Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

وارث شراب پینے سے اگر تمھارے مسلے حل ہو رہے ہیں تو لو یہ چار بوتلیں ختم کر کے یہ دو اور پی لو “ارہم نے چیڑ کر اسکی جانب بوتلیں کر دی…
میں نے تمھارے جیسا کم عقل ادمی نہیں دیکھا اج تک” اسنے غصے سے اسکی جانب دیکھا.. جس کی نشے کی زیادتی سے انکھ بھی بمشکل کھل رہی تھی…
وارث بنا جواب دیے اب سگریٹ پی رہا تھا جبکہ اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے….
ارہم اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا…
کانپتے ہاتھوں سے اسنے سیگریٹ سلگایا.. اور لبوں میں دبا کر… وہ کش بھرنے لگا…
ارہم سے مزید برداشت نہیں ہو ا.. وہ اپنی جگہ سے اٹھا.. اور اسکے منہ سے سیگریٹ کھینچ کر اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا…
اب دماغ کھلا یہ دو تین اور کھاے گا “وہ اسکو جھنجھوڑتا بولا.. جبکہ وارث نے سرخ نظروں سے اسکی جانب دیکھا…
میرے بھائ تو برباد کر چکا ہے خود کو…
نہ تیرے ہاتھ میں بیوی ہے نہ.. دھن….” ارہم نے کہا جبکہ وارث کی سرخ آنکھوں میں مزید سرخی پھیل گئ..
یاد آ رہی ہے اسکی… “وہ مدھم اواز میں بولا.. جبکہ ارہم نے گھیرہ سانس بھرا..
وہ جا چکی ہے”اسنے گویا اطلاع دی..
کہاں جائے گی.. یہیں کہیں ہو گی” وارث نے دوسرا کش بھرا..
تو اتنا زلیل کیوں ہے…. تیرے نزدیک کسی کی کوئ اوقات نہیں.. قصور جو بھی ہے تیری ماں کا ہےحیا کا نہیں” ارہم نے کہا تو اسنے اسکی جانب دیکھا…
مجھے نفرت ہے اس عورت سے جس نے مجھے جنم دیا…. پھر اسنے وہ کیوں کیا جس سے مجھے نفرت ہے جبکہ وہ جانتی تھی… مگر پھر بھی جان بوجھ کر اسنے وہ سب کیا…. کیوں” وارث اچانک ہی اسے دھکا دیتا چیخا….
بہت اترا رہی تھی…..
شکل دیکھنے والی تھی اسکی” وہ طنزیہ ہنسا.. اسکی ناک کی پھنکار میں بھی غصہ نفرت بھری تھی…
تو یاد کس خوشی میں کر رہا ہے… “ارہم نے تیوری چڑھائ..
وارث نے گھور کر دیکھا…
وہ مجھے چھوڑ کر گئ ہے… وارث شاہ کو.. برینڈ ہے وارث…
وہ سمھجتی کیا.. کیا مجھے بیویوں کی کمی ہے.. یہ پیسے کی… اب بھی میرے پاس اتنا ہے کہ میری نسلیں بھی بیٹھ کر کھائیں ..” وہ تفخر سے بولتا… کھڑا ہو کر بے چینی سے ادھر ادھر چلنے لگا…
تو محبت کرتا ہے اس سے” ارہم نے اسکی عجب بے چینی بھانپتے ہوئے اسے بتایا….
میں اس سے “وارث نے آنکھیں کھول کر ارہم کو دیکھا..
ہاں تو اس سے” ارہم نے کہا..
ناممکن “وارث نے تردید کی..
چلو کب تک بول سکتے ہو خود سے جھوٹ… “وہ بولا تو وارث نے گلاس اٹھا کر ارہم کے پیچھے دیوار پر دے مارا….
دوست بن دوشمن نہ بن”وہ چلایا..
