا… اور خون کی دوسری روئ بھی.. پھینک دی..
حیا کی آنکھیں بھیگ گئیں…. اسنے وارث کا ہاتھ غصے سے پکڑا.. اور اسپر روئ رکھ کر ڈاکٹر ٹیپ چیپکا دی..
اوپر کریں ٹانگیں.. “وہ بولی نظریں جھکی ہوئیں تھیں….
وارث نے ایک نظر دیکھا.. اور اسے ایک ہاتھ سے پیچھے کرتا.. وہ لیٹ گیا… ایک تو سنگل بیڈ اوپر سے وہ پھیل کر لیٹا تھا…
حیا نے ایک نظر زین کو دیکھا… اور ایک کوشن. اسکے گرد لگا دیا… تا کہ وہ کروٹ لیتے ہوئے گیرے نہ…
جبکہ خود وہ وارث کے پاس کھڑی تھی اور وارث پورے بستر پر پھیلا ہوا تھا.. حیا نے بنا کچھ کہے اسکا ہاتھ ہٹایا… اور ایک ٹانگ کچھ دور کر کے.. وہ اسکے ساتھ لیٹ گئ….
نفرت ہے مجھے آپ سے “وہ سسکی…
مجھے بھی تم سے محبت کے دورے نہیں پڑ رہے…” اچانک ہی.. زرا سا دور ہوتے… وہ اسکو اپنے نزدیک تر کر گیا….
حیا اتنے عرصے بعد اسکی قربت پر گھبرا اٹھی….
ہاں آپ کر بھی کب سکتے ہیں مجھ سے محبت…. “اسکی انکھ سے آنسو نکلا..
بیوی ہو بیوی بن کر رہو” وارث… اسکے آنسوں کو اپنے لبوں پر چنتا سنجیدگی سے بولا…
حیا اسکے وزن تلے جیسے دب ہی گئ…
میں تو بیوی بن کر رہو.. اور آپ جانتے ہیں شوہر کیا ہوتا.. ہے.. شوہر کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں شوہر کا مان کیا ہوتا ہے…
تین سال میں کسی کے در پر پڑی..
شیٹ اپ” وہ چلایا.. جبکہ حیا کے لبوں ہر سختی سے ہاتھ جما کر وہ اسے تکیے میں گھنسا دینا چاہتا تھا…
اج کے بعد اس ادمی کا نام مت لینا حیا…. اگر تم نے اس ادمی کا نام میرے سامنے لیا… یہ تم اسکے پاس گئ.. تو میں تمھیں طلاق دے دوں گا” سختی سے بولتا.. وہ مقابل کے رنگ اڑا گیا تھا…
تمھاری مجھ سے جنگ ہے تا قیامت اس جنگ کو قائم رکھو مگر آج کے بعد اسکاحولہ مجھے مت دینا…. اور اتم اٹھلا کر اس سے بات کر رہی تھی تم.. ہمممم جیسے وہ تمھارے شوہر ہو.. اور میں کوئ پاگل ایک طرف بیٹھا ہوں” وہ آنکھیں نکلتا چلایا…
حیا رونے لگی..
ہٹ جائیں دور ہو جائیں مجھ سے… آج بھی اپ نے مجھ پر شک ہی کیا ہے وارث” وہ اسکو دور کرتی بیڈ سے اٹھنے لگی مگر وارث کو کہاں ہٹایا جا سکتا تھا…
نہیں حیا…. میں اچھا آدمی ہوں ہی نہیں یہ بات طے ہے….
اور مجھے بھی قسم ہے میں بدلوں گا نہیں….” اسکے کان پر.. ہلکا سا کاٹتے وہ اسے باور کرا رہا تھا….
