Sharabi By Tania Tahir Readelle50244 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
سر ہماری کمپنی لوس میں جا رہی ہے.. جتنے ہمیں آرڈرز ملے تھے.. سب نے واپس لے لیے..” چئیر پر جھولتے ہوئے اسنے خاموشی سے منیجر کی بات سنی…
نہیں تو تجھے میں نے… یہاں فالتو میں رکھا ہے… تیرے پاس دماغ نہیں ہے….” وہ بھڑک کر بولا….
سر وہ اخری کلائنٹ.. اپ سے میٹینگ کرنا چاہتی تھی مگر اپ چلے گئے تو…. اسی لیے… “منیجر نے گویا اسے یاد دلایا…
لڑکی تھی… “اسنے ائ برو اچکا کر پوچھا..
جی سر” منیجر نے اثبات میں سر ہلایا…
بس “اسنے ٹیبل پر ہاتھ مارا
یہ لڑکیاں ہوتی ہی بدماغ فالتو زہن ہیں…. “وہ چیڑ کر بولا..
تم نے شادی کی” اسنے منیجر کو گھور کر دیکھا…
ج.. جی نہیں سر ابھی نہیں..” منیجر نے نفی کی تو اسنے اٹھ کر اسکا شانا تھپتھپایا..
گڈ بہت خوب… شادی کر کے.. پھنسنےسے بہتر ہے. بھائ تو کنویں میں چھلانگ لگا لے” سر جھٹک کر بولتا وہ منیجر کو حیران کر گیا….
سر اب” منیجر نے پوچھا…
کیا اب” اسنے لاپرواہی سے شانے اچکائے…
سر مارکیٹ کا پیسہ روکا ہوا ہے… جب تک ہمارے پروڈکٹس جا کر ریکوری نہیں ہو گی…. تب تک ہم پھنسے ہوئے ہیں” منیجر نے تحمل سے گویا دانت بھینچ کر اس کو سمھجانا چاہا… جس نے پہلے کبھی یہ کام کیا ہو تو اس اتار چڑھاو کو سمھجے..
اب کیا چاہتے ہو تم مجھ سے” اسنے چیڑ کر پوچھا…..
سر اپ اس لڑکی سے مل لیں… شاید ہمارا کام بن جائے ایک بار ہمیں وہ آرڈر مل گیا… تو سمھجے ہماری کشتی کچھ کچھ اس دلدل سے نکلے گی..” منیجر نے اسے کہا تو وہ گھور کر رہ گیا…
یار مجھ سے نہیں ہو رہی یہ مغز ماری….
حد ہے ویسے.. لوگ نہایت بے مروت اور.. احسان فراموش ٹائپ کے ہوتے ہیں….” اسنے حیا کو سوچا جبکہ زمیر نے سوال کیا..
تم نے کون سا احسان کیا اور مروت دیکھائ…
تو وہ خاموش ہو گیا…
اچھا ٹھیک ہے بلاو اسکو” اسنے شہانا انداز میں کہا..
سر اپکو خود جانا پڑے گا…. وہ یہاں نہیں آئیں گی کام ہمارا ہے سر آرڈر ہمیں چاہیے “منیجر کے گویا اعصاب کھینچ گئے تھے..
یہ ادمی دو سالوں سے اسے صرف پکا رہا تھا….
وارث نے اسکی جانب دیکھا…..
اور اٹھ گیا….
بہت شکریہ سر “منیجر ایکدم خوش ہوا…
جبکہ وہ اسکی خوشی کو گھاس ڈالے بنا….
وہاں سے اٹھا…. اور باہر نکلا تو تقریبا افس اسکے کیبن کے باہر کھڑا تھا.. اسکے باہر نکلتے ہی سب ایکدم پیچھے ہٹے..
وارث نے سب کو گھور کر دیکھا….
منیجر کی مسکراہٹیں انھیں گرین سگنل دے گئیں.. تو وہ سب خوشی سے تمتماتے چہروں سے وارث کو تکنے لگے..
