Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

Epi 11
ہسپیٹل کے روم میں کھڑی وہ حیرت سے اس عورت کو دیکھ رہی تھی جو موبائل سکرین میں موجود وارث کی تصویر کو دیوانگی سے چوم رہیں تھیں..
یہ میرا وارث ہے… یہ اتنا بڑا ہو گیا… “وہ بار بار سکرین کو چومتی بول رہیں تھیں… حیا نے انکی آنکھوں کو گور سے دیکھا…
وارث کی آنکھیں ان سے کافی ملتی تھیں…
میرا وارث” وہ پھر سے بولیں…..
اب رونے کا کیا فائدہ جب پہلے چھوڑ کر چلی گئیں تھیں..
ماں ماں ہوتی ہے.. اولاد کے اگے اپنی خواہشات کو قربان کر دینے والی مگر اپ نے تو حد ہی پار کر دی…
اس معصوم بچے کی جانب ایک بار تو دیکھتی.. اپ کی یہ اپکی بوئ ہوئ نفرت ہے جو.. مجھے بھی کاٹنی پڑ رہی ہے “اچانک ہی وہ تلخی سے بولتی….چلی گئ جبکہ اس عورت نے اسکی جانب دیکھا..
پیار کرتی ہو اس سے” وہ اسکیطرف دیکھ کر بولیں..
جی ہاں بہت بے حساب اور میں ؛پنے شوپرکے ساتھ مخلص بھی ہوں “اسنے جیسے طنز کیا…
میرے وارث کی قسمت بہت اچھی ہے” وہ مسکرا کر اسکو دیکھنے لگی جبکہ حیا نے حیرت سے دیکھا…
بہت پیاری ہو تم…. اور بولتی ہوئ بھی اچھی لگتی ہو… یقیناً وہ بھی تم سے محبت کرتا ہو گا “وہ بولیں تو حیا کو اپنے لہجے پر شرمندگی ہوئ اتنے طنز کے بعد بھی وہ نرمی کا مظاہرہ کر رہیں تھی جبکہ وہ خوامخواہ اوور ہو رہی تھی…
نہیں وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا….
کیونکہ اسے عورت سے نفرت ہے” حیا نے اسکی آنکھوں میں دیکھا..
جھوٹ بولتا ہو گا تم ہو ہی اتنی پیاری وہ تمھیں نظرانداز نہیں کر سکتا…” انھوں نے مسکرا کر کہا درحقیقت.. اسکی آنکھوں میں وارث کا عکس تھا… اور وہ وارث کی باتیں کرنا چاہتی تھیں…
حیا کا دل خوش سا ہو گیا…
گمان ہوا ہاں شاید اسے مجھ سے محبت ہو.. سوچتے ہی دل گدگدا گیا…
مگر وہ بہت تنگ کرتے ہیں” وہ لاشعوری طور پر شکایت کر گی… جبکہ وہ ہنسی…
وہ ایساہی تھا بچپن سے بہت شرارتی.. میرے پلو سے چیپکا رہتا تھا… مگر پھر بھی مجھے بے حد تنگ کرتا تھا…
مجھے نہ دیکھ کر غصے سے ڈھونڈتا تھا اور جب میں مل جاتی تھی.. تو تنگ کرنے لگ جاتا تھا..” وہ ہنستی ہوی بتانے لگی حیا کو یہ سب حقیقت ہی تو لگی….
وہ ایسا ہی تھا….
کیوں چھوڑ گئیں پھر اپ اسے” حیا نےا ب کی بار نرمی سے پوچھا…
تو وہ خانوش ہو گئیں….
اپ بتائیں مجھے “حیا نے کہا تو…. انھوں نے اسکی جانب دیکھا…
کبھی کبھی اپنوں کو بچانے کے لیے…. اپنوں سے دور ہونا پڑتا ہے “وہ بس اتنا ہی بولیں
کیا مطلب….. اس بات کا” حیا کو کچھ سمھجہ نہیں ائ.. وہ کہنا کیا چاہتی ہیں…
وہ کچھ نہیں بولیں حیا کے لاکھ پوچھنے پر بھی..
