Sharabi By Tania Tahir Readelle50244 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
اسنے ایک نظر حیا کی جانب دیکھا.. جبکہ سب کی ہی نظریں وارث پر تھیں….
وارث بے حد سنجیدگی سے حیا کیطرف دیکھتا رہا…
یہ یہیں رہیں گیں” حیا مظبوط لہجے میں بولی..
تمھارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا” چچی اگے بڑھیں…
یہ عورت اس گھر کی عزت پر داغ لگا کر نکل گی تھی اور اب نہ جانے کس کوڑے پر سے اٹھا لائ ہو… “تائ بھی بولیں…
میں چاہو تو اپ لوگوں کو بھی یہاں سے نکال سکتی ہوں” حیا نے دانت بھینچ کر ان دونوں کو دیکھا…
دیکھ رہے ہو وارث اسکی زبان درازی” چچی چیخی….
کس کو نکالو گی حیا” وہ بولا تو جیسے سر سے پاوں تک انداز بدلا ہوا تھا… گویا وہ پہلے روز کیطرح اجنبی ہو…
ہم شکر ہے اس شرابی کو یاد ایا کہ یہ کیا تھا” عماد نے ماہم کے کان میں سرگوشی کی…
اب دیکھو تماشہ” اسنے سکون سے کہا جبکہ ماہم نے کوئ جواب نہیں دیا…
وارث میں اپکو اکیلے میں سمھجاتی…”
رک جاو “وہ ہاتھ اٹھا کر بولا….
نکالو اسے باہر یہاں سے “اسنے اپنی ماں کیطرف ایک نظر بھی نہیں دیکھا تھا..
جبکہ حیا نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا..
وارث اپ کی ماں ہیں یہ”حیا نے اسکا ہاتھ پکڑا جبکہ وارث نے اسکا ہاتھ جھٹک کر اسکا منہ دبوچ لیا…
کیا بن رہی ہو اپنی جان میں تم… کاٹھ کا الو ہوں میں یہ تم نے اپنے دوپٹے سے باندھ لیا اور اب جس طرح نچاو گی وارث ناچے گا.. تمھاری مجال بھی کیسے ہوئ اس معملے میں مداخلت کرنے کی” وہ دھاڑا…. وہاں کھڑے سب کے چہرے کا سکون قابل دید تھا..
انھوں نے وارث کی جانب دیکھا…
ہاں وہ اتنی نفرت ڈال گئیں تھیں… اسکے دل میں کے وہ.. یوں ہی رویہ رکھتا… بولنے کی ہمت بلکل نہیں تھی ان میں…
وارث چھوڑیں مجھے” حیا نے اس سے خود کو چھڑوایا…
کریم”اسکی بلند اواز وہاں گونجی…
باہر نکالو اس عورت کو یہاں سے “اسنے ایک نگاہ بھی انپر ڈالنا ضروری نہیں سمھجی جبکہ حیا نے دوڑ کر اس طرف اتے کریم کو دیکھا….
رک جاو کریم” اسنے کریم کو گھورا…
تمھیں تنخواہ میں دیتی ہوں اور یہ میرا حکم ہے کہ اج کہ بعد تم ان کے قریب بھی نہیں او گے”وہ بولی جبکہ وارث طنزیہ مسکرایا…
اور بنا کسی لحاظ کے کھینچ کر حیا کے منہ پر تھپڑ مارا….
سب فق اسکی شکل دیکھ رہے تھے جبکہ حیا کی آنکھوں میں بے یقینی کا سمندر مجزن تھا….
وہ وارث کو دیکھ رہی تھی.. ایسے گویا وہ ہار گئ ہو…
کیا کر رہے ہو بیٹا” بلآخر انھیں بولنا ہی پڑا جبکہ وارث نے انھیں دور دھکا دیا…
اےےےے اپنی زبان سے میرے لیے ایک لفظ نہیں بولنا ورنہ زبان کھینچ دوں گا میں نے نہیں بات کی نہ تم سے.. تو میرے منہ مت لگو….”
اور تم “اسنے حیا کی بے یقین آنکھوں میں دیکھا..