تم نے میرا پاگل پن ہی تو دیکھا ہے بَس….. میرا جنون کب دیکھا.. ہے… یہ بات کانوں میں اچھی طرح گھسا لو تم میری ہو… میری ملقیت وارث شاہ کی.. ملقیت ہو.. تم.. تمھاری آتی جاتی سانس پر بھی صرف میرا نام لکھا ہے…” اسکی سانسوں کو بے تابی سے قید کرتا.. وہ اسے بے بس کر گیا…
کہ حیا دم بھی نہ مار سکی….
لمہے گزرتے گئے اور وارث کے عمل میں شدت اتی گئ….
اف میرا ہاتھ” اچانک وہ پیچھے ہٹتا کراہیا…
جبکہ حیا کھانسنے لگی…. اسکا چہرہ سرخ ہو چکا تھا….
جو دوسروں پر ظلم کرتا ہیں اسکے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے” سرخ چہرے سے وہ بولی…
جبکہ وارث نے گھور کر اسکی جانب دیکھا…..
اور اسکے.. گلے سے اچانک ہی دوپٹہ کھینچا…
بہت تمھیں اکسانے کا شوق ہے…. ہے نہ…. ایساہے تو ایساہی سہی.. میں بھی دیکھو… تمھیں تکلیف کی انتہا تک پہنچا کر مجھے کون سی تکلیف ملے گی.” اسکو دوبارہ دھکا دیتا. وہ غصے سے اسپر. جھکا..
وارث نہیں.. دور رہیں مجھ سے” حیا اسکو ہٹانے کی محنت کرنے لگی جبکہ وہ اسکی گردن پر جھک کر.. اپنے دانت گاڑ گیا…
اہ “حیا سسکی….
یہی پہلا زخم تھا…” اسنے مسکرا کر حیا کے انسو دیکھے…
مجھے نفرت ہے وارث آپ سے نفرت” وہ رونے لگی..
مگر مجھے تم سے محبت ہو گئ ہے اور میری محبت اتنی ہی تکلیف دہ اور مشکل ہے.. “اسکے ہاتھوں کو قید کرتا.. وہ مکمل اسکو اپنی دسترس میں لے گیا…
کہ حیا کے اوسان خطا ہو گئے.
……………………………
ابو وارث بھائ کی طبعیت پوچھنے میں بھی چلو “ابو کو جاتا دیکھے درخشے بولی تو انھوں نے سر ہلایا..
ٹھیک ہے ماہرخ سے بھی کہ دو “ابو نے کہا.. تو ماہرخ تشکر بھری نظروں سے انکیطرف دیکھنے لگی.. جبکہ انھوں نے مسکرا کر اسکے سر پر ہاتھ رکھا…
اور وہ دونوں.. جیسے برسوں بعد دوبارہ جی اٹھیں تھیں…
چادریں لے کر. وہ ابو کے ساتھ موٹر سائیکل پر… ہسپیٹل کیطرف چل دیں..
ہسپیٹل کے باہر گاڑی روکتے ہی… ان لوگوں کو دھچکا لگا کیونکہ سامنے ہی گاڑی میں فائز… تھا.. اور ڈرائیو سیٹ پر ارہم..
ابو نے جھٹکے سے بائک روکی…
فائز ایکدم نکل کر آیا..
انکل اپکو لگی تو نہیں.. “درخشے کی جھکی جھکی نظریں دیکھ کر.. اسنے کہا.. تو ابو نے نفی میں گردن ہلائ.
نہیں بیٹا مگر ڈرائیونگ اہستگی سے کیا کرو” انھوں نے پیار سے کہا…
تو ارہم نے وارث کی فوٹو کاپی کو دانت پیس کر دیکھا مجبوری نہ ہوتی تو وہ اس ادمی کے ساتھ کبھی نہ ہوتا…
جبکہ ارہم یہ پاک بھارت ملن دیکھ کر اکتایا سا.. دروازہ کھول کر باہر نکلا. اور بنا کسی کو دیکھے اندر چلا گیا..
انکل چلیں اپ بھی “فائز نے کہا.. جبکہ ماہرخ اپنے اگے چلتے اس شاندار بندے کو دیکھ رہی تھی..