نشے میں تو ہے میں نہیں…. اس لڑکی نے تیرے لیے بہت کچھ کیا ہے وارث.. اور فائز کے فون پر تیرے چہرے کے رنگ اڑتے میں نے دیکھے ہیں تو جھٹلا نہیں سکتا… غصہ ماں پر تھا اسپر نکالاتا… اسپر نہیں جو تیرے لیے.. خود کو بیچ کر بھی تیری خوشیاں خرید لے” ارہم نے اسکی جانب دیکھا جس کے چہرے کا اتار چڑھاو دیکھنے لائق تھا..
جانتا ہے سالے تیرے سے جلن ہوتی تھی کچھ کچھ مجھے…” وارث نے چونک کر اسکی جانب دیکھا….
مجھے لگتا تھا… تو بہت خوش قسمت ہے جتنا تیرے منہ سے اسکے بارے میں سنا.. تو مجھے لگتا تھا…. کہ میرے پاس بھی ایسا شخص ہو جس کی وفا کے قصے میں تجھے سناو..
کیا کمی ہے ہمارے اندر…
فقت وفا.. کی.. کہ کسی نے ہمارے جیسوں کے ساتھ وفا نہیں کی…
تجھے بہت مل تو جائیں گی…
مگر وہ سب نہ ہمیں وفا دے سکتی اور نہ وہ حیا ہو سکتی…
تو نے خود کو خود برباد کر لیا…. “ارہم کی بات پر وارث کی آنکھوں میں حیا کا عکس سا اترا….
برحال جا رہا ہوں میں” یہ دوسرا جھٹکا تھا وارث پر..
کیا کہاں “اسنے ارہم کی جانب دیکھا… جبکہ اسکا نشہ فق سے اڑ گیا…
امریکہ …” اسنے ایک لفظی جواب دیا….
کیوں “وارث بے چین ہوا..
کچھ ٹائم کے لیے جا رہا ہوں.. ڈیڈ نے موم کو ڈیورث دے دی ہے… وہ دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں… اور موم دوسری.. وہ دونوں مجھے بلا رہے ہیں” اسنے تفصیلی بتایا..
یار کیا ضرورت ہے جانے کی” وارث کو لگا جیسے.. وہ دھوپ میں کھڑا ہو گیا ہو…
ضروری ہے جانا “ارہم کو اسکی آنکھوں کی تکلیف پر افسوس سا ہو رہا تھا…
وارث یوں ہی اسکی جانب دیکھ کر رہ گیا….
………………….
صبح کا سورج اس دہلیز پر اترتے اسنےااپنی آنکھوں سے دیکھا….
لب بے اواز پھڑ پھڑاے..
حیا…” اسے صرف اپنے کانوں میں اپنی اواز سنائ دی…
اج اسے اس نشے کی حالت میں اٹھانے کے لیے کوئ نہیں ایا تھا…
وہ یوں ہی پڑا تھا….
و. وارث” ایک نرم سی اواز سنائ دی…
اس اواز کو پیچان کر اسکا دل کیا اپنا گلہ دبا دے یا اس عورت کا…
کیا مصیبت ہے “وہ دھاڑا..
سب جا چکے ہیں تو تم یہاں کیا کر رہی ہو.. “وہ چلایا… اور اپنے پاوں پر وزن دیتا وہ اٹھا…
جبکہ اچانک قدم لڑکھڑائے…
اس سے پہلے وہ انھیں پکڑتی کہ… اسنے خود ہی دروازے کا سہارا لیا…
کہاں ہے حیا… “وہ اندر ایا…. اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر انکی آنکھیں برس اٹھیں تھی…
حیا…. وہ اپنے کمرے کی جانب دیکھتا بولا…
حیا کہاں ہو یار…” وہ چیخا….
وارث” انھوں نے سسکی لی….
حیا پلیز واپس او….” انکا ہاتھ جھٹکتا. وہ ضدی لہجے میں بولا..
وہ جا چکی ہے.. شاید اپنی امی کے گھر ہو.. وہاں چلے جاو لے او اسے” انھوں نے اسکا ہاتھ زبردستی پکڑا.. انکا دل پھٹ رہا تھا بیٹے کی حالت دیکھ کر.. وارث زمین پر بیٹھتا چلا گیا….