کل جاو گا.. “اسنے کہا اور سب کے چہرے پر اوس پھینک کر.. وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا باہر نکل گیا…
یار مجھے حیرت ہوتی ہے… سر پر” ایک کولیگ بولی…
مجھے حیرت نہیں ہوتی… وہ روز افس اتے ہیں.. یہ بہت بڑی بات ہے.. جب حیا میم ہوتی تھیں.. تب تو بس ایک منٹ کو اتے تھے… فورا افس میں گھس جاتے تھے.. اور ان سے کروڑوں میں چیک بنوا کر باہر…. بس انکا اس کمپنی سے اتنا ہی تعلق تھا”
یہ کوئ ایک پورا کولیگ تھا… حالانکہ وارث اپنی جان میں سب پروانوں کو نکال کر نئے بھرتی کر چکا تھا..
سب اسکی جانب حیرت سے دیکھنے لگے…
حیا میم کون ہیں” سب نے یک زبان پوچھا..
انکی بیوی یار… انھیں نے چند ماہ میں کمپنی کو بہت اوپر چڑھا دیا تھا…. اگر وہ یہاں ہوتی تو ہم سب کو یوں کام تلاش نہ کرنا پڑتا کام خود ہی چل کر ہمارے پاس اتا” وہ بولا….
تو اب وہ کہاں ہیں “کسی نے پوچھا..
معلوم نہیں… ایک سال.. کمپنی بند رہی…. اور سال بعد ہمارے وارث صاحب نے قدم رکھا.. اور تم سب کو بھرتی کر دیا..
مگر مجھ پر شاید انکی توجہ نہیں گئ”اسنے شانے اچکائے..
کافی لاپرواہ انسان ہیں” ایک بڑی عمر کا ادمی بولا…
مجھ سے بہتر کوئ نہی جان سکتا “منیجر نے معصوم سی شکل بنائ تو سب ہنسے….
………………………..
گھر کی دہلیز پر اکیلا بیٹھا…. وہ اندھیرے.. میں اسمان کی جانب دیکھ رہا تھا……
حیا کی یاد اسکی اواز اسکی آنکھیں. ان سب چیزوں نے اسے جکڑ لیا.. تھا….
اسنے اپنے ہاتھ کی جانب دیکھا.. جو اندر سے کٹ چکا تھا اور اسپر ڈریسنگ بھی خود کی گئ تھی….
اپنی دنیا میں مدہوش وہ حیا کے قدموں پر ہی تو چل رہا تھا…
مگر جب سے وہ گئ تھی.. اسکا اپنے قدموں پر چلنا دنیا کا سب سے مشکل کام تھا.. جسے وہ مسلسل کرنے کی کوشش کرتا… مگر افسوس کے وہ چل نہیں پا رہا تھا.
شراب نے بھی ساتھ چھوڑ دیا تھا…..
جو شراب وہ پیتا تھا.. اسکے لیے پیسے کا ہونا بہت ضروری تھا…
جو کہ فلحال وہ ایک ایک روپیہ گھر اور کمپنی پر لگا چکا تھا…
مگر شراب کے بغیر رہنا بھی بلکل حیا جیسا تھا….
اسکا جسم مانگتا تھا جس کی خواہش وہ خود کو تکلیف دے کر دبا دیتا تھا….
ایک بار تم مل جاو….. پھر میں کم از کم خود کو تکلیف دے کر یہ خواہش نہیں دباو گا… تم نہیں تو پینے میں مزاہ بھی نہیں اتا….
یار کچھ نہیں سمبھل رہا مجھ سے.. واپس ا جاو “اسنے اپنے ہاتھ کی جانب دیکھتے ہوئے گویا حیا کو مخاطب کیا…
اور پھر سے چاند کی جانب دیکھنے لگا.
وارث بیٹا کھانا کھا لو” پیچھے سے اواز سن کر… اسنے مٹھیاں بھینچ لیں…
مگر جواب کوئ نہیں دیا… وہ سب کو نکال چکا تھا.. مگر نہ اس عورت سے بات کرنا چاہتا تھا.. اور نہ اسکیطرف دیکھتا تھا… تبھی وہ یہیں تھیں…
خیر دوسرا کوئ ٹھکانہ بھی نہیں تھا…..