اکثر سنا تھا اسنے وارث بھائی کو تو آنکھوں سے بھی دیکھ لیا تھا…
وہ دونوں عجیب تھے بس اسنے یہ ہی تجزیہ نکالا…
اور سر جھکائے چلتی گئ…
فائز درخشے کے پیچھے چل رہا تھا.. کیا ظلم تھا چاہ کر بھی بات نہیں کر سکتا تھا….
…………………….
وارث. ٹانگ پر ٹانگ رکھے جھلا رہا تھا.. جبکہ اسکا ایک ہاتھ سر کے نیچے اور دوسرا. سیدھا تھا.. ہاتھ کا درد اسکو اب بھی تھا مگر.. گویا اب اندر لگی آگ بجھ چکی تھی. تبھی تکلیف قابل قبول تھی..
اسنے حیا کو دیکھا… وہ اپنا چہرہ چھپاے بیٹھی تھی جبکہ گردن پر بھی اچھے سے دوپٹہ لپیٹ رکھا تھا….
تم چھپا نہ سکو گی میں وہ راز ہوں…..
تم بھلا نہ سکو گی… وہ انداز ہوں——–
وہ گنگنایا.. جبکہ سیدھا سیدھا اپنے دیے زخم کو اسکے چھپانے پر تانا مارا تھا..
حیا نے دانت پیسے… وہ اس ادمی کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی….
گونجتا ہوں دل میں تو حیراں ہو کیوں…
میں تمھارے دل کی آواز ہوں”
وہ پھر سے گنگنایا…
جبکہ نرس سمیت وہ سب اندر داخل ہوے…. مگر وارث کا ڈبہ نہ روکا..
جانم.. دیکھ لو مٹ گئ دوریاں…
میں یہاں ہوں یہاں ہوں یہاں”
یہ پاگل ہو گیا “ارہم نے فائز کے کان میں گھس کر کہا.. جبکہ وارث سیدھا ہو ا..
کیسے ہو بیٹے اج تو. اچھے لگ رہے ہو”ابو کے اسکے سر پر ہاتھ رکھا…
تو وہ مسکرایا…
انکل کچھ ادھورے کام مکمل ہو گے تو کچھ چین ہے دل میں” اسنے کہا تو… ارہم سب سمھجتا اسے.. داد دینے لگا….
جبکہ ابو نہ سمھجتے ہوے ھیا کیطرف بڑھے…
ھیا نے زین کو اٹھا کر.. انکی جانب دیکھا.. تو اپنے سارے انسو اندر اتار گئ…
مگر اسکا چہرہ بتا رہا تھا وہ روناچاہتی ہے..
ارے کیوں پریشان ہو گی ہو.. دیکھو اب تو وارث ٹھیک ہے بلکل “ابو یہ ہی سمھجے.. جبکہ حیا کے ایک دو آنسو نکل اے..
انکل میں بھی یہ ہی سمھجا رہا ہوں مگر رات سے کافی تکلیف میں ہے بے چاری میرا مطلب.. بہت دل پر لے گئ ہے.. حیا یار میں بلکل فٹ ہوں اب” اسنے اپنا ہاتھ اٹھایا اور منہ بناتا نیچے رکھ دیا..
ارہم اسکے نزدیک ایا..
بیڈ کچھ چھوٹا نہیں.
اوور نہیں ہونا زیادہ” وارث نے آنکھیں نکالیں….
اووکے”ارہم ہنستا ہو ا بولا..
بھائ.. اپ اپ کی طبعیت ٹھیک ہے” درخشے نے پوچھا.. جبکہ وارث اسکی شکل دیکھنے لگا.. دوسری بار اس لڑکی نےا سکو بھائی کہا تھا..