اور انکی جانب.. وہ اپنی آنکھوں سے نکلنے والا سیلاب روکتا دیکھنے لگا…
ایک عورت نے مجھے برباد کر دیا” وہ مدھم اواز میں بولا….
وارث مجھے معاف “اسنے نفرت سے ہاتھ جھٹک دیا….
نفرت ہے مجھے نفرت.. تم سے تو مجھے اتنی نفرت ہے اتنی نفرت ہے…. کہ اس نفرت کی بھینٹ میں نے حیا کو چڑھا دیا…
وہ میری تھی… مگر میں نے سمھجا نہیں… “وہ سسک اٹھا… اور نفرت سے انکی جانب دیکھنے لگا.. جوان بیٹے کو ترپ کر دیکھ کر ان کی حالت دیکھنے لائق تھی جبکہ وارث نے.. گاڑی کی چابی اپنی جیب میں ٹیٹولی… اور نکال کر وہ باہر کی جانب دوڑا…
………………
فقت ایک دن صرف ایک دن حیا کے بغیر وہ نہیں رہ پایا….
تیز ڈرائیو کر کے.. وہ حیا کے گھر پہنچا…
لال سرخ آنکھوں سے اسنے تیزی سے دروازہ بجایا…
جبکہ ابو نے حیرت سے دروازہ کھولا…
وارث بیٹا اسکی حالت پر وہ حیران رہ گئے…
حیا.. حیا یہاں ہے نہ.. اس سے کہیں میں معافی مانگ رہا ہوں وہ میرے پاس اجاے.. اس سے کہیں… دیکھیں میں نے زیادتی کی ہے اسکے ساتھ…. مگر دیکھیں میں میں مر رہا ہوں.. اپ دیکھیں.. اس سے کہیں پلیز.. وہ باہر اے “وہ بے بسی سے… بول رہا تھا…
کہاں ہے حیا” انھوں نے پریشانی کے علم میں اسکی جانب دیکھا..
وارث حیا یہاں نہیں ہے “ابو کے ساتھ ساتھ… اب وارث کے قدموں تلے زمین نکلی…
وہ چند پل ساکت رہ گیا…
دماغ کو لاکھ جھٹکنا چاہا مگر نہیں… اسے لگا اسکی آنکھوں کے اگے اندھیرہ چھا رہا ہے…
ہاں بنا کچھ کھائے پیے وہ صرف شراب پی رہا تھا..
اسنے دروازہ تھاما…
اور دماغ جھٹکتا.. وہ گاڑی میں بیٹھا وہ بول رہے تھے اسکا ہاتھ پکڑ رہے تھے جھنجھوڑ رہے تھے مگر وارث کے کانوں میں ایک لفظ بھی سنائ نہیں دے رہا تھا…
وہ گاڑی میں بیٹھا..
اور گاڑی چلائ..
کچھ دیر چلانے کے بعد جب مکمل اندھیرہ چھایا… تو اسنے سٹیرنگ چھوڑ کر سر تھاما… اور گاڑی اوٹ اف کنٹرول ہو کر.. درخت پر جا لگی….
حیا”بس یہ اخری لفظ تھا…
………………
تین سال بعد……
زین شاہ…” اسنے بیٹے کو دوڑتے دیکھ کر پکارا…
رک جائیں بس میں تھک گئ”وہ تھک کر بیٹھ گئ…
مم لوزر” اسنے منہ بنایا…
اوہ “حیا نے ہونٹ نکالا….
تو وہ کھلکھلا دیا..
حیا مسکرائ…
اپ اہ اتنے تیز بچے ہیں .. کہ اب میں اپکو سکول میں لگاو گی بس “حیا اسکے پاس جاتی چپکے سے اسے پکڑتی بولی…
جبکہ وہ زور زور سے ہنسنے لگا….
دور سے اویس نے دونوں کو دیکھا… اور مسکرایا…
نہیں ابھی شاہ صاحب کا وقت نہیں ہے سکول جانے کا. اگر مما جانا چاہتی ہیں تو جائیں” اویس نے اسکی گود سے لیتے ہوے کہا جبکہ حیا نے مسکرا کر دیکھا..