اپ میرے ساتھ گھر چلیں “اچانک ہی اسنے فیصلہ کر لیا جبکہ.. فائز اسے روک چکا تھا کہ یہ قدم مت اٹھانا…
انھوں نےا سکی جانب دیکھا….
نہیں…. “وہ نفی کرنے لگیں…
نہیں.. میں جانتی ہوں کچھ ہے.. جو جڑا ہوا ہے اسی گھر سے.. اپ نہیں بتائیں گی تو میں خود ڈھونڈ لوں گی اس حقیقت کو.. “
حیا بولی تو انھوں نےا سکا ہاتھ پکڑا..
میرے وہاں جاتے ہی حقیقتیں کھلنے لگ جائیں گی… جسے تم سہن نہیں کر سکو گی “وہ بولیں
حیا نے نفی کی.. اپ میرے ساتھ چل رہیں ہیں.. ایک انسان…
اپنے اپ کو تباہ کر رہا ہے… وہ نفرت کرتا ہے عورت سے کیوں کیا دیکھا ہے اسنے ایسا.. جو وہ نفرت کرتا ہے….
کیوں کرتا ہے.. شراب پی کر ہر رات خود کو مفلوج کرتا ہے..
عورت کو بے عزت کر کے… وہ فخر محسوس کرتا ہے.. “
کیونکہ اسنے اپنے رشتے کو بے بس پایا….
اسنے دیکھا… اسنے ہی دیکھا تھا…..” وہ سسک اٹھیں… جبکہ حیا نہ سمھجی سے دیکھنے لگی..
کیا دیکھا اسنے….. “وہ ان سے پوچھنے لگی..
وہ خاموش ہو گئیں..
پلیز خدا کے واسطے مجھے بتائیں….
کیا ہوا تھا ایسا….”
مجھ سے مت پوچھو” وہ ایکدم غصے سے بولیں
نہیں جاو گی میں تمھارے ساتھ “انھوں نے کہا…
جبکہ حیا نے غصے سے دیکھا..
اپ پر ہی گیا ہے اپکا بیٹا “وہ چیڑ کر بولی جبکہ وہ مسکرائ تھی…
اور باہر نکل گئ…
……………………..
درخشے ابو امی کی خاموشی سے اندر ہی اندر کٹ رہی تھی جبکہ وارث بھائ.. ائے ہوے تھے..
انکے مزاج سے وہ کچھ کچھ واقف ہو گئ تھی…. مگر پھر بھی.. حیران تھی کہ اخر وہ اتنی سیدھی طرح کیسے اے ہیں…
وارث نے ان دونوں کیطرف دیکھا..
بیٹا اپ بھائ ہو اسکے… اسکے لیے اپ نے اتنا سوچا میں شکر گزار ہوں “ابو کی بات سن کر وارث.. کو شرمندگی سی ہو گئ…
پہلی بار کسی نے ایساکہا تھا…
نہیں اپ پریشان مت ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا” اتنا کہہ کر وہ اتھ گیا..
بیٹا کھانا کھا کر جانا “امی نے روکا..
نہیں میں فلحال ناشتہ کروں گا” اسنے سنجیدگی سے کہا اور باہر نکل گیا..
جبکہ امی ابو ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے..
چار بجے کون سا ناشتہ کرنا تھا…
مگر انھیں وارث کی فکر بہت اچھی لگی تھی..
درخشے معملے کو سمھجہ کر ایک لمہے کے لیے اس چہرے کو سوچ کر رہ گی..
اور پھر آنکھوں میں انسو لیے کمرے میں داخل ہوئ..
ابو نے اسکی جانب دیکھ کر منہ پھیر لیا.
ابو پلیز ایسامت کریں.. پلیز “اسنے انکے پاوں پکرے.. امی رونے لگی جبکہ ماہرخ.. کے انسو خشک ہو گئے تھے…
کسی کا اپنا تھا اور اسکے اپنے ہونے کے باوجود اسپر مٹی ڈال چکے تھے….