ہاث اب ٹھیک ہوں..” اسنے کہا.. تو ماہرخ بھی جھجھکتے ہویے پوچھنے لگی.. اسنے نارملی اسکی بات کا بھی جواب دیا…
ابو تو زین کے ساتھ لگ گے تھے ماہرخ اور درخشے.. حیا کے پاس چلیں گئیں..
میری عیادت کو اے ہو یہ کسی اور چکر میں اے ہو” اسنے فایز کو گھورا….
تمھارے چکر میں البتہ شادی پھنسی ہوی ہے” فائز چیڑ کر بولا..
بیٹے جب تک وارث زندہ ہے سکون کی سانس تو.. تمھاری بھابھی کو بھی نہیں انی”اسنے اباواز بلند کہا.. ابو باہر جا چکے تھے کیونکہ زین باہر جانے کی ضد جو لگا چکا تھا…
میرا آپ سے کوی رشتہ نہیں ہے.. تو بہتر ہو گا.. مجھے بلانا بند کریں “ھیا اچانک ہی بھڑکی..
رئیلی حیا.. کل رات تو مجھے لگا..
وارث”وہ ایکدم چہکی..
اوپس یاروں اٹس پرسنل شادی کر لو تم پھر بتاو گا “دانت نکالتا… وہ بولا.. ارہم اور فائز نے اہنی ہنسی دبائ..
جبکہ ماہرخ اور درخشے خفیف سی ادھر ادھر دیکھنے لگیں..
حیا.. کی آنکھیں بھیگ گئیں…
بہت برا ہے یہ ادمی بے ھد برا “اسنے کہا.. مگر آواز بہت مدھم تھی..
تبھی وہاں علینہ داخل ہوئ…
اوووو میرا بیبی.. وارث.. یہ کیا ہوا جان…” وہ اچانک وارث کے گلے کا ہار بنی.. وارث نے بھی جان بوجھ کر اسے دور نہیں کیا…
وہ تینوں آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہیں تھیں.. جبکہ ارہم مزے لے رہا تھا.. فائز افسوس کے سوا کیا کر سکتا تھا…
جان سوری میں رات کو نہیں ا سکی.. بہت مشکلوں سے پتہ چلا تم یہاں ہو ورنہ تم تو سیل پاور آف کیے ہوے تھے…”اسنے شکواہ کیا.. جبکہ وہ یہ بھول گی تھی کہ ارد گرد بھی کئ لوگ ہیں…
مگر میری رات اچھی تھی” اسنے ھیا کی پھٹی آنکھوں میں جھانکتے ہوے کہا…
علینہ نے بھی اسکی نظروں کے تعقب میں دیکھا..
اوہ تمھاری بیوی بھی ہے وہ ہنسی…
جی ہاں اور آپ. کسی کے شوہر سے چیپکی جا رہی ہیں محترمہ” فایز بلاخر بولا.. جبکہ وارث لطف اندوز ہوتا…. پیچھے تکیوں کو ٹیک لگا گیا…
درخشے نے گور سے اسکیطرف دیکھا.. اور فائز کی اسپر نگاہ پڑتے ہی… وہ نگاہ جھکا گئ…
کیا کروں یہ ظالم اتنا ہینڈسم ہے کہ اس کا بچہ بیوی میں سب اگنور کر دیتی ہوں” اسنے وارث کے چہرے پر انگلی رکھی…
میری جان میری براونی پھٹنے کو تیار بیٹھی ہے” وہ جان بوجھ کر بولا… جبکہ حیا.. وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گئ…
اسکی سسکی کی اواز کمرے میں ٹھر سے گی تھی وارث.. مسکرا کر نفی میں سر ہلاتا آنکھیں موند گیا….
علینہ نے شانے اچکائے.. اور ابھی وہ بولتی کہ اسکاسیل بجا..
آتی ہوں” اسنے کہا..
ہنی میں دوبارہ او گی” وارث پر جھک کر کہتی وہ باہر نکل گی جبکہ وارث نے سر ہلایا..