تم نے ثابت کر دیا عورت کی اوقات دو ٹکے کی ہی تھی اور اتنی ہی ہے.. یہ گھر…. یہ جائیداد.. یہ کمپنی.. صرف وارث شاہ کی ہے.. سمھجی تم.. چار دن تم سے اچھے سے بات کر لی تو تم یہ سمھجہ رہی ہو.. کہ میرے سر پر تمھاری عاشقی کا بھوت سوار ہو گیا ہے… تو حیا بی بی… ایساکچھ نہیں ہے “کوئ نہیں جان سکتا تھا.. اس وقت.. ایک نازک دل کئ ٹکڑوں میں تقسیم ہوا تھا….
وہ وارث کو دیکھتی رہی…..
چارو جانب جیسے سناٹا تھا….
یہ یہیں رہیں گی.. جسکو مسلہ ہے وہ یہاں سے جا سکتا ہے” اسنے اہستگی سے کہا اور وہاں سے انکا ہاتھ تھام کر چلی گئ جبکہ انھوں نے اسکی جانب دیکھا… جو انھیں انکے ہی روم میں لے ای تھی جبکہ باہر وارث نے لاونج کی ہر چیز کو تھس نہس کیا.. اور وہ بھی وہاں سے نکل گیا….
کیوں کر رہی ہو یہ سب میرے لیے میرے لیے اپنا گھر برطاد کر رہی ہو.. “اسکی سپاٹ چہرے پر انسو دیکھ کر وہ بولیں…
مجھے یہاں کسی کی بھی ہمدردی نہیں چاہیے…. ہاں البتہ اگر اپ مجھ پر احسان کرنا چاہتی ہیں.. تو مجھے اس حقیقت کا بتا دیں جو مجھ سے پوشیدہ رکھے ہوے ہیں”
اسنے سنجیدگی سے کہا… جبکہ وہ بے تاثر چہرے سے اپنی انکھ سے بہتے انسو کو صاف کر گئ…
تھپڑ اسکی انکھ پر لگنے کے باعث اسکی انکھ سرخ ہو کر سوج چکی تھی جبکہ… مسلسل انکھ سے پانی نکل رہا تھا…. انھیں اس لڑکی پر کافی ترس ایا.. اور گھیرہ سانس لیا…
علمگیر صاحب نے کافی بڑی عمر میں شادی کی تھی….
کہ انکے بھتیجے میری عمر کے تھے….
وہ لوگ چاہتے نہیں تھے کہ علمگیر صاحب شادی کریں کیونکہ سب کو کمانے کی مشین ملی ہوئ تھی…
میں ایک غریب گھرانے کی لڑکی تھی… اور اپنے کزن سے بہت پیار کرتی تھی…
علمگیر سے شادی بھی نہیں کرنا چاہتی تھی.. مگر ابا اماں انکی شان شوکت سے بے حد متاثر تھے.. تبھی زبردستی میری ان سے شادی کر دی گئ..
مگر میرا تعلق… قاسم سے ختم نہیں ہوا… نہ ہی علمگیر صاحب کو میں اپنی محبت دے سکی…
مگر یہاں ا کر میں عجب بھنور میں پھنس گئ…
ایسابھنور.. جس نے پہلے مجھے میرے ہی جال میں پھنسا کر… مجھے ہی مات دی….
ہم بہت پیار کرتے تھےا یک دوسرے سے….
علمگیر صاحب یہ نہیں جانتے تھے
وہ شادی کے کچھ دن بعد اپنی روٹین پر ا گئے….
اور میں…. میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر.. بے ایمانی پر اتر ائ..
میں نے قاسم سے تعلق ختم نہیں کیا….
علمگیر صاحب نے مجھ سے کبھی جواب طلبی نہیں کی کہ میں کہاں جاتی ہوں کہاں نہیں….
اور جلد ہی وارث ہو گیا….
وہ مسکرائیں…
وہ بہت اچھا لگتا تھا مجھے.. وہ بہت ہی زیادہ خوبصورت تھا…
میں وارث کے پیچھے اتنی دیوانی ہوی کہ قاسم کو بھولنے لگی جبکہ وہ… بہت غصہ کرتا تھا… مگر مجھے تو وارث کے سوا کچھ نہیں دیکھائ دیتا تھا.. وہ تھا ہی اتنا اچھا…
وہ مسکرائیں پھر سے…
پھر ایک دن وہ گھرا گیا..