ہٹ جا درخشے تو نے میری پگڑی کو بھرے بازار میں زلیل کر دیا ہے” وہ اسکو پیچھے کرتے چلے گیے جبکہ وہ سسکیاں بھرتی رہ گئ…
…………………..
بھابھی میں. اجاو” فائز کی اواز پر حیا اس سے پہلے بولتی..
وارث جو مووی دیکھنے میں مگن تھا ٹکا سا جواب دے گیا
نہیں “اسنے کہا تو فائز باہر ہی رک گیا جبکہ حیا گڑبڑائ…
آجاو فائز” اسنے کہا تو وارث ہنسنے لگا….
وہ اپ سے اس فائل پر سگنیچر لینے تھے… ” اسنے کہا اور فائل اسکی جانب بڑھائ…
جبکہ حیا نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا…
وہ پہلی بار اسکے کمرے میں ایا تھا.. اسنے روم فریزر سے ٹین
نکال کر اسکے اگے کیا….
لو اب کمرے میں اے مہمان کو بھی کچھ کھلایا پلایا جاتا ہے” وارث نے ٹی وی کیطرف دیکھتے ہوئے کہا تو… فائز کا کین پکڑتا ہاتھ رک سا گیا…
حیا نے گھور کر وارث کی جانب دیکھا….
تم لو جانتے تو ہو انھیں..” اسنے کہا اور فائل کی جانب دیکھا…
حیا ویسے اپنی بہن کی شادی میں تمھیں فائز کو انوائیٹ کرنا چاہیے “وہ کافی کا مگ لبوں سے لگاتا… فائز کو گھور کر بولا.. جبکہ دوسری جانب فائز نے چونک کر سر اٹھایا…
مگر شادی.. ابھی تو کچھ بھی نہیں ہوا”حیا نہ سمھجی سے اسکی جانب دیکھنے لگی اسکی کارستانی کا حیا کو اب پتہ چل رہا تھا…
برحال میں نے سب طے کر لیا ہے اگلے جمعے نکاح ہے…
درخشے کا ارہم سے” وارث نے کہا.. جبکہ فائز اچانک کھڑا ہوا..
تمھارا, دماغ ٹھیک ہے.. ارہم جانتے بھی وہ کیسا انسان ہے “اسکے اچانک بولنے پر حیا نے اسکی جانب دیکھا جبکہ وارث ہنسا..
کیوں بھئ ٹیڈے تجھے کیوں لگ رہی ہے اتنی میری مرضی میری سالی “وارث نے سکون سے کہا جبکہ فائز نے خون کا گھوٹ بھرا..
بھابھی اپ نہیں جانتی ارہم… بے حد فضول انسان ہے درخشے کے لیے “فائز بغیر خود پر توجہ دیے حیا کو بتانے لگا…
حیا کچھ نہیں بولی…
اچھا تو کون تیس مار خان پیدا ہوا ہے.. میری سالی کے لیے مجھے علم تو ہو “وہ جتاتی نظروں سے اسے دیکھتا کھڑا ہوا.. فائز نے دانت بھینچے..
تو کرے گا… “وارث نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہویے جتایا.. جبکہ حیا ان دونوں کو مقابل دیکھ رہی تھی..
بول نہ.. اپنی ماں کی گود سے نکلا نہیں اور چلا ہے عاشقی لڑانے “اسکا منہ جھٹک کر وہ طنز کرتا… اسکا چھوڑا ہوا کین خود پینے لگا جبکہ فائز کے وجود میں درخشے اور ارہم کو سوچ کب ر ہی اگ لگ گئ تھی…
ہاں میں کروں گا” وہ بولا.. تو لہجہ مظبوط تھا..
لو “وارث مَاق اڑاتا ہنسہ..
وارث کیا کر رہے ہیں اپ یہ” حیا کو اسکی بےتکی حرکتیں سمھجہ نہیں. ارہیں تھیں..