بھائی کچھ کمینگی کم کر لے اپنی ارہم کو بھی دکھ ہوا…
وہ جتنا مجھے جلاے گی.. میں اتنا اسے سڑا کر راکھ کر دوں گا.. سیدھی طرح مان جاے .. میں تو اسی کا ہوں”اسنےا یک انکھ کھول کر کہا…
اس بچاری میں اتنی ہمت کب ہے وہ تجھے جلاے” اسنے کہا.. جبکہ وارث کی مسکراہٹ اویس کو سوچ کر سمٹ گئ..
ہم جانتا ہوں کتنی معصوم ہے”
…………………..
اسکی طبعیت کچھ بہتر ہوی تو مہندی کا فنکشن رکھ لیا گیا…
جس میں اسنے کہاں شریک ہونا تھا. وہ تو اس بات سے ہی بے حد خوش تھا کہ ھیا اسکے کمرے میں ہے..
بامجبوری ہی سہی….
اپنے ابو کے کہنے پر ہی وہ اسکے کمرے میں ہے.. جبکہ اسنے ایک نظر کارپیٹ پر کھیلتے زین کو دیکھا…
اور اسکو گود میں اٹھا لیا….
زین نے اسکی جانب دیکھا پھر اپنی ماں کو دیکھا جو ڈریسنگ کے سامنے کھڑی تھی… سادے سے مہندی جوڑے میں وہ بلکل عام سا میکپ کیے اب چوڑیاں پہن رہی تھی..
یار تم عقل مند ہو.. مگر تمھاری ماں بیوقوف. “اسنے زین کے گال پر پیار کیا….
جبکہ زین مسکرایا..
واہ بھئ…” وارث کا اسکے ہسننے پد ایکدم دل گدگدایا تھا…
اسنے ایک اور پیار کر دیا… جبکہ زین نے.. ھیا کیطرح اپنے رال والے ہونٹوں سے وارث کو کس کی.. وارث اسکی اس حرکت پر ھیران رہ گیا…
سمارٹ بواے.. ابھی سے.. زہین ہے.. پھر میرا بیٹا ہے اخر کو” پرجوش ہو کر کہتا.. وہ پھر ھیا کو دیکھنے لگا جبکہ زین اپنے کھیل میں مگن ہو گیا…
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کتنا عقل مند ہے میرا بیٹا جبکہ اسکی ماں بیوقوف.. اب دیکھو. اس لڑکی کو پتہ ہے.. میں اسے یہ پہن کر باہر نہیں جانے دوں گا.. پھر بھی.. وہی پہنے کھڑی ہے” اسنے گویا وارن کیا تھا..
زین کپڑے بدلو” حیا زین کے پاس اتی زین پر بھی غصہ آیا..
یہ کس تو صرف ھیا کے لیے تھی…
اور اسنے اپنے باپ کو بھی دے دی..
اف یہ بچارہ ناراض سنم… قید میں پھر پھڑا رہا ہے “اسنے حیا کا ہاتھ تھاما حیا نے غصے سے جھٹکا..
اچھا ٹھیک ہے.. ویسے بھی مجھے بھی تمھارے قریب آنے کا شوق نہیں وارڈروپ میں ساڑھی ہے وہ پہنو” اسنے حکم دیا…
غلام نہیں ہوں آپکی… جو اپکے حکم پر چلو.. میں خوش ہوں جو میں نے پہنا ہوا ہے “حیا سرد سے لہجے میں بولی اسکے دے زخم اب بھی نہیں گئے تھے..
اوو اچھا… غلام نہیں ہو… چلو میں پہنا دیتا ہوں کچھ غلاموں کی بھی خدمت کر لینی چاہیے ثواب ہی ملتا ہے” وہ اپنی جگہ سے اٹھا.. حیا کا دل دکھ سے رہ گیا…
جبکہ وارث نے وارڈ روپ کھولی.. اور اس میں سے ساڑھی نکالی..