میں گھبرا گئ…. میں نےا سے وہاں سے بھگانا چاہا تو عماد نے دیکھ لیا.. وہ شروع سے مجھے عجیب نظروں سے دیکھتا تھا مگر میں نے کبھی توجہ نہیں دی…
اور اسکے بعد عماد نے مجھے زیچ کرنا شروع کر دیا…
اور وقت گزرتا رہا.. وہ مجھے تنگ کرنا نہیں چھوڑتا تھا..
جبکہ وارث بھی بڑا ہو رہا تھا… اور قاسم… الگ مجھ پر وزن ڈال رہا تھا…. میں پھنس سی گئ تھی ایسا نہیں تھا میں اس سے پیار نہیں کرتی تھی مگر میں وارث کی وجہ سے بندھ سی گئ تھی…
ایک دن عماد نے میرا دوپٹہ کھینچا. اور میرے ساتھ زبردستی کی کوشش کی..
میں گھبرا گئ جبکہ اسنے مجھے قاسم کے تانے دیے… کہ وہ علمگیر کو سب بتا دے گا… میں اسکی یہ حرکت چھپا گئ جبکہ وہ شیر ہونے لگ گیا….
علمگیر صاحب نے کمپنی ایک دن میرے نام کر دی…
جب گھر میں یہ خبر پھیلی تو سب کو اگ لگ گئ..
کیونکہ کمپنی میں وہ سب اپنا حصہ چاہتے تھے…
قاسم کا الگ دباو بڑھنے لگا… وہ مجھ سے کوئ درست جواب چاہتا تھا…
دوسری طرف عماد نے گویا میرا جینا حرام کر دیا….
ایک دن اسنے مجھ سے پھر زبردستی کی اور میں نے علمگیر صاحب کو بتا دیا…. تو وہ ہنس دیے….
انھوں نے میری بات کو سنجیدہ ہی نہیں لیا جبکہ میں نے دروازے کی جانب دیکھا… 5 سال کا وارث.. یہ سب سن رہا تھا….
میں خاموش ہو گئ…
ایک دن مجھے پتہ چلا… قاسم دوبئی چلا گیا….
میرا دل بیٹھ گیا… مجھے بہت رونا آیا… اور اس دن وارث بھی میرے ساتھ رویا… کیونکہ شاید وہ مجھے روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا.
مگر میں غصے میں تھی میں نے جھٹک دیا اسے.. وہ مجھ سے لپٹ کر مزید رو دیا اور میں بھی رو دی….
وہ کیا جانتا تھا میں کس غم میں رو رہی ہوں……
میں خاموش رہنے لگی…
قاسم کا دکھ مجھے بے چین کر گیا تھا….
اور کچھ ہی دن بعد عماد میرے کمرے میں گھس گیا….
میں غصے سے بولنے لگی مگر اسنے مجھے پکڑ لیا…
وہ میرے کان میں قاسم کے متعلق بکواس کر رہا تھا…
جبکہ مجھے علمگیر کو بتانے کی دھمکیاں بھی دینے لگا…
ایک طرف سے تو.. مجھے آسرا ختم ہو گیا تھا اب وہ میرا گھر جو میں خود پہلے برباد کرنا چاہتی تھی اب وہ کر رہا تھا..
میں نے رو کر اس سے.. پوچھا کیا چاہتے ہو..
اور اسنے سکون سے.. مجھے یہاں سے نکل جانے کا کہا…
مجھے نہیں معلوم تھا وارث نے کیا سنا کیا نہیں مگر.. اسنے مجھے عماد کی بانہوں میں ضرور دیکھا..
یہ سب میری غلطی میری خطا تھی..میں قاسم اور علمگیر کے بتانے کے خوف میں اس کو خود سے دور نہیں کر پائ…
جبکہ اسکے بعد وارث مجھ سے دور رہنے لگا..