وارث کے نہ جواب دینے پر… انھوں نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا…
جسے اسنے جھٹکے سے پرے دھکیل دیا..
کیا چاہتی ہو چلا جاو یہاں سے…. “وہ چلایا.. تو ایکدم وہ پیچھے ہوئیں….
دور رہا کرو مجھ سے” آنکھیں نکال کر غراتا وہ وہاں سے چلا گیا…
مجھے معاف کر دو “انھوں نے مدھم اواز میں پکارہ
وارث مسکرایا….
معاف کر دوں…. ٹھیک ہے معاف کیا… اب…
اب کیا…. کون سا میری آنکھوں میں اپکی عزت بن گئ ان لفظوں سے…
یا میں بھول گیا سب کچھ…
کسی اور کی بانہوں میں اپنی ماں کو دیکھنا بھول گیا….
یہ پھر باپ کا انٹرسٹ سواے پیسے کے کسی چیز میں بھی نہیں تھا یہ بھول گیا….
یہ بھول جاو… کہ 12 13 سال کی عمر میں کسی غیر نے مجھے شراب پینا سیکھا دی…
کیونکہ میری ماں بدکردار.. باپ پیسے کا پجاری….
تو مججے کیوں پیدا کیا.. رف عمل. تھا میں.. ایکسپیریمینٹ تھا میں کوئ….
ایسے لوگوں کی اولادیں بھی اتنی برباد ہوتی ہیں.. فکر نہ کریں میں خوشی سے برباد ہوا ہوں….
اور اج کے بعد مجھے مخاطب مت کرنا…. یہاں رہنا ہے تو رہو.. ورنہ نکلو… “ان کے آنسوؤں سے تر چہرے پر نظر ڈال کر. وہ اپنے کمرے میں چلا گیا….
……………………
آنٹی اپ منگنی کی ڈیٹ فائنل کریں.” حیا نے زین کو سمبھالتے ہوئے پوچھا جو اسکے ہاتھ سے نکلنے کو بے تاب تھا….
اسکو مجھے دو.. اور کیوں تم میرے پیچھے لگی ہو بھئ”اویس نے زین کو لیتے ہوے پوچھا اور اسکے ہاتھ میں چاکلیٹس دی… جو کہ وہ جلدی جلدی کھانے لگا…
کیوں تمھارے سینگ اگ ایے ہیں جو تم شادی نہیں کرنا چاہتے” اسنے اویس کو گھورا جبکہ انٹی نے بھی اسکی حمایت لی…
بھئ جب مجھے کرنی ہی نہیں تو کیا.. “اسنے کچن کے دروازے پر کھڑی رمشہ کو اگنور کرتے ہوے کہا
اویس مطلب تم چاہتے ہی نہیں ماں مرنے سے پہلے تمھاری اولاد کا منہ دیکھ لے “انٹی جزباتی بلیک میلنگ پر اتری تو اویس.. نے سر تھام لیا….
یہ ہمارا زین ہے تو صیحی…. پھر کیا فکر ہے “اسنے زین کے سر پر ہاتھ پھیرہ..
ہاں بھئ یہ تو میرا شیر ہے مگر… مجھے تمھارے بچوں کو بھی دیکھنا ہے “انھوں نے زین کو پیار کرتے ہوے اسکو گھورا…
انٹی اپ اسکو سیدھا کر دیں میں تو تیاریاں شروع کر رہی ہوں… “حیا کچن کی جانب بڑھتے ہوے بولی..
اسکی سوچ کے مطابق رمشہ دروازے میں کھڑی نم آنکھوں سے باہر دیکھ رہی تھی…
لڑکی رو مت… یہ سیدھا ہو جاے گا “حیا نے مسکرا کر کہا تو اسنے حیا کی جانب دیکھا…
وہ اپکو پسند کرتے ہیں “رمشہ نے رندھی ہوئ اواز میں کہا….