اب میں نے کون سا اس میں میتھ گھسا دیا جو تمھاری سمھجہ میں نہیں. ارہا سیدھی سی بات یے درخشے اور ارہم کا میں نے رشتہ فائنل کر دیا ہے اور اگلے جمعے شادی ہے” اسنے شانے اچکا کر فیصلہ دیا..
تم کسی کی زندگی اپنی مرضی سے نہیں چلا سکتے اور میں تمھیں چلانے ہی نہیں دوں گا تو کیسے
چلاو گے…. ہاں… دور رکھو اپنے گھٹیا دوست کو.. درخشے سے” فائز غصے سے کہتا.. باہر نکلنے لگا…
مجھے تمھارے پھڑکنے سے کوی فرق نہیں پڑ رہا..
عزت سے اپنی ماں کو لے کر جاو.. ورنہ… تمھیں منہ لگایا ہی کس نے تھا” وارث نے مزے سے کہا.. تو فائز اسے دل میں گالیاں بکتا باہر نکل گیا.. جبکہ حیا منہ کھولے.. وارث کی جانب دیکھ رہی تھی جو اسے ونک دے رہا تھا…
میں نے اس وقت خود کو رشتے کرانے والی بای محسوس کر رہا ہوں کیا خیال ہے تمھیں ایسا لگتا ہے” وہ خود پر ہنستا ھیا کی جانب دیکھنے لگا…
میں فلحال اپکی اس گیم کو سمھجنا چاہتی ہوں” حیا نے کہا جبکہ وارث نے نفی کی
کیا ضرورت ہے بس تم فیس پر توجہ دو باقی کام تو ہوتے رہیں گے “اسنے دانت نکالے جبکہ حیا نے سر تھام لیا..
وہ تو تھک گی تھی اسکی وقت بے وقت کی فرمائش سے تبھی… فایل کھول کر بیٹھ گئ..
ٹھیک یے میں چلا جاتا ہوں کسی کوٹھے پر “وارث نے اسکی لاتعلقی دیکھتے ہوہے ارام سے کہا اور ڈریسر کیطرف برھنے لگا کہ ھیا.. جلدی سے اٹھی..
دل تو کرتا ہے تکیہ رکھ کر مار دوں اپکو… اتنے بڑے ینر ہیں اپ” اسکو گھورتی ہوئ وہ اسکی منشہ پوری کرنے کو ڈریسنگ روم میں چلی گئ..
جبکہ وارث اپنی کامیابی پر.. مسکرا کر بیڈ پر لیٹ گیا…
حیا.. سفید نایٹ ڈریس میں باہر نکلی.. اور اسکے اپس ائ..
جبکہ وارث اسکو دیکھ رہا تھا.. اسوقت وہ کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی..
وارث کے دیکھنے کے انداز پر حیا مسکرائ..
جبکہ اسکی ماں کی بات بھی یاد ائ..
اب اسے لگ رہا تھا وارث اسکیطرف مایل ہونے لگ ہے…
بدروح لگ رہی ہو”اسکی آنکھوں میں اترتا سکون کہاں اسے برداشت تھا.. اسکی لٹوں سے کھیلتا وہ بولا تو حیا کے لب سکڑے…
کاش وہ سکا سر پھاڑ دیتی وہ صرف سوچ سکی..
جبکہ وارث نے اسے پیچھے دھکا دیا..
اور
میں جن” اسکے کان کے قریب اپنا چہرہ کرتے وہ مدھم اواز میں بولا…
…………….
فایز کی کل سے اپنی مان سے جنگ چل رہی تھی کیونکہ وہ کہہ چکیں تھیں کہ وہ کبھی بھی نہیں جائیں گی جبکہ انھوں نے وجدان شاہ کو بھی فورا یہاں پھنچنے کا کہا اور ھیا کو بھی باتیں سنائ.. جبکہ وارث ان باتوں پر انھیٹکا کر جواب دے چکا تھا…
وارث کی بدلحاظی سے تو سب ہی واقف تھے مگر اسنے پی بار ھیا کی حمایت لی تھی..
ماہم تو ھیران رہ گئ..
اور اس اتھارٹی سے لی کہ کبھی عماد نے نہ لی ہو جبکہ حیا کو وہ سب میں معتبر کر گیا تھا.