وہ جو مجھ سے ایک لمہے بھی دور کہیں نہیں جاتا تھا.. وہ مجھ سے بات نہیں کرتا تھا.. کمرے میں بند رہتا تھا…
لیکن اس بات کا اندازا مجھے بہت دیر سے ہوا… کہ وہ مجھے عماد کے ساتھ دیکھ چکا ہے..
عماد نے جیسے مجھ پر زندگی تنگ کر دی.. اور اسکے ساتھ ساتھ علمگیر اور وارث کے جاتے ہی سب گھر والوں نے…
علمگیر تین دن کے لیے شہر سے باہر گے…
تو عماد پھر میرے کمرے میں. آ دھمکا… وہ تبھی اتا تھا جب علمگیر صاحب چلے جاتے تھے..
میں نے اسکی منت کی….
مگر اسنے مجھے پھر وہی دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور کچھ تصویریں بھی دکھائیں.. جو کہ میں اسی گھر میں کھڑی قاسم سے بات کر رہی تھی..
میں سخت پریشان ہو اٹھی کیونکہ علمگیر صاحب کو معلوم ہوتا تو.. وہ میرے ساتھ کیا کرتے…
اس گھر سے جلد از جلد اپنا بوریا بسترا.. بندھ کر نکلو اور یہ کمپنی میرے نام کرو “عماد نے پھر وہی رٹ لگا لی…
میں…. نے اسکے بعد چند دن.. اپنی زور زبردستی وہاں گزارے جبکہ… عماد نے گویا ٹھان لی تھی مجھے نکالنے کی… اپنی ک. کمپنی وارث کے نام کر دی میں نے وہ چھوٹا تھا مگر میں نے پھر بھی.. واثیت کر دی..
میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی وہ میرے ساتھ کیا کیا کرنا چاہتا تھا…
اپنی عزمت کو بچانے کی خاطر وارث کی خاطر… اور کہیں کہیں علمگیر صاحب کے خوف سے.. میں ایک دن.. اس گھر سے بھاگ گئ…
اس دن وارث بہت دنوں بعد مجھ سے پوچھ رہا تھا.. میرا دل کٹا جی کیا اسے سینے میں بھینچ لوں مگر چور تو اصل میرے اندر تھا.. اگر نہ ہوتا تو میں.. ڈرتی نہ…
اور میں اس بچے کی پکار کو.. رد کرتی بھاگ گئ….
بھاگ گئ…. میں… یہ میرا کیا دھرا ہے اسکی انتہائ نفرت میرے ساتھ بجا ہے…
وہ سمھجتا ہے اسکی ماں گندی ہے.. ہاں تو ہے..
معلوم ہے مجھے عماد نے اسے بتا دیا ہو گا.. قاسم کا..
اور وہ مجھ سے بے حد نفرت کرتا ہے.. میری وجہ سے اپنا گھر برباد مت کرو “انھوں نے اسکو دیکھا.. جو… بے دم سی انکے پاس سے اٹھ گئ…
عماد سے جہاں نفرت ہوئ تھی وہیں.. انکے لیے اسکے دل سے تمام جزبات رفا ہو گئے تھے..
……………………
ساری رات کمرے میں وہ بس اپنی ہی سوچوں میں مگن رہی.. اسکے کانوں میں وارث کے الفاظوں کا شور سا برپا تھا…
بھرے مجمعے میں وہ.. اسکو بے عزت کر چکا تھا…
رات رفتہ رفتہ گزر رہی تھی وہ نہیں ایا بلکل پہلے کیطرح جب وہ اسکا انتظار کرتی تھی مگر اج وہ اسکا انتظار نہیں کر رہی تھی..
وہ اس سے محبت کرتی تھی اسے مکمل دیکھنا چاہتی تھی مگر یہ بات اسے سمھجہ نہیں . ارہی تھی…
حیا نے وقت دیکھا 3 بج رہے تھے اسنے… اٹھ کر وضو کیا اور رب کے حضور بیٹھ کر وہ بری طرح سسک اٹھی وارث کے الفاظ اسکا دل کاٹ رہے تھے..
اچانک دروازہ بجا.. وہ جانتی تھی.. اسکے کان کیا سننے والے ہیں…
باہر پڑا ہے تمھارا شرابی اٹھاو جا کر اسے “تائ کی اواز پر وہ جائے نماز سے بلکل پہلے روز کیطرح بھاگی..