ایک لمہے کو حیا کا کافی بناتا ہاتھ رک گیا….
مگر میں تو اپنے شوہر کو پسند بھی کرتی ہوں محبت بھی “اسنے مسکرا کر جان بوجھ کر یہ بات کی کہ کہیں وہ اسکے خلاف نہ کچھ سوچنے لگے…
میں جانتی ہوں مگر انکا کیا “رمشہ کی بات سن کر اسکے دل کو کچھ سکون سا ملا…
کچھ نہیں ہوتا… اسکو قابو کرنا مشکل نہیں “اسکو پیار سے دیکھ کر وہ رمشہ کو لے کر باہر آ. گئ…
اویس نے دونوں کو غور سے دیکھا…..
رمشہ جھجھک سی رہی تھی جبکہ حیا کا کام اسکو گھورنے کا تھا…
اسنے نگاہ پھیر لی…
زین صاحب اس سے زیادہ کھائیں پھر کھانسی چھوٹی چھوٹی سی ہو گی تو.. میں نے دوائ بھی نہیں دلانی… “زین کو اچک کر. وہ اس کے ہاتھ سے پیکٹس لیتی بولی….
حیا بیٹا میں سوچ رہی ہوں…. نکاح کا فائنل کرتے ہیں… منگنی کا کیا ہے” انٹی کی بات پر جہاں اویس کی آنکھیں کھلیں وہیں حیا… مسکرا دی..
اور رمشہ وہاں سے اٹھ گئ اسنے جاتی ہوئ رمشہ کو غصے سے دیکھا…
یار ماں منگنی پھر ٹھیک ہے” اویس جلدی سے بولا…
انٹی نکاح فائنل کریں “حیا اسکی بے چینی سے محظوظ ہوئ…
حیا یار یہ کیا بات ہوئ” وہ بے بسی سے بولا..
چپ رہو تم” وہ دونوں گھور کر بولیں….
تو وہ غصے سے اٹھ کر چلا گیا….
……………………
ائیے ائیے وارث “مسکرا کر… علینہ نے اس سے ہاتھ ملایا….
ارے یہ کیا منیجر بھی ساتھ ایا ہے کیوں اپکو ہم سے ڈر لگ رہا تھا وہ ہنسی.. جبکہ وارث نے گاگلز اتار کر صوفے پر پھینکے.. اور شہانہ انداز میں بیٹھ گیا….
علینہ مسکرا اٹھی…
مسٹر ضیا کیا اپ کچھ دیر ہمیں اکیلا چھوڑیں گے” علینہ نے منیجر سے کہا تو وہ وارث کی جانب دیکھنے لگا…
وارث نےانکھ سے اشارہ کیا. تو وہ سر ہلاتا چلا گیا….
اسنے علینہ کی جانب دیکھا جو… بلکل اسکے ساتھ بیٹھ گی تھی.. وارث اسی کیطرف دیکھا رہا تھا…
کیا قسمت ہے… برائ سے دور بھاگو برائ خود چل کر تھال میں تیار ہو کرا جاتی ہے “اسنے سوچا اور علینہ کا ہاتھ ہٹایا جو اسکا بٹن چھیڑ رہی تھی..
تمھارا سٹائل اتنا قاتل ہے کہ جب سے تمھیں دیکھا ہے.. بس ٹھنڈی اہیں بھر رہی ہوں” وہ اسکو دیکھ کر بولی….
وارث نے اکتا کر ارد گرد دیکھا…
اکیلی رہتی ہو “اسنے بات بدلی.. تو علینہ ہنس دی…
بلکل اکیلی “وہ اسکے مزید نزدیک ہوئ…
چپکنا بند کرو گی” وارث نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر پوچھا..
علینہ نے اسکو گھور کر دیکھا. اور دور ہوئ…
کیا کیا ہے اپکی اس ڈوبی ہوئ کمپنی میں جو میں تمھیں کروڑوں کا پروجیکٹ دوں” علینہ نے فائل اٹھا کر پھینکی وارث نے دانت بھینچ کر اسکی جانب دیکھا….