.. فائز اپبتہ جلے پیر کی بلی بنا ہوا تھا..
ارہم سے تو وہ درخشے کو جانے نہیں دے سکتا تھا.. تبھی وہ ھیا کے پاس ایا..
بھابھی… میں اپکی بہن سے شادی کرنا چاہتا ہو “اسنے دو توک بات کی..
چچی کبھی نہیں مانیں گی” حیا.. نے فایل کو الٹتے پلٹتے مدھم سی اواز میں نارملی کہا…
مگر میں تو مان چکا ہوں وہ ارہم ایک گھتیا انسان ہے… “وہ دانت پیستے ہویے بولا…
فائز وارث فیصلہ کر چکیں ہیں” ھیا نے کہا… جبکہ اسے اپنی بہن کے لیے فایز سے کوی اچھا مل ہی نہیں سکتا تھا جبکہ وہ جانتی تھی یہ سب.. وارث جان بوجھ کر کر رہا ہے…
یعنی اپ میری مدد نہیں کریں گی”اسنے اسکی جاانب دیکھا..
میں اس بارے میں اپکی کوی مدد نہیں کر سکتی اپکو جو کرنا ہے اپنے لیے خود ہی کرنا ہے.. لگتا ہے اپکی خواہش ہے کہ سمندر میں کھڑے ہو کر طوفان بھی نہ ایے
وہ بلکل اسی طرھ اسے الفاظ لٹا گئ..
جبکہ فائز نے بے ‘
مزید دو دن گزرے اور فایز کو لگا.. کہ اگر اج وہ کچھ نہ کر سکا تو جود ہی مر جایے گا اسنے اپنی مان کی جانب دیکھا اور انکے ہی ہاتھ سے چھری لے کر اپنی کلای پر پھیرنی چاہی جبکہ انھوں نے دل تھام کر اسے اس عمل سے روکا…
اپ کو میں عزیز ہون تو جائیں درخشے کا رشتہ لے کر ورنہ کاٹ لوں گا میں “اسنے پھتر کلائ پر چھری رکھی…
فایز” چچی چیخی ..
انکا دل اسکے اس اقدام سے وہ بری طرھ ڈر گئیں تھیں..
اور چار نچار انھیں درخشے کے گھر جان اپرا جبکہ فائز ایکدم خوش نظر انے لگا..
چچی کا رویہ ان لوگوں کے ساتھ بلکل اچھا نہیں تھا.. وہ بات بات پر درخشے پر طمز کر رہیں تھیں مگر مھلے سمیت خاندان کے کئ لوگوں نے اس وورے کو اسکی دہلیز پر دیکھا تھا….
اور یونں فایز نے اپنی بات منوائ جبکہ درحقیقت وارب اپنے پلین میں کامیاب ہو گیا…
………………….
شادی کے لیے بس نکاح مقرر کیا گیا.. تھا…
اور اج حیا نے ایک بڑا قدم اٹھانا تھا.. وہ ہوسپیتل سے انھیں ڈسچاج کرا کر.. گھر لے ائ..
پورانے ملازمیں انھی حیرت سے دیکھنے لگے جو پہلی جیسی تو بلکل نہیں تھی…
جبکہ دوسری طرف ھیا کے ساتھ چلتی عورت اس عمارت کو دیکھ کر اپنے اندد لگی اگ کو بجھانے کی کوشش کر رہی تھی..
انکو اپنی ہی آوازیں اپنے کانوں میرے سنای دی..
سب سے پی نگاہ عماد کی اتھی اور وہ ماہم کا قیمتی شوپیس پھینک چکا تھا مارے صدمے کے.. جبکہ انھوں نے اسکی جانب نگاہ نہیں گھمائ
سب فق چہرہ لیے انھیں دیکھ رہے تھے..
حیا یہ “وارث اچانک ہی کمرے سے نکال اور جہاں تھا وہیں تھم گیا…
اپنے سامنے انھیں دیکھ وہ سکات رہ گیا..
جاری ہے