سفید دوپٹے کے حالے میں تائ نے اسکا انسو سے تر چہرہ دیکھا اور طنزیہ مسکرائیں.
. اتنی ڈھٹائ تو میں نے کہیں نہیں دیکھی.. ایک ٹکے کی عزت نہیں پھر بھی یہیں بیٹھی ہے بےشرم” وہ طنز کرنا نہیں بھولیں حیا جواب دیے بغیر دہلیز کی جانب دوڑی ..
اور وارث کا چہرہ تھام لیا..
وارث” وہ اسکو سینے میں سمو لینا چاہتی تھی… مگر وارث اسکا لمس اسکی خوشبو پاتے ہی اسے جھٹک گیا…
دو.. دور رہو.. نیچ عورت “وہ لڑکھڑاتا ہوا اٹھا…
حیا نے اسکو سہرا.. دیا..
میں نے کہا دور رہو….
سمھجتی کیا ہو خود کو… تم..
نفرت ہے مجھے تم سے.. تمھارے اس.. اس وجود سے” وہ اسے دھکا دیتا.. بولا…
تمھارے ساتھ تو میں وہ کروں گا حیا کہ اگلی بار سر بھی نہیں اٹھا پاو گی”اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر پیچھے دھکیلتا.. وہ بولا.. اور کمرے کی جانب چلا گیا..
تائ کی طنزیہ ہنسی سنائ دی.. وہ ایک نظر انکو دیکھ کر اسکے پیچھے ہو لی..
کمرے میں داخل ہوی وہ بستر پر اندھا پڑا تھا….
اسنےا سکے جوتے اتار کر اسکو.. ٹھیک کر کے لٹایا…
اسے لگ رہا تھا.. کچھ.. بہت برا ہونے والا ہے…. ا
وہ چاہتی تھی وارث اسے سمیٹ لے..
مگر وارث اسکی سوچ کے مطابق کبھی نہیں رہا..
وہ اسکے بازوں پر سر رکھ کر لیٹ گی.. جبکہ وارث نے کروٹ لے کر اسکو بانہوں میں بھر لیا اگلی رات بھی اسنے یوں ہی جاگ کر گزار دی..
…..
………………..
اگلی صبح دروازے پر شور کے باعث… اسکی انکھ کھلی…
اسے رمضان شاہ اور وجدان شاہ کی چیخنے کی آوازیں ا رہیں تھیں…
وہ ہڑ بڑا کر اٹھی.. وارث کیطرف دیکھا.. وہ واشروم سے نکلا…
اور حیا پر نفرت بھری نظر ڈال کر نظر پھیر لی.
دروازہ ایک اور بار بجا حیا نے.. اہنا حولیہ درست کیا اور دروازہ کھولا…
پورا گھر دروزاے پر کھڑا تھا..
رمضان شاہ نے اسکے منہ پر پیپر دے کر مارے…
حیا حیران ہوی وارث کیطرف دیکھا . وہ لاتعلق سا بال بنا رہا تھا..
بیچ دی اسنے کمپنی… یہ گھر یہ سب کچھ بیچ دیا… اسنے.. “رمضان شاہ… بے حد جلال میں تھے…
حیا کا رنگ فق ہوا….
ن… نہیں… ” وہ بڑبڑائ اور جھک کر جلدی سے پیپیرز دیکھنے لگی..
نہیں وہ اس سے اس حد تک نفرت نہیں کر سکتا.. وہ اسطرح اس سے بدلہ نہیں لے سکتا.. وہ ایسا نہیں کر سکتا.. اسکا دل چیخنے لگا.. مگر کاغزات تو کچھ اور بتا رہے تھے…. اسنے وارث کی جانب دیکھا..
سب کی تڑپ دیکھ کر.. وہ مسکرایا. .
اپس دل کے ارمان انسو میں بہہ گئے… جس کی جو اوقات تھی.. وہ وہیں رہ گے “اسنے حیا کی جانب نخوت سے دیکھا…
وہ یہ نفرت سہن نہیں کر پائ…
اپنے دن رات اسنے اس کمپنی کو دیے تھے….