تمیز اور اوقات میں رہو “وارث کھڑا ہوتا…
بولا….
شاید تمھیں کمپنی پیاری نہیں.. مارکیٹ والے تمھاری کمپنی کو نوچ لیں گے چلو اچھا ہو گا “علینہ نے مسکرا کرا پنے ناخون پر پھونک ماری وارث نے سانس کھینچا اور ایک ہاتھ سے علینہ کو اوپر اٹھا لیا جبکہ وہ ادا سے اسکی بانہوں میں قید ہوئ…..
پروجیکٹ میرا ہوا…” اسنے سختی سے اسکی گردن کو جکڑا… جبکہ علینہ کسی حرکت کی منتظر… آنکھیں بند کر گئ….
ہاں ظالم سب تمھارا” اسنے وارث کو کہا تو وارث مسکرایا…
تھینک یو “اسکو صوفے پر جھٹک کر وہ.. باہر کی جانب چلنے لگا…
علینہ نے گھورا….
تم رات میرے ساتھ ڈنر پر چل رہے ہو.. تبھی تمھیں پیمینٹ بھیجو گی… “وارث نے زیچ ہو کر اسکو دیکھا… جبکہ وہ مسکرا دی
ٹھیک ہے” چارناچار مان کر وہ باہر نکل گیا جبکہ علینہ خوشی سے جھومی…
………………….
ڈنر تھا.. یہ بوریت کا سامان وارث علینہ کی جانب دیکھنے کے بجائے.. اردگرد دیکھ رہا تھا…
چلو وارث ڈانس کریں علینہ نے کہا..
تم اوور نہ ہو تو بہتر ہے” وارث نے غصے سے کہا…
اب تمھیں پیسے چاہیے یہ نہیں…” علینہ نے دکھتی رگ دبائ…
جبکہ وارث کا دماغ گھوم گیا. بلاوجہ وہ اسکو کیش کرے گی اب….
وہ اپنی جگہ سے اٹھا…..
اور گھنٹے سے جو شراب کا گلاس یوں ہی پرا تھا جسے وارث ہاتھ بھی نہیں لگا رہا تھا.. اسے اٹھا کر ایک سانس میں بھر گیا..
اور علینہ کو کھینچ کر.. وہ بیچ میں لے ایا..
کئ لوگ انکی جانب متوجہ ہوے جن میں دو حیران نم نگاہیں بھی تھیں….
وارث نے علینہ کے بالوں کو جکڑا…
علینہ نے تکلیف سے اسکی طرف دیکھا..
کیوں. مزاہ نہیں. ارہا “اسکو تکلیف دیتا وہ مسکرایا.. اور ابھی گھومایا ہی تھا کہ…. ان بے شمار لوگوں میں سامنے حیا کو دیکھ کر… اسکا جیسے دل و دماغ وہیں رک گیا….
لوگوں کی تالیوں کا شور گونج اٹھا …
جبکہ حیا کو وہاں سے جاتے دیکھ
وارث نے علینہ کو زمین پر پھینکا… اور وہ اسپر سے.. چھلانگ لگاتا باہر کو دوڑا..
حیا “اسنے پکارا… جبکہ حیا… اگے جا چکی تھی…
حیا رکو” اسنے پکارا…
حیا گاڑی میں سوار ہو گئ….
وارث اسکو دور جاتا دیکھنے لگا.. مگر گاڑی ڈرائیو کرتے شخص پر نگاہ جاتے ہی
.. اسکا بس نہیں چلا اپنا ہی گلہ دبا لے…
تین سال میں ایک بار بھی مجھے اس کمینے کا خیال نہیں ایا” وہ خود پر چیخا….
اور ہاتھ پر ہاتھ مار کر رہ گیا…
وارث تم نے بہت غلط کیا ہے” علینہ کی اواز ائ..
تو وہ اسے گھورتا گاڑی میں سوار ہو گیا…
شراب اور حیا بیقوقت ملیں تھیں…
………………
جاری ہے