اور اسکے نزدیک ا یا…
لگنا چاہیے.. تم وارث کی دولہن ہو” اسنے اسکے بال ہٹا کر گردن پر پیار کیا..
حیا اس سے دور ہوئ..
جلتی رہا کرو.. مجھ سے تم “وارث نے اسپر ساڑھی اچھالتے کہا..
میں کیوں جلوں گی “وہ بھنای..
کیونکہ میں بے حد ڈیشنگ ہوں” وارث نے دانت نکالے.. دس منٹ میں پہنو ورنہ..
ٹوٹے ہاتھ سے بھی مجھے یہ کام کرنے میں کافی مزاہ اے گا” اسنے انکھ ماری حیا.. کا دل کیا اپنے بال نوچ لے….
یہ ادمی شہر تھا. جو اسے لگ چکا تھا.. کیا کرتی.. رگوں میں.. دوڑتا تھا..
کیسے نگلتی کیسے اگلتی…
اسکی بات مانتی… وہ ساڑھی لے کر اٹھی….
کنیز مجھے تم پسند آئ” وارث اسکی غلام والی بات لوٹاتا… بولا.. ھیا مزید اسے برداشت نہیں کر سکتی تھی تبھی واشروم میں چلی گی جبکہ.. وارث زین کو گود میں لے کر اسے گدگدانے لگا…
…………………
وہ باہر ای تو وارث موجود نہیں تھا.. حیرت تھی کہ. وہ اٹھ کر کوئ کام کر لیتا.. اپنے ہی کسی کام سے گیا ہو گا… وہ سوچتی.. ساڑھی… کے پیچھے کی ڈوریاں باندھنے کی ناکام کوشش کرنے لگی..
جب نہیں بندھی تو ایسے ہی چھوڑ کر اسنے… میکپ شروع کیا.. اور اچھا سامیکپ کر کے. اسنے ڈارک لیپسٹک لگا لی…
جبکہ بالوں کا ہیر سٹائل بنا کر وہ.. پیچھے کھڑے وارث کے دل پر بجلیاں گیرہ گئ…
حیا نے اسکیطرف سے نگاہ پھیر لی..
اس سے ہر قسم کے چھیچھورا پن کی امید کی جا سکتی تھی…
وارث اسکے قریب آیا… اور اسکا رخ اپنی جانب کیا..
وارث.. مجھے جاناہے.. “حیا.. ناگواری سے بولی.. جبکہ وارث .. اسکی ناگواری پر آنکھیں سکیڑ کر اسکو دیکھتا….
اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کر گیا…
اتنی سختی سے کہ ھیا کو اپنی کمر ٹوٹتی محسوس ہوئ…
وار ث نے مزید اسے سختی سے… بھینچ لیا…
اویس کو کس نے بلایا ہے” وہ اسکے کان میں پھنکارہ.. اسکی سنجیدگی سے حیا کو خوف سا آیا….
ن… نہیں… وہ خود.. انھوں نے مجھے
اسنے” وارث نے اسکا منہ سختی سے پکڑا..
اس… اسنے مجھے میسج کیا تھا کہ وہ اتنی کے ساتھ اے گا “حیا جلدی سے وضاحت دینے لگی…
تمھارا اس سے رابطہ ہے” وارث نے اسکے بال جکڑے…
وارث چھوڑیں مجھے” حیا کو تکلیف ہوئ..
چھوڑ دیا. “اسنے چھوڑا جبکہ ھیا جو اسکے ہی سہارے کھڑی تھی.. ایکدم نیچے گیری.. “اور وارث اسکے پلو پر سے چلتا بیڈ پر جا کر لیٹ گیا…
دفع ہو جاو یہاں سے “وہ تکیوں میں منہ دیتا چلایا…
حیا.. اٹھی اور زین کو لے کر وہاں سے چلی گئ…
.حقیقت تھی اسکا پاگل پن قابل قبول تھا مگر اسکا جنون نہیں.
……………….
جاری ہے