کتنا نہیں سمیٹنا چاہ ااسنے.. وارث کو…
اج اسنے اسے بکھر دیا…
حیا کی آنکھیں سرخ ہو گئیں..
بس یہ تھا جس پر تم اچھل رہی تھی.. بار بار اپنی حثیت کا اندازا دلا رہی تھی…
میرا باپ بھی عجیب ادمی تھا….
ایک ٹکے کی عورت اسنے پالی.. اور ایک ٹکے کی. عورت مجھے دے گیا…
مگر بہاو تو بہت بڑھ گئے تھے.. تمھارے تم یہ سمھجہ رہی تھی کہ تم.. اپنے اختیار پر وارث کو چلاو گی تو.. بھلو مت وارث.. یہ ہے.. وہ خود برباد ہو سکتا ہے.. تمھیں بھی کر سکتا. ہے… سمھجی حیا….
میرے خلاف جانے کا انجام….
میری دو لہمے کی قربت کو محبت سمھجبے والی بیوقوف ترین لڑکی ہو تم…
وہ طنزیہ ہنسا…
ویسے ساری عمر تم اس بات پر پشتاو گی.. “
اسنے کہا… حیا جہاں تھی وہیں رہ گی…
اسنے اب باقی سب کیطرف دیکھا اور شانے اچکائے…
گھر کاروبار سب بک گیا. اب میری شکل نہ دیکھو سب.. اپنے اپنے ٹھکانوں ہر نکل جاو” اسنے کہا.. اور مزے سے مسکراتا.. ان پپیپرز پر جوتے رکھتا.. وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا…
………………….
اگر محبت اس طرح زلیل کرتی ہے.. تو ہار دی اسنے محبت…
ایک عورت کو اس گھر نے پہلے نکلنے پر مجبور کیا تھا..
اور اج ایک اور عورت مجبور تھی…
وارث سے محبت کا اندازا تو اسے خود بھی نہیں تھا.. ہر موڑ پر وہ اپنی ہی محبت کے ہاتھوں زلیل ہوی تھی اور اج اسکے یہ لفظ کے وہ ٹکے کی عورت تھی…
اس سے برداشت نہ ہو رہے تھے.. وہ مسلسل روتی اپنا سامان بند کر رہی تھی.. کہ دروازہ بجا..
اور دھاڑ سے کھول کر کوئ اندر ایا…
اف کیا کلای مکس ہے تمھاری کہانی کا “عماد نے تالی بجائ
شوہر نے سب بیچ دیا…. جبکہ با حیا… حیا بی بی خالی ہاتھ رہ گئ..
تمھیں میں نے پہلے بھی کہا تھا.. ڈیل کر لو.. فائدے میں رہو گی اب دیکھو.. جا رہی ہو نہ زلیل ہو کر” وہ اسکے نزدیک ایا..
حیا نے کوئ جواب نہیں دیا…
اب وہ یہاں کسی کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھی..
عماد اسکو دیکھ کر ہنستا رہا..
جاتے جاتے ہی کچھ دے جاو ظالم.. کہ یہ مچلتا دل قرار میں. اجاے” اسنے دل ہر ہاتھ پھیر کر لوفرانہ انداز میں اسکا ہاتھ پکڑا…
اور حیا نے کھینچ کر اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا..
تمھارے لیے میرے پاس یہ ہی ہے” اسنے کہا… اور جانے لگی کہ ماہم کو دروازے پر پایا..
ایک نظر مڑ کر عماد کو دیکھا جو منہ کھولے ماہم کو دیکھ رہا تھا اور باہر نکل گئ…
ہر کسی کا وقت زندگی بھر نہیں رہتا…
کتنے مان… کتنی محبتیں سموے وہ اس گھر میں داخل ہوئ تھی..
اور کیا لے کر جا رہی تھی زلت تزلیل…
اسکی انکھ سے ایک پل کو انسو نہیں رکا…
اور وہ وہاں سے نکلتی چلی گئ…
جبکہ وارث کی والدہ اسکے پیچھے لپکیں تھیں….
مگر وہ جا چکی تھی…
ہمیشہ کے لیے سب سے دور….
………………….
جاری ہے