تم افس نہیں ائ اج… تو میں نے سوچا میں ا جاو” اویس نے اسکی جانب دیکھا…
اج زین کو صبح کچھ فیور تھا اسی لیے سوری میں نہیں ا سکی “ھیا کچھ شرمندہ سی بولی..
او ہو میں تمھیں شرمندہ نہیں کر رہا.. بس مجھے فکر تھی تم دونوں کی ہزار بار کہا ہے تم میرے گھر چلو مما بھی تمھیں اور زین کو مس کرتی ہیں “اویس نے کہا.. تو وہ مسکرا دی..
اجاو چائے بناتی ہوں “اسنے کہا اور اندر چل دی جبکہ اویس زین سے بولتا ہوا…
اندر ا رہا تھا.. اور زین پٹا پٹ اسکی باتوں کے جواب دے رہا تھا…
ھیا اسکو دیکھ کر مسکرا رہی تھی…
اگر وہ اسکے باپ سے محبت کرتی تھی… تو اسکے بیٹے سے عشق کرتی ہے…
اسنے زین کی جانب دیکھ کر سوچا… اور اویس کے لیے چائے بنا کر وہ لے ائ…
انٹی کا میرے پاس فون ایا تھا.. تم نے رمشہ سے شادی سے انکار کیوں کیا “ھیا نے اسکی جانب دیکھا…
حیا.. میں… ” اویس نے پھر سے تمہید باندھی.. …
اویس اج کل یہ انے والے تین سال یہ صدیاں میں کبھی بھی تم سے شادی نہی کروں گی تم میرے دوست ہو میرے محسن ہو.. مجھے تم نے سہارا دیا… میں مشکور ہوں تمھاری مگر میں اپنے بیٹے کو چھوڑ نہیں سکتی”
مگر میں اسکو بیٹا سمھجتا ہوں تم ایسی بات کیوں سوچتی ہو..
سمھجتے ہو.. وہ تمھارا ہے نہیں.. بیٹا” ھیا نے فورا جواب دیا اویس چپ ہو گیا…
تم اج بھی وارث کو نہیں بھولی…. “اویس نے چیڑ کر اسکی جانب دیکھا…
ہاں شاید وہ میری رگوں میں خون کی مانند دوڑتے ہیں.. وہ ہر پل میری آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں زین کی صورت مگر… یہ بھی طے ہے کہ مجھے نہ انکے ساتھ رہنا نہ.. ہی کسی اور کے ساتھ.. مجھے میرا بیٹا کافی ہے اویس اور تمھارے لیے رمشہ بہترین ہے “اسنے تفصیلی جواب دیا اویس اسکی جانب دیکھ کر رہ گیا..
میں اوں گی کل.. اور.. تمھاری منگنی کی تیاریاں کریں گے ہم بس طے ہے یہ” اسنے فیصلہ کیا..
مگر میں رمشہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا “اویس کی آنکھوں میں رمشہ ائ…
ہاں تمھاری مرضی مان لی میں نے” حیا نے گھورا….
اور زین کو اسکی گود سے لے لیا…
اور اسکے پھولے گالوں پر کس کی…
زین میری جان.. کیا کھاے گا میرا بیبی” اسنے زین سے بات کی…
جبکہ زین نے ھیا کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر… اپنے ہونٹ اسکے لبوں پر رکھ دیے.. جن پر اسکی رال لگی ہوی تھی..
حیا… کا دل جیسے جوش سے بھر گیا
.. میرا بچہ.” اسکی آنکھوں میں پانی ا گیا…
اولاد سے ماں جتنی محبت کرتی ہے بدلے میں وہ انجانے میں ہی وہ اظہار کر جاے تو.. کتنا نہیں اس ماں کا دل خوش ہوتا.. اور یہ ہی اج حیا کے ساتھ ہوا تھا…
اویس خاموشی سے اٹھ گیا کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن ہو گیے تھے…
اویس کل میں او گی “حیا نے کہا..
جبکہ وہ پاوں پٹخ کر نکل گیا…
……. اور حیا مسکرا دی
…..
جاری ہے